الاو ۔۔۔ نجم الحسنین حیدر
اَلاوء (نجم الحسنین حیدر) کنول کے پھولوں، بنفشی خوابوں کو روز دفتر کی بوڑھی میزوں
اَلاوء (نجم الحسنین حیدر) کنول کے پھولوں، بنفشی خوابوں کو روز دفتر کی بوڑھی میزوں
کالے رنگ کی اجارہ دری (صفیہ حیات) سفید رنگ اتار کر دھوپ میں ڈال دیا
غزل (غلام حسین ساجد) چراغ کی اوٹ میں رکا ہے جو اک ہیولا سا یاسمیں کا
محبت (اختر کاظمی) جو کہتے ہیں محبت مر نہیں سکتی غلط فہمی میں رہتے ہیں
اپنے حصے کا یوسف (سعدیہ بلوچ) خزاں کنویں کی تہہ میں اگ آئی ہے بہاروں
نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر ک
آگے بڑھو۔۔۔ (ارون دھتی رائے) چائے کے باغات میں جنم لینے والی وہ سانولی سلونی
کرماں ماریہنے ہنے میں فیر اوس محفل توں نس آئی آں جتھے رفو،زاہدہ ،عرشی، ٹیبی
کیا کبھی دیکھا ھے افتخار بخاری کیا کبھی دیکھا ھے مقدس دوپہروں میں بوڑھی
شیزو فرینیا (ثروت زہرا) میں کوہ قاف ازل پہ بیٹھی شعور سیڑھی کو کھینچتی ہوں