بیریئر ۔۔۔ ڈاکٹر مریم عرفان
بیرئیر
مریم عرفان
جس دن سے اس نے ماں باپ کے نیوڈ اسکلپچر بنانے کے بارے میں سوچا تھا۔ برکت ہاؤس میں بھونچال آ گیا۔ سب کی سوالیہ نظریں اس کا پیچھا کرتی تھیں۔ وہ سر جھکائے کسی مجرم کی طرح گھبرا کر چھت پر چلی جاتی۔ وہ جون کے مہینے کی تپش میں پکے فرش پر ننگے پاؤں چلتے ہوئے خود کو سزا دیتی تھی۔ کالج جاتے ہی اس کے پاؤں کی تلیاں ٹھنڈی پڑ جاتیں اور وہ بڑے اطمینان سے گول میز پر کہنیاں ٹکا لیتی۔سیمی اپنی ہتھیلیوں پر لگی مٹی کو غور سے دیکھتی۔ وہ اس مٹی سے کوئی شاہکار بنانا چاہتی تھی۔ وہ اس سسٹم کے آزاد خیال لوگوں کے درمیان ایک ان فٹ پیس آف آرٹ تھی۔ اسے اس بات کا احساس دلانے میں ہائی فائی کلاس سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں کافی تھیں۔ ایک متوسط طبقے کی پانچ فٹ تین انچ قد کی لڑکی برج خلیفہ جیسے قدآور طبقے کو کیسے ہاتھ لگا سکتی تھی۔ ساری کلاس اپنی فائنل پریذنٹیشن کو لے کر پریشان تھی۔ سیمی کی پریشانی ان سے کہیں زیادہ تھی۔ وہ کبھی گوتم بدھ کے زمانے کے اسکلپچرز کو سوچنے لگتی تو کبھی گندھارا آرٹ اس کی نظروں میں گھوم جاتا۔ ”کام سوترا کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔“ سیمی نے گھوم کر زینی کو دیکھا۔ ”نوٹ بیڈ۔ بٹ آئی وانٹ سم تھنگ ڈفرنٹ ایٹ آل۔“ سیمی انگلیاں چٹخاتے ہوئے بولی۔ ”آں ہاں۔ تو وہ سم تھنگ ڈفرنٹ کیا ہو سکتا ہے۔“ زینی کو سوال کرنے میں مزہ آنے لگا تھا۔
”کام سوترا کے آسن بہت پرانا آئیڈیا ہے۔ اس میں شاید اب کوئی خاص کشش نہیں رہی۔ مجھے اس سے بڑھ کر سوچنا ہو گا۔“ سیمی بیگ کاندھے پر لٹکائے ہوئے برآمدے سے باہر نکل گئی۔ سیمی نے جب سے آرٹ کالج میں داخلہ لیا تھا۔ اس کے اندر کا فنکار کھل کر سامنے آ گیا۔ اردگرد سے بے نیاز برآمدے میں بیٹھے جوڑوں کے پیروں سے ٹکر کھاتی سیمی اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتی تھی۔ اس نے تو کبھی اپنے خاندان کی کسی عورت کو بھی اپنے مرد سے بے تکلف ہوتے نہیں دیکھا تھا۔ جب منی سکرٹ اور جینز میں ملبوس کوئی لڑکی اپنی نازک انگلیوں میں سگریٹ دبائے دھواں اڑاتے پاس سے گزرتی۔ سیمی اپنے بند آنکھوں کے آگے بادلوں کے سائے اڑتے ہوئے محسوس کرتی۔ اسے خوشبو میں بسے سگریٹوں کی بو میں چاکلیٹ فلیور بہت بھاتا تھا۔ اس کی دوستی بھی اتنی آزاد خیال لڑکیوں سے نہیں تھی لیکن ماحول پہ طاری اس نشے نے اسے اپنا عادی بنانا شروع کر دیا تھا۔
اس دن وہ پیدل ہی گھرکی طرف چل پڑی۔ باہر کے شور نے اس کے اندر کی شوریدگی کو کم کر دیا تھا۔ مجمعے کی آنکھوں میں اپنے لیے حسرت اور تلذذ دیکھ کر بھی اس کی تسلی نہیں ہو رہی تھی۔ انارکلی سے گزرتے ہوئے اسے دو مرد دیوار کی طرف منہ کیے نالے کھولتے ہوئے نظر آئے۔ وہ انھیں عقب میں کھمبے سے لگی انہماک سے دیکھنے لگی۔ اس وقت وہ دو مرد نہیں بلکہ دو مجسمے تھے۔ دونوں اکٹھے فارغ ہو کر جیسے ہی مڑے سیمی کو ٹکٹکی باندھے دیکھ کر ہڑبڑا گئے۔ سیمی کے نتھنے تیز ہوتی بو کے آگے بند باندھ چکے تھے۔ وہ پھر سے مایوس ہو چکی تھی۔ وہ شہر کا ہر ایک کونہ چھان مارنا چاہتی تھی جہاں اس کے لیے سوچ کا سامان میسر ہو۔ کھمبوں سے لٹکے پشتو فلموں کے پوسٹر اور موٹے موٹے کولہوں سے سرکتی شرٹیں، فربہہ رانوں سے اٹھے ہوئے ٹراؤزر اور چوڑے چکلے سینوں پر کھنچی ہوئی سیاہ باریک لکیر۔ بڑی بڑی چھاتیوں پر آڑی ترچھی کھینچی ہوئی لکیریں بھی ان کی عریانی چھپانے سے قاصر تھیں۔ وہ یہ سب کچھ اپنے موبائل کے کیمرے میں محفوظ کرتی رہی۔ سیمی اب تک کچھ بھی نیا تلاش نہیں کر سکی تھی۔
گھر میں داخل ہوتے ہی اس نے بیگ اٹھا کر بیڈ پر پھینکا اور تکیے پر منہ رکھ کر لیٹ گئی۔ کتنی دیر الٹا لیٹنے کے بعد اسے اپنے جسم میں سنسناہٹ محسوس ہوئی اور وہ تنگ آ کر سیدھی لیٹ گئی۔ چھت کا پنکھا اس کا منہ چڑا رہا تھا۔ تینوں پر بہت آہستگی سے گھوم رہے تھے۔ سامنے دیوار پر اکھڑے ہوئے پینٹ نے دو چہرے بنا دئیے۔ دیوار سے نکلنے والی نمی نے پینٹ کے علاوہ سیمنٹ بھی اکھاڑ پھینکا تھا۔ دو ابھار اپنی ساخت کے اعتبار سے انسانوں میں بدل گئے۔ دیوار کے اوپر اس کے ماں باپ کی شادی کی تصویر کا فریم لگا تھا۔ دونوں کسی پارک میں بیٹھے تھے اور نیچے ایک بچھاؤنی میں سیمی کھلونا پکڑے لیٹی تھی۔ نوجوان جوڑے کے چہروں کی مسکراہٹ سیاہ بیک گراؤنڈ میں بھی قابل تحسین تھی۔ وہ کتنی دیر اس تصویر سے نیچے دو ابھاروں کو بڑھتے اور گھٹتے دیکھتی رہی۔ اسے محسوس ہوا کہ ابھاروں کے ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہیں۔ اچانک ایک ابھار نے دوسرے ابھار کے کاندھے پر اپنا سر رکھ دیا ہے۔ سیمی کے دماغ نے پل بھر میں جست لگائی اور سوچ لیا کہ اسے اپنے ماں باپ کے نیوڈ اسکلپچر بنانا ہوں گے۔
اچانک اسے اپنے اندر عجیب سی طاقت محسوس ہوئی۔ اس کی ہتھیلیاں مٹی کو گوندھنے میں جُت گئیں۔ وہ مٹی کے چھوٹے چھوٹے ڈھیلوں کو میز پر پٹختی رہی۔ پھر اس کے ہاتھوں نے مٹی کو گوندھ گوندھ کر گداز کر دیا۔ مٹی کا ڈھیلا جب خشک ہونے لگتا۔ وہ پانی کی پھوار سے اسے دوبارہ نم کر کے گوندھنے لگتی۔ اس کے دونوں ہاتھ گولائیاں بنا رہے تھے۔ وہ آنکھیں بند کیے سامنے دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔ اندھیرے کے پار روشنی کی دودھیا لکیر نے اس کی نظر کو خیرہ کر دیا۔ چولہے کے آگے بیٹھی ماں کے گلے میں دوپٹہ نہیں تھا۔ وہ روٹی کو توے پر ڈالتے ہی دوسرا پیڑا بنانے لگ جاتی۔ اس کی کریب کی شلوار سے گوری پنڈلی جھانک رہی تھی۔ جیسے ہی اس کا باپ غسل خانے سے باہر بنیان پہنے نکلا۔ ماں نے پیڑھی کے نزدیک پڑے دوپٹے کا پلو اپنے سینے پر ڈال لیا۔ باپ اپنی دھوتی کستا ہوا چارپائی پر بیٹھ گیا۔ صحن میں وقتی طور پر بنے کچن اور چارپائی پر بیٹھے باپ کے درمیان اک ذرا سے فاصلے پر خاموشی دھری تھی۔ ان کے ناشتے اور رات کے کھانے کی روٹین کم و بیش ایسی ہی تھی۔ جب تک بچوں کے کمرے الگ نہیں ہوئے تھے۔ ماں چارپائیوں اور دو پلنگوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے اپنا بستر درست کرتی۔ باپ کی چارپائی کمرے سے باہر برآمدے میں دروازے سے قدرے دور بچھی تھی۔ اکثر آدھی رات کو اسے اچانک کھانسنے کی آواز آتی۔ وہ چادر سے منہ نکالنا چاہتی مگر کمرے میں پنکھے کی آواز کی ہولناکی اس کا گلا گھونٹ دیتی۔ ماں اپنے پلنگ پر کروٹ بدلتی تو ہلکی سی چوں سے زلزلے کے جھٹکے کا گمان گزرتا۔ پھر ایک دن اس نے ماں کو باپ کی چارپائی پر جھکے ہوئے دیکھا۔ شاید وہ کوئی ضروری بات سننے آئی تھی۔ سیمی کے دوڑ کر آنے سے خاموشی میں ارتعاش پیدا ہوا اور باپ نے جلدی سے کروٹ بدل لی۔
سیمی اپنی ماں سے بہت سوالات کرنا چاہتی تھی۔ مگر اس کی روایتی خاموشی نے کبھی دونوں کے درمیان فاصلے کم نہیں ہونے دئیے۔ جب بھی اسے اپنی ماں کی سختی بری لگتی۔ وہ یہ بڑبڑا کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی: “کاش میں میں اپنی ماں کو پیدا کرتی۔ پھر میں اسے سوال کرنے کا اختیار دیتی۔ جیسے ہر صبح وہ لسی بلوتے ہوئے مکھن کا پیڑا بڑی نرمی سے اتار کر پیالے میں رکھتی ہے۔” سیمی کو یہ سوچتے ہوئے جھرجھری سی آ گئی۔ بھلا کبھی کوئی بیٹی بھی اپنی ماں کو جنم دے سکتی ہے۔
”اماں! کیا تمہارے پاس اپنی جوانی کی کوئی ایسی تصویر ہے جس میں تم نے کھلے گول گلے والی قمیض پہنی ہو۔“
”نہیں تو۔ چھوٹی آستین والی قمیض اور کھلے پائنچوں والی شلوار میں تو ہے۔“ ماں نے سبزی کاٹتے ہوئے جواب دیا۔
”اور کیا کوئی ایسی تصویر ہے جس میں تم ننگی نظر آتی ہو۔“
سیمی کو محسوس ہوا جیسے ماں کے ہاتھ میں کریلے کی جگہ اس کی گردن ہو۔ غصے سے بے قابو ماں کریلوں کو چھیل کر انھیں گولائی میں کاٹنے لگی۔ سیمی کو اپنی گردن پر مرچیں سی محسوس ہوئیں۔ جیسے کٹر نے اسے چھیل کر گول گول کاٹ دیا ہو۔”اگر میں خود ہی تمہیں اور بابا کو ایسا سوچ لوں؟“
”کیا تم کبھی بابا کے لیے ننگی نہیں ہوئیں؟“
”پھر ہم چار کہاں سے آ گئے؟“
”سیمی، کیا سوچ رہی ہو۔“ ماں نے اس کے کاندھے کو جھنجھوڑا۔ ”کچھ نہیں، ویسے ہی سوچ رہی تھی کہ کل ایک پراجیکٹ پر کام کرنا ہے تو کیا کروں۔“ سیمی چارپائی پر لیٹے ہوئے آسمان کی جانب نظریں ٹکائے ہوئے تھی۔ بادلوں کی اک دبیز لہر نے دائیں طرف اک گولائی کی شکل اختیار کر لی۔ گولا آہستہ آہستہ پھیلنے لگا۔ آسمان پر دیکھا دیکھی دو بت بن گئے۔ بڑا بت اپنی بائیں ٹانگ چوتڑ کے نیچے تہہ کیے بیٹھا تھا۔ اس کی گود میں بیٹھی اپسرا کی تھوڑی بت کے گال چھو رہی تھی۔ بت کا دائیاں ہاتھ اپسرا کے ننگے پیٹ پر تھا۔ اپسرا کا نچلا دھڑ بت کی ٹانگوں کے درمیان حلول تھا۔ دونوں کی نظریں ایک دوسرے میں مدغم تھیں۔ اپسرا مکھن ملائی کی طرح چکنا پیڑا بنی ہوئی تھی۔ بت کے بال گھنگھریالے تھے۔ اس کا سینہ سپاٹ لیکن کچھ آگے کو سرکا ہوا تھا۔ اس کے کانوں کی لویں لمبی تھیں جیسے گردن کو چھونے لگی ہوں۔ اپسرا کی مخروطی انگلیاں بت کے مضبوط ہاتھوں کے درمیان میں پیوست تھیں۔ شدت کا یہ اضطراب دونوں کی نگاہوں سے عریاں تھا۔ نوے کا یہ زاویہ اگر پرکار رکھ کر کھینچا جاتا تو بت اور اپسرا ایک ہی فریم میں سما سکتے تھے۔ اپسرا کے ادھ کھلے ہونٹ اور بت کے لبوں پر مسکراہٹ کی لکیر نے جسم کا جمود توڑ دیا تھا۔ مٹی کو گوندھتے گوندھتے اس نے بادلوں میں رستہ بناتے ہوئے بت اور اپسرا کو دو گولوں میں تقسیم کر دیا۔ دودھیا رنگ کے دونوں اجسام اپنے قید و بند کی غلامی سے آزاد تھے۔ اپسرا کے کھلے بال بت کے بازوؤں سے نیچے زمین بوس ہو رہے تھے۔ اس کے ماتھے کی نمی نے بت کی خشک اور بنجر زمین کو تر کر دیا تھا۔ دونوں کا انہماک اسکلپچر سے باہر چھلک رہا تھا۔
”نجانے ہمارے گھر کی عورتوں کو غسل خانے میں شلواریں پہننے کی عادت کیوں نہیں ہے؟“
”آدھے شہر کو دیواروں پہ موتنے کا شوق ہے۔“
”اتنے چھوٹے سے غسل خانے میں دم گھٹتا ہے میرا۔“
”بس ایک بار میں تم دونوں کو ننگا دیکھنا چاہتی ہوں۔“ سیمی اپنے کمرے کی دیوار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے خودکلامی کرنے لگی۔ جگہ جگہ سے اکھڑے ہوئے پلستر اور پینٹ نے اس کی انگلیوں کو کھردرا سا کر دیا۔ قریب جاتے ہی وہ ابھار غائب ہو گئے۔ اس نے پھر سے پلنگ پر بیٹھ کر انھیں انہماک سے دیکھنا شروع کیا۔ اب منظر ہی کچھ اور بن رہا تھا۔ اسے محسوس ہوا جیسے ماں یکدم بوڑھی ہو گئی ہو۔ اس کے بالوں کی سیاہی اب سفیدی میں بدل چکی تھی۔ جسم فربہی مائل ہو گیا تھااور ہاتھ پاؤں بلڈ پریشر نے سجا دئیے تھے۔ باپ ابھی بھی ویسا ہی منحنی سا تھا۔ اس کے شانے آج بھی سیدھے تھے اور پیٹ کمر کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ چہرے پر ہمیشہ کی طرح ذود رنجی نمایاں تھی۔ وہ صبح نو سے شام پانچ بجے تک آفس میں فائلوں کے آگے سینہ سپر رہتا۔ پھر موٹر سائیکل کے ہینڈلز پر پھل اور سبزی کے تھیلے لٹکائے ڈیوڑھی کے اندر اسلام علیکم کہتا ہوا داخل ہوتا۔ وہ گرمیوں کی شاموں میں اپنے باپ کو غسل خانے سے بینان اور دھوتی پہنے ہوئے ہی باہر نکلتا دیکھتی تھی۔ چہرے پر متانت سجائے بوڑھا باپ سر جھکا کر چارپائی پر بیٹھ جاتا۔ سیمی دن رات انھیں اپنی نظروں میں لیے مجسموں کی شکل دیتی رہتی۔ کالج سے گھر آتے ہی اس کا کمرہ مضبوط فصیل کی طرح اسے اپنی آغوش میں لے لیتا۔ وہ بیڈ کے سامنے والی دیوار کو گھورتی رہتی۔ اسے ہر زاوئیے سے دیکھتی اور پھر اس کی انگلیاں فضا میں تھرتھراتی رہتیں۔
سیمی صحن میں لیٹے آسمان کی طرف نظریں ٹکائے ہوئے تھی۔ اچانک بت اور اپسرا نمودار ہوئے۔ بت کے گھنگھریالے بال اب سیدھے دکھائی دینے لگے تھے۔ وہ بائیں ٹانگ پیچھے موڑے بیٹھا تھا اور اس کی گود میں بیٹھی اپسرا کی تھوڑی اس کے ڈھلکے ہوئے گال کو چھو رہی تھی۔ بت کا ہاتھ اپسرا کے جھریوں والے پیٹ پر تھا۔ اس کے ہاتھ پر کچھ رگیں نمایاں تھیں۔ جو پیپل کے پتے پر کھچی ہوئی موٹی لکیروں کی طرح دکھائی دیتی تھیں۔ اپسرا کے ہونٹ اب ادھ کھلے نہیں تھے بلکہ شراب کی خالی بوتل بن چکے تھے۔ بت کے ہونٹوں کی مسکراہٹ کی لکیر بھی خم دار نہیں تھی بلکہ سیدھی اور سپاٹ سی دکھائی دیتی تھی۔ اس کے سینے کا ابھار بھی کم ہو چکا تھا۔ نحیف سی کیفیت نے اس کے وجود کو جکڑلیا تھا۔ اپسرا کے بال اس کے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کے نیچے تھے۔ اس کے ماتھے پر نمی کے قطروں کی بجائے کچھ لکیریں تھیں۔ بوڑھے جسم ڈھلکے ہوئے غباروں کی طرح تھے۔ جن میں پانی بھرا ہو اور ایک سیٹی ان کے منہ پر رکھی ہوئی ہو۔ سیٹی بجاتے ہی غبارے تھوڑا سا اوپر پھول کر دوبارہ اپنی جگہ آ جاتے۔ زیادہ زور سے سیٹی بجانے پر غباروں میں سے پانی کی دھاریں باہر کو نکلتی تھیں۔ بت اور اپسرا کا انہماک ان کی پتھر آنکھوں کی سل سے ٹکرا کر ختم ہو چکا تھا۔ وہ محض دھکاوے کے لیے ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے پر مجبور تھے۔
آرٹ کی نمائش میں سیمی کا نیوڈ اسکلپچر لوگوں کی توجہ کھینچنے کا باعث بن رہا تھا۔ شرمیلے جوڑے منہ پر ہاتھ رکھے کھی کھی کھی کھی کرتے ہوئے گزر جاتے۔ منچلے بت اور اپسرا کو سر سے دھڑ تک چھو کردیکھتے۔ مٹی کی ٹھنڈک ان کے بند مساموں کو کھول دیتی۔
”واؤؤؤؤ۔۔۔اٹس امیزنگ سیمی۔ یو آر رئیلی راکڈ اینڈ وی آر شاکڈ۔“ کلاس کے دوست اس کے بنائے ہوئے اسکلپچر کو چھو کر دیکھتے۔
وہ گھر واپسی پر سارے رستے یہی سوچتے آئی کہ اپنی خوشی کو کیسے منائے۔ گھر داخل ہوتے ہی سارا منظر آسمان میں بدل گیا۔ بت اور اپسرا چارپائی کے سرہانے اور پائینتی پر بیٹھے تھے۔ ماں خربوزے کی پھانکیں کاٹ کر باپ کی پلیٹ میں رکھ رہی تھی۔ سیمی کندھے اچکاتے ہوئے اپنا اسکلپچر اٹھائے کمرے میں چلی گئی۔ اس کے بیڈ کے سرہانے پڑا نیوڈ اسکلپچر کمرے میں داخل ہونے والے کو پہلی ہی نظر میں دکھائی نہیں دیتا تھا۔ وہ روز رات کو اسے چھوکر دیکھتی۔ جیسے اندازہ لگانے کی کوشش میں ہو کہ آسمان پر بیٹھے بت اور اپسرا جاگ نہ گئے ہوں۔ کالج میں اس کا آخری دن تھا۔
”واٹ اباؤٹ یور اسکلپچر سیمی؟“
”نتھنگ یار۔ فی الحال تو گھر لے گئی تھی۔ کل سر کے آفس میں جمع کرواؤں گی۔“
”میرے ایک انکل نیوڈ اسکلپچرز کی کولیکشن رکھتے ہیں۔ وہ تم سے یہ سکلپچر ایک ہینڈسم اماؤنٹ میں خریدنا چاہتے ہیں۔“
”لیکن یہ پراجیکٹ بیچنے کے لیے تو نہیں ہے۔“
”اوہو۔ میرا مطلب ہے اگر تم اس جیسا ایک اور بنا دو تو۔ تمہارے لیے کون سا مشکل کام ہے۔“
”ھم م م م۔ آئیڈیا ویسے برا نہیں ہے۔“
سیمی آنکھیں بند کیے گھر کی جانب گامزن تھی۔ دروازے سے اندر پیر رکھتے ہی وہ اپنے باپ سے ٹکراتے ہوئے بچی۔
”اوں ہوں۔۔۔ دیکھ کر چلا کرو۔“ باپ نے جھلاتے ہوئے کہا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔
سیمی کندھے اچکاتے ہوئے اپنے کمرے میں آئی۔ ایک زور دار چیخ اس کے لبوں کے کناروں پر آ کر رک گئی۔ اس کا اسکلپچر زمین بوس ہو چکا تھا۔ پلنگ سے نیچے مٹی کے دو گولے ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔ بت کا اوپری لب نیچے والے سے الگ تھا۔ اپسرا کے پیٹ پر اس کا ہاتھ چسپاں تھا۔ اپسرا کا سینہ پانی والے غباروں کی طرح چھلک کر باہر آ چکا تھا۔ بت کے کاندھے مٹی کے ڈلوں کے بجائے بھربھری ریت کی طرح ساحل پر دھرے تھے۔ سیمی نے آسمان کی طرف نظریں اٹھائیں۔ مگر کمرے کی چھت پرچلتے ہوئے پنکھے کے پروں کے زور نے دو بڑے گولوں کو چھپا لیا تھا۔ سیمی کو محسوس ہوا جیسے بت اور اپسرا شراب کی خالی بوتل بن کر ٹوٹ چکے ہوں۔ اچانک اس کی نظریں سامنے دیوار پر جا ٹھہریں۔ وہاں پینٹ اور پلستر سے خالی ٹکڑے پر سے بھی دو ابھار غائب ہو چکے تھے۔ ان سے اوپر فریم والی تصویر نیچے دیکھ کر ہنس رہی تھی۔
”تم جیسی گستاخ کو اس پنکھے سے لٹک جانا چاہیے۔“
”کیوں نہ ہم اس بچھاؤنی پر لیٹے لیٹے اس کی گردن دبا دیں۔“
سیمی چھت کو گھورنے لگی جیسے پنکھے کے تینوں پر اسے ہاتھ پکڑ کر اوپر اٹھانا چاہتے ہوں۔ برکت ہاؤس کا دس بائی بارہ کا وہ کمرہ سلاٹر ہاؤس بن چکا تھا۔ سیمی کو محسوس ہوا جیسے کالج کے ہال سے شروع ہونے والا اس کا سفر وہیں ختم ہو چکا ہو۔ ”ہمت ہے تو کچھ نیا کر کے دکھاؤ۔“
”ھم م م م، میرے خیال میں مجھے موت کا سکلپچر بنانا چاہیے۔ اس سے زیادہ انوکھی اور رومانٹک چیز کوئی نہیں ہو سکتی۔“
سیمی نے سوچتے سوچتے آنکھیں موند لیں۔ دیوار خالی ہو چکی تھی اور آسمان کی نیلاہٹ نے بادلوں کی سفیدی کا جام پی کر اس کے منہ پر انڈیل دیا تھا۔