ابو صالح اور جوزفین۔۔۔رشی خان
ابو صالح اور جوزفین
رشی خان
امام مسجد غلام رسول کے بڑے بیٹے ابو صالح نئے سافٹ ویئر انجینئر کی ڈگری اعزازی نمبروں میں حاصل کی. تبھی اسے اسکالرشپ کی افر ہوئی اور وہ اعلی تعلیم کے لیے فرانس کے شہر پیرس میں اگیا. پھر تعلیم مکمل ہونے کے بعد وہ یہیں ایک مقامی پرائیویٹ کمپنی میں نہایت دلکش تنخواہ پر ملازم ہو گیا.. انتہائی ضرورت کے علاوہ وہ باقی تمام تنخواہ گھر والوں کو بھیج دیا کرتا تھا چنانچہ چند ہی سالوں میں اس کے گھر والوں کے مالی حالات بھی بہت بہتر ہو گئے. اب ابو صالح کے لئے ان کی محبت میں شکرگزاری بھی شامل ہو گئی. اس کی تو خواہش تھی کہ ماں باپ پہلے اپنا معیار زندگی بہتر بنائیں. انہوں نے سب سے پہلے کرائے کے مکان سے نکل کر اپنے ذاتی مکان میں جانے کو ترجیح دی۔
تعلیم کی ابتدا تو گھر سے ہوئی تھی لیکن اسکول کالج اور یونیورسٹی میں بھی اس نے دینی اساتذہ علماء اور اسکالرز سے استفادہ کیا. فن تقریر و خطابت تو جیسے اسے قدرت کی ودیت تھا. زبان کوثر و تسلیم میں دھلی ہوئی اور بیان فصاحت و بلاغت کا بہتا ہوا دریا. غرضیکہ ایک اعلی پائے کا خطیب تھا.. اس کم عمری میں یہ مقام شاید ہی کسی کے حصے میں ایا ہو۔
پیرس کی تعلیم کے دوران ہی اس نے فرانسیسی زبان میں مہارت حاصل کر لی تھی. اس لئے اسے یہاں بھی اکثر دینی اجتماعات میں خطاب کی دعوت دی جاتی تھی ان محافل میں مختلف ممالک کے مسلمانوں کے علاوہ کبھی کبھی کوئی فرانسیسی عیسائی بھیاس کی خوش بیانی سے محظوظ ہونے کے لئے اجاتے تھے۔ اسلام میں عورت کا خاص مقام اور پاکستان میں عورت کا ہر رشتے میں عزت و احترام پسندیدہ موضوعات تھے۔ اپنی تقریروں میں بڑی شد و مد سے ثابت کرتا کہ پاکستانی عورت کو یورپ کے مقابلے میں کہیں زیادہ شرف و توقیر حاصل ہے۔..
ایک دن جب ابو صالح. کمپنی کے دفتر سے گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا تو کمپنی کا مینیجر اس کے کیبن میں اگیا. حنیف نے اسے بتایا کہ دوسرے دن صبح 7سات بجے ان کے گودام میں کچھ مال انا ہے مگر اتفاق سے کمپنی کا کوئی ایسا بھروسے کا ملازم دستیاب نہیں جو وقت پر وہاں پہنچے گودام کا دروازہ کھولے اور سامان اتروا لے.۔ اس نے ابو صالح سے درخواست کی کہ اگر وہ یہ ذمہ داری لے سکے تو کمپنی اس کی شکر گزار ہوگی. علاوہ ازیں اسے اس کے وقت کا زائد معاوضہ علیحدہ سے دیا جائے گا ۔دوسرا دن ابو صالح کے لئے بہت مصروف تھا. اس نے کمپنی کی ڈیوٹی کے بعد ایک دینی محفل میں خطاب کرنے بھی جانا تھا. مگر چونکہ وہ فجر کی نماز کے لیے صبح سویرے اٹھنے کا عادی تھا اس نے مینیجر سے حامی بھر لی ۔ منیجر نے پیشگی شکریہ ادا کرنے کے ساتھ گودام کی چابیاں اس کے حوالے کردیں۔.
. دوسرے دن ابو صالح ابھی گودام سے چند قدم کے فاصلے پر ہی تھا تو اس نے دیکھا کہ ایک بڑا سا ٹرک گودام کے باہر پارک ہے. ٹرک کے قریب ہی ایک پچیس چھبیس سال کی اسمارٹ اور خوبصورت فرانسیسی لڑکی کھڑی ہے۔ اسے حیرت ہوئی کہ اس انڈسٹریل ایریا میں اس وقت یہ لڑکی کیا کر رہی ہے؟. پھر اس نے خود ہی اپنے سوال کا جواب ڈھونڈ لیا یقینا ٹرک ڈرائیور کی دوست ہوگی. کیونکہ یہاں ٹرک ڈرائیوروں کی دوست لڑکیوں کا لمبے سفر پر ساتھ دینا عام دیکھا گیا تھا
ذرا قریب پہنچا تو اس کی نظر لڑکی کے لباس پر پڑی۔ بیشک موسم خاصا گرم تھا پھر بھی ایک لڑکی کا کھلے گلے کی ٹی شرٹ اور چھوٹی سی نیکر میں وہاں موجود ہونا ابو صالح کے لیے خاصا تعجب خیز تھا.. وہ ا سے نظر انداز کر کے سیدھا گودام کے دروازے پر پہنچا اور مینیجر کے بتائے ہوئے طریقے سے تالے کھولنے لگا. تالے کھولتے ہی اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے پیچھے کھڑا ہے. مڑ کے دیکھا تو وہی لڑکی. ابو صالح چونکہ لڑکی سے قد میں کافی بڑا تھا اس لئے جب اس نے لڑکی کو دیکھا تو اس کی نظر سیدھی لڑکی کی بھری بھری مغرور اور ابلتی ہوئی چھاتیوں پر پڑی. ایک لمحے کو تو وہ بوکھلا ہی گیا. مگر پھر فورا ہی اس نے خود کو سنبھالا اور غیر محسوس انداز میں لڑکی سے فاصلہ قائم کرنے کی کوشش کی۔ لڑکی پھر اس کی سمت بڑھی اس نے اپنا نام جوزفین بتایا اور کچھ کاغذات اس کی طرف بڑھاتی ہوئی بولی. میں تمہاری کمپنی کے لئے یہ سامان لے کر ائی ہوں. ابو صالح کاغذات لے کر دیکھنے لگا. یوں اسے نظریں نیچی کرنے کا بہانہ بھی مل گیا. کاغذات سامان کی ڈیلیوری کے تھے لڑکی اب بھی اس کے اتنا قریب کھڑی تھی اس کی حرکت سے دونوں کے بدن ٹکرا سکتے تھے.. ابو صالح نے اج تک کسی جوان لڑکی کو اتنا قریب سے نہیں دیکھا تھا. اس کا دل بری طرح سے دھڑک رہا تھا۔ اسکی نظریں تو کاغذات پر تھی مگر وہ وہاں مال کا وزن ہی پڑھ پایا.. 24 ہزار 750 کلو گرام. پھر مال کی تفصیل پڑھنے سے پہلے اس کی نظریں لڑکی کی ٹانگوں پر پڑیں۔ گوری سڈول خوشنما اور مچلتی ہوئی رانیں جیسے ابو صالح کی طرفچنگاریاں چھوڑ رہی تھیں۔ اس نے اپنے طور پر شیطان کو ذہن سے جھٹکا اور لڑکی سے پوچھا کہ اس کا دوست کہاں ہے? لڑکی نے الٹا سوال کر دیا.. وہ بولا تم جس کے ساتھ مل کر یہ مال لے کر ائی ہو. میں جواب دیا میرے ساتھ کوئی دوست نہیں ہے تم کس کی بات کر رہے ہو. یہ سن کر ابو صالح کو ایک اور جھٹکا لگا. پھر فورا ہی اس نے سوچا یہ لڑکی اکیلی 24 ہزار سات سو پچاس کلوگرام مال لے کر اگئی ہے. اس کا مطلب ہے مجھے بھی یہ سامان اتارنے میں اس کی مدد کرنا پڑے گی. اس نے کبھی اس طرح کا بھاری کام نہیں کیا تھا وہ گھبرا گیا. لیکن پھر اس نے اپنے طور پر ہوشیار بننے کی کوشش کی۔ اچھا اچھا وہ اکثر یہاں. دو لوگ سامان لے کر اتے ہیں اس لئے میں نے سوچا شاید تمہارے ساتھ بھی کوئی اور ہوگا. لڑکی بڑے اسپاٹ لہجے میں بولی نہیں نہیں میں اکیلی ہی ہوں تم مجھے بتاؤ مال کہاں اتارنا ہے. ابو صالح نے گودام کے اس کونے کی طرف اشارہ کیا جو اسے مینیجر نے بتایا تھا۔ ادھر. لیکن میں تمہاری مدد کیسے کروں گا. لڑکی نے جیسے اسے تسلی دی۔ تمہاری مدد کی ضرورت نہیں ہے مجھے.. ارام سے دفتر میں بیٹھو. سامان اتر جائے تو کاغذات پر وصولی کے دستخط کر کے کمپنی کی مہر لگا دو ہاں ساتھ میں وقت لکھنا نہ بھولنا. اور وہ ٹرک کی طرف بڑھ گئی. ابو صالح وہیں کھڑا حیرت سے یہ سب دیکھ رہا تھا.. لڑکی نے ٹرک کے ایک طرف لگی ہوئی کرین ٹائپ کی مشین سے بڑے بڑے بنڈل اٹھا کر فرش پر اتارنے شروع کیے تو ابو صالح کی جان میں جان ائی ۔کاغذات کو دوبارہ دیکھا تو ایسے اٹھارہ بنڈل تھے. ہر بنڈل جو لکڑی کی بڑی سی ٹرے پر رکھا ہوا تھا 25 25 کلو کے 55 تھیلوں پر مشتمل تھا. لڑکی نے پہلے وہ تمام بنڈل فریش پر اتارے پھر ایک اور لوہے کی ریڑھی سے. کھینچ کھینچ کر مطلوبہ جگہ پر پہنچانے لگی۔وہ یہ دیکھ کر حیران ہو رہا تھا کہ یہ دھان پان سی لڑکی. بھاری کام کیسے کر رہی ہے. ساتھ اسے اس پر ترس بھی ا رہا تھا کہ بیچاری ایک نازک اندام دوشیزہ اور اس طرح کی مزدوری ۔ خیال ایا کہ پاکستان میں کیسے. ان کو سر انکھوں پر بٹھایا جاتا ہے اور یہاں یورپ میں ان سے اتنے بھاری بھاری کام لیے جاتے ہیں۔ وہ اسے کہنا تو کچھ اور چاہتا تھا لیکن پوچھا اس سے چائے یا کافی کا۔ ” اگر تمہارے دفتر میں ایسی سہولت موجود ہے تو گرم گرم کافی بنا دو. ورنہ یہ سارا سامان میرے پاس ٹرک میں بھی موجود ہے۔”
سارا سامان ٹھکانے پر لگا کر جوزفین دفتر میں اگئی.. ابو صالح تب تک کافی تیار کر چکا تھا ۔ ایک تو یوں بھی ابو صالح کا اعصابی دباؤ اب بہت حد تک کم ہو چکا تھا دوسرے وہ. اب میزکے مخالف جانب بیٹھی تھی. اسکی ننگی ٹانگیں ابو صالح کی انکھوں سے اوجھل تھیں اس کی دلکش اور بھری بھری چھاتیوں پر نہ جانا چاہتے ہوئے بھی ابو صالح کی نظر گر پڑتی تھی۔ کافی پیتے ہوئے. ابو صالح کو اس سے سوالات کا موقع مل گیا. جوزفین نے بتایا کہ وہ سات سو کلومیٹر کا سفر طے کر کے ا رہی ہے. ابو صالح کی پریشانی کے لئے تو یہ سات سو کلومیٹر ہی کافی تھے لیکن اس کی حیرت کو ایک اور جھٹکا لگا جب جو زفین نے بتایا کہ پانچ سو کلومیٹر کے بعد اسے رات بھر موٹروے کے کنارے ایک پارکنگ لاٹ میں رکنا پڑا ۔ باقی سفر اس نے صبح کے وقت کیا تھا. “رات کو اکیلی سڑک کے کنارے.؟” ابو صالح سوال کیے بنا نہ رہ سکا۔ ” کیا ا سے ڈر نہیں لگا.”. اب حیران ہونے کی باری جوزفین کی تھی ۔” ڈرکس بات کا..؟ پہلے تو کسی کی جرات نہیں کہ ایسی صورت میں عورت کے ساتھ اونچی اواز میں بھی بولے ہاتھ لگانا تو دور کی بات ہے دوسرے ہم ہر وقت مرکز کے ساتھ ویڈیولنک میں ہوتے ہیں. کسی بھی پرابلم کی صورت میں دس منٹ سے زیادہ نہیں لگتے پولیس کے پہنچنے میں۔ ” دو چار اور باتوں کے بعد ابو صالح سمجھ گیا کہ لڑکی دیکھنے میں کیسی بھی نازک ہو لیکن اصل میں کافی مضبوط ہے.. دوسرے ٹھوس قوانین کی بدولت اس کے اعتماد کا لیول بھی کافی اونچا ہے ۔ جوزفین کافی ختم کرتے ہی مال کی ڈیلیوری. کے کاغذات کی ایک کاپی پر وصولی کے دستخط اور کمپنی کی مہر لگوا کے ساتھ لے کر چلی گئی. اب ابو صالح کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور سارے معاملے کو جو اس کے لئے بالکل نیا تھا ہضم کرنے کی کوشش کرنے لگا.
مشکل سے پانچ منٹ گزرے ہوں گے کہ اسے پاکستان سے والدہ کی کال اگئی اس نے کال اٹینڈ کی تو دوسری طرف سے صرف سسکیوں کی اواز ارہی تھی.. ابو صالح نے سلام دعا لی تو کوئی بھی جواب نہ ملا تشویش ہوئی کیونکہ وہ ماں کی سسکیوں کی اواز کو بھی پہچانتا تھا. وہ ڈر گیا. امی جان بتائیے تو سہی ہوا کیا ہے دوسری طرف سے اس کی والدہ روتے ہوئے لیکن سخت لہجے میں بولی. تمہیں کیا تم ارام سے اپنا مستقبل سنوارو ہم مریں یا جیے تمہاری بلا سے۔
. “لیکن کچھ بتائیں تو بات کیا ہے اپ رو کیوں رہی ہیں خدانخواستہ کوئی فوت تو نہیں ہوگیا”
“فوت تو کوئی نہیں ہوا ہے لیکن زندہ بھی کوئی نہیں ہے ماں کے لہجے میں دکھ بھی تھا اور طنز بھی”..
“یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں اپ کچھ بتا کیوں نہیں رہی اب اس کی اواز بھی تھوڑی بلند ہو گئی تھی۔”
“ہم لٹ گئے بیٹا ہمارا کچھ نہیں بچا تم تو وہاں جا کر بھول ہی گئے کہ یہاں ایک بہن کو بھی چھوڑ کر گئے ہو جو جوان ہو چکی ہے. اور جب تک اس کی شادی نہیں ہو جاتی اسے تمہاری ضرورت ہے”۔ ماں نے جیسے اپنی طرف سے ساری بات بتا دی۔.
ابو صالح کا دل اور زور سے دھڑکنے لگا ،” کیا ہوا ہے عائشہ کووہ تو ہمیشہ وسیم کے ساتھ ہی باہر اتی جاتی تھی نا؟”
“وسیم تو ابھی 14 سال کا بچہ ہے وہ کیا کر سکتا تھا جب یہاں چودھری نذیر کے بیٹے محمد بشیر جیسے گنڈے دندناتے پھر رہے ہوں۔”
. “کیا کیا ہے محمد بشیر نے ؟ اپ مجھے پوری بات کیوں نہیں بتا رہیں۔” ابو صالح کا دماغ کسی بری خبر کے خطرے سے گھوم رہا تھا
“عائشہ کالج سے واپس ا رہی تھی وسیم کے ساتھ کہ محمد بشیراور اس کے غنڈے اسے اغوا کر کے لے گئے ہمارا کچھ نہیں بچا بیٹا ہم لٹ گئے۔”.
ابو صالح کا خون کھول اٹھا ۔ “میں ان حرام زادوں کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔۔ ” عائشہ کہاں ہے اب ؟”.
“گھر کے باہر پھینک گئے تھے بیچاری کو نیم بیہوشی کی حالت میں ذرا ہوش میں تو ہے لیکن اس کا حال نہ پوچھو مردوں سے بدتر حالت ہے اس کی۔”.
“اپ نے پولیس کو اطلاع دی”.
“تم پاگل ہو گئے ہو۔ بھول گئے ہو یہاں کا ماحول ؟ پہلے اسے محمد بشیر اور اس کے غنڈوں نے چیرا پھاڑا ہے. اب اسے پولیس کے درندوں کو پیش کر دیں.. اخباروں میں اپنی بدنامی کا اشتہار لگوائیں.؟جو دو چار سانسیں بچ گئی ہیں اس میں ، انہیں بھی گلی گلی نیلام کریں؟”
“. “میں واپس ا رہا ہوں امی اگر مجھے کل کی بھی فلائٹ مل گئی تو اس میں ہی
“کوئی ضرورت نہیں ہے سونا تھا وہ ہو چکا ہے۔ تم بھی آکر کچھ نہیں کر سکو گے.. اگر ا گئے تو یہ دو چار پیسے کی امدن ہے تمہاری تنخواہ سے یہ بھی جاتی رہے گی. یہاں کون سی حکومت نوکریاں لے کر بیٹھی ہوئی ہے تمہارے لئے۔ ارام سے ادھر رہو اور اپنا خیال رکھو.. میں نے غصے میں تمہیں بھی نہ جانے کیا کچھ کہہ دیا. تم یہاں ہوتے تو بھی کیا کر لیتے. یہاں غنڈہ راج.ہے، غنڈہ راج ہے یہاں۔ شریف آدمی کی کوئی زندگی نہیں ہے یہاں.۔” اور ماں نے ٹیلی فون بند کر دیا
. ابو صالح جیسے ایک سکتے کی حالت میں تھا. خاموش کرسی سے ٹیک لگائے بیٹھا رہا. اس نے اپنا موبائل اٹھایا اور شام کی دینی محفل میں انے سے معذرت کا میسج بھیج دیا۔