سپاہی کا بیٹا ۔۔۔ چنگیز آتما توف

سپاہی کا بیٹا
تحریر: چنگیز آتماتوف (کرغزستان)
مترجم: محمود احمد قاضی (لاہور، پاکستان)

وہ یہی کوئی پانچ سال کا ہوگا جب اس نے اپنے باپ کو دیکھا اور وہ بھی فلم میں۔ یہ اس بڑے سے سفید بھیڑوں کے باڑے کی بات ہے جہاں بھیڑوں کے گلے سالانہ اون اتروائی کے لیے لائے جاتے ہیں۔ یہ سلیٹ کی چھت والا بھیڑوں کا باڑہ آج بھی اسی طرح ریاستی فارم کی رہائشی سکیم سے تھوڑا باہر سڑک کے قریب پہاڑی کے دامن میں موجود ہے۔
وہ اپنی ماں جین گل کے ساتھ یہاں آیا تھا، جو ریاستی فارم پوسٹ آفس میں ٹیلی فون آپریٹر تھی۔ ہر سال گرمیوں میں جب اون کترنے کا زمانہ ہوتا تو جین گل ایک عارضی ملازمہ کی حیثیت سے اس باڑے میں آجاتی۔ بوائی اور میمنوں کی پیدائش کے دنوں سوئچ بورڈ پر اوور ٹائم لگا کر جو فالتو چھٹیاں اس نے حاصل کی ہوتی تھیں۔ وہ انھیں یہاں استعمال میں لاتی تھی۔ یہ ایک جز وقتی کام تھا اور اس کا معاوضہ بھی معقول تھا۔ سپاہی کی بیوہ، جیل گل کے لیے یہ فاضل آمدنی یقیناً بہت کارآمد تھی۔ اس کا کنبہ کوئی زیادہ بڑا نہیں تھا۔ بس وہ تھی اور اس کا بیٹا۔۔۔۔ لیکن بہرحال کنبہ خواہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، اسے سردیوں میں ایندھن کی قیمتیں چڑھنے سے پہلے آٹے کی ایک معقول مقدار کی ضرورت تو رہتی ہے ا ور پھر کپڑوں اور جوتوں کا مسئلہ بھی درپیش ہوتا ہے اور اسی طرح کی دوسری بے شمار ضرورتوں کا سامنا اسے ہوتا ہے۔
چوں کہ گھر پر اس کے بیٹے کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی اور نہیں تھا اس لیے وہ ہر صبح باڑے میں اس کو اپنے ساتھ لے آتی تھی۔ جہاں وہ سارا دن میلا کچیلا ہوتے ہوئے بھی اون کترنے والوں، گلہ بانوں اور موٹے بھاری بالوں والے رکھوالی کے کتوں کے درمیان ہنستا کھیلتا اور کودتا پھرتا تھا۔
اس دن یہ وہی تھا جس نے سب سے پہلے فلم کے ٹرک کو باڑے کے اندر داخل ہوتے دیکھا تھا اور سب سے پہلے اس نے یہ خوشخبری سنائی تھی۔
“آہا۔۔ سینما آیا سیمنا ۔۔۔۔ سینما آیا سینما!”
اس نے نہایت بے تابی سے شام ہونے کا انتظار کیا اور جب اندھیرا پھیل گیا ۔۔۔ تو فلم کا آغاز ہوا بہرحال اسے اس کے صبر کا میٹھا پھل مل گیا تھا۔ یہ فلم جنگ کے بارے میں تھی۔ باڑے کے آخر میں دو بلیوں کے سہارے پھیلی ہوئی سفید سکرین جنگ کا میدان بن گئی۔ گولیاں چلنے لگیں۔ توپیں دغنے لگیں اور تاریکی کی سینہ چیر کر پھٹنے والے ان کے گولے اور راکٹوں کے شعلے سپاہیوں کو زمین سے چپکے رہنے پر مجبور کررہے تھے جوں ہی یہ شعلے بجھتے سپاہی ایک بار پھر آگے کی طرف بڑھتے گئے اور رات کے اندھیرے میں مشین گنیں یوں تڑ تڑ چل رہی تھیں کہ لڑکے کے لیے سانس لینا دو بھر ہوگیا۔ ہاں جنگ ایسی ہی ہوتی ہے۔
وہ اور اس کی ماں اون کی گانٹھوں پر، جو باڑے کے پچھلے حصے میں پڑی تھیں چڑھ کر بیٹھے، یہاں سے سکرین بہتر طور پر دکھائی دیتی تھی۔ البتہ لڑکا وہاں فرش پر سکرین کے قریب اپنے ہمجولیوں کےپاس بیٹھنا چاہتا تھا مگر ماں نے اسے وہاں نہیں بیٹھنے دیا۔
“تم سارا دن کافی اُچھل کود کرتے رہتے ہو۔” وہ بولی۔ “صبح سے لے کر رات تک تمھارا یہی کام ہے ۔ بس اب یہیں بیٹھو تم میرے قریب۔” یہ کہتے ہوئے ماں نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔
پروجیکٹر چلتا رہا اور جنگ جاری رہی۔ باڑے میں موجود لوگ بڑی گھمیرتا کے ساتھ بیٹھے فلم دیکھ رہے تھے۔ فلم دیکھنے کے دوران میں جین گل بعض اوقات گہرے گہرے سانس لینے لگتی اور جب کوئی ٹینک سیدھا اپنی طرف ہی بڑھتا ہوا محسوس کرتی تو گھبراہٹ میں اپنے بیٹے کو اپنے ساتھ چمٹا لیتی۔ ان کے قریب بیٹھی ایک عورت منہ سے عجیب طرح کی آوازیں نکالتے ہوئے بڑ بڑا رہی تھی۔
“ہائے میرے اللہ۔۔۔۔ یہ سب کتنا خوف ناک ہے۔”
لیکن لڑکا کچھ زیادہ خوف زدہ محسوس نہیں ہورہا تھا۔ بل کہ اس کے برعکس جب کوئی نازی سپاہی نیچے گرتا تو وہ ایک طرح کی خوشی محسوس کرتا۔ جب وہ اپنے سپاہیوں کو گرتا ہوا دیکھتا تو اسے لگتا کہ وہ ابھی اٹھ کھڑے ہوں گے۔
جنگ میں لوگ اپنے مضحکہ خیز انداز میں گر رہے تھے جیسے لڑکے بالے جنگ کا کھیل کھیلتے ہوئے گرتے ہیں۔ دوڑتے ہوئے وہ بھی اسی انداز میں گرسکتا تھا جیسے کسی نے اسے اڑا نگا لگایا ہو۔ یوں تھوڑی سی چوٹ تو لگتی ہے مگر بھلا اتنی چوٹ سے کیا ہوتا ہے۔ ایک لمحے بعد ہی انسان سنبھل کر پھر حملے کی پوزیشن میں آجاتا ہے اور یوں وہ معمولی سی چوٹ بے معنی ہوجاتی ہے۔ لیکن فلم میں لوگ گر کر دوبارہ اٹھ کھڑے نہیں ہوتے تھے بل کہ جہاں گرتے وہیں پڑے رہتے تھے چھوٹے چھوٹے سیاہ ڈھیروں کے مانند۔ اسے گرنے کا ایک اور انداز بھی معلوم تھا یعنی جس طرح کوئی پیٹ میں گولی لگنے سے گرتا ہے۔ ایسے میں لوگ فوراً ہی نہیں گر پڑتے، پہلے وہ اپنا پیٹ پکڑ کر دہرے ہوجاتے پھر آہستہ سے اپنے اسلحے سمیت زمین پر ڈھیر ہوجاتے ہیں۔ کھیل کے دوران میں تو گرنے کے بعد فوراً اٹھ کھڑے ہونے کے بعد اعلان کیا جاسکتا ہے کہ میں مرا نہیں ہوں لیکن یہاں فلم میں لوگ دوبارہ اٹھ ہی نہیں رہے تھے۔
جنگ جاری رہی۔ پروجیکٹر سے گھر ر گھرر کی آواز آتی رہی۔ اب تو توپ خانہ میدان میں آگیا تھا۔ خوف ناک آگ، دھوئیں اور پھٹتے ہوئے گولوں کے درمیان تو پچی ایک ٹینک شکن توپ وہاں لارہے تھے۔ گھاٹی کی ڈھلان پر وہ اسے دھکیلتے ہوئے پہاڑی کی چڑھائی کی طرف جانا چاہتے تھے۔ ایک لمبی چوڑی ڈھلان جو آسمان کو چھوتی ہوئی محسوس ہوتی تھی اور اس لمبی چوڑی ڈھلان پر گولوں سے چھلنی زمین کی مٹی کے سیاہ مرغولوں میں گھرے کچھ توپچی آگے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ان کی بربادی اور حرکات و سکنات میں کوئی ایسی چیز ضرور تھی کہ دیکھنے والوں کے دل ان کے سینوں میں کسی متوقع خوف اور عظمت کے حوالے سے غم اور فخر کے ساتھ دھڑ دھڑ کررہے تھے۔ وہ تعداد میں چھ یا سات تھے ان کے لباس جل رہے تھے۔ ان میں سے ایک توپچی تو یقیناً روسی نہیں تھا۔ وہ قازق تھا یا شاید بریات۔ لڑکے کو تو شاید اس بات کا پتہ نہ چلتا لیکن اس کی ماں نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
“بیٹے دیکھو ۔۔۔۔۔۔ یہ تمھارا باپ ہے۔”
سکرین پر موجود وہ آدمی ایک دم سے اس لڑکے کا باپ بن گیا۔ ساری فلم اسی آدمی کی کہانی بن گئی۔ لڑکے کے باپ کی کہانی۔ ابھی ابھی دریافت شدہ ریاستی فارم کے لوگوں میں سب سے کم عمر نوجوان کی طرح کا ایک نوجوان شخص تھا۔ اس کا قد زیادہ لمبا نہیں تھا۔ وہ گول چہرے اور تیز آنکھوں والا تھا۔ کیچڑ اور دھوئیں میں لت پت چہرے پر موجود اس کی آنکھوں کا زور لگاتے ہوئے اس نے مڑ کر نیچے ڈھلان میں موجود کسی سے چلا کر کہا: “جلدی سے گولے لاؤ۔”
لیکن اس کی آواز نئے پھٹنے والے گولوں کی بوچھاڑ میں دب کر رہ گئی۔
“کیا یہی میرا باپ ہے؟” آول بیک نے پوچھا۔
“کون؟ ” اس کی ماں نے بے دھیائی سے کہا: “آرام سے بیٹھو اور دیکھو۔”
“ابھی تم ہی نے ہی تو کہا تھا کہ وہ میرا باپ ہے۔”
“ہاں ۔۔۔۔ وہی تمھارا باپ ہے۔ لیکن چپکے بیٹھے رہو ورنہ تمھاری وجہ سے دوسرے لوگ پریشان ہوں گے۔”
جین گل نے ایسا کیوں کہا تھا ۔۔۔۔ ؟ کیا وجہ تھی؟ شاید یوں ہی اس کے منہ سے نکل گئی تھی یا شاید فلم نے اسے اس کا کھویا ہوا خاوند یا د دلا دیا تھا۔ بہرحال کچھ بھی ہو لڑکے کو اپنی ماں کی بات پر یقین تھا۔ اسی لیے وہ بے حد خوش تھا۔ اس اچانک اور غیر متوقع طور پر مل جانے والی خوشی سے وہ جھوم رہا تھااور اپنے جنگجو باپ پر فخر رکررہا تھا۔ یہ شخص اس کا حقیقی باپ تھا ۔ حقیقی باپ ۔۔۔۔۔۔ اس کے ہمجولی اکثر اسے اس بات پر چھڑےتے تھے کہ اس کا باپ نہیں ہے۔ انھیں اور چرواہوں کو معلوم ہوجانا چاہیئے کہ اس کا بھی ایک باپ ہے۔ چرواہے جو سال بھر پہاڑوں میں اِدھر اُدھر گھومتے پھرتے ہیں وہ سب بچوں کو پہچانتے تو نہیں ہیں ۔۔۔۔۔ وہ جب بھیڑوں کی اون کتر وانے کے لیے ہنکا کر انھیں باڑے میں لاتا تھا اور ان کے کتوں کو لڑنے بھڑنے سے روکتا تھا تو وہ اس کا شکریہ ادا کرنے کے لئے اس پر سوالات کی بوچھاڑ کردیتے۔ ریاستی فارم کے تمام چرواہوں میں ہرکوئی اس سے یہ ضرور پوچھتا۔
“ہاں تو لڑکے تمھارا نام کیا ہے؟”
“اول بیک۔”
“اور تم کس کے بیٹے ہو؟”
“تو کتو سن کا۔”
چرواہے کو فوری طور پر یاد آتا کہ یہ تو کتوسن کون ہے۔”
“تو کتوسن!” گھوڑے کی زین سے نیچے جھکتے ہوئے وہ پوچھتا: “کون تو کتوسن؟”
“میں تو کتوسن کا بیٹا ہوں ۔” وہ پھر دہراتا۔
اس کی ماں نے اسے ایسا ہی جواب دینے کی ہدایت کر رکھی تھی اس کی نابینا دادی کی ہدایت بھی یہی تھی۔ جب وہ اپنے باپ کا نام بھول جاتا تو وہ اس کے کان کھینچا کرتی تھی۔ وہ بہت غصیلی تھی۔
“اوہ ! اچھا ۔” چرواہا کہتا۔ “تو یوں کہو نا کہ تم پوسٹ آفس میں کام کرنے والی اس ٹیلی فون آپریٹر کے لڑکے ہونا؟”
“نہیں میں تو کتوسن کا بیٹا ہوں۔” آول بیک اصرار کرتا۔
بالآخر چرواہا اس کی بات سمجھ ہی جاتا۔
“ہاں بھئی واقعی تم توکتوسن کے بیٹے ہو ۔۔۔۔۔۔ شاباش۔۔۔۔۔ میں تو بس یوں ہی تمھارا امتحان لے رہا تھا۔ خفا نہ ہونا میرے بچے ۔۔۔۔ دراصل ہم سارا وہاں پہاڑوں پر رہتے ہیں۔ اور تم بچے لوگ تو ککڑیوں کی طرح پھلتے پھولتے ہو ۔۔۔۔ اب ہر بچے کو پہچاننا آسان تو نہیں ہوتا ناں۔۔”
اور پھر چرواہے آپس میں کھسر پھسر کرتے ہوئے توکتوسن کا ذکر کرنے لگتے۔۔۔۔ وہ کہتے:”وہ بھی نوجوان ہی تھا کہ جنگ پر چلا گیا اب بہت سے لوگوں کو تو وہ یاد بھی نہیں رہا۔ یہ اچھی بات ہے کہ اس کا ایک بیٹا بھی ہے۔ بہت سے نوجوان تو غیر شادی شدہ ہی چلے گئے تھے اور اب یہاں کوئی ان کا نام لیوا نہیں رہ گیا۔”
اور اب جب کہ اس کی ماں نے اس سے کہا تھا: “دیکھو بیٹے ۔۔۔۔۔ یہ تمھارا باپ ہے۔” تو اسکرین پر موجود سپاہی اس کا باپ بن گیا اور لڑکا اسے اپنا باپ ہی سمجھنے لگا اور واقعی وہ جنگ کے زمانے کی توکتوسن کی جنگی وردی والی اس تصویر سے بالکل مشابہ تھا جس کو اس کی ماں نے بڑا کروا کے شیشے کے فریم میں لگا رکھا تھا۔
اور اب آول بیک اس شخص کو ایک بیٹے جیسے احساسات سے دیکھ رہا تھا۔ اس کا سراپا ایک انجانی ہمت کی پھوار میں بھیگ گیا تھا۔ اسے ایسا لگا جیسے سکرین پر موجود شخص بھی محسوس کررہا ہے کہ اس کا بیٹا اپنے سپاہی باپ کو ہمیشہ فخر کے ساتھ یاد رکھے۔ آول بیک کے لیے جنگ اب کوئی تفریح نہیں رہ گئی تھی۔ اب وہ کبھی جنگ میں گرنے والے سپاہیوں کو دیکھ کر ہنس نہیں سکتا تھا۔ اب وہ جان گیا تھا جنگ کے ایک سنگین، خطرناک اور خوفناک چیز ہوتی ہے اور زندگی میں پہلی بار اپنے کسی پیارے کے لیے، اپنے باپ کے لیے، جس کی کمی اس نے ہمیشہ ہی محسوس کی تھی دکھ سا محسوس کیا۔ پروجیکٹر چلتا رہا۔ جنگ جاری رہی۔ اب نہایت خوف ناکی سے ٹینک زمین کو روندتے ہوئے پیش قدمی کررہے تھے۔ ان کے برج گھوم رہے تھے اور توپیں آگ اگل رہی تھیں اور توپچی اپنی قوت کے ساتھ اپنی توپ کو اوپر کی طرف دھکیل رہے تھے۔
“ابا ۔۔۔۔۔ جلدی کرو ۔۔۔۔ ٹینک ۔۔۔۔۔ ٹینک آرہے ہیں۔” آول بیک نے خبردار کرتے ہوئے کہا۔
آخرکار توپ پہاڑی کے اوپر پہنچ گئی۔ اس نے میوے کی جھاڑی کی آڑ میں ٹینکوں پر گولہ باری شروع کردی۔ ٹینکوں نے جوابی حملہ کیا۔ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ حالات اچھےنہیں تھے۔
جنگ کے شور اور شعلوں کے درمیان بیٹے نے اپنے آپ کو باپ کے قریب محسوس کیا۔ جب ایک ٹینک کو آگ لگ گئی اور وہ سیاہ دھوئیں میں چھپ گیا اور پھر ایک اور گولے نے ایک دوسرے ٹینک کے زنجیری پہیے کو توڑ دیا۔ اور جب وہ غصے میں اندھوں کی طرح ایک ہی جگہ پر گھومنے لگ گیا تو لڑکا خوشی سے اپنی ماں کی گود میں اچھلنے لگا۔ لیکن جب اپنی فوج کے سپاہی توپ کے قریب گرنے لگے تو وہ خاموش ہوکر بیتھ گیا ۔۔۔۔ اپنے بہت کم سپاہی زندہ رہ گئے تھے ماں رونے لگی ۔۔۔۔ اس کے گال گرم اور گیلے ہورہے تھے۔ پروجیکٹر چلتا رہا۔ جنگ جاری رہی۔ لڑائی اب زوروں پر تھی۔ ٹینک اب لمحہ بہ لمحہ قریب آتے جارہے تھے۔ توپ گاڑی کے قریب پہلو میں جھکتے ہوئے آول بیک کے باپ نےفیلڈ فون میں چیخ کر کچھ کہا لیکن لڑائی کی گھن گرج میں اس کے الفاظ سنائی نہ دیے۔ توپ کے قریب ایک اور سپاہی گرا۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر وہ ایسا نہ کرسکا۔ وہ زمین پر گرگیا اور زمین اس کے خون سے سیاہ ہوگئی۔ اب صرف وہ شخص رہ گئے تھے۔ ۔۔۔ آول بیک کا باپ اور ایک دوسرا۔ انھوں نے ایک گولہ چلایا پھر یکے بعد دیگرے انہوں نے دو گولے اور داغے۔ لیکن ٹینکوں کی پش قدمی جاری رہی۔ توپ کے قریب ایک بار پھر گولا پھٹا دھوئیں اور شعلے نے اس جگہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور جب دھوئیں کا بادل چھٹا تو اس وقت ایک ہی آدمی اوپر اٹھ سکا اور وہ وہی تھا آول بیک کا باپ ۔۔۔۔۔ وہ توپ کی طرف جھپٹا ۔۔۔۔ اس میں گولا بھرا۔۔۔۔ نشانہ لیا اور فائر کردیا۔ یہ اس کا آخری گولہ تھا۔ دشمن کا ایک اور گولہ پھٹا جس نے ہر چیز دھوئیں کی نذر کردیا۔ اس نے توپ کو نقصان پہنچایا اور اسے الٹ دیا لیکن توپچی ابھی زندہ تھا۔ وہ آہستہ سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔ اس کا چہرہ لہو لہان تھا۔ اس کے کپڑے پھٹ گئے اور جل رہے تھے اس کے ہاتھ میں گرنیڈ تھا اور وہ سیدھا اپنی طرف آتے ٹینکوں کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ وہ اپنے اردگرد سے بے نیاز ہوچکا تھا۔ یہ اس کی آخری کوشش تھی۔
“رکو ۔۔۔۔ تم یہاں سے آگے نہیں جاسکتے ۔” وہ چلایا اور اس نے گرنیڈ پھینکنے کے لیے اپنا ہاتھ لہرایا۔
وہ ایک لمحے کے لیے اسی طرح کھڑا رہا۔ درد اور نفرت سے اس کے چہرے کے خدوخال بگڑ گئے تھے۔
جین گل نے اپنے بیتے کا ہاتھ زور سے کھینچ لیا۔ لڑکے نے اپنا ہاتھ چھڑا کر اپنے باپ کی مدد کو اٹھنا چاہا۔ لیکن ٹینک کی مشین گن سے گولیوں کی ایک بوچھاڑ برآمد ہوئی اور توپچی نیچے گر گیا۔ وہ ایک طرف لڑھک گیا۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن وہ دوبارہ بیٹھ کر بل زمین پر گرگیا اس کے بازو پھیلے ہوئے تھے۔ پروجیکٹر کی گھر ر گھرر بند ہوگئی۔ لڑائی اچانک رک گئی تھی۔ ایک رِیل ختم ہوگئی تھی اور آپریٹر نے دوسری رِیل لگانے کے لیے روشنی کردی تھی۔
جب باڑے میں روشنی پھیل گئی تو وہاں موجود سبھی لوگوں کی آنکھیں چندھیا گئی تھی۔ وہ فلم میں پیش کی جانے والی جنگ کی فضا سے ایک بار پھر حقیقی دنیا میں لوٹ آئے تھے اور وہ لڑکا آول بیک اون کی گانٹھوں سے نیچے لڑھک آیا اور نہایت پُر جوش انداز میں چلانے لگا۔
“یہ میرا باپ تھا ۔۔۔۔۔ کیا تم نے اسے دیکھا ۔۔۔۔ ہاں وہ میرا باپ تھا جو جنگ میں مارا گیا۔”
یہ سب کچھ اتنا غیر متوقع تھا کہ پہلے پہل تو کوئی بھی نہ سمجھ سکا کہ بات کیا ہے۔ بدستور جو شیلے انداز میں چلاتے ہوئے وہ اپنے ہمجولیوں کی طرف دوڑ پڑا جن کی رائے کی اس نزدیک بہت وقعت تھی۔ سارے میں عجیب قسم کی خاموشی چھاگئی۔ وہ لوگ ابھی تک اس چھوٹے سے بچے کے اس طرح بے حواس ہونے کو محسوس نہیں کرسکے تھے جس نے اس سے پہلے اپنے باپ کو دیکھا تک نہیں تھا۔اظہار کے لیے مناسب الفاظ نہ ملنے پر سب لوگ حیرانی اور پریشانی سے اپنے کندھے اچکا رہے تھے۔ آپریٹر نے ریل کا خالی ڈبہ نیچے پھینکا۔ ڈبہ کھل گیا اور وہ الگ الگ حصوں میں فرش پر لڑھک گیا۔ کسی نے اس بات کومحسوس نہ کیا۔ حتیٰ کے آپریٹر بھی اسے اٹھانے کے لیے نہ جھکا اور وہ بچہ ابھی تک اپنے سپاہی باپ کے کارنامے کو فخریہ انداز میں پیش کیے جارہا تھا۔
“کیا تم نے اسے نہیں دیکھا ۔۔۔۔۔ وہ میرا باپ تھا۔۔۔۔ میرا باپ جسے انہوں نے مار دیا۔” وہ بار بار یہی کہتا رہا اپنے چارون اور چھائی خاموشی کو محسوس کرکے وہ اور زیادہ جوش میں آتا جا رہا تھا۔ وہ حیران ہورہا تھا کہ سارے لوگ اس کے باپ کی بہادری پر اس کی خوشی میں شریک کیوں نہیں ہورہے تھے؟
“خاموش۔” بالآخر ان میں سے ایک نے کہہ ہی دیا، “تمھیں ایسی باتیں منہ سے نہیں نکالنی چاہیئے۔”
“وہ ایسا کیوں نہ کہے ۔۔۔۔ جب کہ حقیقتاً اس کا باپ جنگ میں مارا گیا تھا۔
تب ایک بڑی عمر کے لڑکے نے آول بیک سے حقیقت بیان کرنے کی ٹھان ہی لی۔
“یہ اصل میں تمھارا باپ نہیں تھا۔” اس نے کہا۔”اور اسی لیے تمھیں اتنے جوش میں آنے کی کوئی صورت نہیں ۔۔۔۔۔ یہ تمھاراباپ تھا ہی نہیں۔ یہ تو بس ایک اداکار تھا۔ اگر تمھیں میری بات پر یقین نہیں آتا تو بے شک آپریٹر سے پوچھ لو۔”
دوسرے لوگوں میں اتنا حوصلہ نہیں تھا کہ وہ بچے کو سچ بات بتا کر اسے اس لمحاتی خوشی سے محروم کردیتے۔ آپریٹر چوں کہ یہاں کا آدمی نہیں تھا اس لیے ان کے خیال میں اسے اظہار کا موقع دینا بہتر تھا۔ لوگوں نے اُمید بھری نظروں سے آپریٹر کی طرف دیکھا لیکن وہ بھی پروجیکٹر ہی پر جھکا رہا جیسے کہ وہ بہت مصروف ہو۔
“وہ میرا باپ تھا۔” آول بیک بولا: “وہ وہی تھا۔”
“بھلا وہ ان میں سے کون تھا؟” وہی جو گرنیڈ ہاتھ میں لے کرٹینک کے قریب کھڑا تھا اور پھر گر پڑا تھا۔۔۔۔ بالکل ایسے۔”
آول بیک نے زمین پر گر کر اسی طرح لڑھک کر دکھایا جیسے کہ اس کا باپ گرا تھا۔ اس نے دوبارہ اٹھنے کی کوشش کی اور پھر گر پڑا اور پھر اپنے بازو پھیلائے ہوئے وہ پیٹھ کر بل سکرین کے سامنے چت لیٹ گیا۔
ایک بار پھر ایک تکلیف دہ خاموشی نے لوگوں کو گھیر لیا۔
“جین گل یہ کیا قصہ ہے؟” ایک بوڑھی عورت نے جھنجھلا کر پوچھا۔ تم نے اس بچے کے ذہن میں یہ کیسے خیالات سمودیے ہیں۔” غم زدہ جین گل اپنی آنسو لائے ہوئے اٹھی، وہ اپنے بیٹے کی طرف بڑھ گئی اور پھر اس نے اسے اوپر اٹھاتے ہوئے کہا۔ “آؤ بیٹا ۔۔ گھر چلیں۔” اس نے کہا۔ “وہی تیرا باپ تھا۔”
اس نے لڑکے کا ہاتھ تھاما اور اسے لے کر وہاں سے چلی گئی۔
چاند طلوع ہوچکا تھا۔ رات کے گہرے نیلے آسمان کے پس منظر میں پہاڑی کی سفید چوٹیاں چمک رہی تھیں اور نیچے استبی کا بے انت اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔
اب اس وقت زندگی میں پہلی بار لڑکے کو اپنے شدید نقصان کا احساس ہورہا تھا۔ وہ جنگ میں اس طرح اپنے باپ کے گرجا نے اور پھر مرجانے پر بہت زیادہ دکھی ہورہا تھا۔ اس کے لیےیہ بات ناقابلِ برداشت تھی وہ اپنی ماں سے لپٹ کر خود رونا اور اسے رلانا چاہتا تھا لیکن اس کی ماں رو نہیں پارہی تھی۔ بس اس نے بھی زور سے اپنی مٹھیاں بھیچ لیں اور خاموشی سے اپنے آنسوؤں کو پی لیا۔
حالانکہ اس کا باپ بہت عرصہ پہلے جنگ میں مارا جاچکا تھا مگر اس لمحے وہ پھر سے اس کے اندر آموجود ہوا تھا ۔۔۔۔ زندہ!
Written by:
Chyngyz Aitmatov (12 December 1928 – 10 June 2008) was a Soviet and Kyrgyz author who wrote in both Russian and Kyrgyz. He is one of the best known figure in Kyrgyzstan’s literature.

 

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: