دَم ۔۔۔ سارا احمد

دَم

 سارااحمد

درِ دل پہ جیسے دستک ہوئی تھی لیکن یہ تو بارش کے چھینٹے تھے جو برآمدے میں اخبار پڑھتے ہوئے ان پر پڑے تھے- “اوہ پھر بارش شروع ہو گئی”- انہوں نے اخبار تہہ کرکے میز پیچھے کھسکا لی- دسمبر کا وسط تھا- سردی بڑھ گئی تھی لیکن اس بار وہ جیسے اس موسم سے کوئی پرانی آشنائی نبھا رہے تھے- رات سونے سے پہلے اپنے کمرے میں نہیں جاتے تھے- برآمدے میں ہیٹر لگا کر وہیں مطالعہ میں اپنا وقت کاٹتے- آج تیسرا دن تھا- وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری تھا- انہوں نے برآمدے سے اپنا سَر باہر نکال کر آسمان کی طرف دیکھا- بدلیوں میں کہیں کوئی روزن نہیں تھا جہاں سے سورج کی کوئی کرن زمین پر جھانک سکتی- سورج آسمان پر ہی تھا اور بدلیوں نے اس پر آڑ کر رکھی تھی جیسے ان کے سینے میں دل تھا مگر ماضی کی یادوں نے اس کی دھڑکنوں کو جکڑ رکھا تھا- بارش نے ان کے چہرے کو بھگو دیا تو پیچھے ہٹ کر برآمدے میں اٹھائی ہوئی چک کو نیچےگرا دیا اور کرسی سے تولیہ اٹھا کر اپنا چہرہ خشک کرنے لگے- کمر جھک گئی تھی- ہاتھوں میں لاٹھی آ گئی تھی- چشمے کے دور ونزدیک نظر کے دونوں نمبر بڑھ گئے تھے- یاداشت آج کے دن کی باتیں محفوظ کرنے سے انکاری تھی مگر برسوں پہلے کی باتیں ازبر تھیں جیسے وقت نے اپنی گرد ان پر نہیں جمائی بلکہ انہیں وہیں امانتاً دفنا کے آگے بڑھ آیا تھا- بات بھی سچی تھی – وقت نہ کبھی تھما ہے اور نہ تھکا ہے- وہ عمر کے اس موڑ پر اپنی یادیں سانسوں سے اتار کر کہاں رکھتے؟ جسم شکستہ تھا اور روح ان کے بوجھ سے بوجھل تھی- شام ہونے کو تھی- چائے کی طلب میں اپنے جوتے گھسیٹتے باورچی خانے کی جانب چل دیے- رستہ ابھی باقی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی-

“اوہ ہو اسوقت کون آگیا، سکون نام کی کوئی شے نہیں لوگوں کی زندگی میں-” بڑبڑاتے ہوتے ہوئے برآمدے کی چک اٹھا کر آواز لگائی- “آجاؤ بھئی جو کوئی بھی ہے، دروازہ کھلا ہے- “

گھر میں ان سمیت سب سامان پرانا تھا- بقدر ضرورت پچھلے وقتوں کی اچھی لکڑی کا بھاری فرنیچر تھا- انہیں آلتو فالتو چیزوں سے بھرا تنگ گھر پسند بھی نہیں تھا- نقدی گھر پر رکھتے نہیں تھے- دو موبائل تھے- ایک اسوقت ان کی جیب میں تھا اور دوسرا ایک محفوظ جگہ پر جس میں نیٹ کی سہولت موجود تھی- گھر کے اندر داخل ہونے والی ایک تئیس چوبیس سال کی لڑکی تھی جس کی گود میں سال بھر کا روتا بسورتا ایک بچہ تھا جو اس سے بہل نہیں رہا تھا-

“کیا بات ہے ، کون ہو ، کیا چاہیے بھئی؟”

ایک ہی سانس میں انہوں نے سوالات کی بوچھاڑ کر دی-

“یہ میرا بچہ ہے ، بہت ضد کرتا ہے ، اسے پھونک مار دیں انکل جی-“

لڑکی بمشکل بچہ اور چھتری سنبھالے ہوئے تھی- چھتری پر گرتی بارش کی بوندوں کا شور سن کر بچہ کبھی چپ کرجاتا اور کبھی اس کی گرفت سے نکلنے کے لیے بے قابو ہونے لگتا- “لاحولاولاقوۃ”، انہوں نے بلند آواز سے کہا اور مزید بحث اور بچے کی ریں ریں سے بچنے کے لیے اسے برآمدے میں آنے کا اشارہ کیا- اپنی آنکھیں بند کیں، منہ میں کچھ پڑھا اور بچے پر پھونک ماری- بچے نے پھونک پر اپنی آنکھیں جھپکیں اور رونا بھول کر ان کے چہرے کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا- سُرخ وسفید باریش چہرہ جو اس لڑکی کی بے وقت آمد پر مزید لال ہو گیا تھا-

“دیکھا! میری امی ٹھیک کہتی تھیں آپ کے دم کرنے سے سے یہ چپ ہو جائے گا ورنہ دو دن سے اس نے منہ میں زبان نہیں ڈالی-” انہوں نے اپنی نگاہیں چرا لیں اور “اچھا اچھا، ٹھیک ٹھیک ہے ، اب جاؤ بچے کو ٹھنڈ لگ جائے گی”، کہہ کر باورچی خانے کی طرف چل دیے- شمسہ بھی ان کے پیچھے پڑ جاتی تھی- “نہیں ناں آپ کو میری قسم کچھ پڑھ کر دم کریں- سَر بہت دُکھ رہا ہے-“

اسی نے محلے میں یہ بات مشہور کر رکھی ہو گی کہ میرے میاں کی پھونکوں میں بڑا اثر ہے- کم فہم عورت اس عمر میں داماد کے پاس جا کر امریکہ بیٹھ گئی- چائے کی پیالی سے گرم اسوقت ان کے دماغ میں اتھل پتھل ہوتیں سوچیں تھیں- اکلوتا بیٹا تھا جو تعلیم مکمل کرتے ساتھ ہی آسڑیلیا بھاگ گیا تھا- انہوں نے ان ماں بیٹے کی بات باہر برآمدے میں سن لی تھی-

“بس کریں امی یہ ہم تھے جنہوں نے ابو کے ساتھ گزارہ کیا- کوئی باہر والی آ کر نہیں رہ سکتی اس ماحول میں۔۔۔۔۔۔-“

اولاد کو ساری دنیا برداشت ہے، نہیں ہے تو ایک باپ- انہیں تو خود میں کہیں کوئی خامی نظر نہیں آتی تھی- اچھا کھلایا پلایا تھا- من چاہے اداروں میں تعلیم دلوائی تھی اور من پسند جگہوں پر بیٹا اور بیٹی دونوں کی شادیاں بھی کر دیں تھیں- ذہن ودل منتشر ہونے لگتے تو آبِ زم زم کے چند گھونٹ پی لیتے- خانہء خدا کا دیدار کر آئے تھے- یاد آنے پر بارہا شکر ادا کرتے-

“اب تو اپنے بیٹے کے ساتھ حج پر جاؤں گی آپ تو بس ہر وقت سوجے پھولے ہی رہتے تھے وہاں ، ذرا مزا نہیں آیا آپ کے ساتھ۔۔۔۔۔-” شمسہ کے طعنے بھی یاد آگئے- ان عورتوں کو تو وہاں جا کر بھی خریداری کی پڑ جاتی ہے- بہت کہا

