شاپنگ مال ۔۔۔ ممتاز حسین
شاپنگ مال ممتاز حسین “Chill goes away” پہلی دفعہ کا ذکر ہے، جب انگریز نے
شاپنگ مال ممتاز حسین “Chill goes away” پہلی دفعہ کا ذکر ہے، جب انگریز نے
جہنم زادہ روبینہ یوسف وہ دیر تک ہنستا رہا یہاں تک کہ اس کے آنسو
الوداع ماں البرٹ کامیو ماں کا آج انتقال ہوگیا یا شاید کل ہواہو،کہہ نہیں سکتا۔اولڈایج
بے چہرگی نگار عظیم حسب معمول ٹیرس گارڈن پر بانس کی بنی جھونپڑی کے ایک
آنکھوں کے دیدبان زاہدہ حنا رات کی آنکھیں نمناک ہیں اور ان آنکھوں کی نمی
مچھلی جو بولتی تھی مصباح نوید وہ چھوٹی سی مچھلی تھی۔ ایک خوش نما ایکیوریم
درخت مستنصر حسین تارڑ کلہاڑے کا لشکتا پھل درخت کی چھال کو چیرتا ہوا سفید
بیعت آغا سہیل یہاں تک پہنچنے کے بعد اب میرے اندر کھلبلی مچی کہ اندر
زنگاری نگہت سلیم وہاں کے رہنے والوں نے ایسی باتیں صرف قصّوں میں سنی
لمبی عمر کہانی کار:منگلا رام چندرن ہندی سے ترجمہ:وقاراحمد ڈاکٹر ماتھر کی نظریں اپنے کلینک