تھور ۔۔۔ سبین علی

افسانہ : تھور

افسانہ نگار : سبین علی

دھن پریت ساڈے

اوئے میرا نکا ویر آیا ہے بھائی رب نواز  مجھے دیکھ کر خوشی سے پکارا۔ اوئے لڑکو جلدی سے چارپائی لاؤ۔  بشیرے بیلنے میں نرم اور میٹھے گنے لگاؤ ۔

اپنے چاچے کے لیے تازہ روھ نکالو۔

میں کھوری کے ڈھیر کے ساتھ بچھی چارپائی پہ بیٹھا ہوں۔ دل میں شکر گزاری ہی شکر گزاری ہے مگر رگوں میں کوئی کلبلاہٹ سی ہے  اسی کلبلاہٹ کو ختم کرنے کے لیے میں چارپائی  سے اٹھ کر بھائی رب نواز کے پاس زمین پہ جا بیٹھتا ہوں جو وقفے وقفے سے کھوری کے ڈھیر  سے کھینچ کر گنے کی  خشک چھال دہکتے کڑاہ کے نیچے دھکیل رہا ہے۔  رب نواز میرا تایہ زاد بھائی ہے۔  دیہاتی مزاج کا مخلص اور سادہ لوح شخص جس پر ڈھلتی عمر کے آثار ہویدا ہیں مگر دل بچوں کا سا معصوم ہے۔  آج  رب نواز کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔  اس کا لڑکا بشیر نیم گرم پت  کو ہلا ہلا کر ٹھنڈا کر رہا ہے اسے گڑ کی پیسیاں بنانا ہیں ۔  جنوری کے سرد دن ہیں۔ ہلکی ہلکی دھند چھائی ہوئی ہے جس میں میٹھی سی مہک رچی ہے۔ کماد کے کھیتیوں کے ساتھ بیلنے چل رہے ہیں۔  کھلیانوں میں روھ، گڑ شکر  اور شوگر ملوں میں کرشنگ  کا موسم ہے۔

میں یہاں کسی فوتگی کی  تعزیت کرنے آیا ہوں ۔ مگر بھائی رب نواز  مجھے ڈیرے پہ  دیکھ کر اتنا خوش ہوا ہے کہ  میں  تعزیت کے الفاظ بھول گیا ہوں ۔

میں گاؤں شاذ و نادر ہی جاتا ہوں۔  سرکاری ملازمت نے اتنا مصروف کر دیا  تھا کہ دنیا کی سیاحت کر چکا  مگر اپنے آبائی کھیت دیکھنے کا وقت نہیں نکلتا۔

کسی وقت انہیں کھیتوں اور مٹی سے مجھے بڑا لگاؤ تھا۔ اپنی بیوہ ماں سے ضد کر کے لائلپور کے زرعی کالج میں داخلہ لیا تھا۔وہ اکلوتے بیٹے کو شہر ہاسٹل میں بھیجنے پر راضی نہ تھی۔ مجھے یہ جنون تھا کہ جدید زرعی طریقے سیکھ کر

وراثت میں ملے مربعے کو  بہت اچھے سے سینچوں گا۔ کوئی باغ  بھی لگاؤں گا۔

زرعی کالج جو پھر زرعی یونیورسٹی کا درجہ پا گیا۔  وہاں سے بی ایس ای آنرز کرنے کے بعد ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کی ضد ٹھان لی۔

پہلے پہل میں گاؤں جاتا تھا ہھر ماں میرے پیچھے لائلپور آنے لگی اور آخر میں مستقل وہیں سکونت اختیار کر لی ۔ کیونکہ مجے زرعی تحقیقاتی ادارے میں نوکری مل گئی تھی۔

روھ کا دوسرا کلاس میرے ہاتھ میں ہے اور میں حسبِ عادت ایک محقق کی نظروں سے کھیتوں کا جائزہ لے رہا ہوں۔ وتر کی ہوئی کھیتیوں میں زمینی آلودگی کے آثار ہیں ۔ رب نواز بھائی  کھیتی باڑی میں محنت نہ کرتے ہوں یہ ممکن نہیں۔ زراعت صدیوں سے ہمارا پیشہ ہے ۔  سخت جاں اور جفاکش کسان ہیں ہم لوگ۔ یہی سخت جانی زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی ہمارے کام آتی ہے ۔

 پھر بھی کہیں کوئی کمی ہے۔ نامیاتی کھاد بھی کم  لگ رہی ہے۔ کماد کے کھیت کٹائی کے بعد  دھیرے دھیرے خالی ہو رہے ہیں۔  کچھ کھیتوں میں  سرسوں اگی ہے جن میں سے کہیں کہیں پیلا پھول جھانکتا ہے ۔ گندم  بھی سر اٹھا رہی ہے ۔مگر جو توقع مجھے تھی ویسی فصل کے آثار نہیں ہیں۔

بطور زرعی سائنس دان دنیا کے کئی ممالک کے دورے میں سرکاری خرچ پہ کر چکا ہوں۔ یہ ریٹائرمنٹ کا دوسرا سال ہے۔ میں اب کئی بار سوچتا ہوں کہ ہالیند جیسے چھوٹے سے ملک میں  گرین ہاوسز میں کنٹرول فارمنگ اور  ڈرپ اریگیشن کے ذریعے اگی سبزیاں جو ایک ہی کسان اگاتا سنبھالتا اور کسی سپر مارکیٹ کو تازہ سبزیوں کی سپلائی بھی دیتا ہے۔ ہمارا کسان اس سے زیادہ محنت کر کے بھی اتنی فصل اگا نہیں پاتا۔  اور وہ کیلیفورنیا میں کتنی شاندار زراعت ہے۔ میری بڑی خواہش رہی ہے کہ ہمارا کسان کبھی اس سطح پر آ سکے۔  رب نواز بھائی ایک دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ میری باتیں سن رہے تھے کہنے لگے

کھاد اور سپرے کا خرچہ بہت ہے اب۔

کیمکل سے یاد آیا کینیڈا کے دورے پہ میں نے مظاہرین کو دیکھا جو پھلوں سبزیوں پر زہریلے سپرے کے خلاف جلوس نکالے ہوئے تھے ۔ پلے کارڈ پر لکھا تھا ہم آدھا سیںب سنڈی والا حصہ کاٹ کر کھا لیں گے مگر کیمکل سپرے والا منظور نہیں۔

جتنے لوگ جتنی قومیں اتنی سوچیں۔۔ پر ہماری مٹی اب ویسی زرخیز نہیں رہی پچھلے دس پندرہ سالوں میں زمین میں بڑی تباہی مچی ہے ۔ رب نواز بھائی نے کہا۔ 

یہ تو نہیں کہ ہمارے کسان نے ترقی نہیں کی کتنی نئی جنس کی فصلیں اور پھل سبزیاں اگنے لگی ہیں۔

ٹنل فارمنگ بھی عام ہو گئئ ہے۔ ہمارا کِنّو اور سٹرس کتنا شاندار ہے۔ ہماری مٹی اور آب و ہوا کی تاثیر ہے وہی پھل جو  دوسرے ملک میں اگ کر  اتنا اچھا ذائقہ نہیں دے سکا جو پاکستان میں اگ کر دیا۔  میں کہتا ہوں یہ بڑی ہی نعمت ہے ۔ پھر مجھے یاد پڑتا ہے کہ کیلیفورنیا کے زرعی تحقیقی ادارے میں کِنّو کا پیرنٹ پلانٹ میں اپنی انکھوں سے دیکھ چکا ہوں۔ اسی سے قلم لے کر دنیا بھر میں بہت جگہ اگایا گیا مگو جو رنگ ،خوشبو اور ذائقہ اس نے ہمارے دو آبوں  کی مٹی میں اُگ کر دیا وہ دنیا میں کہیں نہیں۔

بشیر گُڑ کی تیسیاں بڑی مہارت سے لگا رہا ہے۔  ہاتھ ہنر مند ہے لڑکوں کا ۔۔۔

  پائی جان آرائیوں کا لڑکا ہے ۔  کھیتی باڑی کے گُر تو خون میں شامل ہیں۔ جیسے لوہار کا بیٹا ہتھوڑا چلانے میں خودبخود ماہر ہو جاتا ہے۔ ترکھان کا بچہ جانتا ہے رندا کیا ہے آری کیا ہے۔ ہمارے نیانے جانتے ہل کیا ہے،گاہی بیجائی کیا ہے۔۔ ہم بچپن سے جو کام باپ دادا کو کرتے دیکھتے ہیں  وہ بنا سکھائے سیکھ جاتےہیں۔

جیسے آپ نے زرعی ادارے میں اتنی عزت کمائی ۔ آخر خون میں شامل ہے کھیتی باڑی۔

میرے ذہن میں پرانی یادوں کا جھماکا ہوا۔

اسی کی دہائی میں، میں نے کئی یورپی ممالک کے دورے کیے۔ اٹلی تو ایسا ہی ہے ہمارے پرانے شہروں جیسا ۔ وہی گنجلگ گلیاں مگر ہیں بہت صاف ستھری۔ موسم بھی وہاں کا کھلا ہے یورپ جیسی سردی نہیں۔ اٹلی میں پیدل بہت گھوما ہوں ۔ سفر کے لیے ملا  کچھ بجٹ بھی بچا لیتا تھا ۔ تب وفود کے تبادلے ہوتے تھے۔ اسی سلسلے میں  ہالینڈ میں ایک فیملی کا مہمان بنا۔ کلچر ایکسچینج  کا بہانہ تھا۔ وہاں کے صحافی ہمارے ملک کی بڑی گھٹیا تصویر کشی کرتے ہیں۔ غربت جہالت گندگی کے ڈھیر ۔ننگ دھڑنگ بچے۔ ہم اتنے بھی گئے گزرے نہیں۔ میں ساتھ وڈیو ٹیپ لے کر گیا تھا جس میں پنجابی زمیندار گھر کی شادی کی عکس بندی  تھی۔ گھوڑی کی باگ پگڑے بہنیں نیگ وصول کر رہی تھیں۔  ہماری  شملہ والی پگڑی،  کھسے ، نائی کے پکائے شادی کے روایتی کھانوں کی دیگیں ، ماں باپ بچے ہمارا مشرقی خاندانی نظام سب  ان تصاویر میں یکجا تھا۔  وہ ڈچ ان تصاویر کو بغور دیکھتا رہا پھر کہنے لگا ہم نے اس نظام سے آزادی پا لی ہے اسی لیے اتنی ترقی کی ہے۔ ہمارے بچے اپنی مرضی میں  آزاد ہیں۔اپنی تعلیم اپنے پروفیشن میں آزاد ہیں۔ کوئی روک ٹوک نہیں۔

۔ اتنی آزادی سے  بگڑتے نہیں کیا۔ ہر آزادی پینے کی بھی  ۔

میں نے سوال داغا 

بھئی  جس نے بگڑنا ہے وہی بگڑے گا اور جو محنت کرے گا اسے یہ ملک اور حکومت ہر سہولت دیتے ہیں آگے بڑھنے کی ۔ وہ اپنے ہنر کے بل بوتے  پر آگے آتا ہے اور ملک کو آگے لے جاتا ہے۔  میری مانیں تو آپ بھی چھوڑیں یہ خاندانی پیشے اور وراثتی جبر ۔ ماں باپ کی نگرانی،  آپ کا مشترکہ خاندانی نظام مسائل کی جڑ ہے۔ میں ہوں میری بیوی ہے دو بچے ہیں جو اپنی مرضی میں آزاد ہیں بالغ ہوں تو اپنی پسند سے رہیں کمائیں دوستیاں پالیں۔ حتی کہ مذہب کے انتخاب میں بھی آزاد ہیں وہ۔

محبت اور شفقت کے نام پر بندھن اور بیڑیاں بنا رکھی ہیں آپ کے سماج نے ۔

کھانے کے دوران اس نے اپنی بیوی کہ دریافت کیا کہ روز ہپ rose hip jam جیم کہاں ہے۔

اس نے جیم کا جار میز پر پہ لا دھرا۔ وہ پھر گویا ہوا۔ ہمارے پھول دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ جیسے آپ کی نہریں مشہور ہیں یہ روز ہپ جیم میری ماں نے گھر پر بنایا اور بطور خاص میرے لیے بھیجا۔ آپ  بھی چکھیے۔

میں نے شیشے کے جار میں سے ایک چمچ بھر کر اپنی پلیٹ میں نکالا۔ جیم خوش ذائقہ اور خوشبودار تھا۔

میں نے کہا اچھا اگر یہ خاندان یہ رشتے ناطے کچھ نہیں تو تمھاری ماں نے تمھارے لیے یہ روزہپ جیم کیوں بنایا۔ تم اتنے اہتمام سے اسے کیوں کھاتے ہو۔

وہ چپ ہو گیا۔ کب ملے تھے ماں سے؟ کیا وہ قریب ہی رہتی ہیں بہت پیار ہوگا تم سے ۔ اس کے دل پر شاید ہلکا سا گھونسا پڑا تھا ۔

