جُوتے بہت کاٹتے ہیں ۔۔۔ ابرار احمد
جوتے بہت کاٹتے ہیں رات بھر کون تھا ساتھ میرے جسے میں بتاتا رہا اس
جوتے بہت کاٹتے ہیں رات بھر کون تھا ساتھ میرے جسے میں بتاتا رہا اس
ہمدردی ( صبا اکرام ) سڑک پر خون میں لتھڑا پڑا وہ حادثے کا ایک
گور پیا کوئی ہور ( ڈاکٹر آصف محمود ) (بلھے شاہ سرکار دی ویل) دھمی
غزل ( نادیہ عنبر لودھی ) ہم کو آغاز ِ سفر مارتا ہے مرتا کوئی
نیلی نوٹ بُک ( عمانویل کزا کیویچ ) مترجم: ڈاکٹر انور سجاد عمانویل کزا کیویچ
’ نمبردارنی احمد رضا پنجابی ‘ کھُلے ویہڑے دے فیدیاں دا تے سبھ نوں پتا
مفت خورا (منزہ احتشام گوندل ) پچھلے چار مہینوں میں چالیس مرتبہ وہ یہ سن
: میں ڈرتا ہوں مسرت سے ( میرا جی ) میں ڈرتا ہوں مسرت سے
ا جے اکھ سُفنیاں وچ رہن دیو ( زاہد حسن ) اجے
غزل (اقبال ساجد ) کل شب دلِ آوارہ کو سینے سے نکالا یہ آخری کافر