اپنے حصے کی مار ۔۔۔ کوثر جمال
اپنے حصے کی مار
ڈاکٹر کوثر جمال
اس بار کچھ الگ ہوا
توقع کے با لکل برخلاف
جانے حماد کو بیٹھے بٹھاے ہو کیا گیا تھا۔ایسی باتیں اس لہجے اور انداز میں اس کے دوستوں کے گروپ میں ہوتی رہتی تھیں۔ جب معاملہ دوسروں کا ہو تو یوں بھی لوگ کسی بات کی گہرائی اور شدت کو اس طرح محسوس تھوڑا ہی کرتے ہیں جیسے وہ لوگ کرتے ہیں جن پر بیتی ہو یا جن کے پیاروں پر بیتی ہو۔ یار لوگ جب مل بیٹھتے ہیں تو یں بھی ہنسی مذاق کے موڈ میں ہوتے ہیں اور مذاق با لعموم دوسروں کا ہی اڑایا جاتا ہے۔
لیکن اس روز تو مذاق کی حد ہی ہو گئی۔ وہ ایک خبر تھی، قتل کی خبر۔ ایک لڑکی کو اس کے دوست نے بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا تھا۔ آج کل لڑکیوں کے ایسے قتل عام سی بات ہو کر رہ گئے ہیں۔ ایسی خبریں سن کر لوگوں کے احساس کی لکیر میں وہ زیروبم نظر نہیں اتا جو ان کے زندہ ہونے کا ثبوت دے۔ان کے احساس کی لکیر اسی طرح فلیٹ رہتی جیسے ہسپتال میں مرنے والے کے دل کی دھڑکن کی لکیر۔ ایک دم سیدھی۔
ہاں تو حماد کے دوستوں میں سے کسی نے گرم چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے قتل کی اس واردات کی جزیئات سنانا شروع کیں۔ ذکر جب شراب، نشہ، لڑکی لڑکے کی مادر پدر آزاد دوستی اور رقص و سرود کی محفلوں کی تفصیلات تک پہنچا تو معمول کی طرح سنانے والا اور سننے والے روایتی جرگوں کے وہ لوگ بن گئے جن کے ہر فیصلے میں لڑکی کا معتوب ہونا لازم ٹھہرتا ہے۔گھٹن زدہ معاشرت کے لوگ یوں بھی ایسی باتوں کی تصیل میں کہیں نہ کہیں لذت یا تفریح کا پہلو ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ ایسے قتل سکینڈل ب جاتے ہیں۔ جن اخباروں میں ان کی تصیل چھپتی ہے وہ دھڑا دھڑ بکتے ہیں۔ تفصیلات میں خیال رکھا جاتا ہے کہ ایسی زبان اور الفاظ استعمال کیے جایئں جو معاملے کی سنجیدگی کو سنسنی میں بدل دیں۔ سنسنی خیز تفصیلات نشر کرنے سے پرایئویٹ ٹی وی چینل اپنی ریٹنگ بڑھاتے ہیں اور سننے والے اپنے ٹھنڈے احساسات کو گرماتے ہیں۔
تو بس کچھ ایسا ہی ماحول اس روز حماد کے دوستوں کی اس بیٹھک میں تھا۔ سنسنی خیز تفصیلات، اشارے کرتی آنکھیں، کچھ واہیات جملے، کچھ زیر لب تبسم، کسی کے ہونٹ کا تمسخر آمیز کونا قدرے اوپر اٹھا، کسی نے اپنی ہنسی دبائی۔ یہ سب کچھ معمول کا حصہ تھا۔ البتہ اگلا لمحہ معمول سے ہٹ کر تھا۔ اچانک حماد پر ناقابل بیان غصے کا دورہ سا پڑا اور وہ بے قابو ہو کر سنانے والے کی اور سن کر ہنسنے والوں کی اپنے مکوں، تھپڑوں اور لاتوں سے دھلائی کرنے لگا۔ کچھ ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے سامنے اس کے دوست نہیں بلکہ گندے کپڑے تھے جن کی وہ دھلائی کر رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ اس کے دوست سنبھلتے، اپنا بچاو کرتے یا اسے قابو میں کرتے، وہ اپنا کام کر چکا تھا۔ یعنی اس کے دوست کای حد تک اپنے اپنے حصے کی مار کھا چکے تھے۔
( کتاب :: کیکٹس کے پھول:: کوثر جمال)