بالکونی سے نظر آتی سڑک ۔۔۔ مصباح نوید
بالکونی سے نظر آتی سڑک
مصباح نوید
میں ریلنگ کے ساتھ زنجیر سے بندھا نیچے دیکھتا رہتا ہوں ،نہیں ! یہ گمان ہرگز نہ کریں کہ میں آزاد نہیں ہوں ،جب وہ گھر ہوتی ہےتو میں پورے اپارٹمنٹ میںں آزادانہ گھومتا ہوں،رات گئے ریشمئ کمبل میں ،اس کے بازؤوں میں دبک کر سوتا ہوں ، ریشمی کمبل، بازؤوں کے گھیرے، نرمگیں سینہ اور دھڑکتے دل کی موسیقی ، یہ سب ہر ایک کے نصیب میں کہاں! زنجیر کو آزردگی سے نہ دیکھیے، میرے محترم! وہ تو محض ایک احتیاط ہے، نیچے گر پڑنے کے خدشے کے پیشِ نظر نیچی ریلنگ سے منسلک کر دیا جاتا ہوں،ہمارا اپارٹمنٹ زیادہ بلندی پر تو نہیں پر وہ ڈرتی ہے کہ اگر میں گر گیا تو اسے میری ہڈی پسلی بھی نہیں ملے گی،کسی کو فرصت ہی نہیں کہ دیکھ سکے کہ کوئی پیروں تلے آکر کچلا جا رہا ہے ،جو گرتا ہے، نہیں سنبھلتا،کنکریٹ کی سڑک ہی پر پیروں اور پہیوں کے دباؤ تلے دبتا جاتا ،تبھی تو ہر گزرتے دن سڑک سنگلاخ سے سنگلاخ تر ہوتی جارہی ،ہڈیوں کا کیلشم جو مہیا ہو رہا ہے۔
زنجیر کی تو کوئی بات نہیں ،یہ بہت نفیس ہے،ڈیزائنر کی بنائی ہوئی،بظاہر نازک ،گردن پر بوجھ نہیں بنتی،میں کئی بار سڑک سے نظریں ہٹا کر اس کی باریکیوں میں کھو جاتا ہوں، نہیں جانتا کہ ہمارا اپارٹمنٹ کتنی منزل پر ہے،کئی بار منزلیں گننے کی کوشش کی ،ناکام رہا، بہرحال اتنا جانتا ہوں کہ اپارٹمنٹ زیادہ بلندی پر نہیں،وہ خوشحال ہے اس لیے زمین سے نزدیک تر اپارٹمنٹ کرایہ پر لیا ہے،یہاں سب کرایہ دار ہیں، مالک نظر نہیں آتے ، آزاد تو وہ بھی ہے پر آزادی زیادہ نپی تلی ہے، مخصوص عینک ،مخصوص مناظر ،مخصوص قدم ، حد سے بڑھے تو گھر پابند کر دی جاتی ہے ،جب اپارٹمنٹ میں کچھ دن محدود ہوتی ہےپھر ہم موج میں مست رہتے ہیں، چہرے پر رنگوں کا پینٹ ،سنہری ،روپہلے لباس،ہر طرح کے پکوان ،نہ پوچھو میرے محترم! چٹخارہ کام و دہن کا، آوازوں کو ترستے کان ،کان پھاڑ موسیقی پر سر دھنتے، دیواریں؟ دیواروں کی کوئی پرواہ نہیں ، روزمرہ میں تو بس وہ ہی مناظر؛ بالکونی ،سڑک اور بلند گنجان عمارتوں کے بیچ آسمان کا ایک ننھا سا ٹکڑاـــ جیسے کسی بچے کی بنیان ،سڑک پر گاڑیوں کے بیچ بوڑھی عورتیں نوجوانوں کو سہارا دیتیں ،اُن کا ہاتھ تھامے رواں نظر آتی ہیں، کوئی نوجوان ثابت سالم نظر نہیں آتا، کسی کی آنکھ نہیں،تو کوئی بنا بازو کے، کسی کی ٹانگ غائب ہے اور کوئی خالی کھوپڑی گداگر کے پیالے کی طرح اٹھائے رواں ہے،ایک لڑکی کا جبڑا کڑ کڑ دانت بجاتا ہے ،شاید یہ بھی ہنسی کی کوئی قسم ہے ،اس کے قہقہوں سے ریلنگ دیر تک لرزتی رہتی ہے،اس کا ایک ہاتھ بڑھیا کے ہاتھ میں اور دوجا پھسلتے پاجامے کو کھینچ کر اوپر کرتا رہتاہے، شاید ان سب کی مائیں اور باپ کام پر گئے ہیں ،تبھی تو انہوں نے نانیوں دادیوں کے ہاتھ تھامے ہوئے ہیں،شاید سڑک کے اختتام پر معذوروں کے لیے ترتیب دیے گئے کالج یونیورسٹیاں ہوں،لفظ
“شاید ” بار بار سن کر جھنجھلائیے نہیں ،میرےمحترم! میں جو ایک ریلنگ سے زنجیر کے زریعے منسلک، عمارت کی تیسرے یا چوتھے یا شاید پانچویں، چھٹے اپارٹمنٹ کی بالکونی میں ہوں، کوئی حتمی بات کیسے کہ سکتا ہوں؟
وہ سب سڑک پر چلتے تھے،حاشیے پر نہیں ، حاشیے پر گٹروں کے منہ کھلے تھے،کئی بار کئیوں کو ان گڑھوں میں غائب ہوتے دیکھا، کبھی ابھرتے نہیں دیکھا،جب کسی کوکھلے منہ والے گٹر میں غائب ہوتے دیکھتا تو ایک چیخ من سے نکلتی اور حلق میں گھٹ کر رہ جاتی ،وہ دور اندیش جاتے سمے میرے منہ پر ریشم کا بُنا ہوا چھیکا بھی چڑھا جاتی کہ کہیں خواہ مخواہ علاقے کا امن امان خراب نہ کردوں، اس دن چھیکا باندھنے کے بعد دیر تک اس کے ہاتھ میرا سر سہلا تے رہے، میری آنکھوں میں تیرتی بحری بیڑے سی اداسی اس کی آنکھیں نم کر گئ ،اب وہ پہلے کی طرح چھم چھم رو نہیں پاتی تھی ،اس کی آنکھوں کے سوتے خشک ہو گئے تھے،اس لیے نمی کا آنا ہمارے لیے ایک بڑی خوشی تھی ، ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیرے اپنے بازو میرے گلے میں حمائل کرتے ہوئے اُس نے میرے کانوں میں سرگوشی کی:” اوہ سجن پیارے ! من موہن !کتنی بار کہا کہ بالکونی میں نہ بیٹھا کر ،لاونج میں پوری دیوار پر سکرین آویزاں ہے ،واں اپنے من پسند منظر دیکھا کرو ناں!
بالکونی کے نیچے بہتی ہوئی سڑک کی طرف اشارہ کرتے ہوئی بولی:” تمھارا نازک دل یہ ساری بھیانک بد صورتی سہہ نہیں پائے گا،” میں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اس کی بِنتی کی،آج کا دن یہیں گزارنے دو،کل سے سکرین پر زندگی سے بھرپور لہلہاتے منظروں سے لطف اندوز ہوا کروں گا،۔۔۔۔بس آج کا دن،
وہ مسکرائی اب کے بار نمی زرا زیادہ تھی ،ہم دونوں پھر ایک بڑی خوشی سے دوچار ہوئے، میرے ہونٹوں میں بوسہ دیتے ہوئے رخصت ہوگئ تو میں پلٹ کر بالکونی سے نیچے جھانکنے لگا، آج مناظر میں تمازت کچھ زیادہ تھی ، ساکت سہمی ہوا کو خبر ہوگئی تھی کہ ” آج کے دن ” کی پونجی ہی واحد عینی شاہد کے پاس بچی ہےاور وہ نہیں چاہتی تھی کہ آنکھ کی پتلی پر کچھ مندرج ہونے سے رہ جائے،میں ہک دک رہ گیا جب لہراتا ہوا تھپڑ اندھے جوان کے چہرہ پر پڑا ، اندھے مردود ! پھر ایک مکہ کسی لنگڑے کی پیٹھ پر پڑتا ہے اوئے لولے !اپاہج !کوئی کلہاڑا سا آتا ہے کڑ کڑ ہنستی لڑکی کو چوپ کرتے ہوئے گزر جاتا ہے،نانیاں دادیاں پگھلے تارکول کی طرح سڑک پر پھیل جاتی ہیں،میری آنکھیں حلقوں سے نکل کر نیچے گرنے کو ہیں، ان ہونی ہونے کو ہے ، زناٹے دار گاڑی سے نوجوان کو بچاتے ہوئے ، نانی یا دادی اس کا ہاتھ کھینچ کر حاشیے پر لے آتی ہے، نوجوان پھسل کر گٹر میں جا گرتا ہے، وہ ڈوب ابھر رہا ہے ،نانی یا دادی دوہتڑ رانوں پر مارتی مدد کے لیے چلا رہی ہے، کوئی نہیں دیکھ رہا ،کوئی نہیں سن رہا،بس ایک میں اور ایک سہمی ہوئی ہوا! ۔۔۔! بے اختیاری میں بالکونی سے چھلانگ لگائے ہوئے میں بھول گیا تھا کہ گلے میں زنجیر بھی ہے۔
گھر پہنچتے ہی کہیں رکے بنا میں بالکونی پہنچتی ہوں جہاں “سجن ” کی مہر بھری آنکھیں اور پرجوش ہلتی ہوئی دم میرا سواگت کرتی ہیں ، آج بالکونی خالی ہے، باہر گرتی ہوئی زنجیر ریلنگ سے ٹکرا کر کھنک رہی ہے ۔ اُس دن سے میں سجن کو بانہوں میں سمیٹے سڑک پر سرگراں ہوں ۔ایک دوسرے میں پیوست، بلند عمارتیں آسمان کو چھوتی ہیں۔ گاڑیاں دھاڑتی گزرتی ہیں۔جو قدم سڑک پر پڑتا ہے ،وہیں سے سسکی کی آواز ابھرتی ہے۔ سرسبز قطعہ کی تلاش ہے ،جہاں درخت کا سایہ بھی ہو تاکہ سجن کو دفنا کر، اس کی قبر کے سرہانے دعائیہ کلمات کہ سکوں، مگر سڑک ہی ختم نہیں ہوتی ۔