دوسرے آدم کی اولاد ۔۔۔ افضل توصیف

دوسرے آدم کی اولاد

( افضل توصیف )

کہتے ہیں پرانے وقتوں کا ایک خدا تھا۔ خدا نے دو آدم بنائے۔ بڑا آدم  اور چھوٹا آدم۔ شکل و صورت میں وہ دونوں سگے بھایئوں جیسے تھے۔ مگر دراصل ان دونوں کی سرشت میں سوتیلے پن سے بھی زیادہ فاصلہ تھا۔

پہلا آدم  یعنی بڑا آدم کچھ مغرور کچھ تند خو اور خود سر تھا۔ اسے صرف اپنے آپ سے محبت تھی۔ دوسرا آدم یعنی چھوٹا آدم کچھ سیدھا، کچھ بھولا اور بہت شرمیلا تھا۔ اسے خدا سے بہت محبت تھی۔

خدا نے دونوں بھایئوں کو خلق کرنے سے پہلے ان کے لئے جنت بھی بنائی، پھر دونوں کو ایک ساتھ جنت کی طرف روانہ کیا کہ جنت آباد ہو۔ بڑا آدم تیز تیز قدموں سے چلا۔ وہ نئی نکور جنت میں اس طرح دراتا ہوا داخل ہوا جیسے کوئی اپنے گھر آتا ہے۔ چھوٹا آدم سہم سہم کے چلا۔ اس نے جنت میں اس طرح قدم رکھا جیسے کوئی خدا کے آنگن میں پاوں دھرتا ہے۔

پہلے آدم نے پہلے آ کر جنت کے گوشے کو آنکھیں پھاڑ کے دیکھا۔ ایک ایک پھل کو منہ بھر کے کھایا۔ بہت جلد اس نے شجر ممنوعہ کو بھی پا لیا۔ پھر جب کوئی نئی چیز باقی نہ رہی تو بڑا آدم دیواروں سے گھری ہوئی اس چھوٹی سی جنت سے بور ہوا۔ کسی نئی انوکھی شے کی جستجو میں جنت کی اونچی اونچی فصیلوں سے جھانکنے کی تمنا اس کے دل میں جاگی ، تو بے قرار ہوا۔ پھر ایک دن لمبے اونچے شجر کی سیڑھی بنا کر اس نے یاقت کی دیوار سے باہر جھانکا تو اسے زمین دکھائی دی۔ مٹی کی زمین۔  نرم گرم اور ٹھنڈی زمین کتنی بڑی۔۔ لمبی چوڑی گول چوکور اور کھلی زمین کہیں دھوپ میں کھلی،  کہیں سمندروں میں ڈوبی ، کہیں اندھیرے میں ڈھکی، کہیں کہیں چاندنی میں دھلی ، کہیں سبز کہیں زرد ، زمین ہی زمین یہ منظر اس نے دیکھا اور ایکا ایکی اپنی حوا کا ہاتھ پکڑ کر جنت پر آخری نگاہ کیے بغیر دوسری طرف کو دگیا ۔ دھرتی کی جوگن نے جب آدم جوڑے کو زمین کی طرف آتے دیکھا تو اپنی زلفوں کے نرم راستے بنائے اور ان گنت جنتوں کے دروازے ان کی پذیرائی کے لیے کھول دیے۔

 ادھر دوسرا آدم یعنی چھوٹا آدم ابھی تک جنت کے پہلے گوشے میں بیٹھا تھا وہ جنت کے پکے اور میٹھے میٹھے میوں کو چپ چاپ سی نظروں سے تکتا تھا مگر ہاتھ لگاتے ڈرتا تھا۔مبادا ان میں کوئی ثمر ممنوعہ نہ ہو۔

فرشتوں نے  پہلے آدم کی گستاخی کے بعد دونوں کو گناہ کاروں میں لکھا اور اپنے رب کی طرف سے دوسرے آدم کو بھی جنت سے نکل کر دنیا کی طرف چلے جانے کا فرمان سنایا۔ چھوٹا آدم اپنے ناکردہ گناہوں پر نادم ہوا۔  اس نے اپنی اطاعت کو رائیگاں جانے پر تاسف کیا۔ پھر اس خوشی کے ساتھ  دنیا کی اور چلا کہ وہاں اسے بڑا بھائی ملے گا اور باغوں میں کسی شجر ممنوعہ کا ڈر بھی نہ ہوگا لیکن جب اس نے زمین کے کنارے پر قدم رکھا تو ایک للکار سنی۔ ” اس زمین پر آلودہ قدم رکھنے سے پہلے سن لو یہ ساری زمین ہماری ملکیت ہے یہاں صرف ہمارا دستور چلتا ہے۔ تم خدا کی جنت  میں واپس چلے جاؤ یا پھر ہمارے اگلے حکم تک وہیں کھڑے رہو۔”

 دوسرا آدم اس آواز کو سن کر سکتے میں آگیا۔ یہ اسکے  بڑے بھائی کی آواز تھی۔ انتظار کرنا اس کا مقدر ہوا اور وہ دیر تک اسی جگہ کھڑا رہا اس طرح کے اس کا ایک قدم زمین کے کنارے پر لٹکا تھا اور دوسرا ہوا میں معلق تب ہی ایک بہت اونچے ایوان کی کھڑکی سے کسی نے گندم کے بیجوں کی تھیلی اس کے سامنے پھینکی اورآواز لگائی ”  تم اس زمین پر قدم رکھنا چاہتے ہو تو سنو۔اس شرط کو مانو۔ تم اس دھرتی کو اپنے ناخنوں سے کھودو گے۔ بہت سے کھیت بناؤ گے پھر ان کھیتوں کو اپنے پسینے سے سینچو گے۔ ان میں بیج ڈالو گے اور  جو کمی رہ جائے گی اسے اپنے خون سے پورا کرلو گے۔  پھر جب سونے کے رنگ کا کھلیان پکے گا تو ہرگز ہرگز اس پر اپنا حق نہیں جتاؤ گے۔”

 اس بات کو ہزاروں لاکھوں برس گزرے۔ تب خدا نے بڑے آدم اور چھوٹے آدم کو یاد کیا۔ اپنے پاس بلایا۔ فرشتہ لینے کو آیا ۔ اس وقت  بڑا آدم مخمل کے گدیلوں والے پلنگ پر لیٹا تھا۔ اس  کے سر کے نیچے سچے ریشم کا تکیہ تھا اور تکیے کے نیچے ایک سنہرا کاغذ رکھا تھا۔ یہ کاغذ وراثت نامہ تھا  10 لاتعداد مکانوں کا بے حساب زمینوں کا سونے چاندی کے انباروں کا ، ہیرے جواہرات کے ڈھیروں کا  دوسری قسم کی دولت کا۔  یہ دولت بڑے آدم نے اپنے بچوں کے لئے چھوڑی تھی۔

اس وقت دوسرا آدم   کچی مٹی کے بستر پر سویا تھا اس کے سر کے نیچے پکی اینٹ کا تکیہ تھا اس کے فاقوں مارے پیٹ پہ ایک میلہ کاغذ لپٹا پڑا تھا۔ یہ کاغذ شجرہ تھا  چھوٹے آدم کی بے حساب اولادوں کا۔ اس شجرے کے او پر نیچے دائیں بائیں ورثہ لکھا تھا بے شمار دکھوں کا، لاتعداد فاقوں کا اور ان گنت افاقوں کا۔

اس شجرے میں  اپنا نام پڑھ کر دکھوں کو سہہ کر فاقوں میں رہ کر آج میں نے یہ جانا ہے کہ آدم دو تھے اور میں دوسرے آدم کی اولاد ہوں۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: