کسبی ۔۔۔ ایوب خاور
کسبی ( ایوب خاور ) یہ کمرے کا اندھیرا اور گہرا کیوں نہیں ہوتا! درودیوارسے
کسبی ( ایوب خاور ) یہ کمرے کا اندھیرا اور گہرا کیوں نہیں ہوتا! درودیوارسے
غزل ( اختر کاظمی ) میں کرب کی آندھیوں کی زد میں ھوں لمحہ لمحہ
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے (فیض احمد فیض) ہم بیگناہ ہیں امریکا کا
نظم ( افتخار بخاری ) مشقتوں کے رائگاں پہاڑ کھینچتی یہ دھول دھول دوپہر ذرا
غزل ( شائستہ سحر ) سکوتِ دل پہ تجھے آشکار کر کے بھی سلگ رہی
غزل ( شکیب جلالی ) موج غم اس لیے شاید نہیں گزری سر سے میں
سوگندھی ( سارا شگفتہ ) میرے جسم میں تنا ہوا تمہارا جسم بھی نہیں
شادی شدہ نیند میں نقب ( صفیہ حیات ) دروازے کی نہیں دل کی گھنٹی
غزل ( فرح خان ) رات دن. ایک اذیت سے ہمیں باندھ دیا زندگی ،تُو
گناہ (نادیہ عنبر لودھی ) زانیوں کے پاس نئی نئی دلیلیں ہیں نئے نئے