بند آنکھوں کے پیچھے ۔۔۔ احمد جاوید

بند آنکھوں کے پیچھے

( احمد جاوید )

گلاب کے پھول اور اخبار کی خبریں ۔۔۔۔۔۔۔  میرے لیے تو کچھ بھی نہیں

میرے لیے تو میری سایئکل ہے کہ جس کی چین بار بار اتر جاتی ہے اور میں ہر بار رک جاتا ہوں، اتر آتا ہوں۔ اور جب رکتا ہوں تو سلسلے ٹوٹ جاتے ہیں اور میں بھول جاتا ہوں کہ میں کون ہوں ۔۔۔۔ ؟ صدا لگاتا ہوں تو کہیں سے ایک ہجوم نمودار ہوتا ہے اور میرے ساتھ مل کر صدا لگاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ” ہم کون ہیں ۔۔۔۔ ہم سب کے لیے کچھ بھی نہیں۔ “

میں اپنی سایئکل سے تھیلا اتارتا ہوں جو میری بیوی نے لٹکا رکھا ہے اور ان کے ساتھ شامل ہو جاتا ہوں ۔۔۔ ہاکر آتے ہیں اور اخبار الٹ الٹ کر اسے خبروں سے بھر دیتے ہیں۔ میں اسے پھولا ہوا دیکھتا ہوں ، اندر جھانکتا ہوں، اندر کچھ بھی نہیں۔ مگر سوں سوں کرتی خبریں جو میری آنکھوں کی راہ ، کانوں کی راہ، میرے اعصاب سے کلبلاتے ہوئے کیڑوں کی طرح چمٹنے لگتی ہیں۔ تب میں اپنی سایئکل کی چین چڑھاتا ہوں اور پھر اپنے سفر کا آغاز کرتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ میں کیوں رک گیا تھا۔

سوچنے والوں کے لیے تو کچھ بھی نہیں مگر ان کی آنکھیں ۔۔۔۔ جام جمشید آنکھیں۔۔۔۔تو ہمارے لیے سب کچھ بند آنکھوں کے پیچھے ہے ۔۔۔ ہم آنکھیں کیوں کھولتے ہیں ۔۔۔ خوابوں کا حصار کیوں توڑتے ہیں۔

تو میں آنکھیں کیوں کھولتا ہوں، شاید اس لیے کہ میری سایئکل کی چین اتر جاتی ہے۔ سلسلے ٹوٹ جاتے ہیں، سلسلے ان دنوں کے جو مہندی کی باڑھ تھے، چمبیلی کی بیل تھے۔

تو اے عمر !  ( میں تجھ سے مخاطب ہوں ) تجھے یاد ہے ۔ بند آنکھوں کے پیچھے کیا تھا ۔۔۔ کیا تھا ؟

متعفن گلیاں نہ تھیں، ٹوٹے کواڑ نہ تھے، ادھڑے صحن نہ تھے، گلاب کے پھول تھے، ببول نہ تھے ۔۔۔ بند آنکھوں کے پیچھے۔

اک تتلی تھی، پھول پھل، پات پات، ہری ٹہنیوں پہ جھولتی، رقص کرتی ہوئی تتلی

بند آنکھوں کے پیچھے ۔۔۔ میری آنکھیں، میرے خواب

میں اپنی آنکھوں کو روتا ہوں اور خوابوں کو ۔۔۔۔ کہ وہ اک زمانہ تھا جب آنکھوں پہ خواب اترتے تھے، یہ کیا عہد ہے، عتاب آتا ہے، عذاب اترتے ہیں۔

تو اب وہ خواب بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دن بھی دیکھے جب پھول کھلیں نہ کھلیں خوشبو آتی تھی، خود اپنے بدن سے آتی تھی، یہ ہوا کیسی چلی ہے ، پھول کھلے تو بے رنگ، خوشبو آئی تو بے باس۔۔۔۔وہ رتیں بھی کیا رتیں تھین، یہ موسم بھی کیا موسم ۔۔۔ نہ وہ گلشن، نہ وہ پھول نہ وہ پات ۔۔۔۔نہ وہ تتلی

تتلی میرا دل

تو اے عمر ! تجھے یاد ہے میرے بچپنے کا کھیل۔ تو وہ ایک تتلی تھی، محض ایک تتلی، ہری ٹہنیوں پہ جھولتی، رقص کرتی، میری آنکھوں سے دور، ہاتھوں سے دور، کہیں سبز پتوں میں روپوش ہوئی ۔۔۔ میرا ننھا سا دل دھک سے رہ گیا۔

اس شام میں دیر تک جاگا، اوپر آسمان پہ ستارے نہ تھے تتلیاں تھیں ۔۔۔ مگر دور، بہت دور، میری پہنچ سے باہر، میں اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے انہیں اچکنے کی کوشش کرتا رہا۔ ۔۔۔۔ پھر رات ڈھلی۔

رات ڈھلی تو اندر اک اور دروازہ کھلا، اک اور جہان ملا کہ جس کی مجھے خبر ہی نہ تھی ۔۔۔ اور وہ تتلی جو جاگتے میں گم ہوئی تھی کہیں سے آئی اور منڈلاتی پھری کہ اندر باغ تھے، باغیچے تھے ۔۔۔ باغ باغیچے، میرے خواب

آہ۔ میں نے اپنا بچپن گنوا دیا ۔۔۔ بچپن میرا تتلیوں سے بھرا گھر آنگن۔

میں نے آنکھیں کھول دین اور سایئکل کے کیریئر سے نیچے اتر آیا ۔۔۔ کہ میرے باپ کی سایئکل کی چین اتر گئی تھی اور تتلی میری آنکھوں سے نکل کر فضاوں میں گم ہو چکی تھی۔ تو جب ایسا ہوتا تو میں آنکھیں کھول دیتا، سلسلے ٹوت جاتے اور میں بھول جاتا کہ میں کون ہوں ۔۔۔۔

میرا باپ سنتا اور سن کر کھانسنے لگتا، تو جب وہ کھانستا تو میری ماں نعرے لگاتی ۔۔۔۔اور دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے ارد گرد خبروں کے ڈھیر لگ جاتے، جیسے مردہ جسموں سے کیڑے چمٹ جایئں۔ تو تب میں گھبرا کر اٹھتا اور ڈیوڑھی کے دروازے پر پیوند لگے ٹات کے ادھڑے ہوئے پردے کو اٹھا کر باہر نکل آتا ۔۔۔۔ اور باہر گلی میں تمام شہر کے لڑکے جمع ہو جاتے اور سب پوچھتے ہم کون ہیں۔ اور کسی کو معلوم نہ ہوتا۔ تو ہم خود کو تلاش کرتے ہوئے، گلیوں اور سڑکوں پر پھیل جاتے تو ہمارے چاروں طرف اندھیرا ہوتا کہ بند آنکھوں سے باہر اندھیرا ہی تو ہے۔

آسمان پر سیاہ بادل گرجتے اور بجلیاں چمکتیں تو مجھے یاد آتا کہ میں بھول گیا تھا ۔۔۔ تو لڑکپنے میں کون یاد رکھتا ہے کہ میں کون ہوں۔ لڑکپن تو بند آنکھوں کے پیچھے پاگل ہوا ہے ۔۔۔۔( رنگوں بھری تتلی )

تو اے عمر۔ تجھے خبر ہے لڑکپن مین بند آنکھیں کیا کہتی ہیں۔۔۔۔۔ کہتی ہیں نعرے نہ لگاو ۔۔۔ یہاں آو ۔۔۔ یہاں بن ڈونڈھے ملتا ہے۔ تو وہ اک جہان تھا جہاں ہم آباد تھے۔ ہوا آتی تو پھول کی پتیاں بھی لاتی اور ہمیں لاد لاد جاتی۔ وہ جاڑے کی لذت آفریں شامیں اور آتشدان ۔۔۔ آتشدان جو ہمارے دلوں میں دہکتا تھا۔ وہ گرمیوں کی دوپہریں اور آسمانوں پر اڑنے والی اکیلی چیل کی سنسناتی ہوئی آواز ۔۔۔آواز اور ہماری سوتی جاگتی آنکھیں۔ آنکھیں کہ جن کی کھڑکیاں باغ باغیچوں کی طرف کھلتی تھیں۔ کھڑکیاں ۔۔۔ کہ یہاں سے میں اسے دیکھتا تھا، لہراتے ہوئے منڈلاتے ہوئے ، رقص کرتے ہوئے ۔۔۔مگر میں نے اپنے آپ کو دیکھنا ترک کیا اور آنکھیں کھول دین۔ ۔۔۔۔ تو جب میں نے آنکھیں کھول دیں تو رقص ختم ہوا کہ پل پل ہجر کے دنوں کے آغاز کی نوبت بجتی تھی۔ اندھیرا چلا آتا تھا۔ تو کل سے ہمیں اپنے راستوں پہ ہونا ہے۔۔۔ تو ہم نے دیکھا کہ درختوں پہ سہمے ہوئے پرندے ہمیں دیکھتے تھے کہ ہم بہت اداس تھے۔

وو دیکھتے تھے کہ بھیگی بھیگی نرم ریت پر ہمارے قدموں کے نشان صبح نہیں ہوں گے۔ صبح جب دریا انگڑائی لے گا اور کناروں پر لوٹ لگائے گا، تو ہم نہیں ہوں گے۔ ہمارے قدموں کے نشان نہیں ہوں گے، تو کل جب ہم الگ الگ کبھی ادھر سے گزریں گے تو دریا ہمیں پہچانے گا بھی نہین، دیکھے گا بھی نہیں۔

( تو اے دریا تُو تو مثال عمر ہے۔ نہ کسی کی شناخت، نہ کسی کی پہچان، سب نقش سمیٹ لیتا ہے اور مٹا دیتا ہے )

تو وہ نقش مٹ گیا جو مین نے ریت پہ بنایا اور میری عبادتیں دریا کی نذر ہویئں۔ تو میری کھلی آنکھوں نے وہی دیکھا جو ہم دیکھنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔میں نے اپنے باپ سے پوچھا، میرے لیے کچھ بھی نہیں۔ وہ سائیکل کی چین چڑھا کر اٹھ کھڑا ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے پہاڑ کی کھوہ بن گیا۔ اور کہیں سے دریا شور مچاتا ہوا آیا اور دھاڑتا ہوا اس کے اندر سے گزرنے لگا ۔۔۔ تو میں نے دیکھا کہ صدیوں سے جو نقش دریا پہ رقم ہوئے تھے ٹوٹی ہوئی سیپیوں کی طرح میرے سامنے آ کر گرنے لگے، بکھرنے لگے۔ ۔۔۔۔۔ تو ہمارے لیے سیپیاں ہین جن میں موتی نہین ۔۔۔۔ موتی بنانے والے کیڑے ہین جو رفتہ رفتہ دم توڑ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ موتی تو آنکھوں میں ہیں۔۔۔۔ تو اس نے آنکھوں کو بند کر لیا، موتیوں کو ظاہر نہ ہونے دیا۔

میں نے اس کی بند آنکھوں پہ اعتبار کیا اور اپنی آنکھیں کھول دیں۔ ۔۔۔۔ تو جب آنکھیں کھولیں تو اندھیرا بہت تھا۔۔۔۔۔ بس بالوں کی چاندی چمکتی تھی۔ تو جب بالوں کی چاندی چمکتی ہو تو بند آنکھوں کے پیچھے تتلیوں کے رنگ اڑ جاتے ہیں۔ اور آنچل میلے ہو جاتے ہیں، باغ، باغیچے اجڑ جاتے ہین اور بگولے رقص کرتے ہیں۔مگر ہمارے لیے یہی سب کچھ ہے۔

ہمارا سب کچھ بند آنکھوں کے پیچھے ۔۔۔۔۔

میں اس سے کہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ سنتا ہے، اعتبار نہیں کرتا۔

مجھے اعتبار ہے مگر میرے بیٹے کو نہیں۔ وہ مجھے سنتا ہے، نفی میں سر ہلاتا ہے اور سائیکل کے کیریئر سے اتر کر ہجوم میں گم ہو جاتا ہے۔ میں ہجوم میں جھانکتا ہوں، وہ مُکے لہرا کر نعرے لگاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔ وہ کہتا ہے گلاب کے پھول اور اخبار کی خبریں سب میرے لیے ہیں ۔۔۔۔

میری بیوی سنتی ہے اوت تھیلے میں سے اخبار کی خبریں نکال نکال کر اس کے تکیئے میں بھرتی ہے۔ مگر وہ رات بھر نہیں لوٹتا۔

میں اس کے لیے اس کے بستر پر گلاب کے پھول اگاتا ہوں اور تتلی آتی ہے۔ منڈلاتی ہے ۔۔۔۔ وہ دیواروں پر پوسٹر چسپاں کرتا ہے اور نعرے لگاتا ہے۔ وہ مجھ جیسا ہے اور مجھ جیسا نہیں۔ میرے لیے سب کچھ بند آنکھوں کے پیچھے مگر وہ آنکھیں کھلی رکھتا ہے کہ اس کے لیے بند آنکھوں کے پیچھے کچھ بھی نہیں۔ مگر اخبار کی خبروں سے بھرے تھیلے  ۔۔۔ اسے اعتبار ہے مگر مجھے نہیں۔۔۔۔

میرے لیے تتلیاں ۔۔۔۔ سب تتلیاں۔۔۔۔۔

بند آنکھوں کے پیچھے ۔۔۔۔۔۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: