بوڑھا ویٹر ۔۔۔ ارنسٹ ہیمنگوے

بوڑھا ویٹر

ارنسیٹ ہیمنگوے

رات کافی بیت چکی تھی اور سب لوگ کیفے سے چلے گئے تھے مگر وہ بوڑھا بجلی کے کھمبے کے ساتھ کھڑے درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا۔دن میں وہ جگہ گردغبار سے اٹی رہتی تھی،مگر رات میں اوس گرنے کے سبب گروغبار بیٹھ جاتا تھا۔بوڑھے کو یہاں بیٹھنا پسند تھا،کیوں کہ وہ بہرہ تھا اور رات کے پرسکون سناٹے میں اسے یہاں کا ماحول اچھا لگتا تھا۔کیفے میں بیٹھے دونوں ویٹر جانتے تھے کہ بوڑھا ہلکے نشے میں ہے۔پھر بھی انھیں معلوم تھا کہ بوڑھا ایک اچھا گاہک ہے،مگر انھیں یہ بھی معلوم تھا کہ اگر اسے نشہ چڑھ گیاتو وہ پیسے ادا کیے بنا ہی چلاجائے گا۔اس لیے وہ اس پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
’’پچھلے ہفتے اس نے خودکشی کی کوشش کی تھی۔‘‘ایک ویٹرنے کہا۔
’’کیوں؟‘‘
’’وہ بے حد دکھی تھا۔‘‘
’’اس کے پاس بہت دولت ہے۔‘‘
وہ دونوں کیفے کے پاس والی دیوار سے لگی میز پر بیٹھے تھے اور چھجے کی طرف دیکھ رہے تھے، جہاں ایک کے علاوہ ساری میزیں خالی تھیں۔ہوا سے ہلتی ہوئی پتیوں کی چھائوں میں وہ بوڑھا اب بھی وہاں بیٹھا ہوا تھا۔باہر گلی میں ایک سپاہی ایک لڑکی کے ساتھ جارہا تھا۔
’’اسے گارڈ پکڑلیں گے۔‘‘ایک ویٹر نے کہا۔
’’جو یہ چاہتا ہے،وہ مل جانے پر بھی اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘
’’اسے گلی میں سے چلے جانا چاہیے۔نہیں تو اسے گارڈ پکڑلیں گے۔ابھی پانچ منٹ قبل ہی وہ یہاں سے گئے ہیں۔‘‘پیڑکے نیچے بیٹھے بوڑھے نے اپنے گلاس سے پلیٹ کو بجاکر آواز کی۔ نوجوان ویٹر اس کے پاس گیا،’’کیا چاہیے؟‘‘
بوڑھے نے اس کی جانب دیکھا۔
’’ایک اور برانڈی!‘‘اس نے کہا۔
’’تم پر نشہ طاری ہوجائے گا۔‘‘ویٹر نے کہا۔
بوڑھے نے جواب نہیں دیااور اس کی جانب دیکھا۔
’’وہ آج ساری رات یہیں رہے گا۔‘‘اس نے اپنے ساتھی سے کہا۔
’’لیکن مجھے نیند آرہی ہے۔مجھے کبھی تین بجے سے قبل سونا نصیب نہیں ہوتا۔اسے پچھلے ہفتے خودکشی کرلینی چاہیے تھی۔‘‘ویٹر نے کائونٹر سے برانڈی کی بوتل اور ایک پلیٹ اٹھائی اور اس بوڑھے کی طرف چل دیا۔پلیٹ نیچے رکھ کر اس نے گلاس کو برانڈی سے بھردیا۔
’’تمہیں پچھلے ہفتے خودکشی کرلینی چاہیے تھی۔‘‘
بوڑھے نے اپنی انگلی ہلائی اور کہا،’’تھوڑی سی اور !‘‘ویٹر نے تھوڑی سی برانڈی انڈیلی۔ وہ بہہ کر نیچے والی پلیٹ میں گرنے لگی۔ویٹراپنے ساتھی کے ساتھ میز پر آبیٹھا۔
’’اب وہ نشے میں ہے۔‘‘اس نے کہا۔
’’یہ تو ہر رات نشے میں ہوتا ہے۔‘‘
’’خودکشی کیوں کرنا چاہتا ہے؟‘‘
’’مجھے کیا معلوم؟‘‘
’’کیسی کوشش کی تھی اس نے؟‘‘
’’خود کو رسی سے لٹکالیاتھا۔‘‘
’’اس کی رسی کس نے کاٹی؟‘‘
’’اس کی بھانجی نے۔‘‘
’’مگر اس نے ایساکیوں کیا؟‘‘
’’شاید اپنی خود کشی کے ڈر سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’اس کے پاس کتنا پیسہ ہے؟‘‘
’’کافی ہے۔‘‘
’’وہ اسی سال کا تو ضرور ہوگا؟‘‘
’’میں چاہتاہوںکہ اب وہ گھر چلا جائے۔میں کبھی تین بجے سے قبل نہیں سوتا۔یہ بھی سونے کا وقت ہے۔‘‘
’’وہ بیٹھا رہتا ہے۔اسے یہ جگہ پسند ہے۔‘‘
’’وہ اکیلا ہے ۔مگر میں تو اکیلا نہیں ہوں۔میری بیوی انتظار کررہی ہے۔‘‘
’’اس کی بھی بیوی ہے؟‘‘
’’ہاں،مگراس کی بھانجی ہی اس کی دیکھ بھال کرتی ہے۔‘‘
’’میں جانتا ہوں تم نے کہاتھا،اسی نے رسی کاٹی تھی۔میں کبھی اتنا بوڑھا نہیں ہونا چاہوں گا۔ بڑھاپا منحوس ہوتاہے۔‘‘
’’میں اسے نہیں دیکھنا چاہتا۔وہ گھر چلا جائے تو اچھا۔‘‘بوڑھے نے گلاس سے سر اٹھاکر پہلے باہر دیکھا،پھر ویٹروں کی طرف۔’’ایک اور برانڈی!‘‘اس نے گلاس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔جس ویٹر کو جلدی تھی،وہ اس کے پاس آیا۔
’’ختم!‘‘اس نے مدہوشی کے عالم میں کہا۔
’’آج رات اور نہیں!اب بند۔‘‘
’’ایک اور!‘‘بوڑھے نے کہا۔
’’نہیں،ختم!‘‘ویٹر نے میز کاکونا صاف کرتے ہوئے کہا۔
دھیرے دھیرے پلیٹیں گنتے ہوئے بوڑھا اٹھ کھڑاہوا۔پھر اس نے پرس نکالا اورپیسے دے دیئے۔آدھا پیسہ ٹِپ چھوڑدی۔دیٹر نے اسے جاتے ہوئے دیکھا۔بوڑھے کی چال غیر متوازن مگر رعب دار تھی۔
’’تم نے اسے بیٹھنے اور پینے کیوں نہیں دیا؟‘‘نوجوان ویٹر نے پوچھا،’’اسے جلدی نہیں تھی۔ابھی تو ڈھائی بھی نہیں بجے ہیں۔‘‘
’’میں سونے کے لے گھر جاتا ہوں۔‘‘
’’ایک گھنٹے سے کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘
’’میرے لیے کافی فرق پڑتا ہے۔‘‘
’’مگر ایک گھنٹہ تو ایک گھنٹہ ہے۔‘‘
’’تم بذاتِ خود ایک بوڑھے کی طرح بات کررہے ہو۔وہ بوتل خرید کر گھر میں پی سکتا ہے۔‘‘
’’گھر میں پینے سے وہ مزہ نہیں آتا۔‘‘
’’ہاں،وہ مزہ نہیں آتا۔‘‘شادی شدہ ویٹر نے کہا۔
’’اور تم ؟تمہیں جلدی گھر جانے سے ڈر تو نہیں لگتا؟‘‘
’’تم میری بے عزتی کرنا چاہتے ہو؟‘‘
’’نہیں،میں تو مذاق کررہا تھا۔‘‘
’’نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘شٹر گراتے ہوئے اس ویٹر نے کہا،جسے جلدی تھی،پھر وہ اس سے بولا۔’’مجھے اپنے آپ پر بھروسہ ہے۔‘‘
’’تمہارے پاس سب کچھ ہے۔‘‘
’’تمہارے پاس کیا کمی ہے؟‘‘
’’نوکری کے علاوہ سبھی چیزوں کی۔‘‘
’’تمہارے پاس وہ سب کچھ ہے جو میرے پاس ہے۔‘‘
’’نہیں،اعتماد تو مجھ میں کبھی رہا نہیں اور اب تو میںجوان بھی نہیں ہوں۔‘‘
’’چھوڑو یہ بکواس۔لاک کرو۔‘‘
’’میں ان لوگوں میں سے ہوں،جو رات دیر تک کیفے میں رہنا چاہتے ہیں،ان سب لوگوں کے ساتھ،جنھیں رات میں روشنی درکار ہوتی ہے۔‘‘
’’میں توگھر جاکر سونا چاہتاہوں۔‘‘
’’ہر رات کو میں کیفے بند کرتے وقت ہچکچاتا ہوں،کیوں کہ شاید کوئی ایسا آدمی ہو، جسے اس کیفے کی ضرورت ہو۔‘‘
’’بہت سی شراب کی دکانیں رات بھر کھلی رہتی ہیں۔‘‘
’’تم نہیں سمجھتے ،یہ ایک صاف ستھرا کیفے ہے۔یہاں روشنی بھی مناسب ہے۔ساتھ ہی درختوں کے سایے بھی ہیں۔‘‘
وہ بتیاں بجھاتا رہااور خود سے ہی بات چیت کرتا رہا۔’’روشنی ضروری ہے۔مگر ساتھ ہی جگہ بھی صاف ستھری اور اچھی ہونا چاہیے۔موسیقی بے شک نہ ہو۔موسیقی کی ضرورت تو بالکل نہیں ہے اور بار کے سامنے تو کوئی بھی عزت کے ساتھ کھڑا نہیں ہوسکتا۔حالانکہ رات کے ان اوقات میں یہاں بارکھلے ہوتے ہیں۔اسے ڈر کس بات کا تھا؟ یہ ڈرتو نہیں تھا۔یہ تو ایک خالی پن کاا حساس تھا، جسے وہ اچھی طرح محسوس کرسکتا تھا۔ضرورت صرف روشنی او رتھوڑی سی صفائی کی تھی۔ کچھ لوگ تو محسوس کیے بنا ہی خالی پن کے ساتھ زندگی جیتے ہیں،مگر اسے احساس تھا کہ یہ صرف خالی پن کی بنا پر ہے۔
ہمیں ہمارا خالی پن،ہر روز کا خالی پن دے دو! کیوں کہ ہم اپنے خالی پن کو محسوس کرتے ہیں۔مگر ہمیں اس خالی پن سے نجات دلادو ۔اے خالی پن،تمہارا خیر مقدم ہے،کیوں کہ تمہارے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘
ایک اُجلے سے کافی بار کے سامنے وہ کھڑا ہوگیا۔’’کیا چاہیے؟‘‘بار والے نے پوچھا۔
’’خالی پن!‘‘
’’ایک چھوٹا کپ،‘‘بار والے نے کہا۔
’’ایک چھوٹا کپ۔‘‘ویٹر نے کہا۔
’’روشنی تو چمکدار اور اچھی ہے،مگر بار صاف ستھرا نہیں ہے۔‘‘ویٹر نے کہا۔
’’تمہیں ایک اور کوپیرا چاہیے؟‘‘
’’نہیں،تھینک یو!‘‘ویٹر نے کہااور باہر چلاگیا۔اسے بار اور شراب خانوں سے نفرت تھی مگر ایک صاف ستھرے اور روشنی سے بھرپور کیفے کی بات ہی کچھ اور ہے۔اب وہ مزید کچھ سوچے بغیر اپنے گھر،اپنے روم میںچلا جائے گا۔اپنے بستر میں لیٹا رہے گا اور طلوع آفتاب کے ساتھ ہی سوجائے گا۔یہ شاید نیند نہ آنے والی بیماری ہے۔بہت سے لوگ اس کا شکار ہوں گے،اس نے سوچا۔
٭٭٭

اس کہانی کو معروف مترجم قاسم ندیم نے ’اردو چینل‘ کے لیے انگریزی سے ترجمہ کیا ہے۔

ارنیسٹ ہیمنگوے ۱۸۹۹ء میں امریکہ میں پیدا ہوئے اور ۱۹۶۱ء میں انتقال فرمایا۔انہیں ۱۹۵۴ء میں ’’دَ اولڈ مین اینڈ دَ سی‘‘ناول کے لیے نوبل انعام پیش کیا گیا۔انہوں نے عالمی ادب کو بے شمار بہترین کہانیاں اور ناول دیئے ہیں۔اپنی تخلیقات میں ہیمنگوے نے اپنی زندگی کے تجربات کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔کچھ عرصے تک نامہ نگاری کے علاوہ ماہی گیری بھی کی اور ان سے حاصل کردہ تجربات کو انہوں نے نوبل انعام یافتہ ناول میں پھولوں کی طرح پرودیاہے۔ان کی تصانیف میں اِن آدر ٹائم،دَ سن آلسو رائزیز،مین ودائوٹ ویمن،اے فیئرویل ٹو آرمس،ڈیتھ اِن دَ آفٹرنون،وِنر ٹیک نتھنگ،گرین ہِلس آف افریقہ وغیرہ شامل ہیں۔

Similar Posts:

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

October 2021
M T W T F S S
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
Show Buttons
Hide Buttons