والد کے نام خط ۔۔۔ روڈ ریگو گارشیا

اپنے والد “گیبریئل گارسیا مارکیز” کے نام ایک خط

تحریر : روڈریگو گارشیا (Rodrigo Garcia)

انتخاب و اردو ترجمہ : عقیلہ منصور جدون (راولپنڈی)

گیبو،

سترہ اپریل آپ کی چھٹی برسی تھی ۔دنیا ہمیشہ کی طرح رواں دواں تھی ۔انسان حیرت انگیز اور نئے تخلیقی ظلم و ستم کے ساتھ ،عظیم فیاضی ،سخاوت اور قربانیوں کے ساتھ اور ان کے درمیان ہر چیز کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا

۔ایک نئی چیز آئی ،وباجتنا ہمیں معلوم ہے یہ ایک فوڈ مارکیٹ سے شروع ہوئی ،جہاں ایک وائرس جانور سے انسان میں منتقل ہوا ۔یہ وائرس کے لئیے ایک چھوٹا سا قدم تھا لیکن اس کی نوع کے لئےبہت بڑی چھلانگ تھی ۔یہ ایسی مخلوق ہے جو ناقابل شمار وقت میں نیچرل سلیکشن کے قانون کے تحت ارتقاء پزیر ہو کر حریص بلا بن گئی۔اس کے لئیے ایسے الفاظ کا استعمال ناانصافی ہے اور اگر ان الفاظ سے اس کی دل آزاری ہوئی تو مجھے افسوس ہے ۔اسے دراصل ہم سے کوئی زاتی دشمنی نہیں ۔

کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب میں آپ کے ناول “وبا کے دنوں میں محبت “کا یا اس کے عنوان یا پھر “تنہائی کے سو سال “ میں بے خوابی کی وبا کا حوالہ نہیں پڑھتا ۔اس قیاس آرائی سے باز رہنا نا ممکن ہے کہ اگر آپ زندہ ہوتے تو اس کے بارے میں کیا سوچتے ۔

جب ہسپانوی فلُو کی وبانے اس کرہ ارضی پر تباہی مچائی ،آپ اس وقت پیدا نہیں ہوے تھے ۔لیکن آپ جس گھر میں پروان چڑھے ،وہاں کہانیاں سنائی جاتی تھیں ۔جہاں طاعون نے بھوتوں اور اور پچھتاووں کی طرح اچھا ادبی مواد مہیا کیا ہو گا ۔آپ ہمیشہ وباؤں سے ،چاہے وہ حقیقی دنیا میں ہوں یا ادبی تخلیقات میں متاثر ہوتے تھے ۔

آپ نے کہا تھا لوگ ماضی بعید ،جیسے دمدار تارے کے ظہور کے حوالے سے واقعات بیان کریں گے ۔مجھے یاد ہے آپ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے کتنے شوقین تھے ۔جب وہ صدی کے اختتام پر دوبارہ نمودار ہوا تو آپ اس کے سحر میں گرفتار ہو گئے تھے ۔ایک پراسرار کلاک ،ہر چھہتر/۷۶سال بعد خاموشی کا ایک گھنٹہ بجاتے ہوۓ ،ایک چکر یا محض اتفاق ۔

آپ دہرئیے تھے ،لیکن آپ نے بھی اس نکتے پر غور کیا کہ یہ ناقابل فہم ہے کہ کوئی ماسٹر پلان نہ ہو کوئی کہانی سنانے والا نہ ہو ۔اس معاملے میں آپ کی فہم و فراصت مجھ سے زیادہ تھی ۔

وبا پھر آگئی ہے ۔اتنی جدید سائنس اور ہماری نوع کی زبردست قوت اختراع کے باوجود ہمارا دفاع شکار خوروں کے غاروں میں چھپنے کی طرح گھروں میں قید ہونا ہے ۔عاجزی پسندوں کے لئےیہ عاجزی کا موقع ہے ۔دوسروں کے لئیے یہ بوریت کا عرصہ ہے جسے کسی نہ کسی طرح گزارنا ہے ۔

آپ کے پسندیدہ ترین دو ملک سپین اور اٹلی سب سے زیادہ متاثر ہوے ۔آپ کے بعض پرانے دوست بار سیلونا ۔میڈرڈ اور میلان کے ان فلیٹوں میں وقت گزار رہے ہیں جہاں آپ اور مرسیڈس برس ہا برس جاتے رہے ۔میں نے اس نسل کے بہت سے لوگوں کو یہ کہتے سنا کہ وہ کئی دہائیوں سے سرطان ،ظالم حکمرانوں ،نوکریوں ،زمہ داریوں اور شادیوں سے مر جانے سے بچ نکلنے کے بعد اس وباء سے بچنے کا پختہ عزم رکھتے ہیں ۔

ہم موت سے خوفزدہ نہیں ہیں ۔لیکن آخری سفر کے حالات ،اپنے لوگوں سے دور بغیر الوداع کہے ،مکمل اجنبیوں کے ہمراہ جنہوں نے خلائی مخلوق جیسے لباس پہنے ہوتا ہے مشینوں کی طرح ہارن بجاتے ،ہیں ہم اپنے خوف تنہائی سے خوف زدہ ہیں ۔

آپ اکثر ڈینیل ڈیفو (Daniel Defoe) کے “وباکے سال کا جریدہ “ کا حوالہ دیتے تھے کہ آپ اس سے بہت متاثر تھے ۔لیکن کل تک میں آپ کے پسندیدہ ترین ‘Oedipus Rex ‘ کو بھولا ہوا تھا جو بادشاہ کی وباختم کرنے کی کاوشوں کے بارے میں تھا ۔بادشاہ کی قسمت کی ستم ظریفی ہمیشہ میری یادداشتوں میں سر فہرست رہی ۔آپ نے ایک دفعہ کہا تھا کہ جو چیز وباکے حوالے سے آسیب کی طرح ہمارا پیچھا کرتی ہے وہ ہماری ذاتی قسمت ہے ۔احتیاطوں ،طبی امداد ،عمر اور دولت کے باوجود کوئی بھی بد قسمت ہو سکتا ہے ۔موت اور قسمت بہت سے مصنفین کا پسندیدہ موضوع رہا ہے ۔

میں سوچتا ہوں اگر آپ اسوقت یہاں ہوتے تو ہمیشہ کی طرح “مرد/آدمی “ سے متاثر ہوتے ۔لفظ مرد (Man) ان معنوں میں اب استعمال نہیں ہوتا ۔لیکن میں اس میں استثناء کی بات کروں گا۔ پدر سری کی حمایت میں نہیں جس سے آپ کو نفرت تھی بلکہ اس لئےکہ اس کی بازگشت نوجوانوں اور آپ جیسے ادیب بننے کے خواہش مندوں کو سنائی دے گی ،حس ادراک ،سوجھ بوجھ اور طاقتور احساس کے ساتھ کہ تقدیریں متعین ہیں ،حتی کہ اس مخلوق کی بھی جو خدا کا عکس ہے ۔اور جسے خود مختاری کی لعنت سے نوازا گیا ۔آپ ہماری کمزوریوں پر ترس کھاتے ۔آپ ہمارے باہمی ربط پر تعجب کرتے ۔ان تکالیف پر افسردہ ہوتے جو حکمرانوں کی سنگدلی کی وجہ سے پیش آئیں ۔اور آپ وباکے محاز پر سب سے آگے کام کرنے والوں کی بہادری سے متاثر ہوتے۔آپ خوشی سے سنتے کہ کیسے محبت کرنے والے تمام رکاوٹوں یہاں تک کہ مرنے کا خطرہ مول لے کر اکھٹے رہے ۔سب سے بڑھ کر آپ انسانوں سے اسی طرح پیار کرتے جس طرح آپ کرتے تھے ۔

کچھ ہفتے قبل ،گھروں میں مقید ہونے کے کچھ ہی دنوں بعد جب میں زہنی تناؤ کا شکار تھا ،میں اپنے آپ سے پوچھتا تھا ۔یہ سب کیا ہے ؟ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ لیکن میں جواب ڈھونڈنے میں ناکام رہا ۔دماغ پر دھند کی دبیز تہہ تھی ۔لیکن جیسا کہ خطرناک ترین جنگوں کے دوران بھی روز مرہ کے معمولات بن جاتے ہیں میں ابھی تک کسی اطمینان بخش نتیجے پر نہیں پہنچ سکا ۔

بہت سوں کے نزدیک زندگی اب پہلے جیسی کبھی نہیں ہو گی ۔یقینا” ہم میں سے بہت سارے بڑی تبدیلیاں دیکھیں گے کچھ کم تبدیل ہو ں گے ۔لیکن مجھے شک ہے کہ اکثریت واپس روزمرہ کے معمولات پر آ جائے گی ۔

کیا اس سے یہ دلیل نہیں نکلتی کہ وباء اس بات کا ثبوت ہے کہ زندگی انتہائی غیر متوقع طور پر غائب ہو جاتی ہے ۔اس لئیے ہمیں حال میں ہی جینا ہے اور اچھی طرح جینا ہے ،آپ کے اپنے پوتے کی بھی یہی راۓ ہے ۔

گھومنے پھرنے پر پابندیاں کچھ جگہوں پر کم کی جا رہی ہیں ۔آہستہ آہستہ دنیا معمول پر آنے کی کوشش کرے گی ۔

جلد سے جلد آزادی ملنے کے خواب کی تکمیل کی توقع میں ،خداؤں سے کئیے گئے بہت سے وعدے بھلاۓ جا رہے ہیں ۔وباکے ہماری روح کی گہرائیوں پر اور پورے انسانی قبیلے پر مرتب شدہ اثرات پہلے ہی غائب ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔

اگرچہ ہم میں سے بہت سے یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ ہوا کیا ہے ؟ وہ بھی اس کی اپنی خواہش کے مطابق تشریح کریں گے ۔ابھی سے خریداری کا عمل جو ہمارا پسندیدہ نشہ ہے پوری قوت کے ساتھ واپس آرہا ہے ۔

میرے لئے ابھی تک سب کچھ دھندلا یا ہوا ہے ۔لگتا ہے مجھے آج اور کل کے ماہرین کا انتظار کرنا پڑے گا کہ وہ اس مشترکہ تجربے کا کیا تجزیہ کرتے ہیں ۔

کوئی نہ کوئی نظم ۔فلم ،یا ناول اس عمومی سمت کا اشارہ دے گا جہاں میری سوچیں میرے احساسات اس سارے عرصے کے بارے میں دفن ہیں ۔جب میں وہاں پہنچوں گا تو بھی مجھے یقین ہے میرے کرنے کے لئے بہت کچھ بچا ہو گا ۔

اس دوران کرہ ارضی گھوم رہا ہے ۔زندگی پراسرار ،طاقتور اور حیران کن ہے ۔یا پھر جیسا آپ کہا کرتے تھے ۔

“ کوئی شخص زندگی کو کچھ نہیں سکھاتا “

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: