راج ہنس/تاثرات۔ منظور حسین کاسف

راج ہنس (افسانے) ڈاکٹر مریم عرفان
تاثرات :: منظور حسین کاسف

ڈاکٹر سلیم اختر کہتے ہیں کہ ”قیامت صفت طوفان اپنے مرکز میں سکون کا دائرہ بھی رکھتا ہے جو طوفان کی آنکھ کہلاتا ہے۔ ایسا ہی عالم تخلیقی شخصیت کا ہوتا ہے۔ جو اعصاب کی حشر سامانیوں کے پیدا کردہ شخصیت کے طوفان میں سکون کا دائرہ بھی رکھتی ہے دراصل یہی وہ آنکھ ہے جو افسانہ نگار/تخلیق کار کے خارجی اور باطنی مشاہدے کو تقویت عطا کر کے افسانہ/تخلیق کا تمغہ عطا کرتی ہے“ ۔

مریم عرفان کو بھی خدا نے ایسی آنکھ عطا کر کے افسانہ نگار کے منصب پر فائز کر دیا ہے۔

کتاب سے نا شناس ترقی پذیر معاشرے میں کتاب لکھنا بذاتِ خود ایک خوبصورت مثبت عمل ہوتا ہے۔ تازہ تشبیہات اور استعارات سے مزین کہانی لکھنے اور لفظوں سے تصویریں بنانے کا ہنر مریم عرفان کو آتا ہے۔ اس کے افسانوں کی کتاب ”ہنس راج“ کی اشاعت کا خیر مقدم ہونا چاہیے۔ کسی کتاب کو پڑھے بغیر اس پر تبصرہ کرنا مشکل ہوتا ہے مگر ”راج ہنس“ جیسی کتاب پڑھ کر بھی تبصرہ کرنا اتنا آسان نہیں۔ بلکہ کتاب دوسری مرتبہ پڑھنی پڑتی ہے

دنیا کا نامور اطالوی مجسمہ ساز مائیکل اینجلو کہتا ہے کہ مجسمہ پتھر کے اندر موجود ہوتا ہے میں اس کا فالتو پتھر تراش دیتا ہوں۔ اور مجسمہ سامنے آ جاتا ہے۔ اسی طرح مریم عرفان اپنے ارد گرد کے ماحول پر لپٹی ہوئی معاشرتی دبیز تہیں اتار کر کہانیاں نکالنے کا فن جانتی ہے۔

انگریزی ادب کی دین اردو افسانے کی ابتدا بیسویں صدی کے آغاز میں ہوتی ہے۔ اگرچہ اردو کے پہلے افسانہ نگار منشی پریم چند اور احمد ندیم قاسمی کی طرح اس کتاب کی زیادہ تر کہانیوں کا ماحول دیہاتی ہے۔ مگر موضوعاتی اعتبار سے یہ کہانیاں منٹو کے قریب ہیں۔ جنس کا موضوع بنیاد پرست لکھاری کے نزدیک حرام ہوتا ہے۔ جن پر جنس سوار ہوتی ہے وہ لکھنے والے لذتیت کا شکار ہو جآتے ہیں۔ مگر مریم عرفان نے متوازن رویہ اختیار کرتے ہوئے جنس کو انسانی زندگی کا ایک اہم حیاتیاتی جزو سمجھتے ہوئے اس کا مشاہدہ کیا ہے۔ اور کہانیوں کی لڑی میں پرو زیب قرطاس کر دیا ہے۔

ادب میں زنانہ مردانہ خانے نہیں ہوتے۔ کیونکہ لکھاری مرد و زن کے ہجوم سے ذرا اوپر صرف ایک انسان ہوتا ہے۔ جو اپنی الگ انکھ سے مشاہدہ کرتا ہے، سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے، اس کا کرب سہتا ہے اور پھر الفاظ کا پیرہن عطا کرتا ہے۔ یہی خوبی مریم کے افسانوں میں بھی ہے۔ انہیں پڑھ کر بالکل پتا نہیں چلتا کہ یہ کسی مرد نے لکھے یا کسی خاتون نے لکھے ہیں۔

پہلا افسانہ ”۔ نارنگ“ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو انسانی شکل میں سور خصلت جنسی درندہ ہے۔ جو انسانی بستیوں میں کم کم پایا جاتا ہے۔ ایسے حساس موضوع پر لکھنا جرات اور دلیری کا کام ہے۔ ”ایمو“ کی کہانی بھی دیہاتی ماحول کی عکاس ہے جہاں بدقسمتی سے حسن و جمال سے بھرپور کسی مجبور و مقہور غربت زادی کی جوانی کو کتنے سستے داموں روزی روٹی کی مجبوری میں بار بار بیچنا پڑتا ہے۔

روایتی استعمال سے ہٹ کر بد معاش کے معنی ہیں حرام خور جس کی روزی برے کاموں پر منحصر ہو۔ اس کتاب کی کہانی ”بدمعاش“ میں اس لفظ کو ان معنوں میں اس طرح پرویا گیا ہے۔ کہ قاری پر بدمعاشی کے نئے دریچے وا ہو جاتے ہیں۔ کس طرح خط غربت کے نیچے پسے ہوئے لوگوں کو روزی کے لیے کیسے کیسے گھٹیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔

”کہانی“ کے موضوع پر بھی ایک اچھی کہانی لکھی گئی ہے۔ ”کانجی“ ایک غربت زدہ معصوم ایسے خاک نشین بچے کی بے بسی کی دردناک کہانی ہے جس کا بچپنا انتہائی تکلیف دہ حالت میں گلیوں کی خاک میں مل کر مر جاتا ہے۔ ”راج ہنس“ ایسے انسان کی کہانی ہے جو ایسی بیماری میں مبتلا ہے۔ جسے ظاہر نہ کرنا اس کی ایسی انا ہے جس کی بھینٹ دو عورتوں کو چڑھا کر ان کی انمول جوانیاں رول دیتا ہے۔ جوانی کی بیوگی کے موضوع پر لکھی درد ناک کہانی ”رانی کھیت“ کا ایک جملہ جو اس کربناکی کا کچھ احاطہ کرتا ہے ”جوانی کی بیوگی سنبھالنا آندھی میں دیا جلانے کے برابر ہے۔“

”ہوک“ میں چرخے کی سریلی کوک دل کے تاروں کو چھیڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ چرخے کے تمام کل پرزوں کے نام، مقام، کام اور جغرافیہ پر رج کے گفتگو کرتے ہوئے اس کے انگ انگ کو نکھار دیا ہے۔ چرخے کے استعارے کا بہت رنگین، خوبصورت اور وسیع معنوں میں استعمال کیا ہے۔ اس کہانی میں اردو زبان گلابی گلابی ہو گئی ہے۔

” موراں“ ایک متوسط طبقے کی محبت کی سادہ اور ہلکی پھلکی کہانی ہے۔ ”پروازِ بیبال“ نفسانی خواہشات میں لتھڑے ہوئے ایک الجھے ہوئے نفسیاتی مریض کی بے سمت پرواز کی علامتی کہانی ہے۔ ”باز“ ان مسائل کی بازگشت ہے جو دولت کمانے کے جنون میں بیوی بچوں کو پاکستان میں چھوڑ کر زیادہ عرصہ بیرونِ ملک رہنے والوں کا المیہ ہے۔

مریم عرفان نے غیر مہذب معاشرے کے پیچ و خم کو اپنے مشاہدے کی روشنی میں دلیری، بیباکی اور روانی سے بیان کیا ہے۔ اپنی کہانیوں میں کسی ادبی نظریے کی طرف جھکاؤ کی شعوری کوشش نہیں کی۔ دیباچہ اور پیش لفظ پڑھنے کا ارمان رہ گیا۔ سلیس اور سادہ زبان کے ساتھ ساتھ اردو کو پنجابی زبان کے محاوروں، لفظوں اور روزمرہ کا خوب مزیدار تڑکا لگایا ہے۔

( ماخذ:: ہم سب اردو ڈاٹ کام)

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.