محمل تیار کیا جائے ۔۔۔ صائمہ قمر
محمل تیار کیا جائے
صائمہ قمر
اونٹ کے پا لانوں پر عطا و غطا ڈالے جا چکے تھے ۔گلے کی
گھنٹیوں کے بیچ کنڈل میں چھوٹی سی لکڑی کی اڑچن بنائی گئی تاکہ رات کی خاموشی میں کم آواز صرف سفر کا پتہ دے ۔۔اونٹوں کو پانی پلایا گیا ۔بھوسا ،تازہ کھل اور چنے کی ددھڑ ملا کر کھلائی گئی ۔
سرخ اینٹوں سے بنی گلی میں چھے اونٹ پیلی عمارت کے سامنے اونچی ڈیوڑھی کے پہلو میں بیٹھے تھے ۔
ڈیوڑھی سے ملحقہ مردان خانے میں مہاری چھے اونچے پائیوں والی کپڑے کے بان سے بنی چارپائیوں پر استراحت فرما رہے تھے کہ رات بھر سفر کرنا تھا ۔میز پر تام چینی کی چینک اور چھے سچی چینی کے پیالے پڑے تھے ۔
ایک کہار کے پاؤں میں سفید موٹا رسہ اٹکا تھا جو رسے کو ہلکی جنبش دیتا تو کھجور کے پتوں اور کھجور کی کڑیوں اور بالوں سے بنی چھت کے بیچ ایک لکڑی کے کم و بیش چار ہاتھ چوڑے اور چھے ہاتھ لمبے تختے جس کے نیچے سرخ اور پیلے رنگ کا کپڑا سیا تھا ہلتا اور سوئے ساربانوں کو ہوا دیتا ۔
تین منزلہ عمارت کے بالا خانے کے تیسرے کمرے کے داہنے دروازے کے بائیں جانب رکھی مسہری کی ٹیک پر جھروکے نما نمونہ تھا اور بیچ میں دو ہاتھ لمبا آئینہ نصب تھا ۔
شب راز نے اپنے چہرے کو آخری بار تنقیدی نگاہوں سے دیکھا ۔
کتابی شفاف چہرہ ،چوڑا ماتھا ،کمان سیاہ آبرو ،غلافی بھوری آنکھیں ،ستواں ناک ،چھلے جتنا دہانا، موتیوں کی لڑی سے پروئے سفید دانت ،صراحی دار گردن ،کم چوڑے شانوں پر سلیقے سے دھرا سرمئی دوپٹہ جس پر کہیں کہیں زرقون ٹانکے گئے تھے ،سیاہ بالوں کے لمبی چوٹی ،صراط مستقیم سی نکلی مانگ، نہ غازہ نہ زیورات نہ مہندی نہ عطر، سفید ڈھیلے ڈھالے لباس پر سیاہ چادر اوڑھی اور آنکھوں کے سواسارا چہرہ ڈھانپ لیا ۔مسہری سے نیچے اتر کر کھڑی ہوئی تو گویا کائنات اٹھ کھڑی ہوئی ہو ۔باوقار انداز میں چلتی ہوئی کمرے کے درمیان میں پہنچی تو فرش پر ایک تین انچ نیچے صندل کی لکڑی کا ایک دو ہاتھ چوڑا تختہ نصب تھا جو پانی چھوٹی الائچی اور صندل کے برادے سے بھرا تھا اس میں دایاں پاؤں ڈالا اور چند ثانیے بعد نکال لیا ،کنیز نے آگے بڑھ کر پاؤں ململ کے سفید پارچے سے صاف کیا اور گیرو رنگ کی نعلین جو کھسے سے مشابہ تھی پہنائی ۔ہرمل کی دھونی دی گئی ۔عمارت کی پہلی منزل سے آواز بلند ہوئی ” محمل تیار کیا جائے”
پانچ اونٹوں پر سواریاں بیٹھ چکی تھیں چھٹا اونٹ بیٹھا تھا ۔ایک کہار نے جلدی سے سرخ لکڑی کی چھے زینوں والی چوکی اونٹ کے پہلو میں رکھی شب راز چند کنیزوں کے جلو میں آگے بڑھی ادھر سورج نے اسے آتا دیکھ کر مغرب کی طرف پیٹھ کی کہ کوئی اور شب راز کا حسن نہ دیکھ پائے ۔دو کنیزیں چوکی کے ارد گرد کھڑی ہو گئیں شب راز آگے بڑھی ایک کنیز کے کاندھے پر مخملیں ہاتھ رکھا اور دوسری نے دایاں ہاتھ تھاما مشرق و مغرب کا امتزاج لیے مکھن سے ہاتھ ذراسا دباؤ پڑنے پر شفق کی سرخی سےجا ملے اور جلد ہی محمل کو رات نے ڈھانپ لیا ۔شب راز محمل میں ایک کنیز کے ہمراہ بیٹھ گئی ۔مہاری کو اشارہ ہوا اس نے اونٹ کی باگ میں ہاتھ ڈال کرذرا جھٹکا تو اونٹ نے اگلی ٹانگوں پر زور دے کر پچھلی ٹانگوں کو بلند کیا ۔شب راز نے کنیز کو تھاما۔ اونٹ سرعت سے اٹھا اور شب راز نے خود کو متوازن کیا ۔محمل کا پردہ ہلکا سا سرکا
شب راز کی نظر سامنے کھڑے ابان سے ٹکرائی ۔رعب اور تابع فرمانی کا تاثر لیے ہوئے آنکھوں نے رخصت لی ۔
اونٹوں کے پیروں میں بندھی موٹے موتیوں کی جھالروں میں کہیں کہیں ٹانکے گئے چھوٹے گھنگرو اور گلے کی گھنٹیاں کم آواز میں بجنے لگیں ایک خاموش مغرب نے رخت سفر باندھا ۔
اینٹوں سے بندھی چوڑی گلیوں سے یہ مختصر سا قافلہ چلنے لگا ۔اونچی اونچی دیواروں اور قلعہ نما گھر جو ایک دوسرے سے ملحق تھے اور تقریباً ہر گھر میں کھجوروں کے درخت تھے ۔گلیوں میں روشنی کا خاطر خواہ انتظام بھی تھا ۔ٹھنڈ کے باعث لوگ سر شام ہی گھروں میں دبکے بیٹھے تھےاکا دکا کوئی راہ گیر نظر آتا تو ہلکا سا سر کو جھکا کر تعظیم بجا لاتا ۔
آدھے گھنٹے بعد قافلہ بڑی شاہراہ پر آ نکلا جس کے دونوں اطراف میں کہیں کہیں کوئی قلعہ نما کچا گھر نظر جاتا ۔دو گھنٹے کی مسافت کے بعد گھر وں کی جگہ کہیں کہیں خیمہ بستیوں کا قیام نظر جاتا ۔چاندنی رات مگر چاند کہرے میں نہایا ہوا چاندنی رات کی مبہم تصویر پیش کر رہا تھا ۔
قافلہ بڑھتا گیا ۔
شب راز نے پالان کی مضبوط لکڑی سے ٹیک لگائی اور ٹانگوں کونیم دراز کیا ۔بھرے بھرے گورے پاؤں ،گلابی ایڑیاں ،پاوں گویا کبھی زمین پر رکھے ہی نہ ہوں ۔
چاند کی روشنی پڑنے پر چمک اٹھتے ۔
کنیز نے آہستہ سے شب راز کی پنڈلیاں دبانا شروع کیں ۔
” رمالہ رہنے دو ۔”
شب راز نے مسکراتے ہوئے کہا
” یہ میرے امور میں شامل ہے “
رمالہ کنیز نے سنجیدگی سے کہا
” مگر اس وقت تم میری ہم سفر ہو ۔اور ہم مسافر نا کہ آقا
ذادی و کنیز ذادی
” مگر کنیز ذادی ہونا غلام ہونے کی سند نہیں کیا؟”
رمالہ نے موٹی موٹی آنکھوں سے شب راز سے سوال کیا
” غلامی کی کئی قسمیں ہیں آقا و غلام، زر خرید غلام ،منکوحہ، ملازم، محب و محبوب، عاشق و معشوق، نیاز مند و بے نیاز ،کہار اور سوار رقص و غنا ہر کوئی غلام ہے ۔ کوئی آزاد ہے کیا؟
شب راز بلاتکان بولتی چلی گئی
” آپ درست فرما رہی ہیں “
رمالہ نے بھولپن سے سوچتے ہوئے سر ہلا یا
” تم نہیں سمجھو گی رمالہ ۔تم آزاد پیدا ہوئی ہو آزاد ہو جہاں چاہو جا سکتی ہو ،دریا پر ،بازار میں ،عطر فروشوں کے محلے میں ،تندور سے گرم گرم نان لینے ثرید کھانے ،ملیدہ لینے ،عرق لگوانے ۔
سنا ہے بازار میں ایک عرق فروش آیا ہے جو حنا کے خوبصورت نقش و نگار بناتا ہے لڑکیوں کے ہاتھوں پر ،اور ہاں سنا ہے ہاتھ پر سوتی استر چڑھا لیتا ہے لڑکیوں کا ہاتھ “
“پکڑتے ہوئے ،ہاہاہا زندگی کے لمس سے بے زار عرق فروش
جی ایسا ہی ہے ” ۔مگر بہت حسین ہے حسن یوسف کا خریدار لگتا ہے عزیز مصر سا ۔کسی پر نگاہ ہی نہیں ٹکتی عرق فروش کی ۔مگر عجمی ہے ۔ہونہہ”۔
رمالہ نے نفرت سے آخری جملہ ادا کیا تو شب راز کے تیور بدل گئے
” تم یہ کیوں بھول گئی کہ ابان کی ماں فارس سے ہے مگر وہ عجمی نہیں وہ حافظ شیرازی ،عمر خیام اور سعدی کو حفظ کیے ہوئے ہے ۔ان کے گرد آج بھی خندق کھدی ہے کسی میں ہمت نہیں کہ اسے پار کر سکے شیر خدا سی بہادری چاہیے جو آج کے عرب میں نہیں ۔وہ سلمان فارسی کے خاندان سے ہے اور تم، تم ابو لہب کے شجرے سے”۔
شب راز انتہائی جذباتی ہو گئی ،انکھوں میں سرخ ڈورے تیرنے لگے گھنی پلکوں کے نیچے آ نکھ کا پانی پورے چاند کی رات میں نم ساحل کا نقشہ پیش کر نے لگا
” معذرت خواہ ہوں آقازادی”
رمالہ سہم گئی
مہاری نے اونٹ کی باگ ڈھیلی کر دی گلے کی گھنٹیوں کی آواز مدھم ہونے پر شب راز نے کنیز سے کہا
” مہاری سے کہو سفر تیز کرے “
کنیز نے غطا سے سر باہر نکال کر شب راز کا پیغام دیا ۔مہاری نے رفتار تیز کر دی
بے آب و گیاہ ریگستان چاند کی تابانی اونٹوں کی گردنوں سے بندھی گھنٹیوں کی آوازیں ماحول کو خواب ناک بنائے ہوئے تھیں ۔
نصف شب کے قریب قافلے کو روک دیا گیا ۔
شب راز ذرابے چین ہوئی تو مہاری نے محمل کے قریب آکر ادب سے کہا
” ابان سرکار کی ہدایت ہے کہ سپیدہ سحر نمودار ہونے تک اس صحرا میں خیمے لگائے جائیں گے تاکہ سواریوں سمیت سب طعام تناول فرمائیں اور تازہ دم ہونے کے لیے استراحت فرمائیں ۔اپ کا جو حکم ہو”۔
ہدایت پر عمل کیجئے”۔ “
خیمہ زنی میں ماہر افراد نے عارضی خیمہ گاہ تیار کی اب مستورات کو عماریوں سے اترنے کی ہدایات دی گئیں ۔شب راز کے محمل کے قریب چھے زینوں والی چوکی رکھی گئی اور پہلے سے موجود کنیزوں نے اونٹ کے بیٹھنے پر شب راز کو اتارا ۔شب راز کے خیمے میں خاطر خواہ روشنی کا انتظام کیا گیا ۔نرم و گداز جدید طرز کا گرم بستر لگایا گیا ۔
آن کی آن میں لذیذ کھانے دستر خوان پر چن دیے گئے
بھنی ہوئی ران،دہی،پنیر،روغنی نان، ثرید، دلیم، سلاد، زیتون اور کھجور کا ملیدہ تازہ پھل،قہوہ غرض انواع و اقسام کے کھانوں سے دستر خوان سجا دیا گیا ۔شب راز نے بہت کم کھانا کیا اور کنیزوں سے کہا کہ وہ آرام سے بیٹھ کر سیر شکم ہوں اور خود سونپے گئے کاغذات لے کر بستر پر نیم دراز ہو کر پڑھنے لگی ۔
“رمالہ یہ مقام ربذہ سے قریب تر ہے نا؟”
شب راز نے پوچھا
” جی حضور یہ مقام مقام عشق سے قریں تر ہے “
رمالہ نے ڈبڈبائی آنکھوں سے جواب دیا
” ہم مقام عشق کی خوشبو محسوس کر سکتے ہیں ۔ہم غریب ربذہ کو سلام اور تہنیت پیش کرتے ہیں”
ہم بھی ایک ایسے ہی سفر پر روانہ ہیں مگر ہم اسیر تمنا ہیں آپ آزاد تھے غریب ربذہ
ہم اسیر ہیں حکم کے ،صیغوں کے ،جنس کے ہم مجبور ہیں اس امر پر جو واضح اور رائج ہونے کے باوجود ہمیں ناگوار
” ہے
شب راز نے بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے کہا
کنیزوں کے نوالے ہونٹوں کے قریب آکر چند ثانیے تک رک گئے”۔
شب راز نے سرہانے رکھے کاغذات پر ایک نفرت کی نگاہ کی اور کروٹ بدل کر آنکھیں موند لیں ۔
صبح کی اذان سے کچھ پہلے شب راز کی آنکھ کھلی وہ چھے سات گھنٹوں کی بھر پور نیند سے بے بیدار ہوئی ۔ایک کنیز خیمے کی دیوار سے ٹیک لگائے سو رہی تھی شب راز کی کسمساہٹ سے اٹھ بیٹھی ۔
ہمیں وضو کرنا ہے ۔
خیمہ گاہ سے ملحقہ عارضی غسل خانے میں ضروری حاجت رفع کی وضو کیا اور خیمہ میں آکر نماز ادا کی ۔
سورہ فتح کی پہلی چھے آیات تلاوت کیں ۔
اتنی دیر میں دستر خوان پر ناشتہ لگ چکا تھا ۔شب راز نے قہوہ اور زیتون کا ملیدہ لیا ۔کنیزیں ناشتہ کر نے میں مصروف تھیں کہ خیمے کے باہر سے رمالہ کے نام کی پکار ہوئی ۔رمالہ شب راز کا اشارہ پاتے ہی تیزی سے خیمہ کے در پر گئی ۔
” دمام سے ایک شخص یہ ڈبہ نما چیز لایا ہے “
رمالہ نے ایک ڈبہ نما چیز شب راز کو دیتے ہوئے کہا
” اسے بستر کے ساتھ رکھی تپائی پر رکھ دو”
شب راز قہوہ کے گھونٹ لینے لگی
کنیزیں ناشتہ کر کے برتن سمیٹنے لگیں ۔
سورج سونے کے دریا میں غوطہ زن ہو کر باہر نکلنے لگا اور طرف سنہری روشنی پھیلنے لگی ۔
شب راز رات کے سیاہ مخملیں لباس اور کھلی سیاہ زلفوں میں اپسرا لگ رہی تھی
مخمل کے گداز بستر کے پاس رکھی تپائی پر وہ ڈبہ نما چیز رکھی اور چھوٹے چھوٹے سیاہ بٹنوں پر مخروطی انگلیوں تیزی سے چلنے لگیں ۔
جیسے جیسے انگلیاں حرکت کرتیں شب راز کی غلافی آنکھیں گہری ہو جاتیں کبھی تشویش ،کبھی تجسس اور کبھی اطمینان کے رنگ دوڑ جاتے ۔
ایک گھنٹے کے انتظار کے بعد مہاری نے اذن سفر مانگا تو شب راز نے کہا ” ہماری منزل اگلی ہدایت آنے تک یہی ہے”۔
اور پھر کام میں مگن ہو گئی
“لایا گیا سامان اس گاڑی میں رکھا جائے “
مہاری نے غلاموں کی ایک چھوٹی سی جماعت کو یہ ہدایت کی ۔لگ بھگ چھے سے آٹھ بوریاں ایک سفید گاڑی میں رکھ دی گئیں ۔
شب راز نے رمالہ سے کہا ” اجنبی پیام بر کو مہاری کی نگرانی میں خیمہ میں لایا جائے”۔
شب راز خیمہ میں ٹہلنے لگی
“پیامبر اجازت چاہتا ہے “
خیمہ کا بھاری پردہ ہٹا پیامبر ادب سے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا
” یہ مشین اٹھاؤ ،اور شیخ سے کہنا ہر دو صفحات کے بعد کچھ معلومات قوسین میں ہیں وہ اہم ہیں اور ہاں ابان کو اس
کی خبر نہ ہو کیونکہ ہم نے ان کا اضافہ ابان کو لا علم رکھ
کر کیا ہے
اور رسد کی بوریوں کے ساتھ ہر اونٹ پر ہمارا سامان جو سمندر پار سے لائے ہو لاد دو
شیخ کو ہمارا سلام کہنا ” ۔
شب راز نے آخری بات نچلے ہونٹ کا کونہ دانتوں تلے دباتے ہوئے اور آنکھوں میں شرارت بھر کر کہی
پیامبر نے جھکتے ہوئے کن انکھیوں سے شب راز کے پیروں کی طرف دیکھا گداز سفید پاؤں قرمزی قالین پر ایسے لگ رہے تھے گویا ابھی کاریگر نے سنگ مرمر سے تراش کر سجاوٹ کے لیے رکھے ہوں ۔
پیامبر نیم خمیدہ کمر کیے ہاتھ میں مشین اٹھائے خیمے سے باہر چلا گیا ۔
رمالہ نے آگے بڑھ کر کہا
” دو تین گھنٹے کے طویل کام سے اعصاب و ذہن تھک گئے ۔ہوں گے ۔طبیعت مائل ہو تو قہوہ اور زیتون تیار کرواؤں؟” ۔
مزاج شناس خاتون سلام ہے تمہاری نسلوں پر فرماں برداری اور مزاج آشنائی تم پر ختم ہے” ۔
شب راز نے تعریفی کلمات ادا کیے ہاتھ کے اشارے سے رضامندی ظاہر کی ۔چادر کا پلو ادائے بے نیازی سے دائیں ران سے جھٹکا اور مسند نشین ہو کر بھر پور انگڑائی لی ۔
شب راز کو اونٹوں کے گلے کی گھنٹیوں کی آوازوں کے ساتھ ساتھ بھاری گاڑیوں کے چلنے کی آوازیں بھی کانوں میں پڑ رہی تھیں اور وہ اس تصور سے محظوظ ہو رہی تھی کہ ابان کی سوچ سے دس سال آگے کی سوچ رکھتی ہے ۔یہ خود کو شاطر سمجھتا ہے شاید کلیجہ چبانے کی رسم سے واقف نہیں ہے ۔۔ایک عیارانہ مسکراہٹ اس کے گل اناری ہونٹوں پر ناچ گئی ۔
سورج کو شاید جلال آگیا تھا اس لیے وہ کرنوں کو زمین پر پٹخ رہا تھا سردیوں کے موسم میں خیمے گرم ہو گئے ۔شب راز نے رمالہ سے تخلیہ کا کہا رمالہ کے باہر جاتے ہی اس نے سیاہ چادر کو اتارا اور دیودار کے منقش سٹینڈ پر پھیلا دیا اب وہ سفید لباس میں بلا کی معصوم و پاکیزہ لگ رہی تھی ۔سیاہ ریشمی بالوں کی لمبی چوٹی کو مخملیں انگلیوں سے کھولنا شروع کیا ۔۔ہتھیلوں کے نیچے کلائی کی الٹی طرف کے ابتدائی حصے میں عود لگایا ۔گردن کے دائیں بائیں فرانس کی اعلیٰ خوشبو کا ہلکا سا فوارہ چھوڑا ۔زلفوں کو عنبر سے لیپا ۔کمر کے گرد سونے سے بنی نازک سے زنجیر جس کے ساتھ جواہر لٹک رہے تھے لپیٹ کر ہک بند کی ۔
خود کو آئینے میں ایک نظر دیکھا ۔مسند کے ساتھ رکھی تپائی کے اوپر رکھی ہاتھ برابر بغیر تار کی ایک مشین اٹھائی دفعتا نیللگوں روشنی پھوٹ کر چہرے کو خوابناک بنا گئی ۔قلمی انگلیوں نے مشین پر رقص کیا اور ایک۔ دھن چھڑ گئی
پلکوں کی جھالریں غازے سے بے نیاز چہرے پر چلمن کا کام دے رہی تھیں لرزنے لگیں دو موٹے شفاف آنسو پلک کا سیاہ عکس لیے عارض سے ڈھلکے وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی
آنسو شکست کی علامت ہیں مگر وہ تو خوش تھی وہ سر شاری جو مقصد کو کامیابی سے حاصل کرنے کے بعد محسوس ہوتی ہے ۔
سیاہ ڈبے کو بند کیا اور تالی بجائی
رمالہ بجلی کی سی تیزی سے خیمے میں آئی ۔
” کوچ کا سامان ہوا؟”
” جی مہاری اونٹوں کو ترتیب دے رہے ہیں “
رمالہ نے ادب سے جواب دیا
” منتظم کے مطابق ابان کے حکم نامے کے مطابق آپ سیاہ صحرائی گاڑی میں واپسی کا سفر کریں گی تاکہ جلد پہنچ سکیں دو مسلح افراد آپ کی حفاظت پر مامور ہوں گے اور قافلے سے ایک گھنٹہ پہلے روانہ ہوں گی “”
” بہت خوب “
شب راز نے مسکراتے ہوئے کہا
کھانے کی نوبت کاری کے فرائض رمالہ نے ادا کیے
آن کی آن میں بھنا گوشت
روغنی نان ، دلیم، کجھور اور زیتون کا ملیدہ ، دہی اور سات قسم کے پھل سرخ شربت کے ساتھ دستر خوان پر چن دیے گئے ۔
کھانے کے بعد سنگ مصری کے ساتھ قہوہ پیش کیا گیا ۔
طعام سے فارغ ہونے کے بعد شب راز نے خیمے میں چہل قدمی شروع کر دی ساتھ ہی ساتھ
” (گردش چشم سیاہ تو خوشم می آئد)
گنگنانے لگی ۔
“شب راز محترمہ کی سواری تیار ہے “
رمالہ نے اعلان کیا
شب راز نے کالی چادر اوڑھی اور چہرہ ڈھانپا خیمے سے باہر آئی تو صحرا میں عمدہ عطر کی بھینی بھینی خوشبو قافلے والوں کو معطر کر گئی
سیاہ چمکدارصحرائی گاڑی جس کے شیشے بھی سیاہ تھے شب راز کے خیمے کے پاس کھڑی تھی ۔مسلح فرد نے چابک دستی سے دروازے کھولا اور شب راز سوار ہوگئی ۔
گاڑی فراٹے بھرتی ، ریت اڑاتی ہوئی
صحرا میں دوڑنے لگی۔
ادھر ساربانوں اور مہاریوں اور قافلے کے دیگر افراد نے عرب کا مشہور رقص شروع کر دیا ۔
نوبت کاری ہوئی کہ قافلہ چلنے کے لیے تیار ہے سب افراد اپنی مقرر کردہ سواریوں میں سوار ہو گئے ۔
رمالہ ہاتھ میں سیاہ ڈبے کو کان سے لگائے کسی سے ہنس ہنس کر بات کر رہی تھی شب راز والے محمل میں اب رمالہ نے سوار ہونا تھا ۔
محمل رمالہ سے چند قدم دور کھڑا کر دیا گیا ۔
” اتنی تیزی سے گاڑی چلانے کی کوئی خاص وجہ “
شب راز نے قدرے بلند لہجے میں گاڑی بان سے پوچھا”
” آپ کو جلد از جلد منزل مقصود تک پہنچانا ہے اور ابان کا حکم بھی ہے “
مسلح فرد نے مؤدب لہجے میں بتایا
” ایسی بھی کیا جلدی کہ دل اچھل کر حلق میں اٹک جائے”
” محترمہ حکم کے پابند ہیں ۔رفتار دھیمی کیے دیتے ہیں “
محترم شب راز کا سامان ہمارے لیے تیار کردہ عماری میں” ” رکھا جائے ؟
رمالہ نے حکم دیا
مہاری نے حیرت سے رمالہ کو دیکھا اور فورا نظریں نیچے کر لیں
” جو حکم محترمہ”
سامان محمل پر رکھا اونٹوں کی گنتی ہوئی پورے چھے محمل عطا و غطا کے ساتھ تیار تھے ۔
” محمل تیار کیا جائے”
زینہ رکھا گیا دو کنیزوں نے رمالہ کو محمل میں سوار کرایا ۔
قافلے کی روانگی کا بگل بجا اور اونٹوں کی گردنوں میں گھنٹیاں بج اٹھیں ۔
ادھر سیاہ گاڑی تیز رفتاری سے اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں تھی شب راز محو تصور تھی کہ وہ دارالامارہ میں بطور خاتون اول پہنچنے والی ہیں کہ ایک سیاہ عقاب جھپٹا اور سیاہ گاڑی کے پرزے صحرا میں بکھر گئے ۔سیاہ
چادر کا ایک ٹکڑا فرات سے پچاس کلو میٹر دور جا گرا ۔۔۔