خالی مکان کے چوکیدار ۔۔۔ مصباح نوید
خالی مکان کے چوکیدار
مصباح نوید
نہ آیا کرو یار! تمھارا آنا اس قدر خوشی نہیں دیتا ،جس قدر تمھارا جانا تنہا کر دیتا ہے۔ انتظار میں، دنوں کی گنتی ،مشغلہ سہی پر نئے سرے سے گنتی شروع کرنا عذاب ہے ۔بات سنی ان سنی کردی گئی۔ریٹائرڈ افسرِ اعلیٰ بجلی کا وہ کھمبا ہوتا ہے ،جس کی تاریں کاٹ دی گئی ہوں۔
بیٹا بے دھیانی سے بولا: “سارے گھر کی لائٹس بند نہ کیا کریں ۔اندھیرے میں ڈوبا گھر چوروں کے لیے بچھا ہوا دسترخوان ہے “۔
ٹینس بال کی طرح اچھلتے ہوئے بچے بائے بائے، ٹاٹا کرتے ہوئے کار میں غڑاپ سے ڈبکی لگاتے چلے گئے ۔کار گیٹ سے نکلتی چلی گئی ۔بیٹے کوگاڑی سیدھی کرتے ہوئے ،سڑک پر ڈالتے وقت پلٹ کر “بائے “کرنے کا خیال نہیں رہا،ہمشہ کی طرح ۔ماں حسبِ عادت داخلی دروازے کی بلند سیڑھی پر کھڑی تھی، وہ کبھی بھی نچلی سیڑھی پر کھڑی نہیں ہوتی تھی ۔جوانی میں تو نچلی سیڑھیاں پھلانگنے سے بھی گریز نہیں کیا کرتی تھی ،اب کیا کرے! کم بخت گھٹنوں نے جواب دے دیا تھا ۔ ریلنگ پر ٹشو رکھ کر، ہاتھ ٹیکاہوا تھا ۔ ماں اور ڈسٹ دونوں فریقین ایک دوسرے سے الرجک تھے،زرا فاصلے ہی پر رہتے ۔ گاڑی کی سیٹ پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پچھلی سکرین سے جھانکتے بچوں کو دادا ،دادی کینوس پر کھینچی قد آدم تصویروں کی طرح نظر آرہے تھے،جن کے رنگ اڑ چکے تھےاور وہ لمحہ بہ لمحہ مدہم سے موہوم ہوتے جارہے تھے ۔
وہ ریٹائرڈ پرنسپل تھی ، ہمیشہ سے دبلی پتلی ، آج زرا سکڑی ہوئی بھی لگ رہی تھی ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد نیٹ اینڈ کلین ، گنگ ، تابع دار گھر ہی بچھی کچھی راجدھانی تھا ۔ گھر میں موجود چیزیں ہوں یا دونوں جی، کسی کا بھی کوئی مصرف نہیں رہا تھا۔ وہ دونوں کبھی ٹی وی اسکرین پر ٹاکس شو میں دھینگا مشتی دیکھ لیا کرتے تھے ،اب وہاں سے بھی دل اٹھ گیا ۔ کئی سال یا صدیاں ساتھ گزارنے کے بعد ایک دوسرے کے اتنے عادی ہو چکے تھے کہ دوسرے کی موجودگی کا احساس بھی نہیں ہوتا تھا ۔ایک ساتھ رہتے ہوئے بھی اکلاپے کو بھگت رہے تھے۔ ساتھ بھی کیا! کچھ ماہ امنگ ترنگ بھرے ، بہت سال شدید زمہ داری تلے اور صدی ہوگئی مردنی ڈھوتے ہوئے۔پرنسپل ماں بلا کی فرض شناس تھی۔ کیا خوب تعلق نبھاتی تھی ! چاہے تعلق کا پلیتھن ہی نکل جاتا پر نبھاتی ۔ ہر ایک ،ہر چیز کو مکمل اپنے کنٹرول میں رکھتی ۔ جب پرنسپل ماں کے بھاشن جاری ہوتے تو افسرِ اعلیٰ باپ کے کان خود کاری میں بند ہو جاتے ۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ دونوں کی خوب نبھ رہی تھی۔
