سات منٹ کی زندگی ۔۔۔ محمد جمیل اختر

سات منٹ کی زندگی

محمدجمیل اختر

سات منٹ کچھ اتنا لمباعرصہ نہیں ہوتا۔
ہاں! محض سات منٹ کہ جسے ایک سگریٹ پھونکنے یا بے مقصد گفتگو کرنے میں بھی گُزارہ جاسکتاہے۔
اِتنے قلیل وقت میں کوئی کیا کرسکتا ہے خاص کر وہ انسان کہ جس نے سات منٹ بعد مرنا ہو۔۔۔۔
آج اگر ٹرین پورے بارہ بج کر تیس منٹ پر آجاتی تو اب تک شمیم بی بی کا کام تمام ہوچکاہوتالیکن ٹرین لیٹ تھی۔ پورے سات منٹ لیٹ اور یہی کل ملا کرشمیم بی بی کی باقی زندگی تھی جس میں اُسے وہ باتیں یاد آرہی تھیں جنہیں وہ اسٹیشن آنے سے پہلے ہزاروں مرتبہ سوچ چکی تھی لیکن پھرایک مرتی ہوئی عورت آخری سات منٹوں میں اور کیا سوچ سکتی ہے؟

بارہ اکتیس۔

یہ جولائی کی ایک تپتی ہوئی دوپہر ہے اور اِس وقت اسٹیشن پر پندرہ بیس مسافرگاڑی کا انتظار کررہے ہیں۔اِسٹیشن ماسٹرشبیرحسین یونیفارم پہنے دائیں جانب بار بار گاڑی کی راہ دیکھتاہے، کچھ منٹ پہلے ہی وہ گاڑی آنے کی اطلاعی گھنٹی بجا چکاہے۔
”شبیر صاحب! ساڑھے بارہ تو ہوگئے ہیں، یہ گاڑی آکیوں نہیں رہی؟“ایک مسافر نے اسٹیشن ماسٹر سے پوچھا۔
”آج کل گاڑی آہستہ چلتی ہے، زیادہ اسپیڈ سے بوگیاں پٹڑی سے اُتر جاتی ہیں“شبیرصاحب نے جواب دیا
”بس جی پٹڑیاں ختم ہوچکی ہیں، وہی انگریزوں کے زمانے کی پٹڑیاں آخر کب تک چلیں“اُس شخص نے ہنستے ہوئے کہا
”چلو گورے کوئی تو اچھا کام کرگئے ہیں“شبیر صاحب نے جواب دیا
شمیم بی بی نے سوچاکہ اُس کی زندگی کی گاڑی بھی تو پٹڑی سے اُتر چکی ہے۔لُو کا ایک تیزجھونکا سا آیاتواُس نے فوراً اپنی چادر دُرست کی اور چہرے پہ آیا پسینہ پونچھا۔۔۔

بارہ بتیس۔

”آج کافی گرمی ہے“ ایک مسافر نے دوسرے سے کہا۔
”شایدآج درجہ حرات پچاس ڈگری ہے“دوسرے نے جواب دیا۔
لیکن یہ بات کہ آج کتنی گرمی ہے، شمیم بی بی کے لیے کس قدر بے معانی تھی۔
بعض اوقات ایک ہی وقت میں ایک ہی پلیٹ فارم پر کھڑے مسافروں کے لیے ایک ہی جیسی چیزیں کس قدر مختلف ہوجاتی ہیں جیسے یہ ساڑھے بارہ کے بعد اضافی ملے سات منٹ دوسرے مسافروں کے لیے گزارنے مشکل ہو رہے تھے جب کہ شمیم بی بی کو یوں محسوس ہورہا تھا کہ اگلے سانس کے بعد جیسے ہی اُس نے آنکھ جھپکی تو گاڑی اُس کے سامنے ہوگی،اُسے بس ایک چھلانگ لگانی ہے اور یہ دکھ بھری زندگی ختم۔
اُس کاجسم کانپ رہا تھا،چہرہ پسینے سے اتنا تَر تھا کہ آنکھ سے بہتے آنسو اورپسینے کے قطروں میں فرق کرنا ممکن نہیں تھا۔
”بارہ تینتیس ہوچکے ہیں۔ بیٹا جاؤ مسافر خانے جاکربہن کو کہو پلیٹ فارم پر آجائے، گاڑی بس آنے ہی والی ہے“ ایک بزرگ نے ساتھ کھڑے نوجوان سے کہا۔ شمیم بی بی خیالوں کے بھنور میں بُری طرح ہچکولے کھارہی تھی اور اِردگرد کھڑے مسافروں کی کوئی بات اُسے سمجھ نہیں آرہی تھی،اُسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اُس کے پاؤں میں موجود ایک جوتا ٹوٹا ہوا ہے۔
اُسے خیال آیا کہ اب تو اُس کا چھ سالہ بیٹا جیدا سکول سے گھر آگیا ہوگا اور ضروراُسے ڈھونڈرہا ہوگا، بڑے کمرے میں چارپائی پر اُسے صرف اپنی بہن سوتی ہوئی ملے گی، وہ اُسے جگادے گا“
”اماں گڑیا جاگ گئی ہے، بہت زور زور سے رو رہی ہے“جیدا بھاگتا ہوا باورچی خانے میں جائے گاجہاں چولہا ٹھنڈا ہوچکا ہوگا لیکن اُس نے آنے سے پہلے روٹی بناکرکپڑے میں لپیٹ کرچنگیر میں رکھ دی تھی، کپڑا لپیٹنے کے بعد اُسے خیال آیا تھاکہ روٹی پر دیسی گھی بھی لگا دینا چاہیے کہ یہ جیدے کے لیے اُس کی ماں کی طرف سے بنائی گئی آخری روٹی ہوگی سو اُس نے گھی لگاکر روٹی چنگیر میں رکھ دی تھی، جیدا جب روٹی دیکھے گا تو سوچے گا کہ ماں پڑوس میں گئی ہوگی، وہ روٹی اٹھا کر پاس پڑے مرتبان سے اچار نکال کر کھالے گا“
”کیا وہ مرتبان سے اچار نکال لے گا؟“
”کیا وہ روٹی کھالے گا؟“
یہ وہ ساری باتیں تھیں جو اُسے پلیٹ فارم پر یاد آرہی تھیں۔

بارہ چونتیس۔

”کھانا کھانے کے بعد جیدا کیا کرے گا؟“
”میرا خیال ہے اِتنی دیر میں گُڑیا پھر سے رونا شروع کردے گی،شاید جیدے نے ابھی آدھی روٹی کھائی ہو،وہ بھاگ کربڑے کمرے میں جائے گا۔
گڑیا نیند سے اٹھنے کے بعد جو روتی ہے تو میرے علاوہ کسی سے چپ نہیں ہوتی۔۔۔پھر جیدا کیا کرے گا؟“
”پتا نہیں کیا کرے گا۔۔۔“ اُسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ جیدا آخر گڑیا کو کیسے چُپ کرائے گا۔۔
”شاید وہ اُسے ایک تھا راجہ، ایک تھی رانی والی نظم سنائے۔“
”لیکن گڑیا چپ نہیں کرے گی، میرے بغیرکیسے۔۔۔“یہ سوچ کراُس کا جی بھر آیا
”چپ کر جاؤ میری گڑیا“
”چپ کرجاؤ میری پیاری“
اُس نے پلیٹ فارم پر کھڑے کھڑے زیرِلب دہرایاجیسے اُس کے خیالوں میں روتی گڑیا یہ سُن کرچپ کرجائے گی،آنکھوں سے بہتے پانی میں تیزی آگئی، اُس نے فوراً اپنی چادر سے چہرہ پونچھااوردائیں جانب ٹرین کی تلاش میں نظر دوڑائی۔
”شبیر صاحب اب تو بارہ پینتیس ہوگئے ہیں، کیا آپ نے غلطی سے تو اطلاعی گھنٹی نہیں بجادی تھی؟“ایک آدمی نے اسٹیشن ماسٹرسے پوچھا
”بیس سال ہوگئے ہیں یہی کام کرتے،اب تو نیند میں بھی گاڑیوں کے آنے جانے کا وقت یاد رہتا ہے بلکہ ساری رات خوابوں میں گھنٹیاں بجتی رہتی ہیں، پچھلے اسٹیشن سے چل نکلی ہے تو بس آتی ہی ہوگی،آپ اپنا سامان تیار رکھیں“ شبیرصاحب نے اُس شخص کو جواب دیا۔
شمیم بی بی کے پاس تو کوئی سامان بھی نہیں تھا فقط جان تھی جسے اُس نے کھینچ کر پٹڑی تک لے کر جانا تھا اور وہ اِس کام کے لیے تیار تھی، اگر گاڑی وقت پر آجاتی تو یہ منٹ اور یہ سانسیں کب کی ختم ہوچکی ہوتیں۔
”گڑیا نے اب بھی چُپ نہیں کیا ہوگا، جیدا بھلا کہاں چپ کرا سکتا ہے وہ تو خود ابھی بچہ ہے۔پہلی جماعت میں کوئی اتنا سمجھدار تھوڑی ہوجاتا ہے کہ وہ روتے بچے کو چپ کرالے بلکہ چپ کرانا تو اُن کے نشئی باپ کو بھی نہیں آیا،فیقے کا خیال آتے ہی اُسے اپنی کمر کے زخموں میں درد محسوس ہونے لگا۔ابھی تک اُسے گرمی اور پسینے کے بارے معلوم بھی نہیں تھا، فیقے کے خیال سے ہی پسینے میں موجود نمک اُس کی کمر کے زخموں میں سرایت کرنے لگا، اُس نے زخمی اور قدرے جھکی ہوئی کمر کو تھوڑا سا سیدھا کیا تو آنسو اُس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ بہنے لگے،اُس نے چادرسے چہر ہ ڈھانپ لیا۔
اُسے شادی سے پہلے والے فیقے کا خیال آیا جو کہتا تھا، میرے ساتھ بھاگ کر شادی کرلو تمہیں شہزادی بنا کر رکھوں گااور وہ بھی کتنی نادان تھی اُس کے ہر بات کو سچ سمجھ کر ایک رات گھرسے بھاگ آئی تھی،ماسٹر کریم داد کی اکلوتی بیٹی، دس جماعتیں پاس کیسا قدم اُٹھا بیٹھی تھی۔
اُسے پورے دو دن بعد اپنے ابا کا خیال آیا تھا، ایسے جیسے آدمی کسی سفر پر نکلے اور جب منزل پر پہنچے تو یوں محسوس ہو کہ کچھ بہت قیمتی چیز راہ میں کہیں کھو گئی ہے،ایسے میں حاصل کی گئی منزل بھی بے معانی ہوجاتی ہے۔ اُس سے بھی اُس کے ابا کی محبت کھوگئی تھی۔
”ابا کس حال میں ہوگا؟“دودن بعد یہ بات اُسے رہ رہ کرستانے لگی تھی۔
اُدھر ابا کے پاس ماضی کے سوا کچھ باقی نہیں بچا تھا کہ حال میں لوگوں کی سوال کرتی نگاہوں کے بوجھ تلے دبَے جاتے تھے، ماسٹرصاحب کی بیوی مدت پہلے فوت ہوگئی تھی، اکلوتی اولاد کو ماں اور باپ دونوں بن کر پال رہے تھے کہ یکدم ان کی گاڑی بھی پٹڑی سے اُترگئی۔
شادی کے تین مہینے بعد وہ اپنے ابا کودیکھنے گئی تھی، دراصل پڑوسیوں کا فون آیا تھا۔
”اپنے ابا کو دیکھ جاؤ، حالت کوئی نہیں ہے اب“
وہ وہاں پہنچی تو سامنے ایک ہڈیوں کا پنجر تھا جو تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہوا کے اندر جانے سے اوپراُٹھتاتھا۔
تین مہینے کوئی لمباعرصہ نہیں ہوتا لیکن آدمی کو دکھ کی دیمک لگ جائے تو تین مہینے بہت ہوتے ہیں۔
بہت سے دکھوں میں شمیم بی بی کو یہ بھی ملال تھا کہ آخری وقت ابا اُسے پہچان نہیں پائے تھے،حالاں کہ اُس نے رورو کر بتا یا تھاکہ وہ شمیم ہے، اُن کی اکلوتی بیٹی، وہی لاڈلی بٹیا کہ جس کی وہ ہر فرمائش پوری کرتے اور بچپن میں ہرروز نئی کہانی سناتے،وہ بیمار پڑجاتی تو ابا کی نیند اُڑجاتی۔ساری ساری رات سرہانے بیٹھے رہتے اورلب دُعاگورہتے۔
معلوم نہیں وہ بوڑھی آنکھیں آخری سمے کیا دیکھ رہی تھیں اورکسے خبر کہ اُن میں اُس وقت کچھ دکھائی بھی دے رہا تھا یا نہیں۔
لیکن شمیم بی بی کوآج تک، اِس اسٹیشن پر کھڑا ہونے کے بارہ بج کر چھتیس منٹ تک یہ یقین تھا کہ اُن آنکھوں میں شمیم بی بی کا عکس مٹ چکا تھا اور فیقے کی محبت تو اُس کے گھرقدم رکھتے ہی ختم ہوگئی تھی،اُس نے شمیم سے سارے زیور لے کر بیچ دئیے تھے۔شادی کے آٹھ سالوں میں چند ہی دن ایسے ہوں گے جن میں فیقے نے اُس پر ہاتھ نہ اُٹھایا ہو اور آج وہ اِس اذیت بھری زندگی کو ختم کرنے گاڑی کا انتظار کر رہی تھی۔

بارہ سینتیس۔۔۔۔۔۔

دور سے گاڑی کے انجن کی آوازآتی ہے۔۔۔
”آگئی بھئی، سامان اُٹھاؤ۔۔۔۔“مسافروں کا شوراُٹھا
شمیم بی بی نے لمبا سانس لیا، دورسے آتی ٹرین کو دیکھا،چادر پر گرفت مضبوط کرلی۔
جیدا کہہ رہا ہوگا۔
”ایک تھا راجہ۔۔۔ ایک تھی رانی۔۔۔“
”لیکن گڑیا رو رہی ہوگی۔۔۔“
”فیقاساری عمر نشہ کرتارہے گا“
”زندگی ایک اذیت بھرا کھیل ہے“
”جیدا گا رہا ہوگا۔۔۔“
”ایک تھا راجہ۔۔۔ ایک تھی رانی۔۔۔“
”لیکن گڑیا رورہی ہوگی۔۔۔“
”ٹرین آرہی ہے۔۔۔“
”جیدا۔۔۔گڑیا۔۔۔ٹرین۔۔۔“
”ایک تھا راجہ۔۔۔ ایک تھی رانی۔۔۔“
”ٹرین آگئی ہے۔۔۔۔“
”ٹرین۔۔۔جیدا۔۔۔گڑیا۔۔۔“
لیکن پھر۔۔۔۔۔
ختم شد

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: