فعل حال مطلق ۔۔۔ اسلم سراجدین

فعل حال مطلق

( اسلم سراجدین )

غزالی اور میں۔۔۔۔

 میں اور غزالی۔۔۔۔

ہم دو معلم اور ہم دونوں کے متعلمین! واہ! آہ! جس قدر تفاوت ہم دونوں میں تھا اس سے کہیں زیادہ ہمارے متعلمین میں۔

غزالی کے طالب علم۔۔۔ مطیع، لچیلے، متوافق کہ چاہو تو کوٹ کر ورق بنالو یا تار کھینچ لو۔اور چاہو تو پانی کے چار چھینٹے دو اور ان کی مٹی تودوں میں تبدیل کردو۔ پھر چاک پر رکھو اور ان تودوں کو جو چاہو صورت دے دو۔ گدھا، گھڑا، گھگھو گھوڑا، کچھ بھی بنا لو۔

اکثر غزالی ان گدھوں پر اپنے افکار لاد کر انہیں سونٹا دکھاتا اور و ہ ادب، فلسفہ، سیاسیات یا انسانیات کے کسی اور شعبہ میں جاکر، وہاں موجود معلم کو ہٹا کر خود تعلیم کرنے لگتے۔شیکسپئیر کو وہ کردار نگاری اور میر کو مصرع سیدھا کرنا سکھاتے۔ کیٹس ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرتااور جیسا کہ وہ کہتے اپنے تصور جمال میں ترمیم و تنسیخ کرتا۔ چغتائی اور امرتا شیر گل کو وہ خط و خم کی باریکیوں سے آشناکرتے۔ پینٹنگ کے لیے محنت سے تیارکردہ کینوس پر کود کر اسے پاؤں سے پرو لیتے اور ٹاپتے ہوئے کہتے کہ وہ تحریری اور تجریدی تصویر کچی کررہے ہیں۔ہائی انرجی فزکس کے پروفیسر کی جان یہ پوچھ کر ضیق میں کردیتے کہ جنات کی پوٹینشل انرجی کو برقی رو میں کیسے تبدیل کیاجاسکتا ہے۔وہ غریب بغلیں جھانکتا یاخفگی دکھاتا تو وی سی کاگھیراؤ کرلیتے اور گھیرا اس وقت تک تنگ کرتے رہتے جب تک کہ پروفیسر موصوف جنات کی تلاش میں فیکلٹی سے نکل نہ جاتے۔

اورماضی کی کوک ان میں غزالی نے اتنی بھر دی تھی کہ وہ ہمیشہ پر لپیٹے عقب کے عازم رہتے۔ اس کے لیے انہیں کچھ تردد بھی نہ کرناپڑتا۔ بس غزالی ذرا انہیں اس بلی کی طرح، نظرجماکردیکھتا، جس کی چوہے پر جمی ٹکٹکی دیکھ کر عارضی نیند میں بھیجنے کا طریقہ دریافت ہواتھا۔ بسااوقات غزالی کویہ بھی نہ کرنا پڑتا اوروہ بیٹھے بٹھائے ماضی میں چلے جاتے اورکچھ دیر اس کی جنت میں جی آتے۔

اور آتے تو بس حال کی شامت آجاتی۔ وہ اسے اپنی پر شباب ٹھٹھول پررکھ لیتے۔ آوازیں کستے، اور آگے لگاکر برآمدوں میں دوڑائے پھرتے۔ بکرے بلاتے۔ ماضیہ کتابوں کے عرس مناتے، کبھی پالکی نالکی میں سوار کراکے ان کی بارات ماضی کے گھر لے جاتے اورحالیہ کتابوں کے پرزے کر کے ماضی کے باراتیوں پر لٹاتے۔ اس پر بھی ان کی پرشباب روح کے دانت ٹھنڈے نہ ہوتے تو ایک ذرا تفریح کے لیے قساوت کی کایا لے کر یہ روح بھی شقاوت پر اترآتی، گرچہ یہ شقاوت بھی تقدیس کاگہرارنگ لیے ہوتی اور ان کا ہر عمل کسی ابدی طورپراہم پیشن پلے کا حصہ معلوم ہوتا۔ حال کے چار ابروؤں کا صفایا کرکے وہ اس کامنہ کالاکرتے اور گدھے گدھی پر بٹھا دیتے اور تب۔۔۔۔

حال کو یوں خر سوار دیکھ کر، انکے دانتوں میں لذت کی میٹھی للک اٹھتی اور وہ بتیسی میں سے نکل نکل پڑتے۔ اکثر کا جذبہ جنوں کچھ کرگزرنے کے لیے انکی انگلیوں پر ناخنوں کی صورت بڑھ آتا۔ تیز آہنی ناخون۔ اورجو ابھی خام تھے، جن کے جنون کی مسوں کو ابھی بھیگنا تھا، جو جذبے کے ناخنوں کو آہنی نہ کر سکتے تھے وہ، وہ گرا پڑا، کوئی پتری پترا، کانچ کا ٹکڑا یا کنکر ہی اٹھا لیتے اور سرشاری کے ایک بے پایاں احساس کے ساتھ حال پر پل پڑتے اور لہوکی ایک، کم از کم ایک لکیر ضروراس پرکھینچ دیتے اورجب حال کا بدن، اجتماعی آرٹ کے ریڈ پیریڈ کاایک نمونہ بن جاتا تو۔۔۔۔ کچھ فاصلہ دے کرکچھ دیر تک وہ ایک خارجی معروضی انہماک سے اس نمونے کاجائزہ لیاکرتے اور پھر اسے اسناب کیوبک آرٹی حلقوں میں قابل قبول بنانے کے لیے حال کا ایک کان کاٹ کر اس کے منہ میں گھسیڑ دیتے اور ہونٹ کاٹ کر پیشانی پر سی دیتے۔ پیچھے اس Praxis ، اس رسم و عمل کے، غزالی کا یہ نظریہ کارفرما ہوتا کہ عہد حاضر افراط سمع و بصر کا شکارہے۔ اس لیے جہاں اور جب ممکن ہو حواس خمسہ کی کتر بیونت کرتے رہنا چاہیے۔ مثال کے طور پر وہ کہتا: اس تکونی بناوٹ ناک ہی کولو۔ تنفس کے لیے یہ بلاشبہ ضروری ہے گرچہ لابدی اور ناگزیرنہیں۔ مگرشامہ، اس سونگھنے کی حس کاکیا تک، کیاجواز، کیاضروری ہے یہ؟یہ بے تک، بلاجواز اورغیر ضروری ہی نہیں بلکہ مفسدانہ حد تک سینہ زور ہے۔یہی توہے جو ناک کے واسطے سے پورے نظام میں بلوہ کردیتی ہے۔ اورمادر زاد اندھوں تک کوغلاظت کے ڈھیر دکھائی دینے لگتے ہیں اور وہ انہیں تلف کرنے کے لیے اوپری نچلی پرتوں ہی کو نہیں زمین آسمان کو بھی ایک کرنے پر تل جاتے ہیں۔ یادرکھو میرے بچو، غزالی کہاکرتا، یہ ناک ہے جو سماج کوبدبو دیتی ہے۔ اگرناک نہ ہو تو بدبوبھی نہ ہو۔ اس لیے جب اورجہاں موقع پاؤ ناک کو کانٹ چھانٹ دو۔ یہ کارخیر ہے، تقویٰ ہے۔ آخرت میں اچھا گھر پانے کاذریعہ ہے۔

ایک فلک شگاف نعرے کے ساتھ وہ ہجوم ہنگامہ جو حال کی ناک کاٹتاہے اورحال کی سواری کی گدھی کی دم ذرااٹھا کرلید اگلتی سرخی میں گھسیڑ دیتاہے اور یہ سوچ کرکہ حال کی یہ ابتلااسکے لیے کس قدر نشاط انگیزہو گی ان کے منہ میں پانی بھرتاہے اور اذیت کی لذت آگینی سے ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ تن کھڑے رونگٹے دیکھ کر ہجوم میں شامل لڑکیاں وہیں گرد آلود راستے پر بیٹھ جاتی ہیں اور گھٹنوں کو بازوؤں میں سینے کے ساتھ کس کر سسکاریاں بھرتی ہیں۔

تب ان کا بہجت بھراہیجان اچھل اچھل کر بہتا ہوا ایک دھرتی دھکیل نعرہ لگاتااور ۔۔۔۔ جب حال کے بہتے ہوئے لہو میں ان کے دل کاغذ کی کشتی کی طرح رواں ہوتے اور ان میں سے ہر ایک آپس بالک کی طرح مسرور ہوتا جو پانی میں کشتی چھوڑ کر اس کے ساتھ ساتھ آہستہ کبھی تیزچلتا، کبھی دوڑتا ہے، حال کے تازہ بہ تازہ لہو کا گرم جوش بہاؤ گدھی کا خاکستری بانا سرخ کرچکا ہوتا اور دم کے ساتھ ساتھ بہتے ہوئے جاکر نوک دم سے ثانیہ بہ ثانیہ ٹپکتے ہوئے دم کو بھی اس نے دم گھڑی میں بدل دیا ہوتا۔ اور ٹانگوں کے ساتھ ساتھ بہتے ہوئے جا کر جس نے گدھی کے ناخنوں کو بھی آرائش کی سرخ چمک دے دی ہوتی۔ اوروہ گدھی لہو سے چمکتے اپنے ناخنوں کی زیبائش دیکھ کر خوش ہو ہی رہی ہوتی کہ دھرتی دھکیل نعرے کے اثر سے بدک اٹھتی اوراس پر لدی حال کی نیم جانی نیچے آپڑتی۔

تم پوچھو گے بھتیجے کہ جب یہ بپتا حال میں دانت گڑوتی ہے تو دیوتا کہاں ہوتے ہیں۔کہاں ہوتے ہیں وہ خدا جو کرونوس کو، وقت کو، عزیز رکھتے ہیں۔ اس قدر عزیز کہ اپنے کو وقت سے جدا نہیں سمجھتے ہیں۔ وقت خدا، خدا وقت۔ ارے بھتیجے دیوتا تو برآمدوں ہی میں سے دم دباکر بھاگ نکلے تھے۔ باقی رہا وہ جسے تم خدا کہتے ہو تو۔۔۔۔ بھتیجے اس کے کیے زمین ویران اور سنسان ہے اور گہراؤ کے اوپر اندھیرا ہے اور اس کی روح پانی کی سطح پر جنبش کرتی ہے یعنی مزے سے سوئمنگ۔ تم کہو گے یہ تو پیدائش سے پہلے کی بات ہے۔ تو بھائی خدا کے لیے تو سارے اوقات ہی پیدائش سے پہلے کی باتیں ہیں۔ اسے تو بس اپنی روح کی لطافت کے ساتھ گہراؤ پر پیرنا تیرنا ہی بھاتا ہے۔ ہاں کبھی تاریکی زیادہ بڑھی تو کہہ دیا روشنی ہو جائے۔ (اور قصہ ختم پھر ہر کسی کا اپنا دوزخ اپنابہشت)۔ اور کہ کر پھر تغافل خداوندی سے کسی پامال کائنات کے گھاؤ گہراؤ پر تیرنے لگے۔ اس کے لیے ملٹی ورس کی کسی یونی ورس کی ان گنت کہکشاؤں کی ایک کہکشاں کے ایک نظام شمسی کے ایک سیارے کے ایک نظم الاوقات کی ایک گدھی سے گرے ایک حال کی کیا اوقات۔۔۔۔

تو وہ حال۔۔۔۔ کسی خدا کاتخمہ خام، قرنوں کی شتابدیوں کا ایک انش، زمانوں کی ٹھوکر گھدو کی ادھڑ اڑ گھر پڑی ایک دھجی، کسی ساعت کی کوکھ سے گرا کچا حمل ثانیہ۔۔۔۔ جیسے وقت اپنی مالا سے نکال دے، زمانے کی دھتکار، اوقات کی پھٹکار۔۔۔۔ پھاڑ کر پھینک دیے گئے کیلنڈر کے مڑے تڑے ورق، گزشتہ کی نچی کھسوٹی جنتری ایسا ان کا حال، منڈ کڑی مارے وہاں پڑا رہتا اورجیسا کہ ہر آنسو، میلے اور کارنیوال کے انجام پر ہوتا ہے۔ گرانی نے اب چاروں اورگرنا اور دلوں نے تھک کر بجھنا شروع کردیا ہوتا۔ مگر غزالی کے لڑکوں اورلڑکیوں کے چہرے اس خیال سے گل گوں ہورہے ہوتے کہ جب انہوں نے حال کواپنی درس گاہ کے برآمدوں، تجربہ گاہوں اورکتب خانوں سے باہر ہنکایا تھاتو وہ چند تھے، سرپھرے چند۔۔۔۔ جن کی آوازوں کے جوش میں بھی ایک ضعف ہوتا، جس کی نرمی سماعت کو خوش آتی۔ مگرجوں جوں ہجوم بڑھنے لگتا اور اس میں اٹھتی لہریں موجوں میں بدلنے لگتیں تو مصمم مداومت کی ایک بھنبھناہٹ سماعت کے درپے ہونے لگتی۔ کہیں یہ بھنبھناہٹ بھیڑ کا بے ساختہ قہقہہ ہوجاتی کہیں ٹھٹھا کہیں ٹھٹھول۔ پھر اچانک کوئی لڑکا، کبھی کبھار کوئی لڑکی اپنے کسی ساتھی کے کندھے چڑھتی اور آواز کے ڈرامائی اتار چڑھاؤ اور ہاتھوں کے مبالغہ آمیز تہلکے سے خطابت کے جوہر دکھانے لگتی اور جب کتابیں، کاپیاں، پرس، ٹوپیاں ہوامیں اچھالی جارہی ہوتیں تو کاندھوں چڑھا ؍چڑھی فری فال مین خود کو بھیڑپر گرنے دیتا کہ تب بھنبھناہٹ کہیں نہ ہوتی۔ صرف شور ہوتا۔ شوروشغب، ہنگامہ باؤ ہو، غوغا، جس کے بیچ آوازوں کی نوع بہ نوع تصویریں بنتی بگڑتی دکھائی دیتیں۔ کہیں آوازوں کے پرشور پانیوں میں اب بھی سکوت کا ایک آدھ جزیرہ دکھائی دے جاتا مگر چوں کہ یہ غیر فطری ہوتا، اس لیے سنتے ہی سنتے آوازیں ہلکم ڈالتی آتیں اور اس پر ہلا بول دیتیں۔ اب تو بھتیجے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی۔ ہلڑ ہر طرف مچ چکاہوتا۔ ہر طرف غوغا، غل و غش اور غرش و غرفش کا راج ہوتا کہ اب ان آوازوں کی رسائی اس پچ تک ہوتی جہاں یہ اپنے طول موج کی درپر آئی ہرچیز پر کپکپی طاری کر سکتی تھیں۔ فضا کی گرتی دیواروں کو زمین بوس کر سکتی تھیں۔ ہوا پر دہشت طاری کرسکتی تھیں۔ یہی نہیں بھتیجے اب یہ آوازیں، آوازوں کی امکانی صلاحیت اورکاری گری بابت جتنے بھی روزمرہ اور محاورے تم نے سن رکھے ہیں ان سب کو فی الواقع وقوع پذیر کر سکتی تھیں۔ آسمان میں تھگلی لگا۔۔۔۔ فلک شگاف سکتی تھیں۔

اور ایک دن ٹھیک یہی انہوں نے کیا بھی۔ وہ بلوائی ہجوم اس روز کچھ یوں شورائی، یوں غوغائی ہوا کہ اس نے آسمان میں سوراخ کر دیا۔ بھتیجے واقعی سوراخ۔ یعنی محاورے کے ساتھ وہ ہواجو کیا کسی کے ساتھ ہوگا۔ بس پھرکیا تھا۔ فضا کے اس حصے کے عقب میں واقع چاہ ہائے فضا وقضا میں قرنوں سے قید برچھیاں آزادی کاجشن مناتی نکلیں اور زمین پر برس پڑیں اور ان برچھیوں کی اس ورشا میں ایسی پیہم بے روک شدت تھی کہ ایک گھور پیڑا ہمیشہ کے لیے دھرتی کے پیڑو میں ٹھہر گئی۔ پھول مرجھاگئے اور ہر طرح کے بوم بلبل فاختہ گھرگھروندوں سے گر گئے۔ پانی رونے لگے اور دوسرے پانیوں کے ساتھ ساتھ تہ در تہ زیر آب دھاروں پر سفر کرتا یہ گریہ بیجی ڈولفن کی اوجھل پناہ گاہوں تک جا پہنچا۔ وہ تڑپ کر سطح آب آئی اور ان پیہم برستی برچھیوں کو اپنے بدن کی سفید جھنڈی دکھاکر ہمیشہ کے لیے پھر کبھی سطح آب دکھائی نہ دینے کے لیے فنا کے گھاٹ اتر گئی۔

جب کہ پیچھے۔۔۔ جیسا کہ ہر میلے کے انجام پرہوتاہے، گرانی نے چاروں اور گرنا اور دلوں نے تھک کر بجھنا شروع کر دیا ہوتا۔ مگر غزالی کے لڑکوں اور لڑکیوں کے چہرے اس خیال سے گل گوں ہو رہے ہوتے کہ جب انہوں نے حال کو اپنی درس گاہوں کے کوریڈورز، کتب خانوں اور تجربہ گاہوں سے باہر ہنکایا تھا تو وہ چند تھے۔ سرپھرے چند، مگر اب وہ ہجوم تھے۔ دیس دیس ، دھرم دھرم، نسل نسل کے رنگ بہ رنگ ہجوم۔ اور کہ جب وہ حال کاہانکا کرنے نکلے تھے تو ان کی راہیں گرد آلود تھیں اور جوتے بدرنگ۔ اب نہ صرف یہ کہ گرد لہو کے احسان تلے دب چکی تھی، بہت سی ان جوتوں پر سرخ پالش ہو گئی تھی۔ چمکتی ہوئی، خوش رنگ۔ اور لہو اور دھول کی یہ پالش ایسی حیات انگیزتھی کہ اسے پا کر ان کے جوتے چونچال ہو گئے تھے اور ایسی خوش فعلی سے چھپ چھپ لہو میں چھینٹے اڑاتے تھے جیسے حال کا لہو جوتوں میں دوڑنے لگا ہو۔

یوں جب وہ لذت سے گرا انبار، جشن انجام ہجوم گرتا پڑتا تکان آمیز ٹھٹھولی میں ایک دوئے پہ ڈھیتا گھروں کی راہ پر ہوتا تو حال، ان کا حال، اپنے اور ان کے جریان کے لہو کو، محبت سے شکستہ بازوؤں کے گھیرے میں لے کر اپنی طرف سمیٹنے لگتا، جوں بہ چکے لہو کو پھر سے نسوں میں بھرنے کاجتن کرتا ہو۔

حال کی اس بے کسی پر گھروں کے آرام دہ الوژن کو رواں دواں شورائی ہجوم کی لطف جو ستم رانی چمک اٹھتی ہے اوران میں سے ہر ایک، اپنے حال کے لہو کی پالش سے چمکتے اپنے جوتے کی کم ازکم ایک ضرب ضرور اپنے حال کو رسید کرتا ہے۔ وداعی ضرب۔ فیئر ویل کک۔ جسے پا کر ان کا حال ہنستے ہوئے کراہتا: او بچو! اومیرے بچو! کیوں درپے ہو تم میرے۔ مجھے تو کچھ نہیں چاہیے۔ میں گدائے وقت ہوں، بندۂ ساعت ہوں، بجز ثانیوں کے مجھے کچھ نہیں چاہیے۔۔۔۔

یہ کہتا اور پھر منڈکڑی مار پڑجاتا۔۔۔۔۔ ہے۔۔۔۔ گا، ان کا حال۔

ایک روز کیا ہوا بھتیجے کہ جب میں حال کے اس حال کو دیکھتاتھا تو میں نے دیکھا کہ ایک لڑکی نے حال کو وہ لذت خیز الوداعی ضرب رسید کرنے سے پہلے فاسٹ فوڈ سا کچھ دانتوں میں لیا اور بایاں بازو ہوا میں بلند کر کے نعرہ زن ہوئی۔مگر خوراک کا زرہ سانس کی نالی میں جانے سے وہ نعرہ پورا نہ کرپائی اورکھانسی کے غلبے سے ہری ہوگئی۔ تب حال نے دیکھا کہ وہ کم سن ہے اور ایسے حسن کی مالک ہے جس کے حضور صرف موت شرف قبولیت پاتی ہے۔ اس کی زردی مائل گیہواں رنگت میں چیت کی پہلی ہریالی کی جوت تھی۔ حال نے اس جوت جوالا سے روشنی اورحرارت پاکر کہا: تمہیں تمہارے ہریالے وقت کی قسم خوب صورت لڑی! مجھے مضروب نہ کرو۔ میں تو وقت کا پھل ہوں۔رسیلا، خوش ذائقہ۔ اپنے دہن و ذہن کو اس سے آشنا کرو اورمیرے رس کو میرے اپنے لہو میں آمیز ہونے دو۔ عجب نہیں کہ پھر ستارے تمہارے حضور سفارتیں بھیجیں اور تمہاری سبزہ سنہری رنگ میں ایک رنگ دوام کا آملے۔اگر تم نے یہ نہ کیا تو شجر فلک جو زمین پر موجود و معلوم ہر پھل، ذائقے اور رس کا مادر پدرہے رنج وافسوس سے لرز اٹھے گا اور اس سے جھڑ کر ایک ایسا بیج زمین کی کوکھ میں پڑیگا کہ پھر کسی کھیتی میں سوائے زقوم کچھ نہ اگے گا۔ پھر کے دن جی پاؤگی یہاں اس زمین پر۔تب تمہارے بدن پر جو تب تک اس قدر کریہ ہوچکا ہوگا جس قدر کہ اب حسین ہے، فرشتے آئیں گے اور ’’روح اس طرح کھینچ نکالیں گے جیسے لوہے کی سیخ کو بھیگی ہوئی اون سے نکالا جاتا ہے‘‘۔اور جب تمہاری روح سے بدبودار مردار کی سی بو آتی ہوگی تو وہ اسے ٹاٹوں میں لپیٹ لیں گے۔ پھر اسے لے جا کر سجین میں جو پاتال میں ہے کیلوں سے ٹھونک کر لٹکا دیں گے۔ اس لیے اے حسن کی بین آیت! اے تو کہ جس جانب موجود ات رفتار نور سے متوجہ اس سے پہلے کہ زشت روئی تمہیں آلے اور موجودات و مخلوقات اس سے کہیں زیادہ رفتار سے تجھ سے بھاگیں، مجھ سے اعتنا کرو۔ اے صاحب وجہ ابیض! تمہیں کتاب کی قسم جس میں تمہارا ذکر ہے۔ مجھ سے کنارہ نہ کرو۔ ابیض کو اسود ہونے میں دیر نہیں۔۔۔۔‘‘ آواز کی ایک نرمل لہر کو زیر سماعت چھیڑ کرتے ہوئے تو ضرور اس لڑکی نے محسوس کیا مگر آہ! سانس کی نالی اور وہ شریر زرہ خوراک ! خدا خدا کرکے کھانسی تھمی تو ایک مشک بار نفیس ٹشو پر آنکھوں کا پانی لیتی ہوئی وہ آگے بڑھی۔ اور بس بڑھی ہی تھی کہ وقت کی کراہ نے اسے چھوا۔ بے ارادہ ایک اچٹتی نظر اس نے عقب میں ڈالی تو دیکھا کہ اس کے ایک ساتھی لڑکے نے ادھ موئے حال کو پیٹ میں ایک زور دار لات رسید کی ہے اور اپنے خاک و خون میں غلطاں ہاتھ جوڑتے ہوئے، حال بہ منت وزاری کہتاہے: نہیں پیارے بچے! مجھ سے یہ نہ کرو۔ خود سے یہ نہ کرو۔ یہ کرو گے تو کیسے بچو گے اس دن سے جو تم پر دفعتاً آپڑے گا۔ میں وقت کا ملبوس وقت کی کھال ہوں۔ مجھے کھینچ لو گے تو کیف تتقون۔۔۔ کیسے بچو گے اس دن سے جب بچے بوڑھے ہو جائیں گے۔لڑکے نے مگر ایک نہ سنی، منہ سے لگاکوک کین خالی کیا اور تبختر کی ایک شان غلط انداز سے ایک طرف اچھال دیا پھر ضرب میں زور بھرنے کے لیے ضروری فاصلہ قائم کرنے کے لیے وہ پیچھے ہٹا تھاجب لڑکی نے چاہا کہ اسے روکے۔ مگرحال تو، جو خود اپنے لیے لڑکی کا مددگار ہوتا، لہو میں نہایا اپنے گھاؤ مٹی سے بھرتا تھا۔ سو امڈتی ہوئی ایک خلقت اس لڑکے کو اکساتی ہوئی اور بے ہنگم و ہنگام ہو کر لڑکی کو بہا لے گئی۔

مگر یہ کیسی آوازتھی جو زیر سماعت سے اٹھ کر اس کے گوش نازک کی متلاشی تھی۔۔۔۔

اے توکہ عالم بالا پر تیری تمجید! اے کسی ازلی کلمے کا دائمی ظہور! مجھ سے ہم کلام ہو۔ میری ڈھارس بندھاؤ۔ تم سے امید کا تمنائی میں تمہارا حال ہوں۔ اے کہ سپیدۂ سحری کی تجھ سے نمود بحر تاریک کے کناروں سے پلٹ آ۔ اے کہ حسن ازل کے سامعہ سے تیرے سامعہ کی تخلیق! کیوں اس سامعہ کو تونے بے ہنگم شور کے اختیار میں دے دیا۔ اے دیوداسی کہ جسے دیکھنے کو ورناسی کے قرب میں بہتے پانی بھور سمے مندروں سے پر پھوڑتے ہیں۔۔۔۔ اور پانیوں کے آنسو کس نے دیکھے ہیں۔۔۔۔ صرف ایک بات ان پانیوں کو آئینہ کرلو تا کہ آئینہ ہائے ماسوا شکست ہو سکیں۔ جانتی ہو خوب صورت لڑکی! میں خیرالقرون کی لڑی میں پرویا ایک موتی ہوں۔ تم نے مجھے اپنے نا مسعود وقت سے منسلک سنگ خار سے بھی کم جانا اور ٹھوکروں پہ رکھ لیا۔ اہل دنیا کیوں؟

میرے رگ و پے میں، میری کھال کے نیچے ایک دائمی چراغ جلتا ہے جس کی ٹمٹماہٹ کا اشارہ پا کر ہی مستقبل خود کو منکشف کرتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے زمانہ نوید نو اور نشاۃ کے نور سے بھر جاتا ہے۔ وگرنہ۔۔۔۔ وگرنہ، اے اہل تماشا ! ایک پرندہ کرلاتا ہے۔ قرنوں سے گرینڈ کینین جس کے اجداد کا گھر ہے ، وہ ایک پرندہ کر لایا ہے۔

اے اہل زمانہ اس کرلاٹ کو سردار سیفل کی کوک میں آمیز ہوتے سنو۔ مسٹر پریڈیڈنٹ ! دھرتی کا چپاچپا میرے لوگوں کے مندر ہے۔ اور سنو ہی نہیں دیکھو بھی کہ کرۂ ابرو باد کو لپیٹ میں لیتی یہ کرلاٹ کیسے بابل و نینوا میں دم بہ خود ہے، کیونکہ قرنوں پہلے پورے چاند کی ایک رات کو یہاں جب کہ ہوا دھیرے دھیرے پانیوں پر بہتی تھی ایک مچھلی نے ایک پیغمبر کو کنار آب اگل دیا تھا اور درد جدائی سے روتی ہوئی اپنے پانیوں کو لوٹ گئی تھی۔ تب سے آج تک وہاں کے آب وباد، شجروحجر، جن و انس اس لمحے کی یاد کے عالم تحیر میں ہیں اور اے اہل زمانہ! سنو! الواح خاک پر لکھا گیا کہ پورے چاند کی راتوں میں آج بھی وہ پیغمبر اپنے ارفع مرقد سے زینہ بہ زینہ چاندنی پر پاؤں دھرتے اسی کنار آب آتے ہیں اور جب ہوا ان کے سادھے ہوئے دم میں شامل ہونے کے لیے بے کل ہوتی ہے تو اسی مچھلی کی پشت میں چلی آتی کوئی نہ کوئی مچھلی بھی کسی لہر میں سے سر نکال کر ان تقدس مآب کو دیکھتی ہے اور جب وہ دونوں۔۔۔۔ صرف ان دونوں کو خاص منطقہ لسان میں ایک دوئے سے کچھ کہتے ہیں تو چاندنی اور چاندی ایسے پانی بھرے امن اور راحت کے چند اور دن دنیا کے بخت میں لکھ دئیے جاتے ہیں۔

اے جمیلہ ! بتا کیوں تونے ان الواح کو نوک پاپوش رکھ لیا جن پر مچھلی اور پیغمبر کی کہانی کندہ تھی اور ان گنت دیگر الواح جن پر شاعروں اور قصہ گروں نے حیرت سرائے دہر کی کتنی ہی حکایات کندہ کرکے پہلے انہیں دل کے خون سے رنگین کیا پھر جگر کی آگ میں پکایا۔جب وہ تڑختی ٹوٹتی الواح بھاری ایڑیوں تلے پستی تھیں، کیا تو نے قصہ گروں شاعروں کا دل ٹوٹنے کی صدائیں سنیں؟ نہیں سنی ہوں گی کہ ایسی صدائیں اپنے لیے کچھ خاص سماعتیں انتخاب کرتی ہیں۔ پھر بھی، میں کہ نوبت بہ نوبت تمہارے لیے دل خون کرتاہوں مجھے گوش شنوا دو۔ میری سنو! میں آئندہ کا مناد ہوں، نہ سنو تو موت ہوں۔ مگر اے کرنتھیو! لہو روتی میری آنکھوں پہ نہ جانا اور نہ میرے شکستہ اعضاء پر کہ میرا لشکر تو لمحے ہیں۔ کبھی نہ شکست خوردہ کہ میں توڑ بھی دیا جاؤں تو بھی دست خداوندی ہوں۔ خداوند ہوں اور جیسا کہ پولس رسول پہلے ہی تمہیں لکھ چکا ہے۔ خداوند کا نام محکم برج ہے اور خدا کی کم زوری آدمیوں کے زور سے زیادہ زور آور ہے۔

سنتے ہو، سمجھتے ہو تم کچھ؟ مگر کیا تمہارا سننا اور کیا سمجھنا کہ کبھی جب جتنی سمجھ بھی لیتے ہو کچھ تو جب تک ناسمجھی نہ کرلو کل نہیں پڑتی تمہیں۔ تم مجھے اتنا ہی سنتے اتنا ہی سمجھتے ہوجتنا تمہارے جوں کا توں کو جوں کا توں رکھے۔اگر مجھے تم پورا پالو ، تو تمہیں اپنے آب و باد، اساطیر، ادیان اور عرض طول بلد سب بدلنا پڑیں اور ایسا کرنے کے لیے تمہیں اپنے کوکون سے نکلنا پڑے گا۔ جو۔۔۔۔ کیوں چاہو گے تم اس سے نکلنا۔ اور فی الاصل میری اصل پانے کے لیے بھی تمہیں اپنے فردوسی لچھوں سے نکلنا پڑے گا۔۔۔۔ کیونکہ میری لسانیات کا پیرائیہ اظہار، اسلوب اور بیانیہ، کوانٹم لا ادریت اور تشکک، سری سٹرینگ تھیوری کی گوناگوں گیارہ جہتی کثیرالقلیم بوقلمونی کا محض ایک غمزہ، صرف ایک عشوہ، بس ایک ادا ہے۔ جو عکس کہ تمہاری ابجد ہے اس کی اصل میں ہوں۔

تمہاری ابجد جیسے حروف پر مشتمل ہے میری ابجد بے انت ابجدوں پر مشتمل ہے۔ میری ایک ابجد کے حروف تمام نباتات ہیں تو دوسری کے تمام جمادات، ایک کے حیوانات ہیں تو دوسری کے چرندے اور پرندے۔۔۔۔ایک کے تمام لوگوں کی تمام اساطیر کے تمام حروف تو دوسری کے تمام الہامی کتابوں کے تمام حروف، ایک کے تمام ساحلوں کی تمام ریت کے تمام ذرات تو دوسری کے تمام کہکشاؤں کے تمام ستارے۔ایک ابجد میں سارے کانٹے ہیں تو دوسری میں سارے کنکر۔ اس کے ساتھ ساتھ تمہاری ابجد اگر حروف پر تو میری اسماء افعال، کلمات، محاکات اور تصورات ، تصاویر، مجسموں، نقوش اور مناظر پر مبنی ہے۔ کبھی کئی صفحات پر پھیلا ایک جملہ میرا ایک حرف ہوتا ہے کبھی پوری ایک پستک ایک حرف۔میرا ایک حرف غالب ہے ایک شیکسپئیر۔ ایک بیدل ایک بیکٹ۔ ایک میر ایک منٹو۔ ایک فیضی ایک جوائس اور ایک اس کی کتاب پولیسس۔ ایک میرا حرف دوستوفسکی ہے توایک اس کی تمام تصانیف اور فی الاصل میرے مصوتے بھی یہی تصانیف ہیں اور مصمتے بھی۔ یہی میری صوتیات یہی میری نحویات اور معنیات اور یہی میری فاعل، فعل، اسم اور خبر ہیں۔ مثال کے طور پر فاعل اگر کارل مارکس ہو فعل ایڈورڈ منچ کی دی سکریم اور خبرسارتر تو فعل حال مطلق کا دوسرا جملہ دوسرا پیرا ڈائم دوسرا جہاں تشکیل پاتا ہے اور فاعل اگر آئن سٹائن ہو فعل ایک بار پھر ایڈورڈ منچ کا چیخنا، کہ چیخنا فعل حال مطلق کے ہر جملے کا فعل ہے اور خبر سٹیفن ہاکنگ تو تیسرا جملہ تیسرا پیراڈائم تیسرا جہاں۔۔۔۔ اور یہ تینوں اگر ضم ہو کے بہ ہم ایک جملے کی تشکیل کے لیے فاعل فعل اور خبر بنتے رہنے کے عمل اور ردعمل ، تھیسز، اینٹی تھیسز، سنتھیسز، اینٹی سنتھیسز کے زنجیری تعامل میں مصروف و ملوث ہو جائیں تو جملوں اور جہانوں کا جو لامتناہی سلسلہ شروع ہوگا فی الاصل وہ ہی پریزنٹ انڈیفی نٹ ٹینس؍فعل حال مطلق کا اساسی جملہ ہوگا۔تو اے جمال جہاں آرا! دیکھو کیسے لہو نے مٹی کو گوندھ کر ایک لوح کی شکل دے دے ہے اس پر ’’دیکھو۔ میں نے کیسے بڑے بڑے حروفوں میں تم کو اپنے ہاتھ سے لکھا ہے‘‘۔ اے سرتانوک پا روح !روح بھی کیا روح کو گھائل کرتی ہے؟جب کہ سارا مسئلہ روح کو مادے میں منقلب کرنا ہو۔ اے مجسم خوبی کہ جس کی زینت، دار کی سدا بہار ٹہنی سے کی گئی ہے۔۔۔۔ اے سدا سہاگن کنواری! کسی شب مجھ پر عریاں ہو۔ اے کاش کوئی شب میرا خیال تجھے شہوانی ہو۔ اے زرخیر گل عذار مجھے سیج تک آنے دے کہ اب میری ایستادگی مجھے کرب ہے۔ تجھے خدائے ایستادگی کی قسم، مجھے آنے دے۔ اے حباب و سحاب سوں بے اعتبار و ناستوار میری اور میرے بچوں کی ماں! کبھی تازہ ہل چلے کھیتوں کی نرم مٹی پر اور کبھی تازہ چنے سرخ انگوروں کے ڈھیر پر پورا ایک موسم مجھے مشغول ہونے دو۔۔۔۔ یوں کہ ہمارے مجنوں بوجھ تلے انگوررس چھوڑ دیں اور جب تمہارے اندر ہمارے رس ممزوج ہوتے ہوں تو اونچے چوبی ناند ار غوانی مے سے لبریز ہو چکے ہوں اور ۔۔۔۔۔

اے بالا نشین! کہ جس کے جھروکے کے پانی کاٹ کر اور دریچے ہوا کو ٹھہرا کر تخلیق کیے گئے ہیں جس کے پاؤں چھو لینے کو عودولوبان پستیاں ڈھونڈتے ہیں! کسی روز اپنے عنبریں برج عاج سے میری تاریک کٹیا میں اتر اور بہار کا ایک پورا موسم میرے ساتھ گزار۔۔۔ شاید ہم ایک ایسے موسم کو جنم دے پائیں جو اس جہان پر پہلے کبھی نہ گزرا ہو۔

مگر وہاں ہوتا کو جو اس کی سنتا!

شام کا ایک چٹیل میدان۔ کناروں پر وسعت پذیر۔ اور کچھ دور پڑے شہر کی دہلیزوں، درس گاہوں، چولہے چوکوں دسترخوانوں اور چارپائیوں پر۔۔۔۔ دم بخود۔۔۔ ایک جھٹپٹا۔ اور ان دونوں کے ہاتھوں سے چور کی طرح نکلتا اندھیرا۔ نوبت بہ نوبت سوبہ سو قریہ بڑھتا۔ ان کے کھیتوں میں بیج کی جگہ پڑتا۔ پھر کھلیانوں، پانی کے سرچشموں اور مویشیوں کے تھنوں میں پھونک پھونک اترتا۔ پھر پہاڑی چوٹیوں پر چڑھ کر برف چباتا اور ہر چاب پر دریاؤں کو میدانوں میں درد سے پھنکارتے سنتا۔ وہ اندھیرا۔

اے کاش وہ لڑکی ہی سنتی! مگر کوئی ٹھکانہ تھا اس کا ، ارضی آب و آتش اور حبس و باد میں ہر ٹھکانا جس کا ٹھکانا تھا۔ اور یہاں اس سے عریاں ہونے کی آرزو میں اس کا بدن جلتا تھا۔ اس ہرجائی کے ہزار بھاؤ تھے اور ہر بھاؤ میں ایک چرتر۔ ہر چرتر میں ایک ہسٹ اور ہر ہسٹ میں پھر بھاؤ پھر چرتر۔

وہ اس کے پیچھے لپکتا تو وہ اپنی کھاٹ اٹھاتی اور سمندر کی تہ میں جا بچھاتی۔ وہ تہ کو جا چھوتا تو وہ کھاٹ سے پھسل کر مونگا چٹانوں کے مساموں میں جا چھپتی اور سکھی سہیلیوں کو ساتھ ملا کر آبی نفیریوں پر ایسے سیال راگ چھیڑ دیتی جو دل کو جگہ جگہ سے چیر دیتے اور جب سندر اس کے گریہ و زاری کے شاکی ہوتے تو آبی تہوں کے ساتھ ساتھ بحر بہ بحر سفر کرتی وہ کسی رکازی آرکائیو میں جا نکلتی اور کوئی نہ کہہ سکتا کہ وہ کیا ہوئی کہاں گئی۔فی الاصل کسی ٹرائی لوبائیٹ کی صورت متحجر ہو چکی ہوتی۔ وہ لڑکی۔ یوں جیسے ہمیشہ سے ایسی ہی تھی۔ متحجر۔ رکاز۔ فوسل۔ اور رہتی وہ یوں ہی۔ برسوں۔ جب تک کہ حال کے اس کے لیے نوحہ وسلام سے سارے کے سارے رکازی دور بہ یک وقت نہ گونج اٹھتے۔ تب وہ اپنی رکازی پنہاں گاہ سے نکلتی اور فطرت کا دیا بیش قیمت لباس زیب تن کر کے نپٹ ٹھسے سے اس کے آگے ظہور کرتی۔ نپٹ سندر۔ نپٹ کٹھور۔ بال بال گالی بندھی کہ کیوں مجھے چین نہیں لینے دیتے ایک جگہ ایک پل ایک چھن اور پھر چل دیتی۔ منہ سے آگ جھاگ چھوڑتی کسی ایسی اور ۔۔۔۔ جس کا اور نہ چھور۔

مگر حال کو سب معلوم ہوتا۔ اس جفا پیشہ کا اس نے کچھ یوں تعاقب کیا تھا کہ اب اسے سب معلوم تھا۔ کہ موسم سرما وہ ابتدائے وقت کی پہلی ساعت میں واقع اپنے سرما محل میں گزارتی اور جب سردیاں گزر جاتیں تو بیچ پڑتا ہگز بوسن (Higgsboson) نامی ایک ذرہ الانگ کر وہ گرما کے لیے گرما محل میں چلی جاتی۔۔۔۔

رئیل سے ورچوئیل سے ریئل سے ان رئیل سے بعید الفہم سے سریع الفہم سے اخفا سے افشا سے علامت سے استعارہ سے مجاز مرسل سے متن سے بین المتن سے نشان سے تمثال سے تاربخیت سے تشکیل سے روتشکیل سے الاپ سے مہر کھنڈ کے ایک دو سے تین سے چھ سے گلے کی بساط پر چالیں چلتی تناہی سے ہلمپت سے لاتناہی سے ریاضی سے درت میں سر کے بہلاوے سے۔۔۔۔ لے کے ہلکورے سے دھرپد کے طنطنہ سے خیال کی تمکنت میں وہ ڈال ڈال کسی چڑیا کی طرح پھدکا کرتی۔ مگر اس پھدکنے کے لیے اسے وقت درکار نہ ہوتا۔ وقت کو جل دینا درکار ہوتا۔

یوں حال کو ہمیشہ اس کے اور اپنے بیچ کوئی چھل بل کوئی جل جادو برسرکار دکھائی دیتا۔ مگر کبھی کبھار ایک لمحہ طرفہ، کوئی طروفہ سا طرفہ، ایسا بھی آتا ہے کہ اس کی ساری قلعہ بندیاں ریت کی ڈھیری ثابت ہوتی ہیں۔ اس کی ایک نہیں چلتی اور اس کی محل سرائیں حال کی جفت طلبی سے گونج اٹھتی ہیں۔۔۔۔ اس کے کروفر کا سارا لہور نچڑ کر اس کے پیڑو میں آجاتا ہے اور وہ پیلی پڑجاتی ہے۔ سرسوں زرد۔ اور جب ضبط خواہش سے اس کی ہڈیاں پہلے چٹخنے پھر پگھلنے لگتیں تو۔۔۔۔ بڑے جتن سے خود کو انہدام نہانی سے بچاتی، کانپتی وہ۔۔۔۔اپنے سمیں شہ نشینوں سے اٹھتی، آمادگی سے یوں بھری کہ کوئی سکھی سہیلی کنیز باندی اسے روک نہ پاتی۔۔۔ اور بھاری نکلئی پھاٹکوں اور ان کے دربانوں کو خاطر میں نہ لاتی ہانپتی ہونکتی وہ بہ دقت کسی بلند، سوختہ، ساگوانی مدخل کے سہارے کھڑی ہو جاتی اور جب اس کے آتشیں گیسو کسی دم دار ستارے کے ساتھ اڑے جارہے ہوتے اور مادۂ تاریک اس کے چشم خشم ناک کا کحل ہوتا اور گالیوں کی عنبر حال تک پہنچ رہا ہوتا تو یوں برا فروختہ جوں ’’خداوند کی سانس گندھک کے سیلاب کی مانند اس کو سلگاتی‘‘ (یسعیاہ) ہو، وہ ایک گلابی بالائے لب لاکر، باخبری کی کج ادائی سے پوچھتی ہے: کیا چاہتے ہو تم۔۔۔۔

حال بھلا کیا کہتا اور کیوں کہتا کہ اس کی آرزو تو کام کر ہی چکی ہوتی۔۔۔۔ ورنہ وہ کہتا کہ زہر فروش در د کی بیوپارن! میرے رہ وار سے قطع رحمی نہ کرو۔ بس ایک بار اسے اپنی گھاس میں دیوانہ وار دوڑ لینے دو۔ سو وہ خاموش رہتا اور امید و بیم بھری دل چسپی کے ساتھ پانی آرزو کو اس کی اتھل پتھل سانسوں میں اور جوبن پر متعامل دیکھتا رہتا۔ تب اس دیدوباز دید ہی میں کہیں وہ جان جاتا کہ تمام سمعی بصری لمسی اور شامئی الوژن اس کے درپے ہیں۔ ورنہ کیوں، جب وہ یہ دیکھ سن سوچ سونگھ رہا ہوتا کہ اپنے بدنی مس سے ساگونی پھاٹکوں میں آگ بھڑ کا کرازار بندکی گرہوں سے لڑتی پڑتی وہ ابھی اس کے نیچے آپڑے گی۔وہ اس کی آنکھ میں آ پڑتی۔ اور پھر اس سے پہلے کہ وہ آنکھ بند کرے وہ آنکھ سے نکل کسی بافت یا خلیے میں براج بھی چکی ہوتی۔ ایک سیال خلیے کی ایک تھیلی میں ڈبکی لگا کر وہ دوسری میں جا نکلتی۔۔۔۔ اور جب ملینوں ملین ڈبکیاں لگا چکتی تو۔۔۔۔ اپنے بدن کی پوشیدگی میں سے کرودھ کٹار نکال کر خلیوں کے بخیے ادھیڑنے لگتی۔۔۔۔ اور یوں حاصل ایکڑوں پر مشتمل جھلیوں کو باہر نکال کر ایک غالیچے کی شکل دے دیتی اور اس پر سوار ہو کر ارض و سما اور وقت لاوقت کی سیر کو نکل جاتی۔۔۔۔

حال کا بدن۔۔۔ اس لڑکی کا اڑن قالین۔

تو وہ کیوں سنتی!

کیا پڑی تھی سننے کی اسے جو اپنے لیے مشتاق آنکھ کو ساکٹ سے سرجیکل صفائی سے نکال کر پہلے تو اہتمام سے چینی کی بیش قیمت طشتری میں سجائے پھر اس میں آنکھیں ڈال کر حکم دے: دیکھو مجھے اب۔۔۔ کیا پڑی تھی سننے کی اسے جو اپنے لیے دھڑکتے دل کے گریہ نارسائی سے بھڑک کر دندناتی دل میں جا کر کھٹاک سے کواڑ بند کرے اور پھر طیش سے بڑھ آئے ناخونوں سے دیوار دل پہ حکم لکھے: اب دھڑکو۔ اور دل اگر اپنی دھڑکن میں سچا اور صمیم ہو اور یک لمحی مکر نیند کے بعد فی الواقعی دھڑک اٹھے تو۔۔۔۔ ازبس برہم ہو کر جو حسینہ اسے نوچ کر پہلے مٹھی مٹھی بھینچے، پھر دانت کچکچاتی ہتھیلیوں کے بیچ رگڑے مسلے۔۔۔ پھر نیچے پٹخ کر تلوے ایڑی تلے پیسے۔۔۔ پیستی ہے تا دیر تا آں کہ حال کا وہ دل مہین و لطیف ورق لحم ہوکر رقص گاہ کے فرش کی صورت اس کے قدموں میں بچھ جائے۔۔۔ اور جب اس تعجب خیز فرش رقص پر ایک زمانہ گزر جانے پر وہ پاکوبی، تانڈوناچ کے درت میں ڈھل چکی ہو اور دل پر ڈھائی اپنے خرابی سے مطمئن جب وہ رقاصہ پاؤں روک لینے کو ہو تو دل بولے: ٹانڈو چھوڑنا ٹانگو ناچ۔۔ ۔ مجھ سنگ ایک بار۔۔۔بس ایک رات۔ پرٹانڈو سننے دے تو سنے وہ ان سنتی!

تو کوئی اور ہی سنتا! اس جم غفیر کے رنگ رنگ کے دیس دھرمیوں میں سے ہی کوئی۔۔۔ کوئی تو سنتا! مگر کون؟ اور کیوں؟ کہ بیشتر وہ مردوزن تو اپنی اپنی بے دلی، فتور یا فم معدہ، بیزاری یا تعلق کی ہر آلائش سے پاک خالص لاتعلقی کے مارے باندھے، یا کرج فاقہ بہلانے یا محض اپنی بے کیف زندگیوں کو دل چسپی کی چند گھڑیاں تحفہ کرنے کے لیے سکڑایا بڑھا جگر تھامے یہاں طلبا طالبات کے کھیل کا حصہ۔۔۔ کیوں کہ بہ ہرحال، یہاں روزانہ کی بنیاد پر کھیلا جانے والا کھیل رومی اکھاڑوں میں کھیلے گئے کھیلوں سے دل چسپی میں کسی طور کم نہ تھا۔

تو وہ کیوں سنتے!ان میں سے کوئی کیوں سنتا! دن بھر کی باچھیں کھلاتی، ٹوکروں حظ و مسرت لٹاتی تفریح کے بعد۔۔۔۔ آنند بھرے آرام سے مطمئن، آسودہ، مطبخ کی طرف پورا منہ کھول کر وہ جماہیوں کے درمیان پوچھتے: اور کتنی دیر ہے۔۔۔۔

پھر اپنے استفسار کو اوں آں ایں ایں گؤ ں گاں گی گی میں بدل جانے دیتے ہوئے وہ مطبخ سے آتی آوازوں کو علائم و تمثالات میں ڈھال کردل میں اتار لیتے، پھر کھانے کی میز پر پڑی چھوٹی بڑی چیزوں کی مدد سے ان علائم کو توڑتے کھولتے ہوئے وہ دائمی طور پر الجھے تذکیری تانیثی اعضا کے ساتھ سنگ بستہ ہو جاتے۔۔۔۔

اور مطبخ میں مسالہ بھونتی تذکیرو تانیث تک میز پر سے اٹھتی آوازوں کے علائم کی گرہ کشائی بہ خوبی پہنچ رہی ہونے کے سبب دیگچی میں مسالے کے ساتھ ساتھ علائم و تمثالات بھی بھن رہے ہوتے، تا آں کہ۔۔۔ وہ تذکیر و تانیث اگر اپنی آگ میں جل نہ اٹھے تو اپنی بھیگ سے لڑکھڑا ضرور جائے جب کہ سیدھے ہاتھ پر دھری رکابی میں لہو میں تر ایک پارچہء لحم کو گردش خون کی یاد تھرتھرا رہی ہو اور فی الاصل یہ تھرتھراہٹ اس زندہ جان ور کی ، عین صحت مندی کی حالت میں کھڑے کھڑے کاٹ لیے گئے۔ اپنے گوشت کے لیے پکار کا جواب ہو۔ پھر یہ پارچہ کاٹ کر زخم بھدے پن سے سی دیا گیا ہو خواہ مٹی یا گھاس پھونس سے بھر دیاگیا ہو اور وہ زندہ حیوان کانپتی ٹانگوں بلبلا کر اور یہ پارچہ تھرتھرا کر ایک دوسرے کو درد جدائی ترسیل کرتے رہے ہوں تو کرتے رہے ہوں۔ تو خواب گاہی خیالوں میں غلطاں وہ مرد وزن۔ پارچہ لحم کے ساتھ مصروف یا اس کے منتظر، حال کی کیا اور کیوں سنیں!

اور ان کی اولادیں۔ غزالی کے طلبا و طالبات ۔ حال کے ساتھ اچھی جھڑپ کے بعد وہ گھٹنے پیٹ میں دئیے ادھ کھلے منہ کے ساتھ خواب خرگوش میں تھے۔۔۔۔ غیر اغلب نہیں کہ دن بھر کی حقیقت کو خواب میں حقیقت کر کے وہ لطف، تفریح پکنک اور مہم جوئی سے مملواس دن کو پھر سے جی رہے ہوں اور یہ غزالی کے فی الواقعی؍انجینئرڈ؍ ورچوئیل ماضی میں جا کر جی آنے سے زیادہ نشاط انگیز ہو کیوں کہ آپ بیتی خوش گیتی کو خواب گیتی کرکے جینا ہی فی الاصل ہمیشگی کے بہشتوں میں جی آتا ہے۔ اور یہ بھی غیر اغلب نہیں کہ ان بہشتوں کو قبل از آخرت جی لینے کے لیے اور ان میں اپنے قیام کو دائمی طور پر یقینی بنانے کے لیے ہی وہ آخرت قبل از آخرت کے تصور کو حقیقت میں بدلنے کے لیے، کسی دوسرے وقت دوسری جگہ، حال کے ساتھ ایک اور جھڑپ کے لیے خود کو تیار کرتے ہوں۔

مگر مجھے اعتراف کرنے دو بھتیجے۔۔۔ کہ میں نہیں جانتا کہ فعل حال مطلق بارے بات کس فعل میں کی جائے۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: