زندگی آگ ہے جلاتی ہوں ۔۔۔ ناہید ورک

غزل

( ناہید وِرک )


زندگی آگ ہے جلاتی ہوں
خواہشیں راکھ ہیں، اُڑاتی ہوں

یہ اداسی تو مار ڈالے گی
کچھ کتابیں خرید لاتی ہوں

وہ سمجھتا ہے، میں بہت خوش ہوں
اور میں اس پہ مسکراتی ہوں

میرے بِن گھر میں کون ہے موجود؟
کس خوشی میں دیے جلاتی ہوں؟

خواب میں سُن کے میں تری آواز
نیند سے سچ میں جاگ جاتی ہوں

اُس سے ناراضگی بھی اپنی جگہ
وہ منا لے تو مان جاتی ہوں

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

April 2025
M T W T F S S
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
282930