ہزار پایہ ۔۔۔ خالدہ حسین
ہزار پایہ خالدہ حسین میں نے دروازہ کھولا۔ اندر کے ٹھنڈے اندھیرے کے بعد، باہر
ہزار پایہ خالدہ حسین میں نے دروازہ کھولا۔ اندر کے ٹھنڈے اندھیرے کے بعد، باہر
افسانے کا فسانہ محمود احمد قاضی دو افسانہ نگار ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہیں۔
عام سا ایک دن ذکیہ مشہدی ’ناشتہ لگادیا ہے بھیا، آجائیے۔‘‘ بوانے آواز لگائی۔رفیع کچھ
مولوی صاحب کی ڈاک سیمیں کرن مولوی صاحب نے اک بڑا سا بوری نما تھیلا
آخری مارچ صائمہ نورین بخاری ہری زمین نے سرخ پھولوں کی چادر اوڑھ رکھی تھی۔۔۔دبیز
رومانس ثروت عبدالجبار اس کا چہرہ میں نے دیکھ رکھا تھا، اور سچ پوچھیں تو
آنے والا کل لوہسون/شاہ محمد مری”ایک بھی آواز نہیں ………… بچے کو کیا ہوا؟“ زرد
‘پندرہ نمبر کے دس روپے’ زیب اذکار حسین سچ تو یہ ہے کہ یہ
بی بی ثمینہ سید درگاہ عورتوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی وہ سب چہ
انصاف کا لاشہ۔۔ ۔عابدہ رحمان اُس کا دماغ شل تھا۔ کروٹ لینا چاہی تو جیسے