نظم

یوسف شہزاد

زندگی میں

پرپیچ راستوں پر

بہکتا ہوا

سیاہ گھنے بادلوں میں

گھرا ہوا

گہرے سمندروں میں

ڈوبتا ہوا

سرد گرم موسموں کو

جھیلتا ہوا

جنگل کے بھیڑیوں سے

لڑتا ہوا

تپتے صحروؤں میں

گھومتا ہوا

سخت مایوسیوں

میں روتا ہوا

دنیا کی آفتوں کو

 سہتا ہوا

اکیلا تنہایوں میں

چیختا ہوا

ظلم کی داستانوں

میں بستا ہوا

دنیا کے خداؤں

سے لڑتا ہوا

انسان اپنی چند سانسوں

کی قیمت چکا رہا ہے.

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: