گرہیں ۔۔۔ منزہ احتشام گوندل
گرہیں
منزہ احتشام گوندل
محلے کی کچھ عورتوں کے ساتھ ایک مشترکہ حادثہ پیش آیا ہے۔
حادچہ بھی ایسا کہ جس کی بابت صرف وہ کچھ خواتین ہی جانتی ہیں جو اس کی لپیٹ میں ائی ہیں۔ اس حادچے کی بات نہ ان کے شوہر جانتے ہیں نہ بچے نہ اور رشتہ دار۔ ہاں مردوں میں سے کسی کو اس کا پتہ ہے تو وہ صرف ایک مرد ہے۔ جو اب یہاں سے جا چکا ہے۔ بڑی سنگین صورت حال ہے۔ کافی حد تک شرمناک بھی۔ میں خود اس حادچے کی متاثرہ ہوں۔ جب بھی خیال اس طرف جاتا ہے عجیب سی خجالت اور غصہ مجھے گھیر یتا ہے۔ ایک اجنبی مرد، وہ لمس لیتا ہوگا، سوچتا ہوگا، جیتے جی مر جانا چاہیے۔ ہمیں تو بس مر ہی جانا چاہیئے۔
یہ چھ مہینے پہلے کی بات ہے ہمارے ساتھ والے گھر میں کرایہ دار آئے تھے۔ میاں بیوی اور ساتھ دو بچے، بچے سکول جانے کی عمر میں تھے۔ میاں بیوی معقول تھے۔ مرد یہاں کسی محکمے میں تبادلہ ہو کر آیا تھا۔ صبح سویرے تیار ہو کے نکل جاتا، بچوں کو سکول بھیجنے کے بعد اس کی بیوی جس کا نام عابدہ تھا، محلے میں کسی نہ کسی گھر جا کے بیٹھ جاتی۔ ہمارے محلے میں سبھی گھروں کی ایک جیسی زندگی ہے۔ مرد اپنے اپنے کام دھندے کو نکل جاتے ہیں، بچے سکولوں کو چلے جاتے ہین گھر میں عورتیں اور بزرگ رہ جاتے ہیں۔ عابدہ روزانہ گیارہ بجے کے بعد آ جاتی اور باتیں شروع ہو جاتیں۔ باتوں باتوں میں وہ گھر کے کام کاج میں ہاتھ بھی بٹا دیتی۔ خاص طور پہ اسے جس کام میں ہاتھ بٹانے کا شوق تھا وہ دھلے کپڑے چھت یا تار پہ پھیلانے کا کام تھا۔ اس کی یہ عادت میرے گھر میں ہی نہیں محلے کے تقریبا سبھی گھروں میں مشہور ہو گئی تھی۔ وہ دروازے سے جھانکتی، مشین لگی ہوتی تو ہنستی مسکراتی اندر آ جاتی اور سپنر سے کپڑے نکال نکال کے پھیلانے لگتی۔ ساتھ ساتھ باتیں بھی کرتی جاتی۔ ہر ایک کو ہی عابدہ کا آنا بھلا لگتا۔ وہ تھی بھی بہت بھلی ماند، عمر یہی کوئی پینتیس کے قریب ہو گی۔ خود کو اس نے بہت اچھے سانچے میں کس کے رکھا ہوا تھا۔ اس کے شوہر ظہیر کو آتے جاتے کئی بار دیکھا تھا۔ عابدہ سے چند برس ہی بڑا ہوگا، نظر جھکا کے رکھتا اور نہایت شریف دکھائی دیتا۔ ایک دو بار اس سے سامنا ہوا تو نظر جھکا کے کترا کے نکل گیا۔ وقت بہت اچھا گزر رہا تھا کہ ایک دن اچانک سنا کہ ظہیر کا تبادلہ ہو گیا ہے اور وہ لوگ ہمارا شہر چھوڑ کے جا رہے ہیں۔ دو دن میں عابدہ نے گھر کا سامان پیک کیا اور پھر وہ میاں بیوی ہمارے محلے سے وداع ہو گئے۔
میرے گھر کے دایئن طرف ساتھ جرا ہوا گھر راحیلہ کا ہے۔ راحیلہ عمر میں مجھ سے کچھ برس چھوٹی ہے۔ اس لیے بڑے شوق سے مجھے باجی کہتی ہے۔ ویسے بھی جس عورت کی شادی کو پندرہ برس بیت چکے ہوں وہ باجی تو کیا خالہ بھی کہلائی جانے لگتی ہے۔
کل عصر سے کچھ پہلے راحیلہ آئی تو تھوڑی گھبرائی ہوئی تھی۔ کہنے لگی باجی جب بھی وقت ملے آج ہی کچھ دیر کے لیے گھر آیئں۔ آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔ میں رک نہیں سکتی ابھی کچھ اور گھروں میں بھی جانا ہے۔ میں اسے روکتی رہ گئی کہ آخر کیا افتاد آن پڑی ہے کہ راحیلہ خود گھر گھر جا کر اپنے گھر آنے کا کہہ رہی ہے۔ نہ تو میلاد کا کوئی چرچا ہے۔ ویسے بھی میلاد ہو تو بچوں کو ہی دعوت نامے دے کے بھیجا جاتا ہے اور پھر میلاد کی تیاریاں اور دعوتیں بھی کئی دن پہلے سے شروع ہو جاتی ہیں۔ نہ محرم ہے کہ کسی مجلس کا اہتمام ہو۔ نہ ہی ان دنوں کوئی کمیٹی نکلنی ہے۔ یہ راحیلہ کی تیزی، گھبراہٹ، بلاوا اور ساتھ ہی یہ کہنا کہ، ” ہاں باجی گھر میں کسی کو پتہ نہ چلے” ۔۔۔ یہ اکٹھ آخر کیسا ہے اور کیوں ہونے جا رہا ہے ؟ واقعتا میری طبیعت خراب ہونے لگی تھی۔ عابدہ اور اس کا شوہر ایک ہفتہ پہلے محلہ چھوڑ کے جا چکے تھے۔ شام تک میرے کھانا بنانے اور جلدی جلدی کچھ مزید کام نپٹانے تک راحیلہ کا فون بھی آ گیا کہ باجی ابھی آ جاو۔ میں نے جلدی سے چادر پیٹی اور راحیلہ کے گھر پہنچ گئی۔ وہاں تو کچھ اور ہی سما تھا۔ محلے کی دس بارہ عورتیں جو میرے اور راحیلہ کی طرح پینتیس سے پینتالیس کے پیٹے میں تھیں ، وہاں موجود تھیں۔ سبھی کچھ حیران اور متجسس سی بیٹھی تھین کہ اتنے میں راحیلہ ایک پیکٹ اٹھا لائی۔ بیرونی پیکنگ سے یہ لگ رہا تھا جیسے کسی نے کوریئر بھیجا ہے۔ ساتھ ہی راحیلہ کے ہاتھ میں ایک رقعہ بھی تھا۔یہ پیکٹ کل شام کی ڈاک سے مجھے ملا ہے، یہ عابدہ نے بھیجا ہے۔ اس کے اندر شکریے کے طور پر آپ سب کے لیے ایک ایک تحفہ ہے۔ راھیلہ بتا رہی تھی۔ اپنا اپنا تحفہ آپ سب خود ہی پہچان کر لے سکتی ہیں۔ عابدہ نے تحفے بھیجے، ہم کیسے پہچایں گی ؟ اوپر نام کھے ہیں کیا ؟
میں نے تو اپنا پہچھان لیا ہے۔ راحیلہ گویا ہوئی تو کچھ عجیب سی لگ رہی تھی۔ میں پیکٹ الٹتی ہوں۔ پہلے اپنا اپنا تحفہ پہچانیں ، اس کے بعد ایک ایک کر کے عابدہ کا یہ خط بھی پڑھ لین جو اس نے پیکٹ کے ساتھ بھیجا ہے۔ یہ کہہ کر راحیلہ نے پیکٹ ہم سب کے سامنے الٹ دیا۔ نئی پرانی، رنگ برنگی ، دھلی ہوئی انگیاں پیکٹ سے نکل کر فرش پر گر گیئں۔
یا حیرت ! میرا منہ کھل گیا۔ کچھ مہینے پہلے میری کالے رنگ کی جالی دار انگیا نہیں مل رہی تھی۔ میں نے ہر طرف ڈھونڈی، کھوجی مگر نہیں ملی تھی۔ الماریاں ٹرنک، دراز، گھر کا ہر کونا چھان مارا، پھر یہ سوچکر چپ کر گئی کہ ایک انگیا ہی تو ہے ہو سکتا ہے سردیوں کے کپڑے سنبھالتے وقت کسی شاپر میں ڈال کے پیٹی میں پھینک دی ہو۔ مجھ سمیت باقی خواتین کی کیفیت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ اب سب بول رہی تھیں۔ اپنی اپنی انگیا کی گم شدگی کی داستان سنا رہی تھیں۔ ایک تو یہ چیز بھی ایسی ہے کہ کسی سے بندہ کیا پوچھے، کیا تھی، کیسی تھی، کہاں رکھی تھی۔ ہر ایک نے ڈھونڈی اور پھر چپ کر رہین۔ اب یہ تجسس مارے دے رہا تھا کہ عابدہ نے ہم سب کی انگیا کیوں چرائی ؟ کیا اسے کوئی نفسیاتی مسئلہ تھا؟ یا کوئی اور معاملہ ۔۔۔۔ مگر جب ایک ایک کر کے ہم نے اس کا وہ خط پڑھا تو خجالت اور غصے سے ہر ایک کا برا حال ہوا۔ لکھا تھا۔
پیاری راحیلہ
سلام مسنون
محلے سے آنے کے بعد آپ سب کو بہت یاد کر رہی ہوں۔ آپ لوگوں نے مجھے بہت محبت اور عزت دی۔ اگرچہ میں آپ سب کی گناہ گار ہوں۔ گناہ بھی وہ جس کا آپ میں سے شاید ہی کسی کو ادراک ہمگر میرا ضمیر کہتا ہے کہ بتادوں اور جو چوری میں نے کی ہے وہ بھی لوٹا دوں تاکہ میرے ضمیر کو خلاصی ہو۔ میں نے محلے میں اپا زینب، تم، فرزانہ، نورین، انجم، سمیرا، ماجدہ، گو گو، بشریٰ، نازیہ، مقصود اور زہرا کی انگیاں چوری کی تھیں۔ اس چوری کی وجہ بتاوں گی تو آپ سب حیران رہ جاو گی۔ میرا شوہر کچھ عرصے سے عجیب سی بیماری میں مبتلا ہے ۔ وہ میرے ساتھ ہمبستری کی خواہش لیے آتا ہے اور جب قریب آتا ہے تو ناکام ہو جاتا ہے۔ پہلے اس نے اس مسئلے کا یہ حل نکالا کہ مجھے بہت سی رنگ برنگی انگیاں خریدنے کو کہا تا کہ ہر بار میں ایک نئی انگیا میں آون اور اسے نئے پن کا احساس ہو۔ اس ترکیب سے اس کا مسئلہ کچھ دیر کے لیے حل ہو گیا تھا۔ پھر یہ طریقہ بھی ناکام ہو گیا ، کیونکہ اب اس کا مسئلہ لمس سے گزر کر خوشبو پہ جا اٹکا تھا۔ اور بے شک میں ہر بار ایک نئی انگیا میں آون، ہر ایک میں بدن کی خوشبو تو میری ہی ہوتی۔
اس مسئلے کے حل کے لیے مین نے آپ سب کی چوریاں کیں۔ ان سب کو ایک ایک بار ہی پہنا ہے
اس سے آگے معذرتوں کے ڈھیر اور جوازوں کے انبار تھے۔ وہ دونوں جو بھی کر رہے تھے اچھا تھا اپنے تک اس المیے کو محدود رکھتے۔ ہمیں نہ بتاتے۔ اس ڈھیر کو وہیں راحیلہ کے گھر میں ماچس دکھا کے ہم سب گھر آ گئی ہیں۔ کیسا عجیب سا حادثہ ہے جو ہمارے ساتھ ہوا ہے۔ نہ چوری ہوئی، نہ ڈاکہ پڑا پھر بھی بہت کچھ لٹا لٹا سا لگتا ہے۔
ہاں اس سب کے بیچ ایک اچھی بات بھی ہوئی ہے۔ مجھے نفیس پہ بہت پیار آ رہا ہے۔ سوچ رہی ہوں سادہ نفسیات کا مرد بھی کتنی بڑی نعمت ہوتا ہے۔