سب چائینہ کا مال ہے- ہر جگہ یہی کچھ ہے- کیا فائدہ جو لینا ہو اپنے وطن سے لے لینا- مگر عقل کی بات تو ان جاہل عورتوں کے دماغ میں سماتی ہی نہیں- کہتی تھی اس ملک کی ہوا تو لگی ہے نا ان سب چیزوں کو- داماد اور بیٹی کے ساتھ اب آزادی سے گھوم رہی ہو گی امریکہ- وہاں کی ہوا سے ناپاک نہ ہو گی اب – لاحولاولاقوۃ کہہ کر انہوں نے اپنے سر کو جھٹک دیا- پتہ نہیں تنہائی میں کیا کیا سوچنے لگے تھے-

دروازے پر ایک بار پھر دستک ہوئی- انہوں نے جیب سے موبائل نکال کر اسکرین روشن کی اور وقت دیکھا- محمودہ ہی ہو گی- “آجاؤ بھئی”-

انہوں نے اندر سے آواز لگائی- محمودہ پہلے ہی اندر آ چکی تھی- “بھنڈی گوشت بنا دو اور چائے کے برتن پہلے دھو لینا”-

“جی اچھا”- کہہ محمودہ فریج سے سبزی نکالنے لگی- اس کے پیچھے اس کا نو سال کا بچہ چھپا کھڑا تھا-

“پھر ساتھ لے آئیں تم اسے- ٹی- وی مت لگا کر دینا-“

وہ غصہ ہوئے-

“بس بابا جی آرام سے ادھر کونے میں بیٹھ کر اپنا سبق یاد کرتا رہے گا- وہ کیا ہے جی جاتے جاتے اندھیرا بڑھ جاتا ہے- ساتھ کوئی ہو تو کسی کی مجال نہیں چھیڑنے کی-“

انہوں نے کن انکھیوں سے محمودہ کو دیکھا اور پھر سر جھکا کر اندر چلے گئے- ایک تو موبائل کمپنیوں کے پیغامات ڈیلیٹ کرتے کرتے ان کا کافی وقت صرف ہو جاتا تھا- انہوں نے الماری سے اپنا دوسرا موبائل نکال کر نیٹ آن کیا- شمسہ اس وقت اسکائپ پر ان سے بات کرتی تھی- کرسمس کے دن قریب تھے- بچے خریداری میں لگے ہوں گے- بیٹے نے بھی آسڑیلیا سے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ماں کو ملنے امریکہ آنا تھا اور سب نے ایک ساتھ مل کر کرسمس منانا تھی- داماد کے بارے میں سنا تھا کہ شاید وہ ان چھٹیوں میں اپنے والدین کے پاس پنڈی آئے- اب انہیں ملنے لاہور آتا ہے یا نہیں، انہیں کیا پتہ؟ وہ کونسا اپنے خاندان کے لیے اتنا اہم تھے کہ انہیں اپنے ہر پروگرام سے آگاہ رکھا جاتا- بیٹے کے دو بیٹے تھے اور بیٹی کے دو بیٹے اور ایک بیٹی- اپنی اپنی دنیا میں سب خوش تھے- شمسہ بھی خوش ہو گی- اپنی مرضی سے چار دن گزار لے گی وہاں-

“بابا جی دودھ کا ایک کپ اپنے بچے کو دے دوں”-

محمودہ نے توے پر پھلکا ڈالنے سے پہلے ان سے اجازت لی- وہ خاموش رہے- محمودہ ان کی عادت جانتی تھی- اس نے اپنے بیٹے کو دودھ کے ساتھ ڈبل روٹی بھی دے دی-

“میں نماز گھر پر ہی پڑھوں گا- تم کام ختم کر کے چلی جانا”-

ان کے آخری رکعت کا سلام پھیرنے سے پہلے ہی وہ اپنا کام ختم کر کے چلی گئی- دعا مانگنے کے بعد انہوں نے باہر کے دروازے کو تالا لگایا اور کھانا کھا کر لیٹ گئے- آنکھوں میں نیند اتر آئی تھی مگر شمسہ یا بچوں میں سے کسی کی کال نہیں آئی- نیٹ بھی بند نہیں کر سکتے تھے، نہیں تو صبح ہی صبح محلے میں سے شمس الدین کا ڈرائیور خیریت معلوم کرنے پہنچ جاتا- اتنی فکر تھی تو اکیلا ہی کیوں چھوڑا تھا اور اوپر سے خواہ مخواہ کی ضد کہ ابا جی آپ بھی وہاں آ کر ہمارے ساتھ کرسمس انجوائے کریں- وہ بھلا کیوں اس عمر میں خوار ہوتے- خدانخواستہ اگر وہیں دم نکل جاتا تو بیوی بچوں کا کیا ہے وہیں کی مٹی میں دفنا آتے- مادیت کے اس دور میں جذبات کو کیا فوقیت- خیالات انہیں بھٹکاتے ہوئے مدفون جذبوں کی بھیگی رُتوں میں لے گئے-

انہیں یوینورسٹی کی انجلینا یاد آگئی- اس کی سانولی رنگت اور میٹھی آواز کی کشش انہیں اس کے بہت قریب لے گئی تھی- لتا کے پرانے گانے جب وہ یونیورسٹی کی کسی تقریب میں گاتی تو ہال میں ونس مور کی آوازوں میں ان کی آواز بھی شامل ہوتی- وہ فنِ مصوری کی کلاس لینے چلی جاتی اور وہ ایجوکیشن کے اسباق میں الجھ کر بھی اس کی آواز کے لوچ کو اپنی سانسوں میں گھلنے سے روک نہ سکتے- اس سے شادی کا بھوت بھی سوار ہو گیا تھا- وہ ان سے زیادہ سمجھدار تھی شاید۔۔۔۔۔محبت بھری باتیں اور شادی کی پیشکش سننے کے بعد دیر تک ہنستی رہتی مگر مانتی نہیں تھی- ساری رات کروٹیں بدلتے ہوئے اس کی گھنٹیوں کی آواز سی مترنم ہنسی ان کے کانوں میں بجتی رہتی- محبت شاید پانی کی طرح بے رنگ رہی ہو مگر دسمبر کی بارشوں کے جام اور گیتوں کے سوز میں ڈھل کر نشہ بن جائے تو کہاں اترتا ہے- کرسمس کے دنوں میں وہ ہاسٹل کو خیر آباد کہہ کر اپنے ماں باپ کے پاس گھر چلی جاتی – وہ اسے خط لکھتے اور وہ ان کا اسکیچ بنانے کے وعدے پر خط لکھنا مؤخر کر دیتی-

محکمہ تعلیم میں ملازمت ملنے کے بعد اپنے بہن بھائیوں میں ان کا نمبر آنے پر والدین کی مرضی سے ان کی بھی شادی ہو گئی- والدین جب حیات نہ رہے تو تینوں بھائی علیحٰدہ رہنے لگے- دونوں بہنیں بھی دوسرے شہروں میں بیاہی گئیں- زندگی اسی ڈگر پر چل نکلی جس میں بحیثیت سربراہ ان کے کھاتے میں ذمہ داریاں ہی تھیں- گھر کا نظم وضبط برقرار رکھنے کے لیے انہیں کبھی درشت ہونا پڑا اور کبھی سرزنش کرنا پڑی- اہلِ خانہ کا شاید ان پابندیوں میں دم گھٹتا تھا- انہوں نے بھی تو اپنی آزادی کی ساری کھڑکیاں بند کر دیں تھیں- بچے چھوٹے تھے تو فلمیں دیکھنا چھوڑ دیں- موسیقی سننا بہت کم کر دی – وہی وقت انہیں گھر پر پڑھایا کرتے تھے- ٹیوشن کا تصور ان کے زمانے میں محال تھا تو پھر اپنے بچوں کو گیس پیپرز اور شارٹ کٹ کا راستہ کیوں دکھاتے- اپنی جوانی کی راتیں بچوں کوسنبھالنے اور ان کا کیرئیر بنانے میں لگا دیں- شمسہ کی شکائیتیں بھی جائز تھیں- حلال کمانے کی لذت میں خود مطمئن اور سرشار رہے لیکن اسے وہ پرتعیش زندگی نہ دے سکے بلکہ الٹا روک ٹوک سے اسے دلگرفتہ ہی کیا- انہیں نہیں پسند تھا کہ کسی شادی یا تقریب میں جانے کے لیے وہ اپنی بہن اور بھابی سے آرائش و زیبائش کی چیزیں مستعار لے- اپنے بچوں کو انہوں نے کھلایا اور پہنایا تو مقدور بھر مگر مہنگے کھلونے کبھی نہ دلا سکے-