صرف پرنسپلی ہی میں ہوشیار نہیں وہ تو ادبی ،علمی پروگراموں کی منجھی ہوئی سپیکر بھی تھی ۔ سیمینار ہوں یا علمی ،ادبی میلے، اس کے بنا ادھورے تھے ۔پرنسپل ماں کے پاس رنگ برنگی کترنوں جیسے خوب صورت لفظوں کے ڈھیر تھے ، خوبصورت پر اوترے نَکَھترے لفظ ۔
ہر ادبی ،علمی محفل میں وہ علم کےسب تیر، تلوار تیز ، نوک دار بنا کر کیل کانٹوں سے لیس جاتی ۔ گفتگو سننے والے اس قدر مرعوب ہوتے کہ پچک کر رہ جاتے ۔ اُسے اپنی سٹوڈنٹ لائف میں کی گئیں تقریریں من و عن یاد تھیں ، حافظہ بھی تو غضب کا تھا۔ بہت سنجیدہ موضوعات
جیسے:” نوجوانوں کی بے راہ روی کے اسباب ” یا پھر ” سرسید کا قوم کی تشکیل میں اہم کردار ” پر
دل گرفتہ ہو کر ایسے بولتی کہ محفل پر سکوت طاری ہو جاتا ۔اور پھر ایسے گھمبیر مقالوں پر مشاعروں جیسی واہ واہ! زبردست !کمال! سننا بھی پرنسپل ماں کے دل گردوں ہی کا حوصلہ تھا۔اب تو اس چیٹ جی پی ٹی کے صدقے! جس نے نیو جنریشن کو فلاں کی نقل، چربہ ، یا سرقےجیسے الزامات سے بھی نجات دلا دی ہے ،ایک ہی صف میں محمود و ایاز کھڑے بھی ہیں اور ایک ہی حمام میں ننگے بھی۔
مردہ بولے تو کفن پھاڑے، یکا یک صوفے میں دفن مردہ بول اٹھا: ” عِلٌَم شِلٌَم کیا میڈم جی ! یہ تو ایاز کے ہاتھ لگا کوکلا ہے جس کے
چھپاکے، گھٹنوں میں سر دیے ہوؤں کو پڑتے ہیں” ۔ پرنسپل ماں کا منہ اتنا کھلا کہ حلق کا کوا بھی نظر آنے لگا “‘ہائیں ! یہ بولتا بھی ہے؟؟؟؟؟؟؟” ۔
مردہ جیسے یکدم بولا تھا ویسے ہی یکدم خاموش ہو کر صوفے میں ادھ فٹ اور دھنس گیا ۔اب اس مردود سےسر کھپائی کون کرے !فَک اِٹ۔۔۔فَک اِٹ ۔۔فَک اِٹ۔۔۔۔ پرنسپل ماں نے اپنا واکنگ ٹریک بدل لیا۔
ریٹائر منٹ کے بعد دھیرے دھیرے مدعو کیا جانا کم ہوتا گیا۔شاید اس کے علم کے سامنے سب خود کو بالشتیے محسوس کرتے تھے ۔ہو سکتا ہے بالشتیے ہوں بھی، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پرنسپل ماں کی شخصیت کے گرد لپٹے ہوئے علم کے پھن پھیلائے سانپ سے ڈرتے ہوں، اتنا ظرف کسی میں کہاں! کہ علم و ادب سے بھرپور شان دار پرسنلٹی کو سراہا سکے!
وہ بھی جاہلوں کو زیادہ منہ نہیں لگاتی تھی ،جلد اوقات سے باہر ہو جاتے ،” ایڈیٹ !ناں سینس
‘گو ٹو ہیل! ” ڈھیر انگریزی گالیاں انڈیل کر بھی پرنسپل کے دل کو ٹھنڈ سی نہیں پڑی ۔ گالی کی ادائیگی کا مزہ تو مادری زبان میں ہے اور مادری زبان میں گالیاں اتنی بدتمیز اتنییییی بدتمیز ہیں کہ سوچ کر ہی پرنسپل ماں کے کان سلگ اٹھتے، فَک اِٹ ۔۔فَک اِٹ ۔۔فَک اِٹ ۔
زہر خند نے پرنسپل ماں کے چہرے کی جھریوں میں مزید اضافہ کیا ، مزید کیا اور کم کیا ! چہرہ بھی باریک چنٹ کی چنریا ہو گیا تھا جس میں ایک آدھ چنٹ کا اضافہ یا کمی محسوس ہی نہیں ہوتی تھی۔
جو ہوا سو ہوا ،خواہ مخواہ کی خجل خواری سے جان چھوٹ گئ،ا
نہ کوکلا رہا ،نہ چھپا کی ۔
گھر سے باہر کی کوئی ایکٹویٹی باقی نہ رہی۔ دونوں صحت مند تھے بلکہ صحت مندی کے ہاتھوں کافی زیادہ تنگ تھے ۔ منتوں مرادوں کے بعد داڑھ میں انفیکشن ہوا تو پرنسپل ماں بڑے طمطراق سے ڈینٹسٹ کے پاس گئی ۔دانت چیک کرانے سے قبل دانتوں کے بارے میں اپنے خود کشیدہ علم کے پورے بتیس نکات ڈینٹسٹ کے حضور پیش کر دیئے ،وہ بہت امپریس ہوا ،کہنے لگا : ” آپ تو خیر سے خود اچھی خاصی ڈینٹسٹ ہیں لیکن ڈینٹسٹ کو اپنے دانتوں کے علاج کے لیے بھی تو دوسرے ڈینٹسٹ کے پاس جانا پڑتا ہےنا “.
خوب ہنسی ، تفصیل سے بتایا :
” میں تو ریٹائرڈ پرنسپل ہوں لیکن علم کسی کی جاگیر تو نہیں، جو چاہے حاصل کر سکتا ہے۔البتہ کچھ لوگوں کا دماغ زرا چھوٹا ہوتا ہے۔ میں تو ماشاللہ بچپن ہی سے فطین تھی ۔میری ڈیڈی مجھے بہت اہمیت دیتے تھے ۔اور بہن بھائی بھی تھے، پر وہ سپارک نہ تھی جو مجھ میں ہے، سارے کے سارےےے نالائق! ۔۔۔۔میں ہر جماعت میں اول آتی ، ایجوکیشن لائف میں جیتی گئیں ٹرافیوں سے شوکیس سجے ہوئے تھے ،شکل صورت کی بھی بہت خوب صورت تھی( لمحہ بھر کی خاموشی) …بلکہ مسلسل خوبصورت ہوں۔(‘ہوں’ کہنے کے انداز میں اصرار تو تھا پر
جان داری نہیں تھی )گھر میں ہر آیا گیا ،مجھ پر ہی توجہ دیتا ‘اور’ تو نظر ہی نہیں آتے تھے کسی کو۔۔۔۔ ! ( “کھی کھی” ہلکی کھانسی جیسی ہنسی کی آواز) سچی بات تو یہ ہے کہ میرے پیرنٹس کو بھی میرے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا تھا،،،،”
ڈاکٹر نے گفتگو میں کوما لگتے دیکھا تو جلدی سے بولا : “آئیے ! آپ کی عقل داڑھ ریموو کرتے ہیں ،آپ نے اس کا کچھ زیادہ ہی استعمال کر لیا ہے زرا منہ کھولیے ،نہیں۔۔ نہیں! بولنے کے لیے نہیں،باقی پیشنٹ بھی منتظر ہیں”۔
اب بقایا دانت اچھے بھلے ہیں،کچھ خرابی ہو تو ڈینٹسٹ کا چکر لگے ۔
گھنٹوں گھر میں پرنسپل ماں چکراتی رہتی ،ہر طرف تنقیدی نگاہ دوڑاتی شاید کہیں کوئی گرد ، سفید دیواروں پر لگا داغ ،کسی کونے میں لگاجالا ، فرش پر گرا تنکا نظر اجائے تو میڈ کو ڈانٹ ڈپٹ کر زرا مورال ہی ہائی کر لیا جائے، پر کہاں جی ! گھر تو ایسا تھا جیسے ابھی ابھی گفٹ پیک سے باہر نکلا ہو۔
اُس کی آنکھوں میں ہمیشہ اس فائٹر کی سی چمک ہوتی جو دو دھاری تلوار پر دشمن کا وار خوش اسلوبی سے روک رہا ہو۔ کچھ دیر تلوار بازی کے بعد چلتے ہوئے، کہیں رک کر دائیں پاؤں کا جوتا زمین پر رگڑ کر غیر مرئی دشمن کو زہریلے کیڑے کی طرح مسلتی۔
افسرِ اعلیٰ باپ س ساری جنگ و جدل اور جہاد میں غیر جانبدار تھا۔ وہ ایک ایسی دنیا کا باسی تھا، جس میں بشمول اُس کے، سب دشمن ، سجن جہنم واصل ہو چکے تھے۔ وہ صوفے میں دھنسا سیل فون میں غرق رہتا ۔پرنسپل ماں کی نظریں سکرولنگ کرتے انگوٹھے سے الجھنے لگیں تو جھنجھلا کر باہر باغیچے میں نکل آئی ۔ باغیچے میں بھی سکوت کے سوا کیا دھرا تھا ! تراشے ہوئے پستہ قد پودےمنہ پھیلائے، ایک دوسرے روٹھے ہوئے کیاریوں میں کھڑے تھے ۔ کئی پودوں پر چھولداریاں سی تانی گئ تھی تاکہ تیز دھوپ سے کُملا نہ جائیں ۔ امپورٹڈ تھے، نازک مزاج تو ہوں گے۔ شاید اس بات پہ ایک دوسرے سے جھگڑ پڑے کہ کون زیادہ قیمت دے کر خریدا گیا !! پرنسپل ماں کو سارا حساب کتاب ازبر ہوتا ہے ،اس سے پوچھا جا سکتا تھا لیکن موڈ آف دیکھ کر سبھی نے چپ ہی میں عافیت جانی۔ پرنسپل ماں کی بڑبڑاہٹ اتنی بلند تھی کہ پودے باآسانی سن رہے تھے۔
” میں اکیلے میں خوش رہتی ہوں ” ۔
اکیلے میں کیسے خوش رہا جا سکتا ہے ؟؟ پودوں نے ایک دوسرے کو کن انکھیوں سے دیکھ کر سوچا ۔
کسی نے چڑیا گھر میں بند ہاتھی کا وڈیو کلپ واٹ ایپ کیا تھا ،جس میں وہ اکیلے میں ڈیپریشن میں مبتلا سونڈ ہلاتے ہوئے دیوار سے سر ٹکراتا نظر آتا۔ پرنسپل ماں کا دل ترحم سے بھر گیا۔آنکھوں میں بہتے پانی کو ٹشو پیپر میں جذب کرتے ہوئے سوچا :”کسی آئی سپیشلسٹ کو چیک کرانا چاہیے “،
“میں کوئی ہاتھی تو ہوں نہیں کہ تنہائی محسوس کروں،” پھر سے خود کو سمجھایا : ” میں ایک باشعور انسان ہوں ۔۔ اونچا مقام ۔۔۔ اثر و رسوخ اور ۔۔۔اور ؟ اور بھی بہت کچھ ،فی الحال ذہن میں نہیں آرہا ۔ ۔۔۔۔۔۔ ،بہرحال ہاتھی تونہیں ہوں۔”
“حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی” ہاتھی دانشمندانہ انداز میں سونڈ ہلاتے ہوئے بولا ۔ اب ہاتھی کی بے پر کی دانش کی کیا اہمیت ہو سکتی ہے!۔
اب بچے، بچے تو نہیں رہے تھےاب ان کے بھی بچے تھے ۔بیٹے دیار میں مختلف شہروں میں اعلی عہدوں پر ذمہ داریاں نبھا رہے تھے ،بیٹی دیارِ غیر میں عورتانہ روایت کے عین مطابق اپنی زمہ داریوں کے ساتھ دوسروں کی زمہ داریوں کو بھی نبیڑ رہی تھی ۔سب اپنے بچوں کے لیے اعلی تعلیم خرید رہے تھے ۔ انہی خطوط پر سِدھا بھی رہے تھے جن خطوط پر ان کی اپنی سدھار ہوئی تھی ۔ یہ سب پرنسپل ماں کی اچھی تربیت کے نتائج ہیں ۔پرنسپل ماں نے اپنی اولاد کو پڑھائی کے دوران کسی مشغلے میں ملوث نہیں ہونے دیا ،بعد میں ان کو عادت ہی نہیں رہی۔ان کا ٹائٹ شیڈول ہوتا تھا ،دادا کا انتقال ہوا تب بھی، نانی کی وفات پر بھی ، تعلیم میں حرج کے خیال سے بچے گھر ہی نظر بند رہے۔یہ نہیں کہ پرنسپل ماں اور افسراعلٰی باپ نے والدین کے حقوق کا خیال نہیں رکھا، ان کے بنک اکاؤنٹ میں پیسے ماہانہ ٹرانسفرہوتے تھے ۔ہاسپٹلائز ہو جاتے تو موسمی پھلوں کی ٹوکری کے ساتھ وزٹ بھی کر آتے ۔عیادت ، جنازے ،چہلم سب بھگتائے لیکن بچوں کو ان سب معاملات سے الگ ہی رکھا ۔ممنوعات کو ہمیشہ تکراری رکھاکہ:” اپنے کام سے کام رکھنا ہے، فضول گوئی سے پرہیز، کزنز ،دوستو کے ساتھ ہلا گلا ،’ہاہاہاہا ‘ بالکل بھی نہیں۔
اور کچھ مُجَوزات بھی جیسے کہ :
وقت کو یوٹیلائز کرنا سیکھو ، وقت قیمتی دولت ہے، وغیرہ وغیرہ۔ کمپیٹیشن کا دور ہے ، بھاگو! دوڑو !جیتنا ہے تو دوسروں کو ہرانا سیکھو ۔۔۔اچھے بچو! کوئی مرے یا جیے ،پروا نہ کرو ۔”
وہ اب تک ایسا ہی کرتے آرہے ہیں ،کوئی مرے یا جیے، پروا نہیں کرتے .
“تو اب رونا کس بات کا ؟” پرنسپل ماں نے خود سےسرگوشی کی ۔ ” ملنے کا کہتی ہوں تو جواب ملتا ہے :” اوہ نو ماما ! لمحہ لمحہ یوٹیلائز کیا جا رہا ہے ، فالتو وقت ہی نہیں بچتا کہ ملنے ملانے میں ضائع کیا جائے ” ۔
“لفظ۔ ‘نو’ کا استعمال بھی پرنسپل ماں ہی سے سیکھا گیا ۔ کولیگز کہا کرتی تھی:” میڈیم ! آپ کا ہر فقرہ ‘نو’ سے شروع ‘نو’ پر ختم ہوتا ہے”
اففف !کولیکگز بھی کیا تھیں !جیسے تالاب میں پڑے مگر مچھ ہوں کیا جانیں “نو” کی طاقت ! لحاظ ،مروت اور محبت میں توبندہ مارا جاتا ہے ” ۔
قریبی عزیزہ نے خالی ہاتھ کمرے سے باہر نکلتے ہوئے کہا:”یہ الگ بات کہ’ نو’ کا کلہاڑا زیردستوں کے سروں ہی پر چلتا ہے جہاں” نو ” کا پرچم بلند کرنا چاہیے واں یس سر ،یس میڈم ہوتا ہے ۔ “!
یہ رشتہ دار نام نہاد عزیز ! ان کی زبانیں بھلا کہاں رکتی ہیں ! وہ تو یہاں تک کہتے تھےکہ پرنسپل ماں نے اپنے گھر میں بھی جمہوریت کے پردے میں مارشل لا لگا رکھا ہے ۔”
پرنسپل ماں نے کبھی ان
چپڑ قناتی باتوں کی پرواہ نہیں کی ,تمام تردھیان اپنی اولاد کو بڑا آدمی بنانے کا پر رکھا ،بڑا آدمی یعنی بڑا عہدہ ہزاروں ماتحت ،مال دولت جو گنی نہ جا سکے ،بغیر پیسوں کے بڑا آدمی کیا ! مرے تو کفن ادھار لیا جائے ؟کس قدر بے عزتی ،انسلٹ ہے ،جانا تو مٹی میں ہی ہے پھر بھی۔
چلتے چلتے کھڑکی سے اندر جھانکاتو باپ بدستور سیل فون ہاتھ میں لیے نیم دراز تھا ۔ بدستور محوِسکرولنگ ،انگوٹھے ہی میں تو زندگی باقی رہ گئ تھی ۔ زندگی جب پورے تن میں تھی تو کمانے کھانے کے سوا کسی بات میں دلچسپی نہیں لی ۔ محل سرا بنایا ، جس کے کمرے قیمتی فرنیچر سے اٹا اٹ ہیں ،فرنیچر جو سفید چادروں سے ڈھکا ہے ۔ جب اولاد کی شادیوں کا مرحلہ آیا تھا تو باقی کوالیفیکشن کے علاوہ اس محل سرا کی تصویر بھی تو سی وی پر لگی تھی ۔
سی وی کے بل بوتے پر کڑی ڈیمانڈ بھی تھی۔ قد کا تخمینہ محض سرو قامت نہیں بلکہ فٹ ،انچز سمیت ،رنگت گوری پر اتنی نہیں کہ پھیکی لگے ۔احتیاطاً
پرنسپل ماں نے رنگوں کا چارٹ بنوا کر رکھ لیا تھا ، مطلوبہ دو تین شیڈز پر ٹک مارک تھا ۔ناک کی بناوٹ ، آنکھوں کا سائز ، ہنستے ہوئے مسوڑے تو نظر نہیں آتے ! یا بات کرتے ہوئے اوپری اونٹ اوپر کو تو نہیں اٹھ جاتا ، آداب نشست و برخاست، لینگویج وغیرہ وغیرہ ۔ داماد کے لیے تو ایک ہی خوبی کافی تھی کہ اچھا کماتا ہو پر بہوؤں کے لیے جو مطلوبہ ناک نقشہ باریکی سے بیان کیا گیا ،اس میں چھوٹا سا مسلہ یہ در آیا کہ بچے اب تک عورتیں ہی پیدا کرتی ہیں کمپیوٹر سے ڈاؤن لوڈ نہیں کیے جاتے کہ مطلوبہ ڈیزائن کے لیے ساری تفصیلات فیڈ کر دی جائیں ۔لیکن پرنسپل ماں کی مینیجمینٹ، پلاننگ سب کمال تھی ، بہویں دیکھ کر ایسے ہی لگتا تھا جیسے ڈاؤن لوڈ کی گئ ہوں یعنی ڈیمانڈ کے عین مین مطابق۔
اللہ کا شکر ہے کا کہ تعلیم یافتہ نیو جنریشن لَو شَو میں نہیں پڑتی ،وہ اسے کارِ فضول سمجھتی ہے محض وقت کا زیاں ۔ پھر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے سب آباد ہیں ۔ شاد بھی؟
ہو سکتا ہے شاد بھی ہوں ، ایسے بھی خوشی اضافی سی چیز ہے ،محبت کی طرح۔
پرنسپل ماں نے نے صوفے کی پشت کو سہلایا ،نرم ملائم پوشش کے لمس نے دل بھر بھرا سا کر دیا، پوتے کے گلاب سے گالوں کا خیال آیا ۔اس کا بہت جی چاہا تھا گالوں پر بوسہ دے ، لیکن کیا کرتی! کس طور کرتی !خود ہی تو سکھایا اور عمل درآمد بھی کروایا کہ ہر ایک سے ایک محفوظ فاصلہ رکھ کر ملنا چاہیے، چاہے گرینڈ پیرنٹس ہی کیوں نہ ہوں ۔ بچوں کے بچے جو سال دو سال بعد آتے تو زرا فاصلے سے ہی ہائے ! ہاو آر یو گرینی ! کہ دیتے ۔اپنے بچوں کا تو بچپن پچپن کا کردیا ۔ اب جی ان کے بچوں سے چونچالی کو ترستا ہے۔
عقل سکھاتے سکھاتے اپنی عقل کہیں رہ گئی ،اب جی لمس کو ترسنے لگا ہے جب جپھیاں اوٹ آف فیشن ہو کر رسمی سے hug میں بدل گئیں ،بوسے بس ہوائی رہ گئے۔
میڈ کے پیچھے پیچھے پرنسپل کسی وی آئی پی کے چوکنے گارڈ کی طرح تھی ۔میڈ تو کہتی رہتی تھی :”بیگم صاحب! آپ آرام سے تشریف رکھیں ،میں تو سالوں سے آپ کے گھر کا کام کر رہی ہوں، کبھی شکیت ہوئی؟ “”میڈ روشن آنکھوں والی سَنْتوکھی سی عورت تھی ۔ محل کے عقبی طرف ایک کمرے کے سرونٹ کوارٹر میں چار بچوں اور ایک عدد شوہر سمیت رہتی تھی ۔اس قدر عیش آرام سے رہنا ان جیسوں کے نصیب میں کہاں ہوتا ہے، پر شکر گزاری نام کی نہیں ۔
پرنسپل ماں کے چہرے پر پھیلی استہزائی مسکراہٹ دیکھ کر میڈ شرمندہ سی صاف کیا ہوا شیلف پھر سے رگڑنے لگی۔ شرمندہ سا رہنا اس کی عادت ہوگئی تھی ورنہ اس کو نہ تو اپنی شرمندگی کی وجہ معلوم تھی نہ استہزائی مسکراہٹ کی ۔ پرنسپل ماں میڈ سے بہت ضروری اور مطلب کی بات کرتی اور لیے دیے رکھتی ۔وہ کبھی بھی میڈ کی فضول بک بک کا جواب نہیں دیتی تھی ،بس لمبی یا چھوٹی ھمممممم سے زیادہ نہیں ۔ ہاں !چوکس میں بال برابر فرق نہ آنے دیتی :”کسی کا اعتبار تھوڑی ہے ۔گھر قیمتی چیزوں سے اٹا پڑا ، ایک آدھ چیز بھی چپکے سے اڑا لے تو اِس ایک آدھ چیز کو بیچ کر وہ مہینوں کا راشن گھر میں ڈال سکتی ہے،اتنی تنخواہ لے کر بھی ہر وقت رونے روتی ہے ، ناشکری! کبھی بچوں کی سکول کی فیس ، بجلی کے بل،! بیماری شیماری تیمارداری سو بہانے ان لوگوں کے پاس، اپنی چادر دیکھ کر پیر نہیں پھیلاتے ،ہم جیسوں کی رِیس کرتے ہیں ،جتنی تنخواہ طے ہو گئی تو اصول کی بات ہے ،اتنی ہی ملے گی ،کچھ آلتو فالتو نہیں ،کبھی ترس کھا کر کچھ مدد کر دی جائے تو چم چچڑہی ہو جاتے ہیں روز ہاتھ پھیلائے موجود۔۔۔۔شکر گزاری نام کو نہیں ،ناشکری!”