مگر میرے دل پر بہت زور کا گھونسا پڑا ہے۔  ماں بہت اکیلی ہو گئی تھی ۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے بیوگی میں  ماں جی نے کس طرح زمینیں سنبھالیں۔ مزارعوں کے سر پہ کھڑی ہو کے کام کرواتیں۔ پانی کی باری کا دھیان فصلوں کی بوائی کٹائی یہاں تک کہ گندم گاہنے کے وقت بھی موجود ہوتیں۔ مجھے انہوں نے پڑھائی کے لیے ہر طرح کی سہولت  اور فراغت  دی۔ میں  بڑا شائستہ مزاج تھا مگر اپنی روایتوں  اور اصولوں کا پکا۔  ماں اور میں جب گاؤں سے  لاری میں بیٹھ کر لائلپور

آتے تو میں بڑی سختی کہ کہتا کہ منہ ڈھانپ  کر رکھیں۔ کئی بار گرمی ہوتی تو چادر نہ کھولنے دیتا۔ بڑھاپے میں ماں کی بھنوؤں کے بال بہت بڑھ گئے وہ اکثر مجھے کہتی اکبر پتر آنکھوں میں بال چبھ رہے ہیں میں کچھ نہ کرتا۔ بھنوئیں منڈوانا ممنوع ہے بس یہ پتا تھا۔ اب  میری وہی ماں والی عمر ہے حجام خط  بناتا ہے کانوں اور بھنوؤں میں سے فالتو بال قینچی سے کاٹ دیتا ہے بڑا سکون ملتا ہے۔ کاش میں ماں کی بھنوؤں کے بال کاٹ دیتا۔  اب تو ساری لڑکیاں پلکنگ کرواتی ہیں کوئی منع نہیں کر سکتا۔  پچھلے ماہ میرے منجھلے بیٹے کی شادی تھی۔ شادی کی اگلی صبح بہو  بھرے گھر میں ننگے سر چہکتی پھر رہی تھی ۔میری بہن نے سخت اعتراض کیا تو بہو نے کورا سا جواب دیا کہ دوپٹہ تو آؤٹ آف فیشن ہے اب کون لیتا ہے ۔

میں چپ چاپ وقت کی کروٹیں دیکھتا رہتا ہوں۔ اب اعتراض نہیں کرتا ۔ مگر دل پر زور سے گھونسا پڑا ہے۔ 

انڈیا کے لوگ بھی ورلڈ بنک یا اقوام متحدہ کے تعاون سے ایسے دوروں پر آتے تھے۔ زرعی سائنسدانوں سے اچھی گفت و شنید تھی۔ وہ بجٹ بڑی احتیاط بلکہ بخیلی سے استعمال  کرتے ۔ مجھے وہاں کے  ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ واپسی پہ اسکا آڈٹ ہوگا ساری رقم کا ۔یہ کیمرہ وہ ساتھ دہلی سے لایا تھا۔ ائیر پورٹ پر رکارڈ میں درج کروا دیا تھا۔ واپسی پر چیکنگ ہوگی۔ ہم نے جی کھول کر سرکاری  بجٹ استعمال کیا۔ جو رقم بچی یا پیدل گھوم پھر کر بچائی جاتی اس سے سرخی پوڈر پرفیوم اور بچوں کی جیکٹیں خرید لی  جاتیں۔  کہیں تو گڑ بڑ تھی ہماری نسل کے پڑھے لکھے سرکاری مراعات یافتہ طبقے میں۔ کہیں توہم سے کوتاہیاں ہوئی ہیں۔

دل پہ پھر ایک گھونسا پڑتا ہے۔ ہم بہت پیچھے رہ گئے دنیا سے، زراعت میں بھی۔

کئی بار گندم تک درآمد کرنا پڑتی ہے۔ باغات سکڑتے جا رہے ہیں۔  جانے چند ماہ سے مجھے ایسا کیوں محسوس ہونے لگا ہے کہ جتنے کام اتنے علم اور عہدے کے ساتھ میں کر سکتا تھا وہ نہیں کر پایا۔ اب تو مقالوں اور تحقیق کے نام پر مکھی پر مکھی ماری جاتی ہے۔ سارا زور فقط اچھی نوکری کے حصول پہ ہے۔ لیکن خرابی کی جڑ تو بہرحال کہیں پیچھے ہوگی۔    میں وقت اور روایات کو بدلنے سے نہیں روک سکا نہ روک سکتا تھا تو پرانے وقت میں اپنی عورتوں کو وہ سہولت اور آزادی کیوں نہ دی جس کی انہیں اشد ضرورت تھی۔  ترقی تبادلے دفتری نظام کی ریشہ دوانیاں اگلا گریڈ، بڑے عہدےکی الجھنوں  نے بہت مصروف رکھا۔۔ کتنے ہی اہم کام رہ گئے جو اب یاد آنے لگے ہیں۔

لوہڑی کا تہوار ہے۔ سخت سردی ہے ۔ بیلنے چل رہے ہیں میں دہکتے کڑاہ کے مزید قریب  ہو کر بیٹھ گیا ہوں۔ گنے کا رس نکالنے کے بعد خشک چھال کڑاہ کے نیچے جل رہی ہے۔ دھوئیں میں مولیسز کی خوشبو رچی ہے۔ بھائی رب نواز اتنا رس باقی رہ جاتا ہے گنے میں۔

ہاں ۔۔۔۔

رب نواز بھائی نے جواب دیا۔ شوگر ملوں میں تو اتنا کرش کرتے ہیں کہ گنے کا بھوسا بن جاتا ہے بالکل۔ مگر شوگر ملوں میں چھوٹا کاشتکار بڑا خوار ہوتا ہے۔ رقم وقت پر نہیں ملتی ۔ ہاں بڑے زمیندار یا جاگیر والوں کی بات اور ہے ۔ ہمیں یہ گڑ شکر ہی ٹھیک ہے ۔ اچھا بھاؤ مل جاتا ہے۔  

میں خشک چھال کڑاہ کے نیچے دھکیلتا ہوں سوچتا ہوں   کہ اس پروردگار نے کتنا نوازا  ہے۔ مگر ہوں تو میں اسی مٹی کا انہیں کھیتیوں کھلیانوں کا۔ اپنی اصل نہیں بھولنی چاہیے

ایک درد بھری لہر سینے سے آٹھ کر حلق تک جاتی ہے ۔

کونسی اصل

۔

مجھے بڑا شوق تھا اپنی زمینوں میں جدید طریقے سے کاشت کاری کرواؤں۔ نوکری اور دفتری الجھنوں نے فرصت نہ دی تو سوچا ریٹائرمنٹ کے بعد یہ شوق پورا کروں گا۔

مگر ریٹائرمنٹ سے  چند ماہ پہلے ہی پورا مربع زمین بیچ دی۔ جسم میں اتنی توانائی نہ تھی کہ  کاشت کاری کرتا۔ چاروں بیٹے پڑھ لکھ کر بھاری تنخواہوں پر ملازمتیں کر رہے ہیں۔  ایک سول انجئینر ہے امارات  میں ،  دوسرا بینکر ہے ، تیسرا ملٹی نیشنل ادارے میں ہے اور چوتھا   ٹیکسٹائل اینڈ پاور گروپ آف انڈسٹریز میں منیجر ہے

۔ شہر چاروں طرف سے ورم کی مانند پھیل رہے ہیں۔  ہمارے  گاؤں کے ساتھ قومی شاہراہ پر بیسوں ٹیکسٹائل اور شوگر ملیں ہیں۔ لا تعداد ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے زرخیز زرعی زمینیں خرید کر پلاٹ  بنا کر بیچے ۔ گاؤں کے گاؤں ختم ہو گئے ان سوسائٹیوں کے ملبے تلے۔ میں کھیت بیچنے کے حق میں نہیں تھا۔  زمین کسان کی  ماں ہوتی ہے مگر بیٹوں نے باپ کو سمجایا  کہ وقت بدل چکا ہے۔ مل والے مہنگے داموں خریدنا چاہتے ہیں۔  وہاں ورکز کی رہائشی کالونی بنے گی۔ہم میں سے کوئی گاؤں جا کر بسنا نہیں چاہتا مزارعوں پہ زمین چھوڑے رکھیں

تو کیا  فائدہ ۔

میں کیا کہتا بھلا۔۔۔

جو ہونا ہوتا ہے ہو کر رہتا ہے مگر اس ہونی کا بیج ہم زمین میں مدتوں پہلے بو چکے ہوتے ہیں  جسے بالآخر ہمیں گاہنا پڑتا ہے ۔

اپنی ملازمت میں میری بڑی کوشش رہی کہ  کسی کسان کو جو رہنمائی چاہیے  وہ اسے لازمی ملے ۔ اپنے گاؤں سے تو جس کسی کو  نئی ورائٹی کابیج  درکار ہوتا یا زمین کا پانی ٹیسٹ  کروانے آتا، ہر کام ترجیحی بنیاد پر کرواتا۔

مجھے لگ رہا ہے رب نواز بھائی کے کھیتوں میں دھیرے دھیرے کلر سر اٹھا رہا ہے۔ مگر یہ کلر نہیں ہے کچھ اور ہے ۔ جیسے نہری پانی نہیں مل رہا اور ٹیوب ویل کا بھاری پانی زمین کو  بوجھل بنا رہا ہے۔

گاؤں کےگرد اب اوڑیوں کی بجائے شاپروں سے اٹے کچرے کے ڈھیر نظر آئے۔ ایک تو اس نامراد ۔پولیتھین نے زمین کا بڑا ناس مارا ہے۔

انہیں سوچوں میں بھٹک رہا تھا کہ جاٹوں کا لڑکا چائے بسکٹ اور ابلے انڈے پلیٹ میں سجائے آن موجود ہوا۔  شکر ہے مہمان نوازی کی روایت  باقی رہ گئی ہے۔

پائی رب نواز میں نے سنا مل والے آپ سے زمینوں کی خریداری کی بات کر رہے تھے۔

ہاں کر رہے تھے۔ مگر ہم نہیں بیچ رہے۔ اب تو ریٹ بھی بہت کم لگا رہے ہیں پھر فائدہ کیا۔ گھر کا اناج تو آتا ہے نا یہاں سے۔  بھلے زمین  خراب ہوتی جا رہی ہے۔ زرخیزی وہ نہیں رہی۔

ہاں ۔۔۔ میں جب سے آیا ہوں  یہی تو دیکھ رہا ۔ہوں

ٹیوب ویل کا پانی بوتل میں ڈال کر دینا میں لیبارٹری سے ٹیسٹ کروا دوں گا  ۔ مٹی کے  سیمپل بھی ساتھ دینا۔ پتا تو چلے۔  رب نواز  خاموشی سے چائے پی رہا ہے  ۔

بسکٹ کا ٹکڑا منہ میں رکھ کر  دور پرے  سے سر اٹھاتی اس چھوٹی  سی پہاڑی کی جانب غور سے دیکھتا ہوں۔

جب سے آیا ہوں دو تین بار ادھر دھیان گیا ہے مگر پوچھا نہیں۔

ہمارے گاؤں کی طرف نہ کوئی دریا ہے نہ ہی مٹی یا ریت کے ٹیلے ۔

جانے یہ پہاڑی نما ٹیلہ کب اور کیسے بنا۔

چند سال قبل تو ایسا کوئی ٹیلہ کھیتوں کے  بیچ موجود نہیں تھا۔

بھائ رب نواز یہ پہاڑی ٹیلہ کیسا ہے کب اور کیسے بنا۔  چند سال پہلے تو نہیں تھا ؟

پہاڑی ٹیلہ ۔۔۔۔۔

یہ پہاڑی نہیں زہر کا پہاڑ ہے۔

مل والوں نے اپنی مل کے پیچھے جو کھیت  کسانوں سے مہنگے ریٹ پر خریدے تھے وہاں نہ ملازموں کے رہائشی کواٹر بنے ۔نہ ہی کوئی مشین لگی۔

وہاں تو مل والے اپنا کچرا پھینکتے ہیں دھاگے ملا نمک ۔۔۔۔ وہ کیا کہتے برائین اور کپڑا رنگنے

کے ویسٹ کیمیکلز ۔

 تو یہ پورا ٹیلہ کھیتیوب کے بیچوں بیچ بناصنعتی فضلہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاں اور کیا۔۔۔۔۔۔

اوہ میرے خدایا

۔۔۔

میرے دل پر ایک شدید گھونسا پڑتا ہے اسی ٹیکسٹائل مل والوں کی  پاور انڈسٹری میں میرا بڑا لڑکا نوکری کرتا ہے۔

آگے جا کر دیکھنے کی ہمت نہیں

شاید یہ وہی مربع ہے۔ میں ایک زرعی سائنسدان ہوں۔ کیلیفورنیا  پیرنٹ پلانٹ  روز ہپ جیم ،  ہارٹی کلچر نمک کا پہاڑ 

۔۔۔۔۔۔

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

July 2024
M T W T F S S
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031