میرا نیٹ سلو تھا ۔۔۔ سہیل کاہلوں

ای میل

سہیل کاہلوں

مگر میرا نیٹ سلو تھا

میں نے خدا کو ای میل کیا کہ

گلی کی نکڑ والے اقبال کا گھوڑا بیمار ہے

واحد کفیل ،ساتواں فرد ہے گھر کا

چڑیا اور چڑے کی پرسوں شادی ہے

دور سے پرندے آئیں گے

بارش مت کرنا

جس نمبر سے تمہیں مسڈ کالز آتی ہیں

وہ بیوہ کا نمبر ہے

کال اٹینڈ کیوں نہیں کرتے؟

چھلیاں بیچنے والا ناصر

فارچُونر کے خواب کیوں دیکھتا ہے؟

منع کرو!

باؤ خلیل کے بیٹے نے

اووپو پہ آئی فون کی بیل لگائی ہے

یار تُم انسانوں کی مجبوریاں کب سمجھتے ہو؟

جو سکرین شاٹ بھیجا تھا،میری سہیلی کا ہے

کہتی ہے میرے کندھوں پہ جو فرشتے ہیں

مجھے نہاتے ہوئے دیکھتے ہیں

اِن سے پردہ کیسے کروں؟

یار آئی فون میں نئی ایپ متعارف کروا دو

فرشتوں کی تنخواہ بھی بچ جائے گی!

اور سناؤ سب اچھا ہے؟

واٹس ایپ پہ کال نہ کرنا

وہاں آواز ٹھیک نہیں آتی

مجھے مارنے کی اجرت جو عزرائیل کو دینی ہے

میں خودکشی کرلوں گا ،تو ابھی بھیج سکتے ہو؟

آخری سمسٹر کی فیس دینی ہے!

یا پھر کوئی پراپرٹی ڈیلر بھیجو دو

جو میری قبر والی جگہ خرید لے

میں نے خدا کو ای میل کیا تھا

اُس گاؤں کے نلکے سے ایک بار پانی پینے کی مہلت دی جائے

مگر میرا نیٹ سلو تھا!

Similar Posts:

Facebook Comments Box

1 thought on “میرا نیٹ سلو تھا ۔۔۔ سہیل کاہلوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

January 2022
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31