سوچتی رہتی پر لب سختی سے بند رکھتی ،کچن میں وہ ککنگ کرتی تو پرنسپل ماں وہاں چھوٹی میز پر اپنی تشریف ٹِکا لیتی، ہاتھوں کی انگلیاں نفاست سے میز پر رکھتی ،پورا ہاتھ نہیں ، ہاتھ کبھی ہاتھ بٹانے کی زحمت نہیں کرتے تھے ۔ ککنگ کا کام ہے بھی کتنا! دو جنے جن کے لیے ایک ٹکرا سبزی ،دو دانے دال چند ریشے گوشت کے گلاس بھر پانی میں ابال دیے جاتے ، پرنسپل کے ہاتھ بس آرام کرتے ،سارا کام آنکھوں سے ہی لیتی تھی ۔مکمل دھیان رکھا جاتا کہ تناسب کامل رہے، کوئی دو ،تین نہ ہو یا تین، چار نہ ہونے پائے ۔ جب میڈ رخصت ہوتی تو پرنسپل ماں تھک ٹوٹ جاتی ،چین پھر بھی نہ پڑتا ۔ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک سفر جاری ہوجاتا ۔ وہ شاید چلتے پھرتے ہیں سو لیتی تھی ، کئی سال گزر گئےگھر کی دیواروں نے تو اسے کبھی بستر میں سوتے نہیں دیکھا ۔ چہل قدمی کے دوران
سائیڈ ٹیبل سے پرنسپل نے کتاب اٹھائی ،” زندگی گزارنے کے سنہری اصول ” پڑھنا شروع کر دیا ۔لفظ دھندلا رہے تھے ،پانی کا قطرہ کتاب پر گرا توجھنجھلا کر کتاب بند کر دی ۔ ایک نگاہ غلط انداز صوفے پر موجود افسر اعلی پر ڈالی: “چورس ، باسی ,بد بودار گوبھی کا پھول “!دھیرے دھیرے اندھیرا اتر رہا تھا۔
کمرے میں تنہائی منہ بسور رہی تھی ،خاموشی چیختی محسوس ہو رہی تھی ، پیروں تلے کوئی انجانا خوف دھڑک رہا تھا ۔
سویرے میڈ چائے بنانے آئی تو داخلی دروازہ کھلا تھا ۔ سارے قمقمے روشن تھے ۔
پہلے کبھی ایسا نہ ہوا تھا ،
دستک پر پرنسپل بیگم صاحب ہی دروازہ کھولتی تھی اور صاحب صوفے پر نیم دراز ہی ملتا ۔آج صوفہ خالی تھا۔ ایک اور حیرت بھی تو تھی کہ کبھی نہ بیٹھنے والی پرنسپل بیگم صاحب چاروں شانے چت قالین پر تھی،آنکھیں چھت پر ٹکی تھیں۔ ہر دم الرٹ رہنے والی میڈ کی بدن بولی میں شانتی کی لہر دوڑ گئ۔ اس کی نظریں کمرے میں قیمتی چیزوں کو جانچنے لگیں کہ کون سی چیزیں ہیں جن کا نہ ہونا محسوس نہیں ہوگا ۔ ورثاء تو شام کو پہنچ سکے اور انھیں ہمیشہ کی طرح واپسی کی جلدی بھی تو تھی۔ کتابیں پہلے ہلّے ہی میں کباڑی کو اونے پونے بیچ دی گئیں ۔کسی نے کسی کا بھی’ نہ ہونا’ نوٹ نہیں کیا ۔زندگی دھیرے دھیرے بہتی رہی ۔