دوسری حوا ۔۔۔ بش احمد

دُوسری حَوَّا

بُش احمد

’’شروع شروع میں میرے زخمی ہاتھوں پاؤں کی مالش کرنے کے بعد وہ میری ہتھیلیاں اور تلوے چاٹتی تھی۔ تب مُجھے نہیں معلوم تھا وہ ایسا کیوں کرتی ہے۔ اس کی زعفرانی رنگت گٹھیلی ہتھیلیاں نرم اور ریشم کی مانند ملائم تھیں لیکن لمبی نوکیلی زبان کسی بِلّی کی زبان جیسی کُھردری تھی۔ چند دنوں کے اندر اندر اس ریگ مال کی رگڑ سے میرے ہاتھوں پاؤں کی کھال چِھلنے لگی، پھر ان سے ذرا ذرا خون بہنا شروع ہوا۔ خُون چاٹتے اس کے لب رنگین ہو جاتے۔ میڈوسا جیسی بِکھری زُلفوں کے گُنجلک سانپوں سے بھرپُور اپنا بھاری سَر اُٹھا کر وہ میری طرف دیکھتی۔ اس کے عجیب و غریب انسان نما چہرے کے اثرات سے مَیں بتا نہ سکتا کہ وہ مُسکرا رہی ہے یا دانت کچکچا رہی ہے۔ اُس کا مُنہ اور نوکیلے دانت خونخوار لگتے تو سہی لیکن مُجھے کچا چبا جانے کی بجائے اس کی نیت میں کوئی اور فتور لگتا۔ آہستہ آہستہ وہ وقت بھی آیا جب میری ہتھیلیاں، پاؤں کے تلوے اور ایڑیاں اتنی نرم اور زُودحِسّ ہو گئیں کہ مَیں مضبوطی سے نہ کوئی سخت چیز تھام سکتا نہ اپنے پاؤں پر وزن ڈال کر کھڑا ہو سکتا۔‘‘

’’آپ مُجھ سے پُوچھ رہے ہیں مَیں کون ہوں اور اس حالت تک کیسے پُہنچا؟ میرا نام مُراد خان ہے۔ میرا باپ بہرام خان آسٹریلیا میں لیجائے گئے افغان اونٹ بانوں کے ساتھ یہیں سے گیا تھا۔ میری ماں آسٹریلین ایبوریجنل تھی۔ بچپن سے ہی میرے باپ نے مُجھے اونٹوں اور گھوڑوں کی تربیت کرنا سکھایا تھا۔ ابھی پچھلے سال کی بات ہے۔ مَیں آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں نو دس مختلف نسلوں کے مخلوطہ گھوڑوں کی افزائشِ نسل اور تربیت میں مصروف تھا ۔ حُکم ملا تو برٹش راج کے لیے مختص کیے گئے ویلر گھوڑوں کے ساتھ جہاز میں کلکتہ پہنچا جہاں ان گھوڑوں کو فوجی مقاصد کے لیے شمال مغربی محاذ پر استعمال کیا جانا تھا۔ انگریزی کے علاوہ ایک دو انڈین زبانیں بھی بول لینے کی وجہ سے مُجھے بنیادی تربیت کے بعد فوج میں بحیثیت پرائیویٹ افسر بھرتی کر دیا گیا۔ میری ذمہ داریوں میں نئے گھوڑوں کو سدھانا اور سپاہیوں کو گُھڑ سواری سکھاناشامل تھا۔ اس کام میں میری مہارت کی وجہ سے انگریز افسروں نے خوش ہو کر مُجھے ’’ہارس وِھسپَرَر‘‘ کا خطاب دے دیا۔ وحشی سرکش گھوڑے کی گردن کے گرد رسّے کا پھندا ڈالنا، اُسے دائروی حصار میں گھمانا، تھپ تھپانا، ورزش کرانے کے بعد اس کے اکڑے عُضلات کی مالش کرنا،اُس کی کھال کا کھریرا کرنا، گردن کے گرد جَپھی ڈال کر سر جوڑ کر سرگوشیاں کرنا، اس کے ماتھے سے ماتھا ٹیک کر اسے بہت جلد رام کر لینا انڈین سپاہیوں کے نزدیک کسی جادو سے کم نہیں تھا۔ مَیں انکی حیرانی نوٹ کرتا، مُسکراتا، اپنا کام جاری رکھتا۔

کچھ ہفتوں کے بعد ہمارے دستے کو افغانستان کی سرحد کی طرف بھیج دیا گیا جہاں گھوڑ سواری، باربرادری کے علاوہ توپیں کھینچنے کا کام بھی میرے زیرِ نگرانی گھوڑوں اور اونٹوں کا تھا۔ کوہِ سفید کی برفانی ہواؤں سے ٹھٹھرتی قُرّم وادی سے جنرل رابرٹس کے ساتھ پیوار کوتل گُزرنے کی تفصیل کیا بتاؤں؟ مَیں ایک پرائیویٹ تھا۔ لڑائی میں مَیں نے کیا حصہ لینا تھا!

جنرل رابرٹس کی ذاتی کمانڈ میں پہاڑ پر پیچھے سے چڑھ کر افغان مورچوں پر شبخون مارنا میرا نہیں گورکھے اور سِکھ سپاہیوں کا کام تھا۔ گھمسان کا رن پڑا۔ مُجھے نہیں معلوم کون جیتا۔ مَیں نیچےگھاٹی میں اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔ بھٹکی ہوئی گولی ران میں لگ جانے سے میرے گھوڑے کا بدکنا، اسکی گردن سے میرابے اختیار لپٹنا، پہاڑی ڈھلوانوں پر اُگے گھنے درختوں سے گزرنا، میرے سَر اور سینے پر زخم لگنا، میلوں میل بے تاب گھوڑے کا دوڑنا، میرا بے ہوش ہو کر گر جانا، پتھریلی زمین پر بِکھری نرم برف میں نیم بےہوشی کا عالم، ہوش آنا کچھ کچھ یاد ہے۔ اگلے چند ہفتوں میں برف باری سےبوجھل پہاڑی گھاٹیوں پر اترنا چڑھنا، بیابان میں میلوں چلنا، جنگلی پھلوں سے بُھوک بہلانا، میری اُنگلیوں کے ناخن اور میرے پاؤں کی انگلیاں یخ اور سُن ہو کر جھڑ جانا پھر تھک کر میرا بار بار گِر جانا مُجھے کسی خواب کی طرح یادہے۔ کہ ایک رات شفاف اوبسیڈین آسمان میں ان گنت تاروں تلے برفیلی رات کسی نے مُجھے بہت آسانی سے اُٹھا کر بھری بوری کی طرح اپنے کندھے پر لادا تھا۔ کہ میرے زخموں سے شدید ٹیسیں اور مُنہ سے سسکیاں نکلی تھیں۔ لیکن رات کے اندھیرے میں وہ میلوں دُور مُجھے کیسے لے کر آئی اور پھر پہاڑ کی عمودی ڈھلوان پر کیسے چڑھی، یہ یاد نہ تھا۔

مُجھے جب ہوش آیا تو اپنے آپ کو چاروں شانے چِت برہنہ حالت میں لیکن اُونی کھالوں سے ڈھکا پایا۔ اوپر کسی سوراخ سے آتی ہلکی روشنی سے غار میں ملگجا اندھیرا تھا۔ غار کے سنگی فرش پر میرے نیچے بھی بدبو دار اُونی کھالیں بِچھی تھیں۔ اِدھر اُدھر نیم تاریکی میں دیکھنے کی کچھ قوت بحال ہوئی۔ ایک طرف غار کے فرش پر اکٹھے ڈھیر کئے چند انسانی ڈھانچوں کی سفید ہڈیاں نمایاں ہوئیں تو میرا خون خُشک ہو گیا۔ مَیں نے ڈرتے ڈرتے اپنی آنکھیں اُٹھائیں۔ زمانۂ قدیم کے بن مانس اور جدید انسان کے درمیان کسی گمشدہ کڑی کی مانند وہ میرے سامنے کھڑی تھی۔ چہرے کے سوا اس کا سارا جسم سُرخی مائل بُھورے بالوں سے ڈھکا تھا۔ چہرے کے گرد پیچ در پیچ گھنے بالوں کا ہالا۔ اس کا قد زیادہ اُونچا نہیں تھا لیکن اس کی رُوئیں دار رانوں اور بازوؤں کی مچھلیوں سے اس کی بے پناہ طاقت اور چوڑی چکلی چھاتی پر نوکیلے تکونی اُبھاروں سے اس کے مادہ ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ مَیں اپنے صیاد کے رحم و کرم پر زندہ تھا۔ کہ وہ مُجھے زندہ رکھنا چاہتی تھی یہ تو مَیں سمجھ گیا جب اس نے میری بغلوں میں اپنے ہاتھ دے کر بآسانی مُجھے اُٹھا کر میرے پیچھے دیوار سے ٹیک لگا کر بٹھایا۔ غار کے اندر بہتے ایک گُنگُناتے چشمے سے لے کر اپنے ہاتھوں کے پیالے کے ذریعے میرے مُنہ میں پانی اُنڈیلا۔ چند جنگلی پھل کھلائے۔ لیکن کیوں مُجھے زندہ رکھ رہی ہے یہ سوال مُجھے بار بار تنگ کرتا۔ جب اس نے میرے زخموں کو چاٹنا شروع کیا تو مَیں سمجھا موت آ گئی، کہ خون پینے کے بعد اب وہ مُجھے کچا کھا جائے گی۔ لیکن اس کے چاٹنے سے جو مُجھے تسکین ملی، درد سے چُھٹکارا ہوا اس سے انکار مشکل تھا۔ میرے زخموں اور جسم کو صاف کرتی، اپنے دبیز ہونٹوں کو حرکت دیتے وہ کچھ نہ کچھ زیرِ لب بولتی جیسے کسی بچے سے بات کر رہی ہو لیکن لفظ آگے پیچھے ہوتے۔توتلا تلفظ ایسا جیسے اس کی مادری زبان غیر مُلکی ہو۔ کبھی ہسپانوی لفظ، کبھی اطالوی، کبھی یونانی، کبھی تُرکی کبھی فارسی لیکن بے ربط۔

میرے ساتھ اس کا مجموعی سلوک خاصا مشفقانہ تھا۔ مُجھے اکیلا چھوڑ کر رات کو غار سے وہ نکل جاتی۔ صُبح سے پہلے واپس آتی تو اس کے ساتھ ایک تھیلا نما گٹھڑی میں مختلف پھل، جڑی بُوٹیاں ہوتیں۔ لیکن مُجھے فرار ہونے کا موقع نہ دینے کے علاوہ وہ چاہتی کیا تھی اس راز کی آگہی مُجھے کچھ ہفتوں کی قید کے بعد ہوئی جب میرے سر اور سینے کے زخم مندمل ہونے شروع ہوئے۔ اس نے غار کے سوراخ پر ایک بہت بھاری پتھر رکھا ہوا تھا جسے مَیں ہلا نہ سکتا۔ مُجھے بعد میں معلوم ہوا کہ پہاڑ کی عمودی ڈھلوان سے باہر نکلےایک چٹانی چھجے نے جھاڑیوں کے پیچھے پوشیدہ غار کے تنگ دہانے پر سایہ کیا ہوا تھا۔ اس سوراخ سے صرف رینگ کر گُزرا جا سکتا تھا۔ پتھر نہ بھی رکھتی تو غار سے نکل کر پہاڑ کی عمودی چٹان پر اترنا چڑھنا میرے بس کی بات نہ تھی۔ ٹُنڈ مُنڈ ہاتھوں پَیروں سے اپاہج، ویسے بھی مَیں کھڑا نہ ہو سکتا۔ اندر سے غار خاصا کشادہ تھا۔ غار کے فرش پر گُھٹنوں کُہنیوں کے بل رینگتا مَیں چشمے تک پہنچتا، پانی پیتا، اپنے آپ کو حتی الوسع صاف کرتا پھر واپس آ کر کھالوں کے اُسی بستر پر لیٹ جاتا۔ میری داڑھی مُونچھیں اور سر کے بال بے تحاشا بڑھ گئے۔ غار کے اندر بتدریج کم ہوتی سردی سے مَیں نے اندازہ لگایا کہ باہر بہار کا موسم آ گیا ہو گا۔

اُس کی نرم ہتھیلیوں کی مالش اور پھر کھردری زبان سے تلوے چاٹنے سے میرے جسم میں عجیب وغریب سنسنی پیدا ہوتی۔ میرے پٹھے اور اعضا اینٹھتے۔ رگ رگ نس نس میں وحشت کا بارود مچلتا، پھٹنے کے لیے تیار ہو جاتا۔ میرا خودکار رَدِّعمل دیکھ کر اس کی باچھیں کِھلتیں۔ ملگجی تاریکی میں اس کے متوازی متناسب نوکیلے دانت چمکتے۔ آہستہ آہستہ میرے جسم کو چاٹتی وہ میرے سَر کی طرف آتی۔ میرے اوپر چھا جاتی۔ اس کی جلد پر اُگے گھنے رُوئیں میرے برہنہ جسم کا کھریرا کرتے۔ اس کی عجیب اجنبی بُو میرے احساسات کو آمادگی پر برانگیختہ کرتی۔ اس کا سانس تیز تیز چلنے لگتا۔ وہ غُراتی، کسی شکم پُر بِلّی کی طرح خُرخُر کرتی۔ کچھ اُس پر کچھ مُجھ پر وحشت طاری ہوتی۔ اس کے بڑھے ہوئے ناخن مُجھے نوچتے۔ خراشوں سے اُٹھتی ٹِیسیں خارش پیدا کرتیں۔ مَیں اس کُھجلی کو کُھجانا چاہتا مگر میرے بے اختیار ہاتھوں کی ٹُنڈ مُنڈ اُنگلیاں اسکی زُلفوں اور گردن کی پُشت پر اُگی گھنی ایّال میں اُلجھ کر رہ جاتیں۔ مَیں اُسے بھینچتا چاہتا۔ اس کے میڈوسا سَر کے لہراتے ریشمی سانپ کبھی ڈستے کبھی میری انگلیوں کو چُومتے۔

اپنے تصور میں مَیں ایک سرکش بے لگام گھوڑا بن جاتا۔ اگلے پاؤں اُٹھا کر نتھنے پھیلا کر بتیسی نکال کر ہنہناتا۔ پچھاڑی مارتا۔ میرے سر اور دونوں گالوں جبڑوں پر بے تحاشہ اُگے بال اکڑ کر ایّال کی صورت کھڑے ہو جاتے۔ وہ میرے سُموں کو ایک ایک کر کے اُٹھاتی، اپنے لبوں کی آتشی میخوں سے ان پر آہنی نعل ٹھوکتی۔ جا بجا میری جِلد کو سُلگتے ہونٹوں سے داغتی۔ گھوڑے کے مُنہ میں اپنی روئیں دار تکونی لگاموں کا باری باری ایک پھر دوسرا نوکیلا بے خار دہانہ ٹھونس کر میری وحشت کو بھڑکاتی۔ اندھیرے میں اس کی آنکھیں انگاروں کی مانند دہکتیں۔ جب مَیں سیدھی سڑک پر سرپٹ دوڑنے کے لیے تیار ہو جاتا تو میری ایّال کو اپنے دونوں ہاتھوں کی گرفت میں باگ کی مانند کھینچ کر چھلانگ لگا کر مُجھ پر حاوی ہو جاتی۔ اُچھلتے کُودتے وحشی گھوڑے پر روڈیو سواری کرتی۔ بے چَین کلبلاتے سرسراتے لہراتے اژدہوں سے پُر اپنا میڈوسا سَر جھکا کر دہانہ چباتے مُنہ سے جھاگ بہاتے گھوڑے کے ماتھے سے ماتھا ٹیک کر اجنبی زبانوں میں سرگوشیاں کرتی۔ میری سرین کی رکابوں میں اپنے پاؤں کے پنجے پھنساتی۔ میری رانوں کے نیچے اپنی ایڑیوں سے میری بے چَینی کو مہمیز لگاتی۔ تیزی سے دھڑکتے میرے دل کے گرد پسلیوں کو اپنے گُھٹنوں کے درمیان زور سے دباتی۔ میری بے صبری کی باگ کو کھینچ کر رکھتی۔ لگام سے منسلک گھوڑا اور سوار دونوں ایک مشترکہ احساس کے دائرے میں گھومتے۔ بے خار دہانے باری باری چباتا ہنہناتا الف گھوڑا آزادی مانگتا، کُھلے میدان میں کُھلے آسمان کے نیچے کُھلی سیدھی دوڑ لگانا چاہتا۔ وہ بار بار ڈھیل دیتی پھر کھینچتی، سدھاتی۔ دُلکی چال چلنے پر رام کرتی۔ گھوڑے کی بے تابی کو اپنی ذات کے حصار میں محدود رکھتی۔ بالآخر اس دائروی دوڑ میں وحشت کا بارود پھٹ کر چنگاریوں کی صُورت پُھس ہو جاتا۔ پٹھا پٹھا مضطرب پھڑکتا ماس شانت ہو جاتا۔ پسینہ پسینہ پسلیاں ہانپتا گھوڑا اور پسینہ پسینہ سوار دونوں اکٹھے جیت جاتے!

لیکن آخر کب تک یہ کھیل جاری رہتا؟ جب اس کے مَن کی مُراد پُوری ہو گئی تو اُس کا جنون بھی ختم ہو گیا۔ تب مُجھے سمجھ آئی کہ غار میں بکھرے انسانی ڈھانچے مجھ سے بھی زیادہ بدقسمت تھے۔ ایک ڈھلتی سہ پہر اس نے غار کے مُنہ سے پتھر ہٹایا اور مُجھے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ مَیں رینگتا ہوا باہر نکلا۔ نیچے عمودی گہرائی دیکھی تو ڈر کر پیچھے ہٹا۔ اس نے مُجھے پیچھے اپنی کمر پر سوار کیا اورپہاڑ کی ڈھلوان سے نکلے کگر کناروں کنگنیوں کا سہارا لے کر نیچے اترنے لگی۔ چند ایک نشیب و فراز اُترنے چڑھنے کے بعد مُجھے ایک اونچے ٹیلے پر بٹھایا۔ وادی کے دوسری طرف ایک اور پہاڑ کے پیچھے غروب ہوتے سُورج کےبڑھتے سائے کے نیچے تاریک ہوتی جاتی وادی میں کسی بستی کے ٹمٹماتے چراغوں کی طرف اشارہ کیا۔ شفق کی روشنی میں پہلی بار مَیں نے اس کا چہرہ نظر بھر کر دیکھا۔ مَیں نے گھوڑے پالے ہیں۔ جاذب نظر یا خوبصورتی کا معیار کیسے بیان کروں! سُنا تھا کہ آنکھیں رُوح کا آئینہ ہوتی ہیں۔ شاید اُسے میری ذات سے اُنس ہو گیا تھا۔ کیوں کہ گھنی بھنوؤں کے چَھجے تلے غار نما اُن سُنہری آئینوں میں لبریز آنسو ایسے جھلملا رہے تھے جیسے کسی چِتا کی راکھ میں حُزن کے چٹختے کَھنگَر ۔ کیا آپ نے کسی گھوڑے کی آنکھوں پر لمبی خمیدہ پلکیں دیکھی ہیں؟ مَیں نے اس کی بُھوری پلکوں کے نیچے خُفتہ آتش فشانی عنبریں پُتلیوں پر گہری سوچ کےگھنیرے بادل اُمنڈ آئے دیکھے۔

اُس نے جُھک کر میرےکندھوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے۔ میرے ماتھے پر اپنا ماتھا ٹیک کر کسی اجنبی زبان میں الوداعی سرگوشی کی۔ اپنے یخ ہونٹوں سے میری پیشانی کو داغا اور مُڑ کر پہاڑ پر چڑھنا شروع کر دیا۔ جُوں جُوں وہ اوپر چڑھتی گئی، ڈوبتے سورج کی کرنیں اسکے بُھورے سُرخ جسم کا نُور افشاں تعاقب کرتی گئیں۔ مَیں اس کی ذات کے حصار سے نکل تو آیا تھا مگر نہ جانے کیوں میرے اردگرد لمبے ہوتے جاتے سایوں کے ساتھ ساتھ کسی بھاری پتھر سے دبتے جاتے میرے سِینےکے اندر بھی غار جیسی تاریکی پھیلتی گئی۔ کوہِ مُردار کی چوٹی پر پہنچ کر اس نےرُک کر چاروں اور گھوم کر ایک آخری نظر ڈالی۔

وہ اپنی نسل کی آخری مادہ تھی۔ کُجلاتے سورج کی نارنجی کِرنوں سے منور کسی ریگستانی سراب کی مانندلرزتے ہیولے کے پاؤں میرے بچے سے بھاری تھے۔ اس نے ایک لمحہ میری طرف آخری بار رُخ کیا، اپنا بازو اُٹھا کر دُور دراز شمالی اُفق پر برف پوش کوہِ سفید کی چوٹی کی سمت اشارہ کیا اور اُدھر اُتر گئی! شاید وہ مُجھے میرے بچے کے پیچھے آنے کی دعوت دے رہی تھی۔ لیکن مَیں کن پاؤں سے چل کر جاتا؟ کچھ باپ ایسے بدنصیب بھی ہوتے ہیں‘‘

کمبل کے نیچے ہاتھوں پاؤں بازوؤں گُھٹنوں ٹانگوں پر بے شمار خون آلود پٹیاں بندھے آسٹریلین افغانی نے فوجی ڈاکٹر کے خَیمے میں ہنگامی کھاٹ پر لیٹے لیٹے ایک لمبی آہ بھری، ’’وہ جنگلی تھی، وحشی تھی لیکن مہربان بھی۔ اسے اپنی نوع کو برقرار رکھنے اور ماں بننے کا جنون تھا۔ مُجھے اُمید ہے، مستقبل کے انسان اُسے مَم کے نام سے یاد رکھیں گے!‘‘

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

February 2024
M T W T F S S
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
26272829