ایک لمحہ کافی ہے ۔۔۔ حسین عابد
ایک لمحہ کافی ہے ( حسین عابد ) کسی اجنبی، نیم وا دریچے سے کھنکتی
ایک لمحہ کافی ہے ( حسین عابد ) کسی اجنبی، نیم وا دریچے سے کھنکتی
غزل ( ذوالفقار تابش ) اس کے باغ بدن کو دیکھتے ہیں اک چمن در
غزل ( ایوب خاور ) کن ہواوں میں رہے کون نگر ٹھہرے ہیں قافلے کیا
پیلے موسم ( صفیہ حیات ) وہ رستہ آج بھی وہیں جاتا ھے۔ اس راہ
ہمارا جرم ناقابلِ تلافی ہے ( سبین علی ) ہمارا جرم ناقابلِ تلافی ہے ہم
غزل ( صغیر ملال ) برائے نام سہی سایئباں ضروری ہے زمین کے لیے اک
پھولوں کے لیے نظم ( ذیشان ساحل ) پھول کھلے ہوئے ہیں ریلوے لائن کے
ہواواں دے خط ( عرفان اسلم ) راتیں ہوا تے خط لکھے سن ہوکے، ہاواں،
میں دیکھ رہا ہوں ( زاہد مسعود ) میں دیکھ رہا ہوں کہ لوگ اگر
سورج رستہ بھول گیا تھا ( نذر حسین ناز ) سورج رستہ بھول گیا تھا