پہلی بار ۔۔۔ ضیا ء المصطفیٰ

پہلی ہار

ضیا المصفی

         وہ پر اعتماد اور ہموار قدموں کے ساتھ ایسے چل رہا تھا، جیسے وقت اور فاصلہ اس کے لیے کوئی معنی نہ رکھتے ہوں۔ راستہ سہل، موسم خوش گوار اور بدن تن درست۔۔۔۔ صبح کی سنہری دھوپ اس نے کندھوں کے گرد لپیٹ رکھی تھی اور گھاس کی نوکیلی  کونپلیں گویا اس کے پیروں کو گدگدا رہی تھیں۔ اپنے دور افتادہ گاؤں سے شہر کی جانب رواں دواں وہ اپنی ترنگ میں کوئی گیت گنگنا رہا تھا،جو کسی الہڑ شاعرہ نے فطرت کے کھلے آسمان تلے بیٹھ کر لکھا تھا۔ وہ مکمل اعتماد اور یقین سے چلتے ہوئے جا رہا تھا۔

           دفعتاً اس کی نظر ایک اجنبی وجود پہ پڑی۔ ایک سایہ جو تیزی کے ساتھ اس کے عقب سے ابھر کر سامنے سے گزر گیا۔ سیاہی مائل چمک دار دھاتی ڈھانچے میں نصب دو پہیوں پہ جھکا ہوا ایک سوار، اس ہموار راستے کو تیزی سے عبور کرتا چلا جا رہا تھا۔ اس سے پہلے اس نے یہ منظر کبھی نہیں دیکھا تھا، نہ اپنے گاؤں میں نہ کسی قصے میں۔۔۔

            پیادہ شخص چند لمحے حیرت میں ڈوبا ساکت کھڑا رہا۔ اسے سائیکل کی زنجیر کی چرچراہٹ، پہیوں کی گردش اور سوار کے پیروں کے جنبش کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ پہلے تو اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔ ایک بےساختہ، معصوم اور حیرت سے لبریز ہنسی، جیسے بچہ پہلے پہل تتلی کو دیکھ کر کلکاریاں مارتا ہے۔ وہ اس منظر سے محظوظ ہو رہا تھا، مگر چند لمحوں بعد، اس کی ہنسی آہستہ آہستہ سمٹنے لگی۔ اس کی آنکھیں اس راستے پر گڑ گئیں، جس پہ ابھی ابھی نمودار ہونے والا سائیکل سوار آگے نکل کر نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا۔

         کچھ ایسا تھا کہ اسے قانون قدرت درہم برہم ہوتا دکھائی دیا۔ اس نے اپنے آپ سے پوچھا۔۔۔

“پیچھے والا آگے کیسے ہو سکتا ہے؟”

“کیا میں سست ہوں؟”

“کیا وہ مجھ سے بہتر ہے؟”

 “کیا شہر والے سب کچھ بدل دیں گے؟”

 یہ وہ سوالات تھے جو گاؤں کے کھیتوں، ندیوں اور سناٹوں میں کبھی اس کے ذہن میں نہیں ابھرے تھے۔ اب وہ راستے کی خوشگواریت کو بھول کر اپنی رفتار ناپنے لگا تھا اور راستے کو جلد کاٹنے کے طریقے سوچنے لگا تھا حالانکہ اسے کوئی جلدی نہیں تھی۔ اب اس کے قدم پہلے جیسے متوازن نہیں رہے تھے۔ اس کے لبوں پہ گنگناہٹ خاموش ہو گئی تھی۔

           وہ شہر کے داخلی دروازے پر پہنچا، تو پہرے دار لکڑی کے مخصوص مچان پر بیٹھا ملا۔ دونوں مانوس نگاہیں آپس میں چار ہوئیں۔ پہرے دار نے خلاف معمول اس کے چہرے پہ سنجیدگی، تھکن اور تفکرات کے سائے دیکھے، تو بولا۔۔۔۔

“کیا ہوا؟”

“کوئی پریشانی ہے؟”

 پیادہ شخص چند ثانیے خاموش رہا اور پھر گردن اٹھا کر بولا۔۔

“مجھے نہیں معلوم، مگر لگتا ہے جیسے میں لیٹ ہو گیا ہوں یا شاید پیچھے رہ گیا ہوں”۔

دونوں جانب ایک دم گہرا سکوت چھا گیا۔

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.