عورتوں میں گھرا آدمی ۔۔۔ سید کامی شاہ

“عورتوں میں گھرا آدمی”

سید کامی شاہ.

عمران احمد دلگیر اور نفیسہ بیگم کا جوڑا کوئی آئیڈیل کپل تو نہیں تھا مگر زندگی جیسے تیسے گزر ہی رہی تھی۔ شادی سے پہلے دونوں ایک ہی دفتر کے الگ الگ ڈیپارٹمنٹس میں کام کرتے تھے، اچھی خاصی بھاری بھرکم نفیسہ تیس کی حد عبور کر چکی تھی اور ابھی تک غیر شادی شدہ تھی جبکہ عمران احمد دلگیر کی اپنی پہلی بیوی سے علیحدگی ہوچکی تھی کیونکہ اب وہ اس کے گھر والوں کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تھی، حالانکہ اس کے گھر والوں نے اس سے کبھی کوئی ناجائز مطالبہ نہیں کیا تھا مگر ساس بہو کی روز مرہ نوک جھونک اسے عجیب سی ضد ہوگئی تھی کہ اسے ان لوگوں کے ساتھ نہیں رہنا۔

میاں بیوی کا رشتہ اگرچہ دنیا کا مضبوط ترین رشتہ ہوتا ہے مگر ایک ہی وقت میں یہ رشتہ انتہائی نازک بھی ہوتا ہے جو ذرا سی بات پر ٹوٹ سکتا ہے۔

اماں کی بات بے بات تبصرہ آرائی اوردوسروں کے ہر کام میں کیڑے نکالنے کی عادت سے تو خیر ابا بھی نالاں رہتے تھے مگر ایسا بھی کیا کہ بہو بیٹا گھر سے ہی علیحدہ ہوجائیں۔ ابا نے بھی تو اماں کے ساتھ شادی شدہ زندگی کے تیس سال گزار ہی لیے تھے۔

ابا جب تک زندہ تھے تو منجھلی بہو گھر کے سبھی کام بڑے شوق سے کرتی تھی بلکہ شام کی چائے تو خاص طور پر ابا کے لیے اپنے ہاتھ سے بناتی تھی، ابا بھی اسے بہت پسند کرتے تھے اور اپنی فیورٹ بہو کہا کرتے تھے، یہ بات ظاہر ہے چھوٹی بھابھی کو قطعی پسند نہیں تھی، کئی بار وہ ابا کے لیے چائے بنا کر لاتی مگر ابا کسی نہ کسی بہانے ٹال دیتے یا پیتے بھی تو اس کا دل رکھنے کے لیے اچھی ہے کہہ دیا کرتے تھے۔۔

ابا کی ناگہانی موت کے بعد معمول سے بڑھ جانے والی گھر کی عورتوں کی زنانہ خرافات دو ڈھائی سال میں بہت بڑھ چکی تھیں اور اس چھوٹے سے گھر میں وہ سارے ہنگامے سر اٹھا چکے تھے جنہیں اس کے والد اپنی بردباری اور معاملہ فہمی کے باعث دبائے رکھتے تھے یا کم از کم اس تک نہیں پہنچ پاتے تھے۔ وہ دفتر سے گھر آتا، چھت پر سب مل کر شام کی چائے پیتے، ایک دوسرے کو دن بھر کی مصروفیات کا احوال سناتے، اپنے بچوں کو ہنستے کھیلتے دیکھ کر خوش ہوتے، مگر ابا کے اچانک چلے جانے کے بعد ساس، بہو اور نندوں، بھابھیوں کی آئے دن کی بک بک اور جھک جھک سے تنگ آکر وہ ایک دن اپنے دو بچوں اور بیوی کو لے کر الگ ہوگیا اور اسی شہر کے کسی دوسرے محلے میں جیسے تیسے زندگی گزارنے لگا۔

شاعرانہ جمالیات کے حامل عمران احمد دل گیر کو خواتین میں دلچسپی تو شروع سے ہی رہی تھی، کئی نوجوان شاعرات اس کے حلقہ دوستی میں شامل تھیں اور سوشل میڈیا پر بھی اس کی درجنوں خواتین سے علیک سلیک تھی۔ ظاہر ہے یہ بات اس کی بیوی کو پسند نہیں تھی مگر شاعر ہونے کی حیثیت سے وہ اسے تھوڑی آزادی دے دیا کرتی تھی مگر آزادی کی بھی تو کوئی حد ہوتی ہے ناں۔ اگر آدمی اس حد سے باہر نکلے تو کئی طرح کی مشکلات کھڑی ہوجاتی ہیں۔ عورت جب اپنی محبت لٹانے پر آتی ہے تو سب کچھ لٹا دیتی ہے اور جبچھیننے پر آتی ہے تو قدموں کے نیچے سے زمین تک کھینچ لیتی ہے۔

زیادہ دن نہیں گزرے تھے یا شاید بہت سارے دن گزر چکے تھے اور اسے یاد نہیں تھا کہ وہ کون سی صدی میں کس حال میں جی رہا تھا کہ ایک بے رونق سہ پہرمیں اماں کے اچانک آنے والے فون نے اسے تشویش میں مبتلا کردیاتھا۔

اماں نے بتایا کہ مالک مکان ان سے مکان خالی کروانے کے لیے زور دے رہا ہے بلکہ کھلی دھمکیوں پر اتر آیا ہے، دمے کا مریض اس کا بڑا بھائی طبیعت کی دائمی خرابی اور بے روزگاری کے باعث کسی سے جھگڑایا پیسے ادا کرنے کا وعدہکرنے کی پوزیشن نہیں ہے تو معاملے کا تصفیہ کرنے کے لیے اسے بلایا گیا تھا۔

اس کی بیوی نے اسے شدید لعن طعن کی کہ جن لوگوں سے ناتا ختم ہوگیا ہے تو ان کی مدد کے لیے جانا کون سی عقلمندی ہے، خوامخواہ کے جھگڑے میں پڑنے سے بہتر ہے کہ اپنے کام اور بیوی بچوں پر دھیان دیا جائے۔

مگر وہ کبھی سمجھ نہیں پایا کہ ایسے رشتے ناتے کیسے ختم ہوجاتے ہیں جن کی آبیاری میں صدیوں کا لہو شامل ہو۔

جب نیتوں میں فتور آجائے تو اچھے اعمال کے نتائج بھی خرابی کے ساتھ ظہور پذیر ہوتے ہیں۔

جس ماں نے اسے پیدا کیا تھا اور جن بھائی بہنوں کے ساتھ اس نے ہنستے کھیلتے زندگی گزاری تھی انہیں ایک لمحے میں کیسے زندگی سے نکالا جاسکتا تھا۔ دور جانے سے یا بات چیت بند کردینے سے کیا رشتے ناتے ختم ہوجاتے ہیں؟

کہتے ہیں کہ کرائے داروں کا تو چھینکنا اور کھانسنا بھی گراں گزرتا ہے۔ محلے میں کسی کو اس کی طلاق یافتہ بہن کے وقت بے وقت آنے جانے پر اعتراض تھا تو کسی نے چھوٹے بھائی، بھابھی کے آئے دن کے جھگڑوں اور شور شرابے کو جواز بنایا تھا۔ دمے کا دائمی مریض بڑا بھائی جو راتوں کو سوتے میں دم گھٹنے سے اچانک اٹھ بیٹھتا اور تازہ ہوا کے لیے چھت پر چلا جاتا تو اس پر بھی کچھ لوگوں کو اعتراض تھا کہ رات رات بھر چھت پر ٹہلتا رہتا ہے۔ بولنے والے کی زبان نہیں پکڑی جاسکتی اور مالک مکان کو تو ویسے بھی اپنے کرائے سے مطلب تھا جو کہ چھ، آٹھ ماہ سے ادا نہیں کیا جاسکا تھا اور آگے بھی ملنے کی امید نہیں تھی جبکہ ایڈوانس کی مد میں دیئے گئے پیسے کب کے پورے ہوچکے تھے۔ پراپرٹی کی قیمتیں یکدم بڑھنے کے باعث مکانوں کے کرائے میں بھی کئی گنا اضافہ ہوچکا تھا، دوسری پارٹی اس سے دگنے کرائے پر مکان لینے کی خواہش مند تھی جس پر اس کے والد نے کچھ سال پہلے یہ مکان لیا تھا۔

بیوی کی ناراضی مول لے کر اس کا وہاں پہنچنا بھی کسی کام نہ آیا تھا کیونکہ مالک مکان فیصلہ کرچکا تھا اور اب بہنیں سوجی ہوئی آنکھوں کے ساتھ گھر کا چھوٹا موٹا سامان سمیٹ رہی تھیں اور اماں ہمیشہ کی طرح ہونق بنی اس کا چہرہ تکے جارہی تھی۔

اسے یاد آنے لگا کہ جب ابا زندہ تھے تو اس کی ماں کے کانوں میں سونے کے جھمکے کیسے لشکارے مارتے تھے اور کلائیوں میں سنہری چوڑیاں کھنکتی تھیں، اس کے ہاتھوں کی انگلیاں انگوٹھیوں سے بھری ہوتی تھیں اور اب سونی کلائیوں اور خالی ہاتھوں والی اماں جو بات بے بات کچھ نہ کچھ بولتی رہتی تھی اب چُپ چاپ اس کے سامنے کھڑی تھی۔

اس کے جانے کے بعد چھوٹا بھائی بھی اپنی بیوی کو لے کر الگ گھر میں منتقل ہوچکا تھا، اس کی بیوی کا موقف تھا کہشادی کے بعد مرد کی کمائی پر صرف اس کی بیوی اور بچوں کا حق ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ کبھی اس فلسفے سے متفق نہیں ہوپایا تھامگر جب عورتیں زبان درازی پر اتر آئیں تو سمجھدار مرد خاموشی اختیار کرلیا کرتے ہیں سو وہ بھی یہی کرتا تھا مگر اس طرح چُپ ہونے سے اندر مچنے والا شور کم نہیں ہوتا تھا۔

اس گھر کی چھت پر جہاں اس نے سیکڑوں کاسنی، بنفشئی، گلابی شامیں گزاری تھیں، بارشوں میں نہائے تھے، سردیوں کی شاموں کا ست رنگی الائو سے خیرمقدم کیا تھا، جہاں شاعر اور ادیب دوست چائے کی پیالیاں کھنکھناتے تھے اور خوش آوازنوجوان اس کی نظموں کے مصرعے گنگناتے تھے، وہاں دھویں میں جھلسی ہوئی ایک بے رونق شام اتررہی تھی، اس کے قریب اپنی پسلیاں پکڑے وقفے وقفے سے کھانستا بڑا بھائی کچھ کہنے کے لیے منہ کھولتا مگر کچھ سوچ کر چُپ ہوجاتا۔

دیکھتے ہی دیکھتے وہ جھلسی ہوئی قرمزی شام رات کے ٹھنڈے اندھیرے میں تبدیل ہوگئی۔

چھوٹی سی مال بردار سوزوکی میں ماں بہنوں اور بھائی کے ساتھ گھر کا سامان لاد کر جب وہ اپنے گھر کے دروازے پر اترا تو وہاں پڑا تالہ اس کا منہ چڑا رہا تھا۔

بیوی کو فون کیا تو وہ چار گلیاں دُور اپنی بہن کے گھر میں تھی، وہ تھکے ہوئے قدموں کے ساتھ گیا اور بیوی سے چابی اور بہت سے طنعےلے کر آیا۔ اتنی دیر تک اماں اور بہنیں گلی میں رکھے سامان کے ساتھ ٹکی رہیں، سوزوکی والا اپنے پیسے لے کر زہریلا دھواں اڑاتا کب کا جاچکا تھا۔ بھائی اپنی پسلیاں پکڑے ادھر ادھر ٹہل رہا تھا۔ گلی میں اجنبی چہروں کو دیکھ کر محلے کے آوارہ کتے بھی ادھر نکل آئے تھے جنہیں ہشکارنے کی کوشش میں بھائی کی کھانسی بے قابو ہوئی جاتی تھی۔

چابی کے ساتھ وہ اپنے دونوں بچوں کو بھی لے آیا تھا جو خوشی سے دادی اور پھوپھیوں سے لپٹ گئے تھے اور پھر انہیں روتا دیکھ کر حیران بھی ہوئے تھے کہ یہ عورتیں رو کیوں رہی ہیں۔

دفتر میں اس کی نائٹ ڈیوٹی تھی مگر اس ناگہانی صورتحال کے باعث وہ دفتر نہ جاسکا اور رات گئے تک اماں بہنوں کے ساتھ سامان ادھر ادھر رکھواتا رہا، مگر دو کمرے کے اس مکان میں جہاں پہلے ہی ضرورت کا خاصا سامان موجود تھا، مزید سامان کہاں جگہ بنا پاتا، لہذا کچھ بڑے حجم کی چیزوں کو باہر گلی میں ہی چھوڑنا پڑا کہ اس کے بارے میں صبح دیکھیں گے کہ کیا کیا جاسکتا ہے۔

بیوی بارہ بجے کے بھی بعد آئی، جسے اس کی بہن جو اسی محلے میں ایک بڑے گھر میں رہتی تھی، اپنی گاڑی میں چھوڑنے آئی تھی۔

باہر گلی میں رکھے سامان کو دیکھ کر بیوی نے حسبِ توقع ناراضی کا اظہار کیا اور ساتھ ہی یہ مژدہ بھی سنا ڈالا کہ یہ سارا سامان صبح ہونے سے پہلے کوئی چور اُچکا اٹھا کر لے جائے گا۔

بچوں کو وہ یہ کہہ کر اپنے کمرے میں لے گئی کہ صبح اسکول جانا ہے، حالانکہ چھوٹا بیٹا تو ابھی اسکول جانا ہی شروع نہیں ہوا تھا، اماں بہنوں سے اس نے دعا سلام کرنے کی بھی زحمت نہیں کی۔

دوسرے کمرے میں ایک طرف جتنی گنجائش بن سکتی تھی دونوں بھائیوں نے سامان کو ٹھونسنے کی کوشش کی اور پھر سب لوگ فرش پر بچھے کارپٹ پر ہی بیٹھ گئے۔

یہ کائناتی تماشا نہ تو ہماری منشا سے شروع ہوا ہے اور نہ ہماری مرضی سے ختم ہوگا۔ یہ ڈرامہ کسی اور کا رچایا ہوا ہے اور اسے کب ختم ہونا ہے یہ وہی بہتر جانتا ہے۔

محبت اور ذلت میں بال بھر کا ہی فرق ہوتا ہے کب کس کی محبت آپ کے لیے ذلت بن جائے اس کی کوئی ضمانت نہیں۔

جس عورت سے محبت کی شادی کی تھی اسی عورت سے ذلت وصولنے کے بعد وہ اس سے ایسے دور ہُوا جیسے سکندر دنیا سے گیا تھا یعنی اس کے دونوں ہاتھ خالی تھے۔

عورت کی وہی ایک رٹ کہ مجھے تمہاری ماں بہنوں کے ساتھ نہیں رہنا۔

میاں بیوی کے درمیان اگر کوئی بات اٹک جائے تو وہ ضد بن جاتی ہے جتنا ایک فریق اس پر زور دیتا ہے دوسرا اسے اتنی ہی شدت سے رد کرتا ہے۔

ان دونوں کے درمیان بھی یہی ہُوا، وہ جتنا ان سے دور ہونے کا کہتی وہ اتنی ہی شدت سے ان کی طرف کھنچتا جاتا۔

وہ محبت تھی، عزت تھی، رشتوں کا احترام تھا یا سماج کا خوف کہ لوگ کیا کہیں گے کہباپ کے مرنے کے بعد بیوہ ماں اور جوان بہنوں کو چھوڑ کر عیش کی زندگی گزار رہے ہیں، مگر اس زندگی میں عیش کتنا تھا یہ وہی جانتا تھا۔

بہت معمولی سی آمدنی میں معمولی سی زندگی گزارتے ہوئے اس کے پاس ایک امید تھی کہ معاملات بہتر ہوجائیں گے مگر یہ عورت اس کی اسی امید کو غارت کرنے پر تُلی ہوئی تھی۔

کسی نے کہیں بہت اچھی بات کہی تھی کہ آدمی اگر لڑنا نہ چاہے تو لڑنے کی کوئی وجہ نہیں مگر یہ بات ہر کسی کو سمجھائی نہیں جاسکتی کیونکہ سمجھدار کو کوئی بات سمجھانی نہیں پڑتی اور بے وقوف کسی کی مانتا نہیں ہے۔

بیوی سے علیحدگی کے وقت اس نے صرف اپنے بچے لیے تھے اور اس سے بہت دور کرائے کا گھر لے کر زندگی کو نئے سرے سے استوار کرنے کی کوشش میں لگ گیا تھا۔

فطرتاً جذباتی ہونے کی بنا پر اس نے بیوی سے علیحدگی کے وقت خود ہی وہ مکان چھوڑ دیا تھا جس کے ایڈوانس کی مد میں اس نے ایک لاکھ روپے سے زائد کی رقم ادا کی تھی اور گھوم پھر کر بالآخر وہ رقم اس کی پہلی بیوی کو مل گئی تھی، جبکہزیورات اور گھریلو سامان کی مد میں اس نے کوئی چیز نہیں لی تھی بلکہ اپنی بہت سی قیمتی اور اہم چیزیں اور نایاب کتابوں کے ڈھیر بھی وہیں چھوڑ آیا تھا جو اس نے بڑی محبت اور محنت سے کمائی تھیں۔

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں یہاں ترقی کی راہ خوشامد، چاپلوسی، تعلقات کے استعمال یا دھونس دھمکی اور بدمعاشی سے ملتی ہے اور وہ ان میں سے کسی بھی طرز سے واقف نہیں تھا، نہ اسے خوشامد کرنا آتی تھی، نہ وہ کوئی چاپلوس فریبی بن سکتا تھا اور ظاہر ہے جنہیں خوشامد نہیں آتی وہ بڑے لوگوں سے تعلقات بھی نہیں بنا پاتے، دھونس دھمکی اور بدمعاشی کی نہ اس میں ہمت تھی نہ صلاحیت اور نہ اس کے باپ نے اس کی تربیت ایسی کی تھی، لہٰذا ایک چھوٹی سی نوکری کے ساتھ زندگی کی گاڑی کو چند سال تک بے ترتیبی سے گھسیٹتا رہا۔

بشر کا سب سے بڑا امتحان اس کا اپنا وجود ہے، دنیا کے کسی برتن میں اتنی متضاد چیزیں جمع نہیں کی جاسکتیں جتنی آدمی کے وجود میں جمع ہیں، آگ پانی، ہوا، مٹی، حسد، لالچ، انتقام، مکر، فریب، رنج و الم، حماقتیں اور تمنائیں سب الگ الگ تماشے ہیں اور آدمی کے وجود میں یہ سب ہمہ وقت دھماچوکڑی مچائے رکھتے ہیں، نفیسہ سے اس کی شادی بھی اس وجودی امتحان کا ہی شاخسانہ تھی۔

پھر ایک نیا امتحان بیٹی کی پیدائش کے چند ماہ بعد شروع ہوا، جو ہر دو گھنٹے کی نیند کے بعد جاگ جاتی اور اگلے تین چار گھنٹوں تک ماں باپ کو بھی جگائے رکھتی، بعض اوقات ایسا ہوتا کہ بچی کو سلانے کے چکر میں صبح کے پانچ بج جاتے اور جب نو بجے الارم بجتا تو اسے لگتا اس کے سر میں بھونچال آگیا ہے، مگر نوکری تو کرنی ہی تھی کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ کبھی کبھی اسے لگتا کہ وہ جاگنے کے بعد بھی کسی خواب میں ہی چلا جارہا ہے، دُکھتے سر اور جلتی آنکھوں کے ساتھ وہ بغیر ناشتے کے گھر سے نکلتا اورلوگوں کے اژدھام کو دیکھ کر سوچتا کہ اس ہجوم کی منزل کیا ہے، ہم سب کیا کررہے ہیں، کہاں جارہے ہیں، کیوں چل رہے ہیں، کس لیے بھاگ رہے ہیں؟

سوالوں کے انبار تو ہمیشہ سے اس کے ارد گرد رہے تھے مگر جوابات بار بار غلط نکلتے، چاہے وہ جواب اندر سے نمودار ہوا ہو یا باہر سے ملا ہو۔

وہی کولہو کے بیل کی طرح صبح سے شام اور شام سے رات اور پھر اگلی صبح تک اس ساری تگ و دو سے کیا حاصل ہے؟

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ رات کو سات سے آٹھ گھنٹے کی بھرپور نیند لینا اور صبح کا بہترین ناشتہ بہت ضروری ہے، وہ سستے اور سوکھے بسکٹ چباتے ہوئے بس اسٹاپ تک جاتے جاتے سوچتاصبح پانچ بجے سو کر نو بجے اٹھنا اور بغیر ناشتے کے دفتر جانے کا نتیجہ یہ ہوتا کہ کام کرتے ہوئے کی بورڈ پرپر اس کی انگلیاں کپکپاتیں اور کمپیوٹر کی اسکرین پر رنگ برنگے پتنگے ناچتے رہتے، ان دیکھے خوابوں کا بوجھ اس کی آنکھوں پر ڈیرا ڈالے رہتا۔وہ دن میں کئی بار واش روم جا کر اپنی آنکھوں میں پانی کے چھینٹے مارتا، آئینے میں اسے دو جلتی ہوئی مشعلوں کے سائے میں کٹے پھٹے خوابوں کی لاشیں دکھائی دیتیں، پانی کے چھنٹے اس کی آنکھوں میں تیزاب کی طرح پڑتے اور اس کی جلتی ہوئی لال آنکھیں کسی قدیم الائو کی طرح بھڑکنے لگتیں۔

وہ چلتے ہوئے کبھی دروازے اور کبھی ڈیسک سے ٹکرا جاتا، اور بیٹھے بیٹھے اونگھ جاتا، اس کے سر میں چیونٹیاں رینگتیں اور پیروں میں کینچوے کلبلاتے، دل کبھی تیزاب سے بھرے معدے میں دھڑکتا تو کبھی کنپٹیوں میں بیٹھ کر ہانپنے لگتا کچھ دفتری دانشوروں کا خیال تھا کہ وہ کوئی شدید قسم کا نشہ کرتا ہے، اور وہ دل ہی دل میں ہنستے ہوئے سوچتا کہ کیا کوئی کبھی اس کی اصل کیفیات کو سمجھ سکے گا؟

اماں نے کئی بار دبے الفاظ میں کہنے کی کوشش کی تھی کہ نفیسہ بیگم اگر بستر سے نکلنے کی زحمت کرلیں تو اپنے میاں کو کم از کم ایک کپ چائے تو بنا کر دے ہی سکتی ہیں، مگر وہ کبھی اسے زحمت نہیں دیتا تھا ایک تو اپنی فطری کاہلی کی بنا پر وہ بستر سے اٹھ کر واش روم تک جانے میں ہی پندرہ منٹ لگا دیتی تھی اور اس پر اسے اس کے ہاتھ کی چائے بھی کچھ خاص پسند نہیں تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ خود چائے

نہیں بنا سکتا تھا مگر اس میں جو دس ، بارہ منٹ خرچ ہوتے تھے اس کے بجائے وہ چاہتا تھا کہ چند منٹ کی نیند مل جائے، چائے تو دفتر میں بھی جلد یا بدیر مل ہی جاتی تھی۔

اس وقت اگر کوئی اس سے پوچھتا کہ تمہاری سب سے بڑی خواہش کیا ہے تو وہ بلا جھجھک کہتا کہ چند گھنٹے کی ایک پرسکون نیند۔۔۔

ایک ایسی دنیا میں جہاں لوگ، عزت، دولت، شہرت، عورت اور کے پیچھے بھاگ رہے تھے وہ ان سب سے بے نیاز فقط چند گھنٹے کی پُرسکون نیند چاہتا تھا۔

مگر پرسکون نیند تو کبھی کبھار ہی دستیاب ہوتی تھی، کسی چھٹی کے دن یا بیٹی کے جلدی (رات کے ڈھائی تین بجے تک) سوجانے کی صورت میں یا نفیسہ بیگم کے اپنی امی کے گھر جانے کے نتیجے میں اس کی پہلی ترجیح ایک بھرپور نیند لینا ہوتی۔

اس نے اماں اور بہنوں کو اس بات پر بھی کئی بار طنزیہ فقرے کہتے سنا کہ ہر دوسرے تیسرے ہفتےبچی کو گود میں اٹھائے، بیگ کندھے پر ڈال کر امی کے گھر چلی جاتی ہے۔ نہ کھانا پکانا جانتی ہے اور نہ اپنے میاں کو ناشتہ بنا کر دیتی ہے۔

اس کے باپ بھائیوں کے پاس گاڑیاں تھیں تو اسے آنے جانے میں کوئی دقت نہیں ہوتی تھی، وہ اپنے خواب پرست شوہر کے مزاج کو بھی سمجھ چکی تھی اس لیے کبھی ساتھ چلنے کا مطالبہ بھی نہیں کرتی تھی بلکہ اس کے ساتھ نہ ہونے سے وہ ایک طرح کی آزادی محسوس کرتی۔

اسے لگتا کہ اس زمین پر سب سے ناقابل اعتبار چیز زندگی ہے جو کہیں بھی کبھی بھی اچانک ساتھ چھوڑ جاتی ہے اور آدمی سب سے زیادہ زندگی پر بھروسہ کرتا ہے، منصوبے باندھتا ہے، خواب دیکھتا ہے اور ایک دن سب کچھ وہیں آدھا،ادھورا چھوڑ کر کسی اور جہان کی راہ لے لیتا ہے۔جیسے اس کے ابا تھے جو ہر وقت کوئی نہ کوئی منصوبہ بندی کرتے رہتے، معمولی چیزوں کو بھی سنبھال سنبھال کر رکھتے اور ایک رات اچانک ہی بنا کسی کے کچھ کہے، سُنے خاموشی سے کسی اور جہاں کو رخصت ہوگئے تھے۔ ان کے جانے کے بعد اس کا ہر چیز سے دل اٹھ گیا تھا۔

اسے کسی بھی معمولی بات پر مباحثہ کھڑا کردینے کی عادت تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ زندگی اس کے منصوبوں اور رائے کی محتاج ہے اسی لیے وہ بستر پر لیٹی اپنی سہیلیوں اور احباب سے فون پر گھنٹوں باتیں کرتی اور ہمیشہ لوگوں کو چلانے میں لگی رہتی۔ جیسے اگر اس کا مشورہ نہ مانا گیا تو زندگی کی گاڑی اسی اسٹیشن پر رکی رہے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ زندگی کسی کے مشورے کی پابند نہیں ہے۔ فطرت کا اپنا بہائو ہے اور جبلت کے رنگ اپنی جگہ بہت پکے ہیں۔

اگرچہ مباحثے کی بنیاد دلیل اور منطق پر ہوتی ہے مگر نفیسہ بیگم نہ تو کسی دلیل کو خاطر میں لاتی تھی اور نہ اسے اس سے غرض تھی کہ منطق کس چڑیا کا نام ہے، اسے صرف اپنی بات کو درست ثابت کرنا ہوتا تھا جو کہ زیادہ تر غلط ہی ہوتی تھی۔

بیٹی کے پیمپر تبدیل کرتے وقت اور دودھ پلاتے ہوئے وہ ہمیشہ غصے میں آجاتی تھی، بڑی عمر میں کہیں جا کر بیٹی پیدا ہوئی تھی اور اس کا دودھ نہیں اترا تھا جس کی وجہ سے بیٹی شروع سے ہی ڈبے کا دودھ پینے پر مجبور تھی۔

بیٹی کو روتا دیکھ کر وہ دونوں مٹھیاں بھینچ کر اتنی شدت سے چلاتی کہ بھوک سے روتی ہوئی بچی ڈر کے مارے مزید شدت سے رونے لگتی، بچی جتنی شدت سے روتی نفیسہ بیگم اتنی ہی شدت سے اس پر چلاتی۔۔

سمجھ نہیں آتی تمہیں، ہر وقت سُوسُو پوٹی، ہر وقت دودھ دودھ دودھ۔۔ زندگی حرام کردی ہے میری۔۔۔

اور وہ سوچتا کہ اتنی بڑی ہو کر تمہیں جب کوئی عقل کی بات سمجھ نہیں آتی تو یہ سال بھر کی بچی کیا سمجھے گی۔ اسی خراب رویے کا نتیجہ تھا کہ بچی کو ہر دوسرے تیسرے دن بخار ہوجاتا تھا۔

وہ اس سے کہا کرتا کیا ضروری ہے کہ کسی کو رُلا کر ہی کچھ دیا جائے، خوش دلی اور مہربانی سے بھی کام لیا جاسکتا ہے۔ مگر وہ اتنی آسانی سے سمجھ جاتی تو اسے نفیسہ بیگم کون کہتا۔

کہتے ہیں بڈھے طوطوں کو کچھ پڑھایا نہیں جاسکتا۔ نفیسہ بیگم بھی عمر کے اس حصے میں تھی کہ اس پر کوئی اور رنگ نہیں چڑھ سکتا تھا حتیٰ کہ محبت کا رنگ بھی اس کی فطرت پر نہیں چڑھ پایا تھا۔

وہ اپنی ہی ٹائپ کی ایک احمق اور کم ظرف عورت تھی جو اس معاشرے کی بیشتر عورتوں کی طرح خود کو بہت ذہین اور اپنی ہی بات کو اہم سمجھتی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ وہ ہر چیز کو اپنے حساب سے چلا سکتی ہے مگر اسے یہ بات کبھی سمجھ نہیں آتی تھی کہ کسی چیز کو چلانے اور گھسیٹنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔

کسی صبح اماں پوچھتی، کیا ہُوا رات کو گڑیا کے رونے کی آواز آرہی تھی۔

تو وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنادیتا کہ سوتے میں ڈر گئی یا بھوک کی وجہ سے رورہی تھی۔

تو نفیسہ بیگم کیوں چلارہی تھیں، اماں کا اگلا سوال ہمیشہ یہی ہوتا۔

ارے اماں تمہیں تو پتہ ہے اس کا، ایسے ہی چِڑی رہتی ہے ہر وقت۔

اس کے منہ میں گالی کی کڑواہٹ گھل جاتی اور وہ جبڑے بھینچ کر خود کو معتدل رکھنے کی کوشش کرتا۔

تو دو لگاتا کیوں نہیں، اس کے منہ پر۔ اماں غصے سے کہتیں

یہ بھی تو مسئلے کا حل نہیں ہے ناں ماں، وہ ٹالنے کے لیے کہتا۔

یہ کوئی انوکھی ماں بنی ہے، ہم نے بھی تو چھ چھ بچے پالے ہیں، تمہارے ابا تو ہمیں کمرے سے نکال دیتے تھے کہ بچے کے شور سے نیند خراب ہوتی ہے، دو دو چار چار گھنٹے صحن میں ٹہل کر بہلاتے تھے ہم اپنے بچوں کو۔

اماں ہمیشہ اپنی کہانیاں لے بیٹھتیں۔

بچے تو کرتے ہی ہوتے ہیں تنگ، بھابھی ایسے ہی چلاتی رہتی ہیں، جیسے اس کی اولاد نہیں کوئی دشمن ہو۔

اتنے میں کوئی بہن بھی لقمہ دے دیتی۔

تنگ نہیں کرتی ہماری گڑیا۔

وہ اپنے سینے سے لگی گڑیا کا ماتھا چومتا۔

بس اسے اچھی ماں نہیں ملی، وہ ہنسی مذاق میں بات ٹالنے کی کوشش کرتا۔

ایک دن ایسے ہی قریب سے گزرتے ہوئے نفیسہ بیگم نے اس کا فقرہ سن لیا۔

تو تیسری کرلو، تمہارے لیے کیا مسئلہ ہے۔ تمہیں تو ویسے بھی عورتوں میں بڑا انٹرسٹ ہے۔

وہ ہمیشہ طنزیہ فقرے کستی۔

اماں کو اس کا رویہ گراں گزرتا، اصولی طور پر تو ایسا رویہ کسی کو بھی پسند نہیں ہوسکتا مگر وہ برداشت کرنے کی کوشش کرتا۔ بار بار جبڑے بھینچنے سے اس کی داڑھوں میں درد رہنے لگا تھا۔

اسے بس اپنے ڈراموں سے مطلب تھا، وہ کئی کئی گھنٹے بستر پر پڑی ٹی وی دیکھتی رہتی، یا اپنے موبائل فون پر سوشل میڈیا پر سرگرم رہتی۔قریب پڑی بچی روتی رہتی اور وہ اس کی آواز دبانے کے لیے ٹی وی کی آواز اونچی کردیتی جہاں ہمیشہ کوئی نہ کوئی عورت روتی دھوتی دکھائی دیتی یا سازشوں کے جال بُنتی نظر آتی۔ وہ بچی کی طرف توجہ دلاتا تو کہتی ارے ڈرامے ہیں یہ سب اس کے۔

اور وہ سوچنے لگتا کہ اتنی سی بچی کو کیا پتہ ڈراما کیا ہوتا ہے۔

اگر کبھی وہ دودھ کا فیڈر بنانے کی کوشش کرتا تو اسے ٹوک دیتی، یہ والاپانی نہیں ڈالنا، دوسری بوتل سے لو۔

دودھ زیادہ ڈال دیا۔

دودھ کم ڈال دیا، پیٹ نہیں بھرا اس کا۔

اس دوران بھی اس کی ساری توجہ ٹی وی پر رہتی۔

جہاں من مرضیاں کرنے اور آزادی کی خواہاں سجی سنوریعورتیںبلا وجہ روتی دھوتی، خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرتی نظر آتیں۔

وہ سوچتا کہ یہ مرضی اور آزادی کی خواہاں عورتیں اتنی سی بات کیوں نہیں سمجھ پاتیں کہ آزادی کی بھی ایک حد ہوتی ہے، جس قسم کی آزادی یہ چاہتی ہیں اس کا انجام ذلت اور تنہائی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، مگر ڈراموں کی شائق عورتوں کو یہ بات بالکل سمجھ نہیں آئے گی کیونکہ ان کے وژن میں وہ سارا منظر نامہ تھا ہی نہیں جسے وہ جانتا تھا اور وہ حقیقت پر مبنی تھا۔ اسے پتہ تھا کہ عورتیں کبھی یہ بات باور ہی نہیں کرسکتیں کہ ان کی کہی ہوئی کوئی بھی معمولی بات یا کوئی بھی اقدام کس قسم کے نتائج تک لے جائے گا اور جب ان کے اپنے عمل سے کوئی ناپسندیدہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے تو ٹسوے بہانے بیٹھ جاتی ہیں کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا۔

بندہ پوچھے تمہیں پتہ کیا ہے؟

اتنی بڑی کائنات میں، اس زمین پر ہزاروں سال کی ذلتیں اور خفتیں اٹھانے کے بعد بھی انسان کہاں کھڑا ہے؟

اسے کیا پتہ کہ یہ کائنات کیا ہے، کیوں ہے، اسے کس نے بنایا ہے اور کیوں بنایا ہے، اس کا انسان سے کیا تعلق ہے اور انسان کا انت کیا ہے۔ رشتوں کی پیچیدگیاں اور زندگی کا جبر کیا ہے، انسان کتنا آزاد ہے اور کتنا پابند ہے۔ نیند کیا ہے، خواب کیا ہے، وہم کیا ہے، گمان کیا ہے،موت کیا ہے، فطرت کیا ہے، جبلت کیا ہے، حقیقت کیا ہے؟

زندگی تضادات کا مجموعہ ہے مگر اس کے بارے میں حتمی بات کون کہہ سکتا ہے؟

جس نے بھی یہ سارا نظام بنایا ہے کچھ سوچ سمجھ کر ہی بنایا ہوگا، اگر اس نے چیزوں میں انفراد قائم کیا ہے تو اس کی کوئی تو وجہ ہوگی۔

ایک ہی درخت کے پھل ذائقے میں، رنگ میں حجم میں ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں۔ تو پھر سب برابر کیسے ہوگئے؟

جب ہم کہتے ہیں کہ عورت مرد برابر نہیں ہیں تو اس کا مطلب عورت، مرد کا مقابلہ نہیں ہوتا بلکہ مقصد یہ بتانا ہوتا ہے کہ دونوں کی اپنی اپنی انفرادی حیثیت ہے۔ کچھ ذمے داریاں مرد کے سپرد ہیں تو کچھ کام عورت کے ذمے لگائے گئے ہیں۔

اس کے ابا کہا کرتے تھے کہ ایک تو ہوتا ہے کام کرنے کا طریقہ اور ایک ہوتا ہے سلیقہ، اگر کسی کوسلیقہ نہیں ہے تو کم از کم طریقے سے تو کیا جاسکتا ہے۔

عورتوں کو یہ بات سمجھائی نہیں جاسکتی کیونکہ وہ برابری کا مطلب مقابلہ سمجھتی ہیں۔ انہیں صرف اپنی بات کہنے سے مطلب ہے چاہے وہ بات کسی کو کتنی ہی گراں گزرے یا اس کے کتنے ہی برے نتائج کیوں نہ برآمد ہوں۔

دوسری جانب اس کا المیہ یہ تھا کہ اسے اپنی خواہش کے مطابق دنیا نہیں ملی تھی اور دنیا کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ لاکھ کوشش کے بعد بھی اسے اپنے جیسا نہیں بنا پائی تھی۔ لہذا اب ان کے بیچ ایک بڑی سی خلیج حائل ہوچکی تھی۔

وہ اس کی زندگی میں اس وقت آئی جب وہ دنیا داری اور ظاہر پرستی کے ٹنٹوں سے بہت دور جاچکا تھا۔

نفیسہ بیگم ظاہری نمود و نمائشکو اہمیت دینے والی دنیا دار قسم کی عورت تھی اور چاہتی تھی کہ وہ اس کے ساتھ تقریبات میں شرکت کرے، سوشل میڈیا پر اپنی شاعری اور تصاویر شیئر کرے جس میں وہ اس کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کھڑی ہو تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ اب وہ اس عظیم شاعر کی زندگی میں شامل ہے مگر وہ اپنا وقت بہت پہلے کہیں گزار چکا تھا اور اب اس ساری نمود و نمائش سے بے زار ہوچکا تھا۔

وہ جتنا اسے دنیا کی طرف کھینچتی وہ اتنا ہی دور بھاگتا اور نتیجے میں کئی کئی دن تک دونوں منہ پھلائے ایک دوسرے سے کھنچے کھنچے رہتے۔

اسے کبھی اس بات کی سمجھ نہیں آسکی کہ شادی سے پہلے ہر بات پر جی جی کرنے والے عورتیں شادی کے بعد مرد کی مالکن بن کر اسے چلانا کیوں شروع کردیتی ہیں

یہ تو انسانی فطرت کے کہ خوشی سے زیادہ رنج اس کے ساتھ دیر تک رہتا ہے، خوشی کے عارضی لمحات بہت جلد بیت جاتے ہیں

تم اسے کچھ کہتے کیوں نہیں۔۔۔ اماں دن میں کئی بار اسےاکساتی

مگر وہ کوئی جھگڑا نہیں چاہتا تھا، ایک بار وہ جذباتیت کے ہاتھوں اپنا گھر برباد کر چکا تھا اور دوبارہ وہی غلطی نہیں دہرانا چاہتا تھا اس لیے جبڑے بھینچ کر نفیسہ بیگم کی ہر کڑوی کسیلی بات برداشت کر جاتا تھا۔

اس سارے منظرنامے میں اس کے لیے طمانیت کا واحد ذریعہ اس کی بیٹی تھی، جسے سینے سے لگاتے ہی اس کے اندر سکون کی ایک ٹھنڈی لہر اتر جاتی۔ وہ اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں اور بڑی بڑی آنکھوں کو چومتے ہوئے سوچتا اماں ابا نے بھی اسے ایسے ہی محبت سے پالا ہوگا، جیسے اس نے اپنے دونوں بیٹوں کو پیار سے پروان چڑھایا تھا اور نئی ماں کے آنے کے بعد سے وہ زیادہ تر وقت دادی اور پھوپھیوں کے ساتھ ہی گزارتے تھے۔

ایک وقت ہوتا ہے جب بچے طویل نیند نہیں لیتے، تھوڑی تھوڑی دیر بعد جاگ جاتے ہیں۔ وہ اس کے سینے پر لیٹ کر پُرسکون نیند لیتی اور وہ اس کے چھوٹے سے معصوم چہرے پر پھیلے اطمینان کو دیکھتا رہتا، اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں،پیروں اور نازک انگلیوں کو چھوتااور سوچتا ایک دن یہ بھی بڑی ہوجائے گی اور اپنی مرضی کی زندگی گزارنا چاہے گی۔ مگر اپنی مرضی کی زندگی گزارنا کچھ ایسا آسان تو نہیں ہے۔

ایک ہی جگہ پڑے رہنے سے اسکی ٹانگیں سُن ہوجاتیں مگر وہ اپنی جگہ سے ہلتا بھی نہیں تھا کہ کہیں اس کی نیند خراب نہ ہوجائے۔

ایسے ہی ایک وقت میں جب وہ اپنے سینے پر سوئی ہوئی بیٹی کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا،نفیسہ بیگم نے کھڑے کھڑے اس سے کہا تھا کہ ان کے خاندان میں ایک رنڈوے اور ریٹائرڈ کرنل صاحب ہیں جو کسی سنجیدہ قسم کی بیوہ سے شادی کے خواہش مند ہیں، ان کے اپنے بچے امریکہ، کینیڈا میں سیٹل تھے اور وہ یہاں کے ایک پوش علاقے میں ایک بڑے گھر میں اکیلے رہتے تھے، روپے پیسے کی کمی نہ تھی اس لیے نفیسہ بیگم کا خیال تھا کہ اماں کی شادی ان سے کروادی جائے جس کے تین فائدے ہوں گے، ایک تو بیوہ کی شادی کرانا ثواب کا کاہے، دوسرا اماں کو اپنا گھر مل جائے گا اور وہ ایک بہترین زندگی گزار سکیں گی جبکہ تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ کرنل صاحب دونوں بہنوں کی شادیوں کے سلسلے میں بھی بہت مددگار ثابت ہوں گے۔

نفیسہ بیگم ایسے ہی چلتے پھرتے عام سے انداز میں اتنی بڑی بات کہہ کر چلتی بنی تھیں اور وہ اس کی پشت کو گھو رکر رہ گیا تھا۔

Similar Posts:

Facebook Comments Box

1 thought on “عورتوں میں گھرا آدمی ۔۔۔ سید کامی شاہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

January 2022
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31