ہائی بر نیشن کا متلاشی نوجوان ۔۔۔ محمد جمیل اختر

ہائیبرنیشن کا متلاشی نوجوان

محمدجمیل اختر

وہ نوجوان جس کی بات کوئی بھی نہیں سمجھتا تھا، کسی کو یہ بتانے سے بھی قاصر تھا کہ کئی روز سے اُس کے دماغ میں لگاتارایک گھنٹی کی آواز بجتی رہتی ہے۔۔۔۔مسلسل
” ٹوں ں ں ں ں ں ں ں ں ں ں ں ں ں ں ں“
اِس بارے اُس کا اپنا خیال تھا کہ یہ گرمی کی شدت کی وجہ سے ہورہا ہے،اگرکسی کے پاس اُس کی بات سننے کا وقت ہوتا تو یقینا اُسے کوئی مشورہ ضرور ملتا لیکن ایسا ممکن نہیں تھا سو اُس نے خود کو مشورہ دیا کہ اگر وہ روز دریا میں نہائے توشاید یہ آواز رُک جائے۔ یوں بھی تو وہ سارا دن گلیوں پھرتارہتا تھا،اب دریا پر نہانے بھی آنے لگا لیکن آواز میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔۔۔ آج وہ دریا میں کافی دیر تیرنے کے بعد کنارے پر آیا اور ریت پرگِرگیا ایسے جیسے وہ ایک عمر تک دریا میں تیرتا رہا ہو۔ریت اُس کے جسم کے ساتھ چِمٹ گئی تھی اور اُسے اِس بات کی کچھ پروا نہیں تھی۔ ریت پہ لیٹے لیٹے اُس نے دیکھا کے ایک مینڈک بھی پانی سے نکل کر ریت پر آگیاجس نے بے سُدھ ہوکر آنکھیں بندکرلیں، یہ دیکھ کر نوجوان کوخیال آیا کہ کیا وہ آدمی کی بجائے مینڈک تونہیں ہے؟
”مینڈک بھی دریا میں تیر سکتا ہے، ریت پر آکر دھوپ سینک سکتا ہے تو اُس میں اور مینڈک میں فرق کیا ہے؟“ اُس نے پڑھا تھا کہ مینڈک کا نظام ِہضم انسانوں سے ملتا جلتا ہے لیکن پھر اُسے خیال آیا کہ مینڈک کو پانچ سال تک نوکری تو تلاش نہیں کرنی پڑتی ہوگی اور نہ ہی لوگوں کے طعنے سننے کو ملتے ہوں گے۔۔۔ نوجوان کئی سالوں سے درج ذیل جملے لگا تارسنتا آرہا تھا۔۔۔

* ”معذرت ہم آپ کو نوکری نہیں دے سکتے دراصل آپ میں فلاں فلاں خامیاں ہیں“
**”بیچارہ سیکنڈڈویژن ایف اے پاس“
***”آپ کایہ بیٹاکوئی کام کیوں نہیں کرتا؟“
****”میں تم سے محبت نہیں کرسکتی دراصل۔۔۔۔۔“
*****”پھرآگیا مفت خورچائے پینے۔۔۔
******”سُنا ہے تم کوڑے کے ڈھیرسے ملے تھے، کیایہ سچ ہے کہ تم حرامی ہو؟“

اُن دنوں وہ خالی پیٹ گھنٹوں پانی میں بے مقصد تیرتارہتا۔۔۔یاپھرگلیوں بازاروں میں بغیر کسی کام کے چلتاپھرتارہتا۔دراصل جب کبھی وہ ایک جگہ ٹھہرجاتا تو گھبراہٹ سی ہونے لگتی اور عجیب وغریب خیالات اُسے گھیر لیتے تھے،پچھلے کچھ دنوں سے وہ ساری ساری رات جاگتا رہتا،اُسے نیند نہیں آتی تھی،پہلے پہل اُسے صرف عجیب وغریب آوازیں سنائی دیتی تھیں اور اب کچھ کرداروں کو وہ باقاعدہ دیکھنے لگا تھا،وہ اُس سے باتیں کرتے تھے تووہ اونچی آواز میں جواب دینے لگتا،اُس کے گھر والے جاگ جاتے۔ ”کس سے باتیں کررہے ہو؟“
وہ گھبراکرخاموش ہوجاتا۔ وہ اپنے گھروالوں کو یہ بتانے سے قاصر تھا کہ ابھی ابھی وہ ایک صاحب کو انٹرویو دے رہا تھاجسے کسی سوال کے جواب میں غصہ آگیا اور وہ اُسے بالوں سے پکڑ کر آفس سے باہرگھسیٹ کرلے جارہا تھاتو وہ چلانے لگا۔بعض اوقات رات کو گھنٹیوں کا شور بڑھ جاتااور وہ اپنے گھر میں ہی محلے والوں سے لڑائی جھگڑاکرنے لگتا۔ اُس کی ماں کا خیال تھا کہ اُس پر کسی آسیب کا سایہ ہے جب کے اُس کا باپ سمجھتا تھا کہ یہ سب کام نہ کرنے کے بہانے ہیں اوراُس کااپناخیال سُننے کے لیے کسی پاس وقت نہیں تھادراصل وہ اِس قدرحساس تھا کہ اپنی بات کہنے کے لیے جملے ترتیب دیتے دیتے لفظ آپس میں گڈمڈ ہوکرہواؤں میں بکھرجاتے۔ آج دریا کنارے لیٹے لیٹے اُس کے دماغ میں عجیب وغریب خیالات کا طوفان برپا ہوگیا تھا۔ ”کیا اِس مینڈک کو بھی اُتنی ہی بھوک لگتی ہوگی جتنی ایک سیکنڈڈویژن ایف اے پاس بے روزگار کو لگتی ہے؟“
”کیا زمین پر ایسے مینڈک بھی پائے جاتے ہوں گے کہ جن کے پر ہوں گے اوروہ اُڑ کر ایسے شہر وں میں بھی جاسکتے ہوں گے جہاں انہیں کوئی نہیں جانتا ہوگا؟“ اُس نے سوچا۔

مینڈک اب”ٹراں ٹراں“کرنے لگا تھا۔
”یہ اب ریت میں کہیں چُھپ کر بیٹھ جائے گا اور آنے والی سردیوں کا سارا موسم سو کر گُزار دے گا، تو کیا میں بھی کچھ مہینوں تک چُھپ کرکہیں بیٹھ سکتا ہوں اور جب جاگوں تو میرے حالات بدل جائیں۔کیاانسان بھی ہائیبرنیشن موڈ میں جاسکتے ہیں؟“اِس نکتے پر آکر اُس کا ذہن رُک ساگیا جیسے ٹی وی پر مختلف منظرچل رہے ہوں اور یکدم ایک ہی منظر پر سکرین ٹھہرجائے۔۔۔اُسے محسوس ہواکہ مینڈک ہی اُس کا اصل ہے اور وہ بچپن سے مینڈک بننے ہی کی جدوجہد کررہا تھا۔ وہ اُٹھا اور دریا کنارے
”ٹراں ٹراں“ پکارتے ہوئے دوڑنے لگا۔ گھنٹیوں کا شور زیادہ ہوگیا۔ دریا میں تیرتے اور کنارے بیٹھے نوجوانوں نے اُسے دیکھا تو ہنسنے لگے۔ ”اِس پاگل کو کیا ہوگیا ہے؟“ایک آدمی نے دوسرے سے کہا
”اوئے شرم کرآوارہ لڑکے، کوئی کام وام نہیں کرتا لیکن اُلٹی سیدھی حرکتیں خوب آتی ہیں“دوسرے آدمی نے اونچی آواز میں کہا ”مینڈکو“پہلا آدمی چلایا وہ ساری باتوں سے بے پروا ”ٹراں ٹراں“ پکارتے ہوئے دوڑتا دوڑتا گھر آگیاحالانکہ وہ اِن دنوں صبح گھر سے نکلتا تورات گئے واپس لوٹتا تھا، دراصل اُسے بچپن ہی سے اپنے باپ سے بے حد خوف آتا تھا۔ یہ دوپہر تھی،اُس کا باپ دوپہر کا کھانا کھانے اپنی دکان سے گھر آیا تھا۔ ”ٹرا ں ٹراں ٹراں“ اُس نے گھر داخل ہوتے ہی آواز لگائی اور آنکھیں بند کرکے کھڑاہوگیا،اُس کا جسم کانپ رہا تھا۔
”آگیا تمہارا لاڈلا، گھوڑے جتنا قد ہوگیا ہے، یہ نہیں ہوتا کہ میرے ساتھ ہاتھ بٹانے دکان ہی پر آجائے،بھئی نہیں ملتی تمہیں نوکری تو کیا ساری عمر گھر پر ہی بیٹھو گے؟پانچ سال ہوگئے ایف اے کیے اور نواب کی فراغت ختم نہیں ہو رہی“
”ٹراں ٹراں ٹراں“اُس نے آہستگی سے کہا۔
”بڑے دونوں بھائی کام کرتے ہیں اور یہ کمبخت نکھٹو،اوئے کب تک مفت کی روٹیاں توڑتے رہو گے؟کوئی کام بھی کرو گے؟کوئی مزدوری کرلو تو میرے کندھوں سے بھی کچھ بوجھ ہلکا ہو، چاربہنیں بیٹھی ہیں اور صاحب بہادرعیاشیاں کرتے پھر رہے ہیں، ساری رات پتا نہیں کیا بکواس کرتا رہتا ہے۔“
”ٹر۔۔۔۔ٹر۔۔۔۔ٹرا۔۔ں“آنسو اُس کی آنکھوں سے بہنے لگے اُس نے قیمض کی جیب اُلٹ کر دکھائی جو خالی تھی وہ بھاگ کر گیا اور کمرے سے اپنی ڈگریاں اُٹھاکر باپ کے سامنے رکھ دیں۔۔ ”یہ کیا بکواس ہے؟“ اُس کے باپ نے کہا
”ٹرٹرٹرااااں ں ں ں“
آنسوؤں کے درمیان آواز لڑکھڑاگئی۔ اُس کے باپ نے چارپائی کے نیچے موجود اپنی چپل اُٹھائی، اُس کی بہنیں دوڑتی ہوئی کمرے سے نکل کر برآمدے میں آگئیں ”کیا ہوا؟کیا ہوا؟“اُس کی ماں چلائی ”شر م نہیں آتی اِس کو باپ کے سامنے ٹراں ٹراں لگارکھی ہے“اُس کے باپ نے کہا
”ٹراں ٹراں ٹراں۔۔۔۔“اُس نے ماں اور بہنوں کے آگے ہاتھ جوڑکر روتے ہوئے کہا۔ ”چپ کرجا، تیرا باپ تجھے نہیں چھوڑے گا،تم ایسا کیوں کررہے ہو؟“اُس کی ماں نے اُس کا کندھا ہلا کرکہا
”ٹرااااااااااااااں۔۔۔۔۔“ایک گھبرائے ہوئے مینڈک کی آواز
” تُوکچھ بولتا کیوں نہیں؟“
”ٹرٹرٹرٹرااااااااااااں۔۔۔۔۔“
”یہ تجھے کیا ہوگیا ہے میرے بچے۔۔“ اُس کی ماں نے روتے ہوئے پوچھا۔
” ٹٹ ٹٹ ٹٹ ٹٹ ٹٹ رررررررررررااااااااااااااااں ں ں ں ں ں” اُس کا باپ اپنی چپل اُٹھا کر اُس پر برس پڑتا ہے۔
”ٹر ٹرٹر۔۔راں۔۔۔راں۔۔۔راں۔۔۔راں۔۔۔راں۔۔۔آں۔۔آں۔آں ں ں ں ں“
”نکالتا ہوں میں تیرا مینڈک، کمبخت، نکھٹو۔۔۔“ اُس کے بہنیں ایک کونے میں دُبکی ہوئی خوفزدہ نگاہوں سے اپنے بھائی کو مار پڑتے دیکھ رہی تھیں اور ایسا وہ بچپن سے دیکھتی آئی تھیں۔ بول دے بیٹا“ اُس کی ماں چلائی
”ٹرررررررررااااااااااااااں ں ں ں ں ں ں ں ں ں ں ں۔۔۔“
اُس نے دُکھ بھری نظروں سے ماں کی جانب دیکھا۔ ”یہ کیاہے؟ میرے بچے تم مینڈک کیوں بن گئے ہو؟“
”میں بتاتا ہوں اِسے کیا ہوگیا ہے“اُس کا باپ کچھ دیر ٹھہرنے کے بعدپھرچپل اُٹھا کر اُسے مارنے لگ جاتا ہے۔ ”جوان اولاد پر ہاتھ نہیں اُٹھاتے“اُس کی ماں نے کہا کئی تھپڑا ورچپل اُسے پڑتے ہیں۔ اُس کا باپ جب تھک گیا تو چپل ایک طرف پھینک کر چارپائی پر بیٹھ گیا اور کہا ”ہائے کیسی بدبخت اولاد ملی ہے۔۔کاش اُس دن میں کوڑے کے ڈھیرسے نہ گُذرتا۔۔۔“

وہ نوجوان رینگتاہوا کمرے میں داخل ہوا، چارپائی سے چادراُٹھائی اور کمرے کے کونے میں خود کو چادر سے ڈھانپ کر سیدھالیٹ گیا۔ چادر کے نیچے سے”ٹراں ٹراں“ کی آواز وقفے وقفے سے آرہی تھی، آنسو بہہ رہے تھے اور اُس کا جسم پسینے سے شرابورتھا، دل یوں دھڑکنے لگاتھا جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آجائے گا حالانکہ مینڈک کا دل تو۔۔۔۔۔۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: