دلدل۔۔۔ رینو سوکے/محمد سلیم الرحمن

دلدل

تحریر: اکوتا گاوا ریونوسوکے (جاپان))

مترجم : محمد سلیم الرحمٰن (لاہور))

ایک بارانی سہ پہر کا ذکر ہے۔ جس جگہ تصویروں کی نمائش ہورہی تھی وہاں میں نے ایک کمرے میں ایک روغنی تصویر دریافت کی۔ میرا یہ “دریافت کی” کہنا شاید مبالغہ معلوم ہو لیکن واقعہ دراصل یہی تھا۔ جس تصویر کا میں ذکر کررہا ہوں وہ ایک کونے میں، جہاں روشنی کا انتظام غیر معمولی طور پر ناقص تھا، کس مپرسی کے عالم میں ٹنگی ہوئی تھی، اور اس پر مستزاد یہ کہ اس کا چوکھٹا بڑا پھٹیچر تھا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اس کا عنوان “دلدل” تھا اور اسے کسی ایسے مصور نے بنایا تھا جس کی مطلق کوئی حیثیت نہ تھی۔ یہ ممکن ہی نہ تھا کہ وہ تصویر، جس میں گدلے پانی اور گنجان ہریالی میں الجھی ہوئی میلی زمین کے سوا کچھ نہ دکھایا گیا تھا، ناظرین کے عام مجمعے کو اپنی طرف اچٹتی ہوئی نظر ڈالنے پر بھی مجبور کرسکتی۔

تاہم یہ بات خاصی عجیب تھی کہ اس مصور نے، اس قدر گنجان ہریالی کا منظر دکھانے میں، سبز رنگ کی رمق تک نہ برتی تھی۔ نرسل، انجیر اور حور کے درخت۔ ۔۔ ہر شے کو کیچٹر جیسے زرد رنگ میں، سیلے ہوے پلاستر سے مشابہ زرد رنگ میں جو طبیعت پر گراں گزرتا گیا تھا، بنایا گیا تھا۔ کیا مصور کو ہریالی کا رنگ ایسا ہی نظر آتا تھا ؟ْ یا اس نے ہریالی کی تصویر بناتے بناتے وقت کسی وجہ سے غلو کے اس انداز کو ترجیح دی تھی؟ میں، جو اس تصویرکے سامنے کھڑا اس کا نرالا افسوں محسوس کررہا تھا، حیران ہونے کے سوا کیا کرسکتا تھا۔

لیکن تصویر کو دیکھتے رہنے سے یہ بات بتدریج واضح ہوتی گئی کہ اس میں ایک مہیب طاقت گھات لگائے بیٹھی ہے۔ پس منظر بالخصوص بڑے جاندار انداز میں کھینچا گیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ اتنا جاندار تھا کہ اس پر پاؤں دھرنے کی کیفیت کو تقریباً محسوس کیا جاسکتا تھا: پھسلواں کیچڑ جس پر قدم رکھتے ہی پاؤں ٹخنے تک اندر دھنس جاتا ہے۔ اس چھوٹی سی روغنی تصویر میں مجھے ایک ایسے فن کار کی قابلِ رحم بناوٹی ادا نظر آئی جو فطرت کو اپنی گرفت میں لانے پر تلا ہوا تھا؛ اور اس کی زرد دلدلی ہریالی سے مجھے بہت ارفع وجدان کی کیفیت بہم پہنچی، جیسی آرٹ کے تمام شاندار کارناموں سے بہم پہنچا کرتی ہے۔ وہاں ہر وضع قطع کی تصویریں نمائش کے موجود تھیں مگر میں نے اور کسی کو اس قدر زور دار نہ پایا ۔

“یہ کہتے ہی بنے گی کہ آپ بہت متاثر معلوم ہوتے ہیں۔”

اس فقرے پر حیران ہوکر، جسے میرے کندھے کو تھپک کر ادا کیا گیا تھا، میں نے کچھ گڑبڑاتے ہوے، جلدی سے مڑ کر دیکھا۔

“بھئی، کیا خیال ہے آپ کا اس کے بارے میں؟”

سوال کرنے والے نے، اپنی تازہ تازہ منڈی ہوئی ٹھوڑی سے، بے اعتنائی کے ساتھ دلدلی تصویر کی طرف اشارہ کیا۔ وہ آرٹ کا نامہ نگار تھا اور خود کو ماہرِفن سمجھتا تھا۔ ہٹا کٹا آدمی تھا اور فیشن ایبل کتھئی سوٹ ڈاٹے ہوے تھا۔ ان ناگوار تاثرات کو یاد کرتے ہوے جو ایک یا دوبار مجھے اس آدمی کی طرف سے ملے تھے، میں نے خاصی ہچکچاہٹ کے ساتھ جواب دیا:

“یہ ایک شاہکار ہے۔”

“شاہکار ہے! یہ تو دلچسپ بات ہے۔”

ہنسی کے مارے اس کے پیٹ میں بل پڑے جارہے تھے۔ وہ تماشائی جو پاس کھڑے تصویریں ملاحظہ کررہے تھے، بظاہر اس شور کی وجہ متعجب ہوکر جو وہ مچا رہا تھا، یکایک ہمارے طرف دیکھنے لگے۔ میں اور زیادہ چڑگیا۔

“یہ دلچسپ بات ہے۔ اجازت دیجیے کہ میں یہ جتادوں کہ یہ تصویر کلب کے کسی باقاعدہ رکن کی بنائی ہوئی نہیں ہے، لیکن چونکہ یہ شخص اس تصویر کو یہاں پیش کرنے پر اصرار کرتا رہتا تھا اس لیے اس کے پسماندگان نے کسی نہ کسی طرح ججوں کو اس پر راضی کرلیا کہ تصویر اس کونے میں ٹانگ دی جائے۔”

“پسماندگان نے؟ تو پھر، یہ مصور مرچکا ہے؟”

“ہاں، مرچکا۔ وہ تو زندہ ہوتے ہوے بھی فی الواقع مردہ ہی تھا۔”

کچھ دیر سے میرا تجسس میری چڑچڑاہٹ پر غالب آتا جارہا تھا۔

“وہ کیسے ؟”

“اس کا دماغ کافی عرصے سے خراب تھا۔”

“تمھارا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب اس نے یہ تصویر بنائی تھی تب بھی ؟”

“اور کیا! کسی پاگل کے سوا کون ایسے رنگ برتے گا؟ اس پر بھی آپ اسے شاہکار کہہ کر رہے ہیں اور عش عش کررہے ہیں۔ اور یہی وہ بات ہے جس پر مجھے واقعی ہنسی آرہی ہے۔”

ہنس مکھ نامہ نگار ایک دفعہ پھر قہقہہ مار کر ہنسنے لگا۔ شاید اسے یہ توقع تھی کہ میں اپنی کم علمی پر شرمندہ ہوجاؤں گا یا وہ مجھے اپنی برتر فنی سوجھ بوجھ سے مرعوب کرنا چاہتا تھا۔ بہرحال، کچھ بھی سہی، اس کی توقعات پوری نہ ہوئیں۔ جوں جوں اس کی رودار میں نے سنی، مجھے یوں لگا کہ میری ساری روح میں مہیب متانت کے احساس سے ملتی جلتی کوئی چیز اہتزاز کی لہر دوڑا رہی ہے۔ ہیبت زدہ ہوکر میں نے دوبارہ اس دلدلی تصویر پر نظر جمادی اور نئے سرے سے اس مختصر کینوس میں ایک ایسے فن کار کی قابلِ رحم شبیہ کا پتا لگا یا جسے ہولناک کرب اور عدم تحفظ کے احساس کا عذاب سہنا پڑا تھا۔

“جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس کا دماغ چل جانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی ماضی اور توقع کے مطابق مصوری کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا تھا۔ کم از کم اس بات کی داد شاید ہم اسے دے سکتے ہیں۔”

نامہ نگار کے چمکتے ہوے چہرے پر تقریباً شادماں مسکراہٹ پھیل گئی۔ صرف یہی وہ صلہ تھا جو ہم میں سے ایک کو اس دنیا سے ملا اور اسے پانے کے لیے اسے اپنی جان کی بازی لگانی پڑی تھی۔ ایک عجیب کپکپاہٹ کے ساتھ، جو میرے جسم میں ہلچل مچاتی دوڑ رہی تھی، میں نے تیسری بار اس سوگوار تصویر میں جھانکا۔ وہاں تاریک ہوتے آسمان اور پانی کے درمیان نرسل، انجیر اور حور کے درخت کھڑے تھے۔ سب کے سب نمناک ہلکے بادامی زرد رنگ میں، برہنہ فطرت کی جابرانہ طاقت سے دھڑکتے ہوے۔۔۔

“ہاں، یہ ایک شاہکار ہے۔”

میں نے، نامہ نگار کی آنکھوں میں آنکھوں ڈال کر، للکارتے ہوے دہرایا۔

English Title: Swamps

Written by:

Ryūnosuke Akutagawa (芥川 龍之介, Akutagawa Ryūnosuke, 1 March 1892 – 24 July 1927), art name Chōkōdō Shujin (澄江堂主人), was a Japanese writer active in the Taishō period in Japan. He is regarded as the “father of the Japanese short story”, and Japan’s premier literary award, the Akutagawa Prize, is named after him. He took his own life at the age of 35 through an overdose of barbital.

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

July 2024
M T W T F S S
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031