ایک چھوٹے شاعر کی ۤآخری نظم ۔۔۔ عاصم جی حسین

ایک چھوٹے شاعر کی آخری نظم

عاصم جی حسین

“وہ نہیں آیا”

دہلیز پہ پڑی آنکھوں نے

دروازے سے سرگوشی کی

دل نے اہٹ کی تنہائی سے مصافحہ کیا

تصویر نے خاموشی کے رنگ پہنے

درد چپ کی پناہ میں ہوا

دکھ نے کچھ نہ کہنے کا حلف اٹھایا

آنکھوں نے چلتے منظر کو افسردہ ہو جانے کا سندیس بھیجا

“وہ نہیں آیا”

احتجاج سے زندہ لوٹ آنے والے شہیدوں کی جیب میں پڑے نوٹوں پہ

قلعے کی نہیں زنجیروں کی تصویریں چھپی تھیں

اعظم نام کے ہر فرد نے قائد بننے سے انکار کر دیا

ہمارا ملک ایک شاعر کے wet dream کی تعبیر ہے

فروخت شدہ سرخ نعرے میں

سیلن سے لتھڑے ہوئے چکٹ اندھیرے کی بو شامل تھی

ٹکٹکی پہ لگے خوابوں کے جسم

درے کھاتی چیخیں

اور سنگسار ہوتے پتھر

ہم سب ایک دوسرے کے عقیدے سے زنا کرنے کے مجرم ہیں

متروک ریلوے اسٹیشن پہ

“موٹی اون کی ٹوپی پہنے کلرک” کے کان فراسٹ بائیٹ کا شکار ہو گئے

انگلیاں کاٹ دی گئیں

ٹکٹوں کا اجراء بائیو میٹرک سے مشروط کر دیا گیا

مسافروں نے اپنے پاؤں ادھیڑ کے کھڑکیوں سے باہر لٹکا دئیے

سفر ٹرین کے منہ پہ تھوک کے چلا گیا

ٹریک پہ پڑے جسم کے ٹکڑے

ایمبولینس کے انتظار میں بور ہوتے رہے

بھیک مانگتے بچے نے

جس چیز کو ہاتھ لگایا

وہ سونے کی ہو گئ

یہ منظر دیکھ کے منظر حیران رہ گیا

“رات گر” کی انگلیاں میرا سورج بنانا بھول گئ تھیں

اندھیرا میرے قدموں پہ دوسروں کی منزلیں تعمیر کرتا رہا

میں نے کئ بار “2 سے 12″تک پیدل چل کے دیکھا

لیکن کبھی بھی”دوبارہ” خود تک نہیں پہنچا

ضائع ہو جانے سے رائیگاں ہو جانے تک کی داستان

زندگی ہے

مشاعرے کے اختتام پہ

فی شاعر ڈھائی درجن واہ واہ کی اوسط رہی

پردہ گر گیا

اب عاصم کبھی نظم نہیں لکھے گا

عاصم

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.