غرقاب ۔۔۔۔ آدم شیر

Adam Sher is one of the young and emerging short story writers of Pakistan. His stories discuss the problems and daily issues a common man is facing in the society.

 

غرقاب

( آدم شیر )

مَیں نے آج تک سمندر نہیں دیکھا۔ ٹی وی لاؤنج کی دیوار پر آویزاں ایل سی ڈی میں لہراتی موجیں دیکھتا ہوں تو جی چاہتا ہے کہ اِن کے ساتھ ساتھ جاؤں دور تک… لیکن ’کوئی ماضی کے جھروکوں سے صدا دیتا ہے۔ ‘
میں ایک خواب دیکھتا ہوں ۔ عمر پچاس برس سے اوپر ہو تو ایک بڑی سی کشتی خرید لوں اور اِس میں ڈھیروں کتابیں اور کھانے پینے کی اشیاء بھر کر بحری سفر پر نکل جاؤں ۔ سمندر میں ہی رہنا شروع کر دوں ۔ بس پڑھوں ، لکھوں اور سوتا رہا ہوں ۔ ہر طرف پھیلے پانی کو دیکھوں جو لوگوں کے لیے رزق چھپائے رکھتا ہے اور کشٹ کرنے پر اُگل دیتا ہے۔ موت کا باعث بنتا ہے مگر اس میں زندگی بھی سانس لیتی ہے۔ پانی۔ ۔ ۔ ہر طرف پانی جس میں بڑی مچھلیاں زندہ رہنے کے لیے چھوٹی مچھلیوں کو کھاتی ہیں اور زندگی یوں ہی موجوں کی طرح اوپر نیچے، آگے پیچھے ہوتی رہتی ہے، میرے خواب کی طرح۔ ۔ ۔ کسی کو یہ خواب جیسا بھی لگے، مجھے پروا نہیں کیونکہ یہ میرا خواب ہے جو میں دیکھتا رہوں گا کہ میں سمندر میں ہوں ۔ ایک کشتی میں ہوں ۔ خشکی سے دور۔ ۔ ۔ بہت دور۔ ۔ ۔ موٹی موٹی کتابوں کے درمیان دبلا پتلا سا میں ۔ ۔ ۔ حروف کے سمندر میں غوطہ زن۔ ۔ ۔ فطرت کی گود میں زندگی گزارتا ہوا۔
جی چاہتا ہے کہ ساحل پر ایک گھر بنا لوں ۔ لوگ ریت سے گھروندے بناتے ہیں جو ٹھہر نہیں پاتے۔ میں بھی ایک بناؤں لیکن پکا والا۔ ۔ ۔ اتنا مضبوط کہ طوفانی موجیں بھی نہ ڈھا سکیں ۔ گھر کے باہر آرام کرسی رکھ کرتا حدِ نظر پھیلے پانی کو دیکھوں جس کے پار اُبھرتے سورج کی کرنیں مجھ میں بے قابو ہو جانے والی توانائی بھر دیں اور سمندر میں ڈوبتا آفتاب مجھے لوری سنا جائے۔ کبھی سوچتا ہوں کہ وہاں جا کر بیٹھ جاؤں جہاں موجیں میرے قدموں میں آ کر دم توڑیں ۔ موجیں جو بڑے بڑے جہازوں کو الٹانے میں دیر نہیں لگاتیں ، پورے پورے شہر نگل لیتی ہیں ، اور کچھ خاص لوگوں کی طرح ہمارا مال اپنے پیٹ میں بھی چھپا لے جاتی ہیں ، میرے پیر چوم کر لوٹ جائیں ۔
افسوس کہ مَیں سمندر سے بہت دور ہوں ۔ اتنا دور بھی نہیں کہ جا نہ سکوں لیکن۔ ۔ ۔ مَیں مہم جوئی پر مبنی فلمیں دیکھنے پر اکتفا کرتا ہوں جو سمندر کی زندگی پر بنی ہوتی ہیں ۔ مجھے ایسی دستاویزی فلمیں بھی بہت پسند ہیں جن میں پانی کے نیچے رہنے والی رنگ برنگی، دل للچانے اور ڈرانے والی مخلوق نظر آتی ہے مگر سکرین پر دیکھ کر اُکتا سا جاتا ہوں ۔ میں پانی میں اتر کر دیکھنا چاہتا ہوں ہر چیز جو اِس میں چھپی ہوئی ہے۔ جان داروں کے ساتھ ساتھ آبی پودے، گڑھے اور غاریں ۔ ۔ ۔ وہ غاریں جن میں بڑے جان داروں نے اپنا ٹھکانا بنایا ہوتا ہے اور علیحدہ علیحدہ نظر آنے والے پتھر جو پہاڑوں کی یادگار ہیں ۔ مونگوں کی چٹانوں سے اپنی مرضی کے ٹکڑے بھی تراشنا چاہتا ہوں جو میں اپنے گھر کے کمروں میں آتش دانوں پر سجا سکوں ۔ سیپ کو اپنے داہنے ہاتھ کی دو بڑی انگلیوں اور انگوٹھے کے درمیان رگڑنا چاہتا ہوں اور اِس میں سے موتی بھی پانے کی تمنا ہے جس کی چمک لوگوں کی آنکھیں پھیر دیتی ہے۔ میں وہ سب محسوس کرنا چاہتا ہوں اندر تک۔ ۔ ۔ جو پانی کے اوپر اور نیچے ہے۔ ۔ ۔ اور اپنے گمان میں موجود اطمینان خود میں بھر لوں کہ یہ دنیا واقعی اتنی رنگیں ہے جتنی سکرین پر دکھائی جاتی ہے۔ میرے خیال میں یہ اِس سے کہیں بڑی ساحرہ ہے۔
میں صرف سکرین پر سمندر نہیں دیکھتا بلکہ کاغذوں پر اُترے ہوئے حروف میں بھی سحر تلاشتا ہوں ۔ مجھے ہرمن میلول کی موبی ڈک پسند ہے جو سفید شکاری اور شکار کے درمیان رومان کی ان مٹ داستان ہے۔ ارنسٹ ہیمنگوے کی وہ کہانی بھی کئی بار پڑھی ہے جس میں ایک بوڑھا مچھلی پکڑنے جاتا ہے اور ایک بہت بڑی مچھلی اُس کے ساتھ کھیلنے لگتی ہے۔ وہ جیت کر بھی ہار جاتا ہے لیکن ناکامی میں اُس کی کامیابی چھپی ہوتی ہے کیونکہ اُس کا حوصلہ باقی رہتا ہے۔ ۔ ۔ اور اَنگ اَنگ میں جوش بھر دینے والی اوڈیسی تو میرے سرہانے تلے دھری رہتی ہے۔ جب جی چاہتا ہے، کتاب کھولتا ہوں اور اِس میں کھو جاتا ہوں کہ میں ایک بڑی کشتی میں ہوں جو بادبانوں کے سہارے ہوا کے دباؤ پر بہہ رہی ہے اور کبھی کبھی ہچکولے کھاتی ہے میرے خیالات کی طرح۔ ۔ ۔ اور میں طے نہیں کر پاتا کہ سمندر دیکھنا ہے تو کراچی جا کر دیکھ لوں یا اس سے آگے ساحلی پٹی پر سفر کرتے ہوئے گوادر تک جاؤں اور راستے میں بھانت بھانت کے لوگوں سے ملوں کہ حقیقی علم تو وہی ہے جو انسانوں سے مل کر حاصل ہوتا ہے۔ سمندر کی منہ زور موجوں کے سامنے اب تک ڈٹی بستیاں دیکھوں جن میں رہنے والوں کی زندگی پتا نہیں کیسی ہو گی۔ ہر وقت کے شور و غل سے مضمحل اعصاب والے شہریوں سے تو بہت مختلف ہو گی۔
میں نے پڑھا ہے کہ کراچی کے ساحلی علاقے شام کے وقت بڑا دل کش نظارہ پیش کرتے ہیں ۔ اگلے وقتوں میں روشنیوں کے اِس مشہور شہر میں ، جو اب گولیوں کی تڑ تڑ سے بدنام ہو چکا ہے، آسماں کا پیچھا کرتی عمارتوں کا عکس جب سمندر پر پڑتا ہو گا تو کیا نظر آتا ہو گا؟ کیا وہ اتنی ہی پرکشش دکھائی دیں گی جیسی سر اوپر اٹھا کر دیکھنے سے محسوس ہوتی ہیں ؟ جب پانی میں ڈوبتی عمارتوں کو دیکھنے کے لیے سر جھکانا پڑے گا تو ان کی شان میں فرق آئے گا ؟ اور چاہتا ہوں کہ سمندر کے بیٹے جب مچھلی پکڑنے جائیں تو ان میں سے کسی کی کشتی پر سوار ہو جاؤں جو گہرے پانیوں میں جائے گی کیونکہ قریب قریب ساری مچھلیاں بڑے ٹریلر کھا چکے ہیں جن سے وابستہ مچھیرے روز مچھلی پکڑنے کے باوجود خود نہیں کھا سکتے۔ ساحل کے نزدیک مچھلی تو دور کی بات ہے، سمندر کا پانی بھی دریائی پانیوں کے ساتھ آتی گندگی، کارخانوں کا تیزابی پانی اور بندرگاہ سے بہایا جانے والا تیل نگل چکا ہے۔ عفریت کی طرح پھیلے شہر کی اپنی گندگی بھی رہی سہی کسر نکال رہی ہے۔ پھر بھی سارے ملک سے لوگ کراچی جاتے ہیں سمندر کے کنارے خوشی ڈھونڈنے کے لیے۔ ۔ ۔ میں بھی جانا چاہتا ہوں ۔ پانی کے باہر اور اندر بنتے مٹتے نقوش سے کچھ سیکھنا چاہتا ہوں اور آگے بڑھ کر ہوا کے دروازے پر دستک دینا چاہتا ہوں ۔
ہر منظر کی پانی پر علیحدہ چھاپ دیکھنے کی چاہ بھی عجیب ہے۔ جب ہلکے بادل ہوں گے تو سمندر کیسا ہو گا؟ گہری کالی گھٹائیں سطح آب کو ڈراؤنا بنا دیں گی یا سحر انگیز۔ ۔ ۔ رات کو کالی چادر اوڑھے سمندر کیا کرتا ہو گا؟ اور دن میں کیسا روپ بھرتا ہو گا؟ سوچتا ہوں کہ ساحلی پٹی پر سفر کے دوران ہر لمحہ گاڑی کی رفتار کے ساتھ منظر بدلے گا تو میرے باطن میں بھی تبدیلی کی لہریں اُٹھیں گی۔ سورج کی چھنکتی کرنوں سے میرے بائیں ہاتھ موجود چیزیں دائیں جانب پانی پر کتنا حسین عکس پھینکیں گی۔ مناظر ہیبت ناک بھی ہوں گے لیکن حیرانی زیادہ ہو گی۔ جب منزل پر پہنچ جاؤں گا تو وہاں ہزاروں سال سے سانسیں لیتے شہر کو ملتی نئی زندگی دیکھوں گا۔ سنا ہے کہ نیا جنم پرانے سے زیادہ خوبصورت ہو گا۔ وہاں ایک نئی بندر گاہ بھی بن رہی ہے جو کہتے ہیں کہ خوشحالی کا دروازہ کھولے گی اور منقول ہے کہ اس کی بدولت یہ شہر بلوچوں کو ایک ہی جھٹکے میں غاروں کی دنیا سے نکال کر اکیسویں صدی میں لا سکتا ہے۔
میں اس شہر کو دیکھنا چاہتا ہوں جو لوگوں کو خواب دکھانے لگا ہے۔ پتا نہیں پورے ہوں گے یا نہیں ۔ میں خوابوں کے ٹوٹنے سے ڈرتا ہوں اور اس وقت سے پہلے اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہوں ۔ یقین کرنا چاہتا ہوں کہ سبز باغ محاورے سے نکل کر روزمرہ کا روپ دھار لے گا۔ مجھے مائل کرے گا کہ میں اِسی باغ کے کسی گوشے میں بس جاؤں یا اِس کے آس پاس کہیں اپنا کوئی درخت اُگا لوں جو میٹھے میٹھے پھل دے جن پر گزر بسر کروں ۔ اور اِس شہر میں ، جہاں میں جنمایا گیا ہوں اورجس کی گندگی میں بھی اپنا ایک حسن ہے، واپس نہ آؤں کہ اب اسے بھیڑ بکریوں کا باڑہ بنا دیا گیا ہے اور چارہ بھی کم کر دیا گیا ہے۔
خواب سچ ہو جائے تو میں اِسی ساحلی علاقے میں کہ جسے ہوا کا دروازہ کہتے ہیں ، اپنی کشتی کے راستے پانی میں اترتا اور چڑھتا رہوں ۔ جی چاہے تو ساحل پر کھڑے ہو کر سمندر کی طرف دیکھوں جس کے پانی میں مجھے اپنے پیچھے موجود پہاڑیاں نظر آئیں ۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا لہرائے اور میرا من بہلائے۔ خیال کی حسین دنیا میں لے جائے اور اَن دیکھے مناظر دل کھول کر دکھائے۔ جب من چاہے نگر کی سیر سے تھک جاؤں تو واپس اپنے باغ میں آ کر آرام سے سو جاؤں ۔
میں خیالی پلاؤ ہی نہیں پکاتا بلکہ عملی طور پر بھی جانا چاہتا ہوں اور ایک بار گوادر جانے کی پوری تیاری کر لی لیکن۔ ۔ ۔ ایل سی ڈی پر سمندری دنیا کے مناظر ہی نہیں نظر آتے بلکہ ہر وقت ٹی وی پر گلا پھاڑ پھاڑ کر خبریں بھی سنائی جاتی ہیں ۔ سوچا کہ وہ شہر پھر کبھی دیکھ لوں گا جو خواب دکھانے لگا ہے۔ اب کراچی جا کر دیرینہ خواہش پوری کر لیتا ہوں ، اس سے پہلے کہ حسرت بن جائے لیکن ٹی وی پر صرف گوادر کے متعلق خبریں نہیں آتیں ، کراچی کا ذکر بھی صبح شام ہوتا ہے۔ اس شہرِ بے مثال کو سدا کے بھوکے بھیڑیوں نے گھیر رکھا ہے اور اسے اپنا جنگل سمجھ کر دوسروں کو نوچ رہے ہیں ۔ وہ شہر جہاں جنگل کے قانون سے بھی بدتر راج ہے، میرے دیس کی شریانوں میں لہو کی مانند ہے مگر کبھی سرخ اور کبھی سفید خلیوں کی زیادتی کا شکار ہو جاتا ہے۔
میں وسائل کے لیے محتاج ہوں نہ کوئی چھوٹا لڑکا ہوں ۔ اپنے شہر میں ، جو کبھی اپنے آپ میں بڑا پر سکون ہوتا تھا اور اب تبخیر معدہ کا شکار ہے جس کے سبب گیس اس کے سر کو چڑھ گئی اور یوں ہمہ وقت کن پٹیاں دکھتی رہتی ہیں ، آدھی آدھی رات کو بھی بے مقصد گھر سے نکل پڑتا ہوں اور گاڑی میں گھومتا رہتا ہوں لیکن میں پرانی بندرگاہوں کا دیس دیکھنا اور نئی بندرگاہ کے ساتھ انگڑائیاں لے رہی دھرتی کو بھی چومنا چاہتا ہوں ۔ پھلوں اور پھولوں سے لدے ہرے بھرے باغوں سے سجی دھرتی کا نظارہ کرنے کی آرزو ہے جو جنگجوؤں اور جارحیت پسندوں کا کھیل تماشا دیکھنے والے سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان لے جاتی ہے۔ جی چاہتا ہے کہ مرغزاروں کے دیس میں جاؤں ۔ صحرا کی ریت کو ناک کے راستے اندر گھستامحسوس کرنے کی آس میں سفر کروں ۔ ٹھنڈی نیلی جھیلوں میں ٹانگیں ڈبو کر کسی سے ڈھیر ساری باتیں کروں ۔ پرانی بستیوں پر بوجھ بنتے نئے شہر دیکھوں ۔ جب تھک جاؤں تو ان سخت جان یودھاؤں کی دھرتی پر بسیرا کروں جنہیں لوری ملتی ہے۔ ۔ ۔ ’میرا پھول سا بچہ جواں ہو گا۔ ۔ ۔ کاندھے پہ رکھ بندوق رواں ہو گا‘
اس دھرتی کے متعلق عجیب و غریب آوازیں کانوں میں پڑتی رہتی ہیں مگر ہر بات سے یہی بات نکلتی ہے کہ جو دھرتی سونے سے زیادہ قیمتی ہے، اُس کے باسیوں کو روٹی بھی پوری نہیں ملتی اور تکلیف دہ امر یہ ہے کہ اُن کے مصائب کے لیے ذمہ دار بھی کوئی نہیں ٹھہرایا جاتا۔ مرکز میں بیٹھے حکمران ہوں کہ صوبے کی مالک بنی حکومت یا سردار۔ ۔ ۔ کوئی اپنا گناہ قبول کرنے کو تیار نہیں ۔ ایک دوسرے پر انگلی اٹھاتے ہیں اور مرتے وہی عام آدمی ہیں جو دنیا بھر میں مر رہے ہیں ۔
پیسے کی ریل پیل ہو تو لوگ گھر سے نکلتے ہیں لیکن میں گھر میں گھسا رہتا ہوں ۔ ٹی وی پر سمندر کی ہیبت ناک خوبصورتی دیکھ کر اسے چھونے کی تمنا کرتا ہوں اور خواب دیکھتا ہوں کہ میں ہوا کا دروازہ کھول رہا ہوں ۔ آنکھیں بند کیے، بانہیں پھیلائے، ریت میں پاؤں دھنسائے کھڑا ہوں ۔ سمندر پر تیرتی ٹھنڈی ہوا میرے روم روم میں اطمینان کی لہر بھر رہی ہے لیکن گرم ہوا کا جھونکا مجھے جگا دیتا ہے۔
میرا خوف بے سبب ہے نہ مَیں اکیلا اِس میں مبتلا ہوں ۔ میں ایک عام آدمی ہوں اور مجھ ایسے بے شمار ہیں جو اپنوں کی نفرت کا شکار ہیں ۔ ایک عامی کی دوسرے سے نفرت سمجھ سے بالاتر ہے مگر دیسی اور بدیسی خواص کی مہربانی ہے جو چہرے بگاڑ بگاڑ کر نفرت کا بازار گرم رکھتے ہیں اور اپنا کاروبار چلاتے ہیں ۔ ۔ ۔ لیکن بگڑے ہوئے چہروں پر ملا ہوا گند صاف کرنے کے لیے کوئی نمکین پانی دینے کو تیار نہیں ، سمندر سے بھی زیادہ نمکین پانی۔ ۔ ۔ اتنا کہ پانی نہیں رہتا، تیزاب بن جاتا ہے جو سب صاف کر دیتا ہے۔ اگر یہ کہیں باہر سے مل گیا تو صفائیکیسے ہو گی؟ صرف کالک اترے گی یا چمڑی بھی پگھل جائے گی اور میں اپنے دوست کی طرح پہچانا نہیں جاؤں گا جو بھری جیب لیے پھل کے ساتھ گھنی چھاؤں دینے والے درخت لگانے خواب نگر گیا تھا یا آج خبر بنے ان گورے چٹے محنت کشوں جیسا انجام ہو گا جو روٹی کے چند ٹکڑوں کے عوض اپنوں سے بہت دور کسی کے چمن کی آبیاری کے لیے پسینہ بہانے جا رہے تھے لیکن شناخت کر کے ناقابل شناخت بنا دیے گئے۔

Similar Posts:

Adam Sher
READ MORE FROM THIS AUTHOR

Adam Sher is a P.h.D doctor and a young fiction writer from Pakistan. He was an active literary personality during his student life and developed an interest in Urdu literature in his childhood. He worked in the ‘Daily Nai Baat’ news media company. 

Read more from Adam Sher

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

September 2021
M T W T F S S
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  
Show Buttons
Hide Buttons