ٹھہرا ہوا موسم ۔۔۔ محمود احمد قاضی
ٹھہرا ہوا موسم محمود احمد قاضی دھند ہے کہ چاروں طرف سے اس نے شہر
ٹھہرا ہوا موسم محمود احمد قاضی دھند ہے کہ چاروں طرف سے اس نے شہر
دَم سارااحمد درِ دل پہ جیسے دستک ہوئی تھی لیکن یہ تو بارش کے چھینٹے
کبالہ منزہ احتشام گوندل تو یوں ہے کہ وہ ایک فنکار کی باہوں میں مر
نامکمل۔ ( پُتلا) ۔ کہانی مرزا اطہر بیگ پُتلا بنانے کی ذمہ داری سراج دین
توبہ سے ذرا پہلے فارحہ ارشد ” مجھے تم سے نفرت ہے ‘‘ ۔۔۔۔۔۔ ایک
کھردری انگلیوں کی جنبش رابعہ الربا بعض انسانو ں کو انسانو ں کی نہیں، اپنی
گیلے پر فرحین چودھری اُس نے سردی سے بچنے کے لئے کوٹ کے کالر اُونچے
بھتہ وصولی قرب عباس یُوں تو میں جنازوں میں شرکت نہیں کیا کرتا لیکن
بند مٹھی سید انور ظہیر رہبر ، برلن جرمنی میں سوچتا رہتا ہوں کہ شاید
ادھ کِھلی کا رُوپ بان سمیع آہوجا اس نے بھٹی کا دروازہ خود بند کیا۔