غزل ۔۔۔ شہزاد تنویر صوفی
غزل
شہزاد تنویر صوفی
نظام خوف کا ایسے نہیں بنایا گیا
قدم قدم پہ ہمیں عمر بھر ڈرایا گیا
ہمیں تلاش تھی سچ کی مگر اسی سچ کو
بنا کے جھوٹ یہاں آج تک سنایا گیا
جہاں میں عدل کو نیلام کر دیا جس نے
وہ بے ضمیر بھی دربار میں بٹھایا گیا
ہمارے خواب کی تعبیر ہو گئی مشکل
یقین خواب کے پردے میں ہے سلایا گیا
ہماری نیند چرا لے گیا کوئی صوفی
کھلی جب آنکھ تو دیوار سے لگایا گیا
Facebook Comments Box