نیند آنکھوں میں تھی- ذہن تھک کر سوچوں سے آزاد ہوا تو نیند نے غلبہ کر لیا- آتشی رنگ کی شنیل کی رضائی اوڑھے وہ سنہرے خوابوں میں نہ جانے کہاں کہاں بھٹکتے رہے- کرسمس ٹری کو کھلونوں سے سجا رہے ہیں- اپنے بچوں کے نام رنگ برنگی پنسلوں سے کتنے سارے خط بھی لکھے- سوتے ہوئے بڑبڑانے بھی لگے- پیاری انجلینا تم نے اپنا وعدہ ایفاء نہیں کیا- مجھے اس تصویر کا انتظار ہے۔۔۔۔۔ اور پھر جیسے انہوں نے تصویر پکڑنے کے لیے اپنے ہاتھ بڑھائے لیکن وہ ان کے ہاتھوں سے چھوٹ کر گہرے نیلے پانیوں میں جا گری- انہیں لگا وہ بھی آہستہ آہستہ ڈوب رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔!!

انہیں باہر دروازے پر ہونے والی مسلسل دستک سے بھی ہوش نہیں آیا- بہت دیر دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد دیوار پھاند کر ہمسائیوں کا ایک لڑکا اندر کودا اور ان کی جیب سے چابی نکال کر باہر کا دروازہ کھولا- بخار کی شدت میں کمی ہوئی تو اپنے سرہانے شمسہ اور سامنے بچوں کو دیکھ کر چونک گئے- شمسہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے مزید ماتھے پر پٹیاں کرنے سے روک دیا-

“ابو جی ہم نے آپ کو سرپرائز دینا تھا مگر آپ نے تو ہم سب کی جان ہی نکال دی-“

بیٹی نے محبت سے ان کے سینے پر اپنا سر رکھ دیا-

” ہمیں ہمیشہ آپ کی ضرورت ہے ابو جی۔۔۔۔-“

بیٹے نے آگے بڑھ کر ان کے ہاتھوں پر بوسہ دیا-

بچوں کی نَم آنکھوں نے انہیں دلگیر کر دیا- گذشتہ گزرے وقت کی نسبت بچے ان سے بلا جھجک بات کر رہے تھے- انہیں مسکراتا دیکھ کر سب کے دل خوشی سے معمور ہو گئے- کل تک گھر میں وحشت بھری تنہائی تھی اور اب اپنوں کی خوشبو سے گلاب کھل اٹھے تھے- انہوں نے شمسہ اور بچوں کے چہروں پر نہ جانے کیوں شرمساری اور ندامت محسوس کی- دونوں پوتے، نواسے اور نواسی پورے گھر میں اودھم مچاتے پھر رہے تھے- سورج نکل آیا تھا اور چمکتی دھوپ کے پیچھے لپکتے وہ چھت پر بھاگ گئے تھے- آج ان کے کانوں کو بچوں کا شور بھلا لگ رہا تھا-

 “آپ کے لیے ایک سرپرائز بھی ہے-” شمسہ نے تنہائی ملتے ہی سفری بیگ میں سے ایک فریم شدہ تصویر نکالی-

“آپ نے مدتوں ایک شبیہہ دل کے کسی گوشے میں سب سے چھپا کر رکھی لیکن قدرت نے آپ کا راز آشکار کر دیا-“

اپنی عادت کے مطابق وہ لاحولاولاقوۃ کہہ کر اٹھ بیٹھے-

“وہاں امریکہ میں ایک ریستوران میں یاسر کو دیکھ کر ایک عورت ٹھٹک گئی اور آپ کا نام لینے لگی-“

“انجیلنا ہو گی؟”

وہ زیرلب بڑبڑائے- ان کا بیٹا یاسر ہوبہو ان کی جوانی کی تصویر تھا- یونیورسٹی میں ہی انجلینا اپنے کزن میکائیل کے ساتھ شادی کر کے امریکہ چلی گئی تھی-

“ہاں جی اور پھر اس نے بہت  عزت سے آپ کا ذکر کیا کہ پوری یونیورسٹی میں آپ وہ واحد انسان تھے جنھوں نے اسے دوستی نہیں شادی کی پیشکش کی تھی- وہاں اس کی اپنی گیلری ہے اور اس کا شوہر پیانوئسٹ ہے- سچ پوچھیں تو اس سے ملنے کے بعد میرا وہاں ایک پل کو دل نہیں لگا- وہ مجھ پر رشک کر رہی تھی کہ تمہارا شوہر سانتا کلاز ہے جس نے تم سب کو دنیا کی گرد سے بچا کر شفاف آئینوں میں رکھا- اس کی آنکھوں میں سچائی کا رنگ اتنا گہرا تھا کہ میں چاہ کر بھی اس سے حسد نہیں کر پائی-“

“وہ بوڑھی ہو گئی ہو گی مگر آواز تو ویسی ہی ہو گی”-

ان کو اپنی آواز جیسے ایک یاد کا پتھر گرنے سے پانیوں کے چھوٹے بڑے دائروں میں گردش کرتی ہوئی محسوس ہوئی-

“نہیں۔۔۔۔۔۔۔!! وقت اپنے احساسات کے ساتھ وہیں کھڑا ہے تو جوان اور بوڑھے کا فرق کیا معنی رکھتا ہے- کیا یاد بھی کبھی بوسیدہ ہوئی ہے؟”

شمسہ نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا- ان کے دل میں سکون اترنے لگا- انہوں نے غور سے اسے دیکھا- وہ بھی انہیں کبھی بوڑھی نہیں لگی تھی-

“میں آپ کے لیے کچھ کھانے کو لاتی ہوں”-

شمسہ تصویر ان کے ہاتھوں میں تھما کر خود بچوں کے پاس باورچی خانے میں آ گئی-

انہوں نے دھڑکتے دل اور کانپتے ہاتھوں سے تصویر پر لپٹا کاغذ اتار کر ایک طرف رکھا- فریم کے شیشے پر ان کا موجودہ عکس دھندلا اور گزری جوانی کا عکس نمایاں تھا- زندگی کے اسرار کھوجتی آنکھیں اور گھنی مونچھوں کے نیچے مسکراتے لب- انہوں نے اپنی انگلیوں کی پوروں سے تصویر میں اپنے چہرے کو چُھوا- انجلینا کمال کی مصورہ تھی- ہر نقش اور تاثر مشاقی سے ابھارا تھا- ماتھے پر بنی دو شکنیں دیکھ کر ان کی پلکیں لرزنے لگیں- شمسہ نے عمر بھر شکایت کی تھی کہ خوشی کے موقع پر بھی یہ شکنیں کبھی نہ گئیں- انہوں نے تصویر اپنے ہاتھوں کی رحل پر اٹھائی اور اپنے ماتھے کی شکنوں پر پھونک مار دی-

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

March 2021
M T W T F S S
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: