چوکیدار کی بیوی ۔۔۔ رخسانہ احمد

چوکیدار کی بیوی

(رخسانہ احمد )

کَل دو افراد لُو لگنے کے باعث دم توڑ گئے تھے۔ یہ موسمِ گرما کا شدید ترین اور بلند ترین سطح کا ریکارڈ درجۂ حرارت تھا۔ انیتاسورج کی بے حسی یاد کر کے جھلا گئی تھی کہ کل چڑیا گھر کے پرند خانے میں پرندے گرمی کی شدت سے کیسے ساکت اور خاموش تھے۔ شاندار بلیاں کیسے بے دم ہوئی پڑی تھیں۔ اس پر لازماً قابو پایا جانا چاہئیے تھا۔ مگر 110فارن ہائیٹ تک بلند درجۂ حرارت کو معتدل سطح پر برقرار رکھنا ایک مضحکہ خیز خیال تھا جس نے گرمی کے زیادہ تر متوالوں کو اس موسم سے بد دل کر دیا تھا۔ بھلے وقتوں میں بھی لاہور کا چڑیا گھر جانوروں کے لئے مناسب اور بہترین مقام نہ تھا۔ اس گرمی سے ان کی جانوں کو سنگین خطرہ لاحق تھا۔ اس کا فوری سدِّ باب ضروری تھا۔

انیتا نے ڈور کھینچ کر دبیز پردے گرا دئیے۔ سورج کی تابناکی کا سامنا کرنے کے لئے وہ آخری چند لمحے پر سکون تاریکی سے لطف اندوز ہونا چاہتی تھی۔

اس کے چھوٹے چھوٹے شہد رنگ بال چہرے پر چبھ رہے تھے جنھیں اس نے انگلیاں پھیر کر پیچھے ہٹایا۔ وہ بہت اکتائی ہوئی لگ رہی تھی۔خود کو پژمردہ اور لباس کو شکن آلود محسوس کرتے ہوئے اس نے دونوں ہاتھوں سے سکرٹ کی اطراف کو رگڑ تے ہوئے شکنیں مٹانے کی بے سود کوشش کی۔ جانے کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ پانچ بجے کے قریب کا وقت تھا لیکن سورج کی بے اعتنائی اپنی جگہ برقرار تھی وہ بد ستور کینہ پروری سے بے دم اور تپتی ہوئی گرم خشک زمیں پر آگ برسا رہا تھا۔

”صاحب آ گئے؟”

جب جادوئی انداز میں پردے کے پیچھے سے کامو سکنجبین کی ٹرے کے ہمراہ نمودار ہوا تو اس نے بھاری اردو لہجے میں پوچھا۔ کامو کے اوقات ہمیشہ درست ہوتے تھے۔

” نہیں میم صاحب!

اس کا انداز معذرت خواہانہ تھا۔ ٹرے انیتا کے سامنے کرتے ہوئے اس نے احترام سے آنکھیں جھکا لیں۔

”شکریہ! ڈرائیور سے کہو کہ بس پانچ منٹ” اس نے اپنی بات کو تمثیلی طور پر بیان کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کا سہارا لیا۔

”ابھی تک واپسی نہیں ہوئی۔ اب عشائیے تک ان سے نہیں مل پاؤں گی۔” انیتا نے خود کلامی کی۔

اپنے شوہر کے متعلق اس کا اندازہ تھا کہ وہ پہلے گھر آئے گا اور ساڑھے پانچ بجے تک گالف کھیلنے جائے گا۔

”وہ ٹیلی فون بھی تو کر سکتا تھا۔ نو سال ہو گئے ہیں سہتے ہوئے اور ابھی تک یہی کرب مسلسل ہے”

اس نے اپنے ذہن سے اس دکھ کو جھٹکنے کی کوشش کی کیونکہ اسے اپنی چیزیں سمیٹنا تھیں۔ ایک چھوٹی نیلی چھتری، تنکوں سے بنا خاکستری پرس، دھوپ کا چشمہ، اور معالجِ حیوانات کی رہنما کتاب جو کہ برٹش کونسل لائبریری سے مستقل بنیادوں پر مستعار لی گئی تھی۔

باہرجونہی تیز دھوپ کے تھپیڑے اس کے چہرے سے ٹکرائے وہ ٹھنڈی پناہ گاہ کے لئے تیزی سے نیلی ٹیوٹا کی جانب بڑھی۔ چڑیا گھر حکومتی عہدیداران کی رہائشی کالونی جی۔ او۔ آر جہاں انکا گھر تھا سے زیادہ دور نہیں تھا۔ برطانویوں کے چھوڑ جانے کے 37سال بعد بھی لاہور میں یہ بہت معزز علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ حکومتی عہدیداران کی رہائشوں کے ساتھ بڑی چار دیواری کے پیچھے وسیع و عریض پائیں باغ تھے جن کی چمک دمک ماند پڑ گئی تھی۔ لیکن اپنے آقاؤں کی طرح ان کی بے نیازی برقرار تھی۔

چڑیا گھر کے بند ہونے کا وقت پانچ بجے تھا مگر الارمنگ گھنٹی کی عدم موجودگی میں تمام عملہ لوگوں کو ترغیب دے رہا تھا کہ پانچ بجے گیٹ بند ہونے سے پہلے انھیں یہاں سے روانہ ہو جانا چاہئیے۔ بصورتِ دیگر اگر گیٹ بند ہو جاتا تو اندر ہی مقید ہو جانے کا خدشہ تھا۔

اڑیل بچے گرمی کی شدت سے قطرہ قطرہ پگھل کر انگلیوں پر بہتی آئس کریم کو عجلت میں چاٹتے ہوئے بے دلی سے قدم اٹھا رہے تھے۔ جوانوں نے اِدھر اُدھر سائے کی تلاش میں ہلچل مچائی ہوئی تھی۔ وہ مضطرب تھے کہ گیٹ کے باہر کوئی بھی سواری انھیں مل جائے۔ چوکیدار نے اپنے ڈھنڈورچی کے کردار میں تعطل لاتے ہوئے انیتا کے لئے دروازہ کھولا۔ وہ ڈپو کی جانب روانہ ہو گئے جو دوسرے سرے پر سپرنٹنڈنٹ کی رہائش گاہ کی طرف کچھ ہٹ کر بنا ہوا تھا۔ حسین کتابیں ، رجسٹر، ٹوکری، اور برتن بر آمدے میں لئے، موڑھے پر بیٹھا پوری طرح چوکس انکی آمد کے لئے تیار تھا۔ اس کے پھٹے ہوئے گرد آلود پاؤں چپلوں میں چپکے ہوئے تھے۔ وہ استقبال کے لئے پھرتی سے کھڑا ہو گیا۔ رسمی سلام دعا کا تبادلہ ہوا۔ اسکی ٹھنڈے مشروب کی پیشکش ہمیشہ کی طرح مسترد کر دی گئی اور وہ کام کی طرف متوجہ ہو گئے۔

انیتا نےایک ہلتی ہوئی کرسی پر بیٹھ کرکھاتوں کے تمام اندراجات کو دیکھاجبکہ حسین گھبرائے ہوئے انداز میں گودام میں چیزیں تلاش کرتا رہا ۔ وہ بندروں کے لئے پھل اور پرندوں کے لئے غلے کی مقدار اور وزن کی پیمائش کرتا رہا۔ میڈم مچھلی اور گوشت کے اوزان خود کرنے کو ترجیح دیتی تھی۔ چناچہ جب تک وہ گودام میں بھیجی جانے والی خوراک کے تمام اندراجات کی پڑتال نہ کر لیتی تب تک حسین انھیں نہیں تول سکتا تھا۔ تمام خوراک تیار کرنے میں چالیس منٹ لگتے تھے۔ تب تک دو لڑکے بھی جو باغیچے کی صفائی میں مالی کے معاون تھے میم صاحب کی زیرِ نگرانی جانوروں کو خوراک کھلانے کے لئے حسین کی مدد کو آ جاتےتھے۔

حسین کو کبھی کبھی انیتا کے بارے میں حیرت ہوتی تھی۔ وہ کون تھی؟ کہاں سے آئی تھی؟ اسے جانوروں سے یہ کس قسم کی محبت تھی جو تپتی سہ پہروں میں جب اس کے طبقے کی دیگر عورتیں نیم تاریک اور ٹھنڈے کمروں میں اونگھ رہی ہوتیں اسے یہاں کھینچ لاتی تھی. وہ جانتا تھا کہ اسکی ملازمت ایک لحاظ سے انیتا کی مرہونِ منت تھی۔ عام طور پر یہی سمجھا جاتا تھا کہ سابق سپرنٹنڈنٹ اسی کی مداخلت پر بر طرف کیا گیا تھا۔ چوکیدار نے کئی مرتبہ اسے یہ کہانی سنائی تھی کہ کیسے دو سال پہلے وہ چڑیا گھر کی سیر کو آئی اور دیکھا کہ جانور کمزوری اور کم خوراکی کا شکار ہیں۔ سو اس نے شکایت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اعلیٰ حکام تک رسائی حاصل کی، انھیں خطوط لکھے اور بالآخرانھیں سپرنٹنڈنٹ کی معزولی پر آمادہ کر لیا۔

جس دن حسین نے چارج لیا تو وہ گورنر کی طرف سے جاری کردہ مراسلے کے ساتھ وہاں موجود تھی جس میں کہا گیا تھا کہ جانوروں کو خوراک دینے سے پہلےوہ اس کے معائنے کی مجاز ہے اور وہ بذاتِ خود یقین دہانی کرائے گی کہ جانوروں کو دی جانے والی خوراک مناسب اور متناسب ہے۔ اُس دن سے لے کر آج تک اسے کبھی پہنچنے میں تاخیر نہیں ہوئی تھی۔

اس کا انتظار کرنا حسین کا معمول بن گیا تھا۔ وہ خوفزدہ رہتا تھا کہ اگر وہ پھر سے ناراض ہو گئی تو نہ جانے اس کا کیا بنے گا۔ چوکیدار ماجھا انیتا کو ایک مداخلت کار سمجھتا تھا۔ ” بے چارے نواز صاحب کو آٹھ بچوں کے خاندان کے ساتھ کس طرح ذلیل کر کے نکال دیا تھا۔ اسے ابھی تک کوئی اور ملازمت نہیں ملی۔ در حقیقت وہ ایک اچھا شخص تھا” اس کی بات کا خاتمہ ہمیشہ ایک سرد آہ پر ہوتا تھا۔

گفتگو کے اس مرحلے پر حسین کی کہانی میں دل چسپی کھو جاتی اور وہ کسی ضروری کام کی انجام دہی کا بہانہ بنا کر وہاں سے چلا آتا۔

انیتا اس دن گرمی سے نڈھال ہو گئی تھی۔ چپچپاہٹ والے پسینے سے لباس اس کے بدن پر چپکا جا رہا تھا۔ وہ دم لینے کو ایک بنچ پر بیٹھ گئی جو کہ چمبیلی اور گلِ خطمی کی جھاڑیوں کے جھنڈ سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس دن کی تپش نے انیتا کے لئے ناممکن کر دیا کہ وہ ہمیشہ کی طرح خوراک تقسیم کرتے ہوئے حسین کی پیروی میں پیچھے پیچھے چکر لگائے۔

پھولوں کی خوشبو جانوروں کے پنجروں کی بو کے ساتھ مل گئی تھی۔ گرمیوں میں پانی بہت گھمبیر مسئلہ تھا اور پنجرے دو تہائی گنا زیادہ بد بو دیتے تھے۔ اسے ہیرا کی فکر تھی۔ وہ کل سے بھی زیادہ بے جان دکھائی دیتا تھا۔ اس نے اس گوشت میں کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی جو حسین نے پنجرے میں پھینکا تھا۔ انیتا نے پریشان ہو کر اپنا کتابچہ کھولا کہ شاید معالجِ حیوانات سے رابطے کی ضرورت پیش آئے یا پھر مزید گہرائی سے اس کا مشاہدہ کر سکے۔ وہ ہیرا کی بہت دلدادہ تھی۔ ہیرا عملے کے دوسرے ارکان میں بھی بہت مقبول تھا۔ انھوں نے اسے ہیرا کی عرفیت دی تھی کیونکہ رات کے وقت اس کی آنکھیں ہیروں کی طرح چمکتی تھیں۔ وہ ایسا ہی زندگی سے بھر پور اور شرارتی چیتا تھا جیسا کہ سندر بن میں عام دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن اس موسمِ گرما کی شدت نے اسے بری طرح نڈھال کر دیا تھا۔ انیتا نے پرس اٹھایا اور بے دھیانی میں آہستہ آہستہ واپس اس کے پنجرے کی طرف چلنا شروع کر دیا۔ نرم کیچڑ میں اس کے قدموں کی چاپ دب گئی تھی۔ وہ ابھی دور نظروں سےاوجھل تھی جب مبہم طور پر اسے ایک عورت نظر آئی۔ اس نے انیتا کو دیکھا تھا نہ اس کے قدموں کی چاپ سنی تھی۔ وہ مکل طور پر محو ہو کر پنجرے کے گرد منڈلا رہی تھی اور پوری طرح محتاط ہو کراندرونی ممنوعہ سفید جنگلے کے احاطے کی جانب بڑھ رہی تھی۔ صرف ارکانِ عملہ کو اس علاقہ میں جانے کی اجازت تھی۔ حتیٰ کہ انیتا بھی ان حدود کا احترام کرتی تھی۔ وہ متحیر ہو کر دیکھتی رہی۔

عورت کی ایک آنکھ ہیرا پر جمی ہوئی تھی مگر وہ غیر ضروری طور پر پریشانی کا شکار نہیں تھی۔ انیتا تقریباً ہانپنے ہی لگی جب اس نے دیکھا کہ عورت نے آگے جھک کر سلاخوں میں ہاتھ ڈال کر گوشت کے دو پارچے اٹھا لئے اور انھیں تیزی سے پلاسٹک کے نرم تھیلے میں کھسکا لیا۔ وہ ایک دبلی پتلی ، نازک اندام اور خوش قامت عورت تھی۔ اس کا مشن پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا تھا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور ایسی سرعت کے ساتھ دوڑ کر پیچھے ہٹ گئی جس کا سہرا ہیرا کے سر باندھنا چاہئے تھا۔

دھند بھری اداسی میں انیتا نے فوری طور پر بیٹھنے کی ضرورت محسوس کی کیونکہ شدتِ غم سے اس کے قدم ڈگمگانے لگے تھے اور وجود جھولنے لگا تھا۔صدمے نے اسے کمزور کر دیا تھا۔ اسے اپنے آپ کو یکجا کرنے میں کچھ وقت لگا۔ وہ حیران تھی کہ اس کی عدم موجودگی میں یہاں کیا کچھ ہوتا ہے۔ اس عورت کی جسارت انیتا کے لئے چیلنج تھی۔یقیناً انیتا کو اس پر چلّانا چاہئے تھا۔ اس نے فرض کیا کہ یہی سب کچھ برسوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور اب اس چوری چکاری کا سدِ باب ضروری ہے ۔ ہیرا آہستگی سے اٹھا اور سبک خرامی سے اپنی خوراک کی طرف بڑھا۔ کھانے میں مشغول ہونے سے پہلے وہ نفاست و نزاکت سے گوشت کو سونگھنے لگا۔

اسے واپس جانے کے لئے اپنی توانائیاں مجتمع کرنے میں معمول سے زیادہ وقت لگا۔ ملازمین اسے روانہ کرنے کے لئے گیٹ پر منتظرکھڑے تھے۔ اس کا کچھ تاخیر سے جانا بالکل بھی غیر معمولی نہ تھا۔ بعد کے اوقات میں چڑیا گھر میں خاموشی اور سکون ہوتا تھا۔ وہ پہروں بیٹھی یہاں سکونت پذیر جانوروں کو دیکھتی رہتی یہاں تک کہ شام کی تاریکی چھا جاتی۔

یہاں تاریکی ہمیشہ بہت جلد اور دفعتاً چھا جاتی تھی جب سورج مغربی باؤنڈری کی طرف پرند گھر کی بلند و بالا گارے کی دیواروں کے پیچھے چھپ جاتا تو وہ مرے مرے قدموں سے خود کو دھکیلتی ہوئی واپسی کی راہ لیتی۔آج وہ گیٹ کے پاس سے گزری تو بالکل خالی الذہن تھی اس نے اپنا نحیف ہاتھ اٹھا کر صرف اشارے سے سلام کا جواب دیا۔

اس رات وہ سلیم سے بات کرنے کے لئے مضطرب تھی۔ وہ کھانا کھانے میں محو دکھائی دیتا تھا مگر پھر بھی انیتا نے وہ بات چھیڑ دی۔ سلیم کی ہنسی بہت سرد مہر اور کھردری تھی۔

” تم نے پو لیس کو نہیں بلایا؟”

”نہیں” انیتا نے اس کی لطف اندوزی کو بر داشت کرتے ہوئے کہا۔

وہ بے آرامی محسوس کر رہی تھی۔

” اس بات میں مزاحیہ کیا ہے؟”

”تمہاری حکمتِ عملیاں، اخلاقی بحران کے مسائل۔۔۔۔جو تمھیں درپیش رہتے ہیں۔”

سلیم کی ہنسی ناخوشگواری کے آخری دہانے پر تھی اور ان کے درمیان فاصلہ بڑھا رہی تھی۔

”اخلاقی بحران؟” وہ حیران ہوئی

”میرے خیال میں تو اس صورتحال کو یہی کہا جاتا ہے”

وہ پوری توجہ سے اپنی مچھلی سے انگلیوں کے ساتھ کانٹے نکالنے میں مگن تھا۔ انیتا کی نظریں دور خلا میں جمی ہوئی تھیں۔ کچھ توقف کے بعد سلیم نے پوچھا

” کیا میں نے تمھیں کبھی مسز ہاؤ کی کہانی سنائی ہے؟”

”میرا نہیں خیال کہ تم نے کبھی سنائی ہو۔ کون ہے وہ؟” انیتا کو اس کے انداز سے الجھن محسوس ہو رہی تھی۔

”ہے نہیں۔۔۔۔۔تھی۔ ہاں مسز ہاؤ تہران میں کونسل جنرل کی بیوی تھی۔اس وقت چالیس کی دہائی میں پاپا وہاں تعینات تھے۔ وہ گھوڑوں سے بہت الفت رکھتی تھی۔ بلا شبہ ان سے شدید محبت کرتی تھی۔ وہ ہر سہ پہرگھر سے نکلتی اور تمام شہر کا چکر لگاتی تاکہ کسی مریض اور بد سلوکی کے شکار گھوڑے کو تلاش کر سکے اور اسے گھر لے آئے۔

وہ اپنا گھڑ سواری کا لباس زیب تن کرتی، ہاتھ میں چابک ہوتا اور بذاتِ خود خطا کار مالکان کو سزا دینے پہنچ جاتی انھیں چابک سے مارتی اور گھوڑے کو اپنے ساتھ لے آتی۔ وہ دہشت کی علامت بن چکی تھی۔ مالکان کے ساتھ گھوڑوں سے بھی بد تر سلوک کیا جاتا, انھیں جیل میں ڈال دیا جاتا اور وہ ایک کام کرنے والے جانور سے بھی کسی ادائیگی کے بنا ہاتھ دھو بیٹھتے۔”

”پھر؟”

”پھر کچھ نہیں- کشیدگی بڑھتی گئی۔۔۔یاد رکھو کہ یہ وہ ایام تھے جب پانچ آدمی چینی کی قیمت پر احتجاج کرنے کے لئے بھی اکٹھے ہو جاتے تو انھیں دھمکانے کے لئےبرطانوی جنگی بیڑے مشتعل ہو کرساحلوں پر آ لگتے تھے۔”

” میں نہیں جانتی کہ تم کیا جتانا چاہ رہے ہو سلیم! مگر جو میں کہہ رہی ہوں وہ کچھ الگ معاملہ ہے۔”

ہاں مجھے یہی توقع ہے۔۔۔ تمہارے پاس اختیارات نہیں تھے نا اسی لئے تم نے پولیس کو نہیں بلایا۔ میری عمر اس وقت صرف گیارہ سال تھی اور مظلوموں کے لئے ناانصافی کے بارے میں میرے احساسات بہ نسبت اب کہیں زیادہ خالص تھے۔ اس کے باوجود میں وہ واحد شخص تھا جسے کبھی یقین دہانی نہیں ہوئی تھی کہ اصل میں گھوڑے مظلوم ہیں یا ان کے مالک۔”

انیتا نے اپنے اور سلیم کے درمیان اس بے رحم فاصلے پر ایک مایوس کن اور بے آواز غصے کی کیفیت کو محسوس کیا۔ یہ جارحیت، عداوت ، جانبداری یا پھر حد سے بڑھی ہوئی سادگی تھی۔

” کیا ہو گیا تھا انھیں۔۔ ”انیتا نے ان مناظر سے نفرت کا اظہار کیا۔ جیسے ہی وہ نیپکن رکھ کر کھانے کی میز سے جانے کے لئے اٹھی تو غصے کی وجہ سے اس کی کرسی چرچرا اٹھی۔ اس نے برآمد ے کی جانب قدم بڑھا دیئے۔ باہر خاموش اور گھٹن زدہ تاریکی میں اس نے اڑتے ہوئے جگنوؤں پر خالی نظریں جما دیں۔

کیمبرج کے دنوں میں انکے درمیان جو شدید قسم کا جذباتی لگاؤ تھا وہ اب ختم ہو چکا تھا۔ انیتا کی حد تک یہ معاملہ حقائق کے بیکار قسم کے دفاع میں ڈھل گیا تھا۔ اس نے تلخی سے سوچا یہ اس کی فطرت میں شامل ہو گیا تھا کہ وہ اپنی قوم کی اجتماعی غلطیوں کو اپنے سر تھوپ لیتی تھی۔ تنازعات اور غصہ ان کے درمیان تلخی کی فضا ہموار کر رہے تھے۔

سلیم اچھی طرح سے جانتا تھا کہ وہ چڑیا گھر کے جانوروں کے متعلق کتنی حساس ہے۔ اس نے اداسی سے سوچا۔

وہ انیتا کے لئے اس کے خاندان کی طرح خصوصی اہمیت کے حامل تھے۔ بالکل اپنے بچوں کی طرح تھے اور یہ ایسا ہی تھا جیسا کہ کسی کو اس کی اولاد سے محروم کر دیا جائے۔

ایک غلطی کا ارتکاب ہوا تھا اور وہ یہاں کشمکش میں الجھی بیٹھی تھی۔ جائز اور ناجائز کی حدود کو خلط ملط کر رہی تھی۔ ۔۔۔کوئی متبادل راہ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی جو در اصل ہر گز متبادل نہیں تھی۔ اس پر صاف ظاہر تھا کہ یہ سب اسے رسوا کرنے کی خاطر تھا۔ ان کے درمیان اختلافِ رائے کے خلا کو پُر کرنے کے لئے پرانے تعلقات کی ایک رمق بھی باقی نہیں تھی۔

وہ لاہور میں دیگر گوری خواتین کو بھی جانتی تھی جن سے راہ و رسم اور گفتگو کا سلسلہ چلا سکتی تھی۔ لیکن ان کی معیت میں بھی وہ ایک قسم کا روایتی اور فرضی فاصلہ محسوس کرتی تھی۔ لوگوں سے پُر ہجوم اس گرم مزاج شہر میں ان کے درمیان دوری اور فاصلہ انیتا کی تنہائی کو شدید بنا رہا تھا۔ وہ اس کی ذات کو گھٹا رہا تھا، اس کے قدموں تلے سے زمین کھسکا رہا تھا اسے دوبارہ دفاعی پوزیشن پر لا رہا تھا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ بیوقوف اور کمزور بن گئی تھی۔ اسے ملازموں کو بلا لینا چاہئے تھا اگر پولیس کو نہیں بلا سکتی تھی۔ یہی درست راہِ عمل تھی۔ اس رات انیتا نے فیصلہ کیا کہ کل صبح وہ حسین سے سب سے پہلے اسی بات کا تذکرہ کرے گی۔

اس کا منصوبہ اگرچہ اگلی سہ پہر ڈانواں ڈول ہو گیا جب وہ سوال اٹھانے کے لئے کسی مناسب موقع کے انتظار میں تھی۔ اس نے مدھم آواز میں خود کو بولنے پر آمادہ کیا۔

” مسٹر حسین میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتی ہوں”

”جی میڈم!”

وہ مستعد اور متوجہ ہو کر بولا

” چڑیا گھر کے احاطے میں کتنے خاندان رہتے ہیں؟” انیتا نے سوال کیا۔

”تین خاندان میڈم! میرا، چوکیدار اور مالی کا”

بہر حال وہ اس عورت کا کوئی تعلق حسین سے نہ جوڑ پائی۔ انیتا نے جھجھکتے ہوئے بات کاآغاز کیا۔

” میں نے۔۔۔۔ میں نے کل ایک عورت کو ہیرا کے پنجرے سے گوشت چراتے ہوئے دیکھا ہے۔ ”

” ایک عورت۔۔۔۔۔؟”

وہ صحیح معنوں میں چونکا۔

” میڈم! وہ لمبے قد کی تھی یا چھوٹے قد کی؟”

حسین نے محتاط طریقے سے اپنی آواز کو دھیما رکھا۔انیتا بر آمدے میں منڈلاتے ہوئے دونوں لڑکوں کی متجسس نگاہوں سے آگاہ تھی۔

” دراز قد” وہ بولی۔

” وہ تارا ہے میڈم! معراج چوکیدار کی بیوی۔ کیا میں اسے لے کر آؤں؟”

” ہاں مہربانی فرما کر اس کے بعد لے آنا مگر آپ کو یہاں رکنا ہو گا اور میری طرف سے اس کے ساتھ کچھ بات چیت کرنا ہو گی۔ ” وہ پہلے ہی اس انٹر ویو سے خائف تھی۔

یقناً یہ سب آسان نہ تھا مگر پھر بھی تارا آ گئی۔ وہ ایک عامیانہ لباس میں ملبوس لیکن نمایاں طور پر خوش شکل عورت تھی۔ اس نے ایک خارش زدہ اور بہتی ناک والے بچے کو کولہے پر اٹھایا ہوا تھا اور میل کی تہوں سے اٹا ایک بچہ اسکی زرد بدرنگ شلوار کو کھینچتا ہوا اس کے پیچھے چلا آ رہا تھا۔ اس نے دونوں کو اندر داخل ہونے سے پہلے ہی باہر گھاس کے قطعہ پر روک دیا۔ اور ان کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ وہ عورت پہلو تہی اور گریز کرنے کی بجائے دلیر اور سرکش دکھائی دے رہی تھی۔ چند ثانیے تو یوں لگا کہ وہ وضاحت اور معذرت کے طور پر کچھ نہیں کہے گی۔ اس نے اپنا رخ پھیر لیا۔ انیتا کے سر میں صحیح معنوں میں غصے سےلاوا ابل رہا تھا۔ تب اچانک ہی وہ عورت تیز طراری سے ایک جذباتی تقریر جھاڑنے لگی۔ انیتا کو بہت سے لفظوں اور جملوں کی سمجھ نہیں آئی۔ اس نے وضاحت کے لئے مدد طلب نظروں سے حسین کی طرف دیکھا۔ حسین خجالت سے کھانسا اور تارا کو کچھ جواب دینے کی کوشش کی مگر انیتا نے اسے جھاڑ دیا۔

” پہلے مجھے بتاؤ” وہ تحکمانہ لہجے میں بولی۔

” میڈم وہ ہیرا کے متعلق کچھ کہہ رہی ہے کہ ہیرا خود چاہتا ہے وہ اس کی خوراک میں سے کچھ حصہ لے۔” حسین منمنایا۔ عورت کی بات پر بے یقینی اس کے لہجے سے عیاں تھی۔ ” کس بنیاد پر وہ ایسا کہتی ہے؟” انیتا کے دماغ میں غصے کا لاوا اور تیزی سے پکنے لگا۔ اس نےاشتیاق اور بیتابی سے عورت کے چہرے پر نظریں جماتے ہوئے استفسار کیا۔۔ جبکہ حسین جھنجلا رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ خود کو اس قصے سے دور رکھنا چاہتا ہے۔

” وہ کہتی ہے کہ ہیرا اپنی خوراک کے قریب پھٹکے گا بھی نہیں جب تک وہ اس میں سے کچھ اٹھا نہیں لیتی۔ اور وہ کہتی ہے میڈم! آپ آج شام رک کر بذاتِ خود اس بات کا مشاہدہ کر سکتی ہیں”

” یہ سب گرمی کی شدت کی وجہ سے ہو گا اور ہیرا پچھلے کچھ دنوں سے ٹھیک بھی نہیں تھا۔ ” انیتا نے حسین کو وضاحت کرنے کا اشارہ کیا مگر اس کا اپنا دل تارا کی باتوں میں الجھا ہوا تھا۔ وہ حسین کی نسبت کم مشکوک تھی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے کل کھانے سے بے رغبت، سائے میں بیٹھے ہیرا کی تصویر لہرا گئی۔ اس نے بنا جھپٹے یا کوئی ضرر پہنچائے بغیر اس عورت کو اجازت دی تھی کہ وہ کچھ گوشت اٹھا لے۔

” میڈم! وہ کہتی ہے کہ ہیرا ایک درندہ ہے مگر اس کے اندر ایک ولی کی روح ہے۔ ہیرا کو معلوم ہے کہ اس کے بچوں کو اکثر بھوکا ہی سونا پڑتا ہے چنانچہ وہ بھی پیٹ بھر کر نہیں کھا سکتا۔ ہیرا منتظر رہتا ہے کہ وہ کچھ حصہ اٹھا لے جائے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گی تو گوشت اس کے ارد گرد بکھرا رہے گا اور پڑا پڑا گل سڑ جائے گا۔ ” حسین نے یہ ”فرضی” کہانی سناتے ہوئے طنزیہ انداز میں ہونٹ سکوڑے۔

انیتا نے جزوی طور پر اس تصوراتی کہانی پر یقین کرنا چاہا مگر افسرانہ طور پر اس کا فرض بنتا تھا کہ وہ اس مفروضے کی تردید کرے۔

” مسٹر حسین! براہِ مہربانی اسے مطلع کردیجئے کہ یہ خطا کار ہے، اسے تنبیہ کر دیں کہ آئندہ ایسی کسی حرکت کی مرتکب نہ ہو۔” اس نے تنازع کے عظیم الشان حل کی کوشش کرتے ہوئے ایک بار پھر اپنی بات کو دہرایا۔

جب انیتا نے یہ بات اس عورت کے گوش گزار کرنے کا کہا تو اس کے لہجے میں سختی اور شدت کو مفقود پاکر حسین کو مایوسی ہوئی۔ وہ عورت متاثر نہیں ہوئی تھی۔ وہ تند و تیز دلائل کی بوچھاڑ کے ساتھ حسین کو اپنے دفاع پر اکسا رہی تھی۔ انیتا نے ایک بار پھر بغور اس کا چہرہ دیکھا۔ وہ ایک بے ریا، واضح اور کھرا چہرہ تھا جس پر راست گوئی کی جھلک نمایاں تھی۔ یہ دیکھ کر اس کے دماغ کے اندر ابلتا ہوا لاوا سرد پڑ گیا۔ ہیرا کے متعلق اس کی کہانی یوں ہی تھی جیسے کسی بچے کی غیر معمولی ذہانت کی کہانی پر اس کی محبت کرنے والی ماں بلا ثبوت مہرِ تصدیق ثبت کر دیتی ہے۔ انیتا نے ہلکی سی سرزنش کے ساتھ انٹر ویو ختم کیا اور جانے کے لئے پلٹی تو وہ متوقع نتائج سے حیرت کا شکار مگر خاصی حد تک مطمئین بھی تھی۔

وہ جمعرات کا دن تھا۔ لاہور جمخانہ کلب میں ‘باربی کیو نائٹ’ منائی جا رہی تھی۔ انیتا عموما آٹھ بجے کے قریب سلیم کے ہمراہ اس میں شرکت کرتی تھی۔ اور وہ رات گئے وہاں سے لوٹتے تھے۔ وہ جوس پینے بیٹھ گئی اور سلیم کے غسل کر کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔ شام کو وہ گالف کھیلتا رہا تھا۔ کلب میں معمول کے مطابق رش تھا۔ وہی روایتی اور بے معنی مسرت و شادمانی کی باتیں تھیں۔ انیتا بے صبری سے منتظر تھی۔ اس کی روح شام کی جذباتی تبدیلی کے بعد بہت پُر جوش تھی اور اس کا دماغ شادی سے متعلقہ ایک بڑے سوالیہ نشان پر اٹکا ہوا تھا۔ ایسا سوال جس سے وہ اب تک نظریں چراتی آئی تھی۔

سب کچھ روزِ روشن کی طرح عیاں تھا۔ سب ختم ہو گیا تھا۔ مال اور اولاد جو شادی کے بندھن کو برقرار رکھنے کا لازمی اور پُر لطف عنصر ہوتے ہیں وہ ان دونوں سے ہی محروم تھے۔ گھر جس میں وہ رہتے تھے سلیم کے والد سے بلا مطا لبہ ہی ترکے میں مل گیا تھا۔ بچے اگرچہ اسے بہت پسند تھے مگر انھوں نے بے اولادی کی مایوسی کے ساتھ جینا سیکھ لیا تھا۔ اس کے تئیں یہ کوئی ایسا بنیادی تاسف بھی نہیں تھا۔ مگر اس معاشرے میں رہتے ہوئے اسے اندیشہ تھا کہ یہ آسانی سے بنیادی مسئلہ بن بھی سکتا ہے۔ اس نے پورے جوش و جذبے سے خود کو دیگر سر گرمیوں میں مصروف کر لیا تھا۔ چڑیا گھر ان میں سے ایک تھا۔ آج تارا نے اس کے تماتر یقین کی بنیادیں ہلا دی تھیں اور ہیرا بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں تھا۔ انیتا ،تارا کو اپنے دونوں بچوں کے ہمراہ گرم کنکریٹ کے راستے پر چلتےہوئے اور ہیرا کے خوراک بانٹنے کے متعلق اس کے عقیدے کو تصور میں لائی۔ اس نے حسین کے ساتھ تمام خوراک کو چیک کرتے، وزن کرتے اور معائنہ کرتے ہوئے خود کو برآمدے میں موجود پایا۔

جب بیرا رسمی انداز میں باربی کیو کھانے ان کے سامنے چن رہا تھا تو سلیم نے انیتا کی کل کی کشمکش کو نظر انداز کرتے ہوئے غائب دماغی اور لا پروائی سے اس کی آج کے دن کی مصروفیت کے متعلق استفسار کیا۔ میز بھنے مرغ، کباب، مصالحے دار بکرے اور تکوں سے سجی ہوئی تھی۔ یہ سب کچھ حسین کی ایک دن کی تنخواہ یا ہو سکتا ہے چوکیدار کی دو دن کی تنخواہ کے مساوی ہو۔

انیتا نے مبہوت ہو کر کھانے کی میز پر نظر دوڑائی۔ اس کی اشتہاء ایک دم غائب ہو گئی اور اس کے منہ میں تارکول کا ذائقہ گھل گیا۔ گوشت کے ریشے خون میں لتھڑے ہوئے پارچے نظر آنے لگے۔ ان کے اطراف سے بہتی ہوئی رال کی سڑی بساند کو وہ سونگھ سکتی تھی۔ نوالہ تمامتر شدت کے ساتھ تقریباً اس کے حلق میں ہی اٹک گیا۔ وہ تند و تیز تلخی کے ساتھ سلیم کی جانب پلٹی۔

” سب ختم ہو گیا ہے ہمارے درمیان اب کچھ باقی نہیں رہا۔ ۔۔۔ کیا ایسا ہی نہیں ہے؟”

تمام ہمت مجتمع کر کے وہ بس اتنا ہی کہہ پائی تھی۔۔۔۔۔

(یہ ترجمہ پہلی مرتبہ کتاب “عورت کتھا (غیر ملکی زبانوں سے خواتین ادیبوں کے افسانے)” میں شائع ہوا۔ ترجمہ کار۔ رومانیہ نور )

THE GATEKEEPER’S WIFE

Written by:

Rukhsana Ahmad (born 1948) is Pakistani writer of novels,short stories, poetry, plays, translator and who after marriage migrated to England for further studies and pursue a career in writing. She has campaigned for Asian writers, particularly women.

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: