آیئنہ گر ۔۔۔ منزہ احتشام گوندل

آیئنہ گر

منزہ احتشام گوندل

ہستی اور نیستی کے سارے اسرار چھوٹے چھوٹے لمحوں کی کوکھ سے پھوٹتے ہیں لمحے جوکہ آتے رہتے ہیں مگرکم کم آتے ہیں کہ جن کے بطن سے حقیقی خوشیوں اور لذتوں کے سرچشموں کو جنم لینا ہوتا ہے۔
چاول پلیٹ میں ڈال دو؛سکرین سے نظریں ہٹائے بغیرانہوں نے کہا، وہ آگے بڑھ کر ان کے قریب کھڑی ہوگئی؛ پلیٹ میں چاول ڈالتے وقت ہاتھ کپکپاگئے اورتھوڑے چاول باہر گرگئے ۔اس نے کنکھیوں سے دیکھا، مگر وہ منہ دھیان تھے ۔وہ جلدی سے کچن سے تولیا اٹھاکرلائی اور میز کو صاف کردیا ۔وہ اب پلیٹ کو سرکاکراپنے سامنے کرچکے تھے، مگرنظریں بدستور ٹی وی کی سکرین پر جمی تھیں۔ وہ ان کے سامنے آکر بیٹھ گئی اور ان آنکھوں کے اندر جھانکنے لگی جو ٹی وی کی سکرین پر جمی تھیں اور کہیں دور اس کی روح کے اندر گڑی تھیں۔۔۔۔۔
اس نے ایک آنکھ درز کے اوپر رکھ کر دوسری طرف جھانکا توبصارت کو سخت دھچکا لگا۔ دوسری طرف توکچھ بھی نہ تھا۔ بصارت واپس لوٹی توزخمی تھی، اس کی نظر آئینے کی طرف چلی گئی، آئینہ ٹکڑے ٹکڑے تھا کچھ بھی سلامت نہ تھا۔ نہ اس کے اندر نہ باہر، اس کا بدن لہو لہو تھا، کانچ کے سارے ٹکڑے اس کے وجود کی ایک ایک پورمیں چبھ گئے تھے ۔کراہ کر اس نے کمر پر ہاتھ رکھا اورہونٹ سہلائے ،کمر اور ہونٹ کنکروں سے پر تھے، زخمی تھے، لہولہوتھے ،اس نے فریاد کی۔ میری کمر اور ہونٹوں کو توبخش دیا ہوتا کہ ان پر توجنت کی مہروں کے نشان ثبت تھے ۔زمان کے لکھوکھ ہاسال کے چکر میں وہ چند لمحے ہی تواس کے اپنے تھے جن کو وہ اپنا کہہ سکتی تھی۔ پکے ہوئے رسیلے پھل کے جیسا‘نظر زبان اورہاتھوں کو اختیار سے باہر کردینے والا بدن جانے وہ کب سے سنبھالے ہوئے تھی۔ جن ہاتھوں کو یہ پھل توڑنا تھا وہ کبھی اس کی جانب نہ بڑھے۔ ہزاروں ندیدی ،نظریں‘للچائی ہوئی زبانیں اورنامراد گستاخ ہاتھ اس کی طرف بڑھتے رہے، مگرجونہی کوئی اس کی طرف سیڑھی لگاتا وہ کہیں اوپر چلی جاتی ۔وہ سارے طلب گاروں کے لیے نظر کے دھوکے کی طرح تھی ،نظرآتی مگرجب وہ قریب پہنچتے توغائب ہوجاتی۔ جن آنکھوں کو وہ پھل دیکھنا تھا وہ کبھی اس کی جانب نہ اٹھیں،،،، جب آنکھیں ہی نہ اٹھیں توہاتھ کیسے پہنچ سکتے ہیں اور پھرزبان تک جانے کا توسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی کمر پرگداز ہتھیلی کا ہلکا سا لمس جاگا ہونٹوں پر ہونٹوں کی خوشبو نے سسکاری لی۔ ہلکے سے دباؤ کا لمس اور نرم ہونٹوں کی خوشبو کا لمس‘خوشبو اس کے حواس پر چھاگئی اوریوں لگا ہر طرف پھول کھل گئے ہوں اتنا لطیف‘اتنا نرم اور اتنا پراثر؟؟؟
ہاں۔۔۔خوشبوآآاد ہوئی۔۔۔۔۔۔
وہ بہت کم تھا
اختصار اس کا جمال ہے۔
اختصار۔۔۔صدیاں مختصر لمحوں کی گرفت میں آگئیں وقت کٹتا رہا، جگرکٹتا رہا، بدن کٹتا رہا، اس کا سارا بدن لہو لہو تھا۔
میں نے توکچھ نہیں کیا تھا پھرکیوں سنگسار کردی گئی؟ یہ بدن تومیرا تھا پھرخلقت کو کس نے حق دیا تھا کہ اس پر اپنے پتھر پھینکے ؟یہ سماعت تومیری تھی پھرلوگوں کو کس نے اجازت دی تھی کہ میری سماعت کو گالیوں کی شنوائی دیں۔ میں نے توکسی کوبھی تکلیف نہیں دی تھی پھرمجھے کیوں اذیت دی گئی؟ شکستہ آئینے کی ایک ایک کرچی میں اس کے بدن کی الگ الگ بوٹیاں دکھائی دے رہی تھیں ۔یہ جسم تکمیل سے قبل ہی منتشر ہوکرختم ہوگیا تھا۔
اس نے کتاب کا پہلا صفحہ کھول کر ایک نام پر انگلی رکھی۔ یہ دیکھو !وہ اس کے کندھوں کے قریب جھک آئی سرورق ۔۔۔جایا کپور
ہوں۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اشتیاق کے ساتھ کہا۔
وہ توکافی مشہور ہے ۔۔
،ہاں اس کتاب کا ٹائٹل اس نے بڑے شوق کے ساتھ بنایا ہے!
وہ اشتیاق کے ساتھ کتاب کے ٹائٹل کو دیکھنے لگی۔۔.
تمہاری آنکھیں بہت خوبصورت ہیں جانتی ہو.؟ وہ قریب سے بولا۔۔
جانتی ہوں اس نے ناگواری سے کہا اورناک سکیڑی ۔۔
کیا ہوا ہے؟
پیچھے ہٹو الکوحل کی بوآرہی ہے مجھے ۔۔
اچھا ہٹ جاتا ہوں وہ پیچھے ہٹ گیا ۔مگران آنکھوں کو یہیں چھوڑ دو
جانتی ہو تمہاری آنکھیں بہت خوبصورت ہیں
اچھی طرح جانتی ہوں تم مرد لوگ عورت کو ٹکڑوں میں۔۔۔اوردھماکہ ہوا آئینہ ٹکڑے ٹکڑے تھا اورہرٹکڑے کے اندر وہ تھی نامکمل، بٹی ہوئی، لخت لخت، پارہ پارہ‘کہیں آنکھیں تھیں ،کہیں ہونٹ، کہیں سینہ تھا اورکہیں پیٹ ایک ٹکڑے کے اندر اس کی آواز تھی، ایک کے اندر لہجہ، ایک کرچی کے اندر اس کی قامت سمائی تھی، قامت‘ہاں قامت اس کی سماعت نے سنا
تعریف کیا ہو قامت دلدار کی شکیب
تجسیم کردیا ہے کسی نے الاپ کو
کوئی اس کے کان کے قریب بولا تھا۔ مصنوعی رومانوی لہجہ تواس کو متاثر نہ کرسکا مگرشعر کے الفاظ پروہ چونکی اورلہراگئی۔ اس کی نظر دوسرے ٹکڑے پر پڑی جہاں اس کی آواز قید تھی دیپک!!!دیپک!!دیپک!!
تم مجھ سے بات کیوں نہیں کرتیں دیپک؟
بات کرتی توہوں ۔۔۔۔۔۔۔
نہیں تم مجھے اگنور کرتی ہو۔۔ آخر ایسا کیا ہے؟
ایسا توکچھ بھی نہیں ہے میں بس ایسی ہی ہوں
میں صرف تمہاری آواز سننا چاہتا ہوں
کیا ہے میری آواز میں؟
اس غیرت ناہید کی ہرتان ہے دیپک
شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تودیکھو
ریکارڈ کرلو میری آواز سنتے رہا کرو
میں تمہاری آواز کا عاشق ہوں،
آواز کا عشق بھی کوئی ہوتا ہے تم مرد لوگ ناں ٹکڑوں میں۔۔۔کرچیاں چیخنے لگیں چلانے لگیں تھیں ۔آوازیں گڈمڈ ہوگئیں ۔لہو اور بوٹیاں رقص کرنے لگے۔ اس کی آنکھیں جل اٹھیں ۔ٹکڑے بغاوت پرآمادہ تھے۔ اودھم مچارہے تھے۔ آواز کی قید والا ٹکڑا چلایا دیپک‘دیپک سفید ریشم سا سرسرایا سفید رنگ‘سفید جلد‘سفید کھال‘سفید مخروطی انگلیوں کے اندر جڑے گلابی نگینوں جیسے ناخن‘سفید کھال اور موٹے ہونٹ‘اس کے بدن کے منتشرٹکڑوں میں کراہت نے انگڑائی لی۔ نفرت سے اس کے معدے میں ابال اٹھا اوراس کو ابکائی آنے لگی۔۔۔۔
تم نہیں جانتی ہو سفید رنگ سوعیب چھپالیتا ہے۔۔۔۔
کیا؟؟؟؟کہیں اس کا دل پھڑکااورآنکھوں کے کٹورے چھلک پڑے
ہاں محض سفید رنگت بھی بعض اوقات سیاہ نصیبوں کے مقدرتج دیتی ہے۔ دماغ‘عقل‘وجداں‘کردار‘نقش‘نگار‘سلیقہ‘ان میں کیا رکھا ہے سفید رنگت تونظروں کے اوسان خطا کردیتی ہے بدن کے جزداں لپیٹ دیتی ہے فاعل کو مفعول ،ضارب کو مضروب بنادیتی ہے۔۔۔
بس کردو مجھے ابکائی آرہی ہے ۔۔۔
تمہیں نفرت سے ابکائی آرہی ہے ؟؟؟
نہیں رشک اور حسد سے بھی ابکائی آسکتی ہے
چٹاخ کی آواز آئی اس نے پلٹ کر دیکھا آواز کی قید والی کرچی پر کسی نے پتھر مارا تھا۔ پتھر کہاں سے آیا تھا۔ اس نے سمت کا تعین کیا تواندازہ درست نکلا ۔وہ جبراورضبط کی آخری سرحد پر کھڑا تھا، مگروہ پاس سے گزرگئی
تم نے پوچھا تک نہیں مجھ پر کیا گزری یوں غیروں کی طرح لاپرواہی سے گزرگئی۔ میں اپنی زندگی کی جبر اورضبط کی آخری حدبندیوں سے گزررہا ہوں آواز پانی بن کر اس کی سماعتوں کے اندر بہہ نکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خود غرضی ہے اس کو آخر ایک نہ ایک دن توکسی اورکا ہونا تھا ۔۔۔
مگر اس نے یوں کیوں کیا؟؟
کیا کیا اس نے ؟
وہ کچھ عرصے سے بہت محتاط ہوگئی تھی مجھ سے کترانے لگی تھی ۔۔۔۔۔
تواس کو اس کے گھر میں بسنے دو اگراتنی ہی محبت تھی تواس کو اپنا لیا ہوتا گراپنانے کا حوصلہ نہ تھا تواس کا گھر تومت اجاڑو۔
دیپک میرے ساتھ ہمدردی کرو تم میری دوست ہو۔۔
مگرمیں ایک عورت بھی ہوں
تم بدلحاظ ہوگئی ہو
ہاں میں ہوں بدلحاظ تمہارا اس کے ساتھ جسم کا رشتہ تھا؟
نہیں
تھا!!!!!!
نہیں تھا۔۔
میں جو کہہ رہی ہوں تھا !!۱جس ٹوٹ پھوٹ کا شکار تم ہو، مرد ہویا عورت محبت کے تعلق میں سب سے زیادہ توڑ پھوڑ جسم کا رشتہ ہوتوہوتی ہے۔ یہ جو تم سہہ نہیں پارہے تم اس شخص کے تصور میں ہلکان ہورہے ہو جس کے پہلو میں وہ لیٹی ہوگی، یہ سب چلا چلا کراعلان کررہے ہیں کہ تمہارا اس کے ساتھ جسم کا رشتہ تھا۔۔
ہاں۔۔۔تھا۔۔۔اس نے ٹھہرٹھہر کر ادا کیا اورگردن جھکادی۔۔
دھم کی آواز کے ساتھ کوئی گرا اس نے آنکھیں کھول دیں ۔کانچ کے بے شمارے ٹکڑے اس کے سامنے بکھرے پڑے تھے جن میں اس کا سراپاپریشان تھا ۔ اس نے کانچ کے ایک ٹکڑے کو اٹھایا گاڑی کے سامنے والے بیک ویومرر کو ایک خاص زاویے پرسیدھا کرتے ہوئے اس نے ساتھ والی ساتھی کو پکارا۔
ذرا اس کے چہرے سے چادر توہٹادو۔
اس نے ہاتھ بڑھائے اوراس کی ناک کے اوپر سے چادر نیچے گرادی ۔اس نے ایک دم سامنے دیکھا۔ وہ شیشے کے اندر سے اسے ہی دیکھ رہا تھا
تم مجھے’’مریم‘‘جیسی لگتی ہو
کون سی مریم؟
اس نے موبائل کے اندر گیلری میں سے ایک تصویر نکالی اوراس کے سامنے کردی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہ۔۔۔
ایک طویل قہقہہ اس کے لبوں سے چھوٹا
یہ مریم نہیں ’’مونا لیزا‘‘ہے پکا سوکی بنائی شاہکار تصویر جوکہ اس نے لکڑی پر بنائی تھی وہ دیر تک ہنستی رہی ۔۔۔
وہ شرمندہ ہوگیا۔ میں اس کو مریم بنت عمران سمجھتا رہا
مگریہ مجھ جیسی کب ہے اس کی توبھنویں بھی نہیں؟؟؟؟؟
بھنویں لگادو توتمہارے جیسی ہی لگے گی ۔ویسے اس کی بھنویں کیوں نہیں ہیں تمہیں توہربات کاپتا ہوتا ہے بتاؤگی؟
ہاں جس دور میں پکاسونے یہ شاہکار تخلیق کیا اس دور میں حسینائیں اوراونچے طبقے کی عورتیں بھنویں مونڈا کرتی تھیں یہ اس دور کے فیشن کا حصہ تھا
مجھے لگتا ہے میں تمہارا بچہ ہوں ۔۔گرم سانسوں کی آری اس کی گردن کانٹے لگی۔،، تمہی سے جنموں توشاید مجھے پناہ ملے ۔،،سانس کو سانس نے قطع کیا۔،، مجھے اپنے اندر دفن کرلو،،
وہ گرم لاوے کی ذدپہ تھی کہ شانت ہوگئی۔ نہیں یہ بدن یہ ہونٹ امانت ہیں کسی کی، اس کی روح کے اندر آنکھیں لرزیں۔ ٹی وی سکرین پر جمی لاپرواہ آنکھیں اس کی روح کے اندر اس کے بدن کی نگرانی کررہی تھیں۔ وہ کتنے ٹکڑے یکجا کرتی جن کو اس نے بچا بچا کر رکھا تھا، جن کو وہ چھپا چھپا کر لائی تھی ،کتنے پتھر اس کے بدن پر پڑے تھے، ہرپتھر پر اس کے کسی نہ کسی محروم کا نام کندہ تھا۔ اس کا بدن لخت لخت تھا، لہو لہو تھا، وہ ایک ایک بوٹی کو سنبھالتی پھری، شکستہ آئینے کے ایک ایک ٹکڑے کو یکجا کرتی گئی، اس آئینہ گر کے انتظار میں جو ان ٹکڑوں کو جوڑ کر اس کی تجسیم کرسکتا تھا، جواس کی بوٹیوں کو ملاکر اس کی تکمیل کرسکتا تھا، آنکھیں’ہونٹ‘قامت‘آواز‘سراپا سبھی پر محرومیوں کے پتھر پڑتے رہے ،مگرآئینہ گرتھا کہ اس کی آنکھیں ٹی وی کی سکرین پر چپکی تھی، وہی آنکھیں جو اس نے اس کی روح کے اندر گاڑدی تھیں۔
ہستی اورنیستی کے سارے اسرار انہیں ٹکڑوں میں بٹ گئے تھے۔ آئینہ گر کو کون سمجھاتا کہاں پر کتنا غدرمچا تھا۔ وہ جس کا کوئی قصور ہی نہیں تھا وہ سنگسار کیوں کی گئی تھی۔ اس نے کیا کیا تھا؟وہ توٹکڑوں کی سالمیت کی ہوس میں ہلکان ہوتی رہی۔ اس کی روح کے اندر آنکھیں گڑی تھیں۔ آنکھیں جو اس کی نگران تھیں ،وہ سر سے پاؤں تک‘جسم سے روح تک شعور سے لاشعور تک کسی کی امانت تھی مگرامانت دار کبھی نہ لوٹا۔
ٹینشن تم پر سوٹ نہیں کرتی سمجھی!!
وہ چپ رہی
اوربھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
محبت سے بڑا دکھ توکوئی بھی نہیں
آئینے کے سارے ٹکڑے سارے منظرغلط ملط ہوگئے

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: