نظم ۔۔۔ عطا شاد

عطا شاد

کل بهی یہی لمحوں کی جهیل تهی

اور آوازوں کے کنکر تهے

کل بهی ہوائیں موجبار تهیں

کل بهی فضا میں سناٹے کے دهول جمی تهی

کل بهی بلکتے فریادی ہونٹوں پہ کرب حرف تهے

کل بهی تهے، تم گوش کر

آباد صدا کے ویرانے میں

کل بهی رت کی چیخ تهی

اور چپ غوغا تهی

کل بهی پتهر تهے، سر تها اور آئینہ تها

کل بهی یہی، سب چہرے حس تهے

آج یہی سب نقش نظر ہیں

بس اب میں وہ نہیں ہوں (جو ہوں)

سب پتهر سب سناٹے سب درد صدا ہیں

سب آوا ہیں

تم اب جو ہو، وہی نہیں ہو

اب کے بام پہ میں ہوں

اور تم تہہ زمیں ہو

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

April 2025
M T W T F S S
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
282930