مقتل ۔۔۔ بلراج مینرا

مقتل

(بلراج مین را )

کئی بار میرے پاوں پھسلے اور ہر بار یوں ہوا کہ میری پسلیوں کا جال کیلوں میں پھنس گیا۔ میری آنکھوں کے گہرے گڈھے کیلوں میں الجھ گئے اور میں ٹَنگ گیا اور منہ کے بل زمین پر گرنے سے بچ گیا۔ اگر میں منہ کے بل زمین پر گر جاتا تو میری موت ہو جاتی۔

مجھے چھت پر پہنچنا تھا۔ چار آڑی ترچھی دیواریں تھیں، چھت تھی۔ نہ کوئی دروازہ تھا، نہ کھڑکی نہ روشندان۔ دیواریں پتھروں کی تھیں یا اینٹوں کی، کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ ان پر پلستر کی موٹی تہہ چڑھی ہوئی تھی۔ دیواروں پر انچ انچ پر لمبی اور نوکیلی کیلیں گڑی تھیں۔ دیواروں کے چاروں جانب ویرانی تھی اور سیاہی۔ ویرانی کہاں تک پھیلی ہوئی تھی اور سیاہی کہاں تک، کچھ پتہ نہ چلتا تھا۔ ۔۔۔۔ اور مجھے وہاں کون پٹخ گیا تھا اور میں وہاں کب سے بھوکا پڑا تھا۔ نہ میں یہ جانتا تھا اور نہ یہ کہ میں کون ہوں، کیا ہوں اور کہاں سے آیا ہوں اور مجھے کہاں جانا ہے۔ میں صرف اتنا جانتا تھا کہ پسلیوں کا ایک جال ہے اور آنکھوں کے دو گہرے گڈھے ہیں اور ان میں ایک نا آشنا کہرام بر پا ہے۔ —- اور پھر میں نے ہاتھ بڑھایا تھا، میرا ہاتھ کیلوں سے ٹکرایا تھا اور میں نے انچ انچ پر ہاتھ ہاتھ بھر لمبی اور نوکیلی کیلیں محسوس کی تھیں جو مضبوط دیواروں میں گڑی ہوئی تھیں اور پھر میں نے ایک پتھر اچھا ل دیا تھا اور پتھر چٹاخ کی آواز بلند کرنے کے بعد اوپر ہی رک گیا تھا۔ — اوپر چھت تھی اور پھر میں نے محسوس کیا تھا کہ مجھے چھت پر پہنچنا ہے۔

کئی بار میرے پاوں پھسلے اور ہر بار یوں ہوا کہ پسلیوں کا جال کیلوں میں پھنس گیا۔ آنکھوں کے گہرے گڈھے کیلوں میں الجھ گئے اور میں ٹَنگ گیا اور ہر بار میں نے کیلوں میں پھنسا ہوا جال اتارا۔ نوکیلی کیلوں میں الجھے ہوئے آنکھوں کے گڈھے علیحدہ کئے اور پھر ایک ایک کیل تھامتا ایک ایک کیل پر پاوں جماتا چھت کی جانب بڑھا۔ دیواریں کتنی اونچی تھیں اور چھت کون سے آسمان پر تھی کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ کوئی ستارہ نہ تھا۔ — چھت کی جانب بڑھتا ہوا کئی بار پھسلا، کیلوؐں میں ٹنگا پھر بڑھا اور پھسلا اور یہ پتہ چلا کہ کتنے ہاتھ بڑھتا ہوں اور کتنے ہاتھ پھسل جاتا ہوں اور کہ زمین سے کتنا اوپر ہوں اور آسمان سے کتنا نیچے ہوں اور کہ چھت کون سے آسمان پر ہے۔

پسلیوں کا جال، آسمان کے گہرے گڈھے، بھوک، پیاس ، ویرانی ، سیاہی ، دیوار، نوکیلی کیلیں اور وقت۔۔۔ان کا وجود رہا نہ احساس۔ احساس تھا ایک ناقابل بیان لذت کا کہ جس کی طلب بیٹھے بیٹھے ہنسائے، بیٹھے بیٹھے رلائے —– اور پھر میں نہ جانے کب سے چھت پر آلتی پالتی مارے بیٹھا رہا، ہنستا رہا، روتا رہا۔

ہر سمت، دور بہت دور، نظروں کی سرحد پر ، نیم روشن قمقموں کی لکیر دائرے کی صورت کھنچی ہوئی تھی اور چھت مرکزی نکتہ تھی اور مرکزی نکتہ مجھے سمیٹے ہوئے تھا۔ مرکزی نکتے اور نیم روشن قمقموں کی لکیر کے درمیان ویرانی اور سیاہی کی کتنی تہیں اوپر تلے چڑھی ہوئی تھیں، کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ چھت کی بلندی اور قمقموں کی لکیر کی پستی کے بیچ آوازوں کا کوئی سلسہ موجود تھا۔

چھت سنگ مر مر کے آڑے ترچھے ٹکڑوں سے جڑی ہوئی تھی۔ —- چکنی، یخ، آبدار چھت۔—

سنگ مر مر کے آڑے ترچھے ٹکڑوں کے درمیان ہاتھ بھر لمبا، آڑا ترچھا شیشے کا ایک روشن ٹکڑا جڑا ہوا تھا اور قریب ہی وہ پتھر پڑا ہوا تھا جو میں نے زمین سے اوپر اچھال دیا تھا اور جو چٹاخ کی آواز بلند کر کے اوپر ہی رک گیا تھا اور میں نے محسوس کیا تھا کہ مجھے چھت پر پہنچنا ہے۔

میں نے ہاتھ بڑھایا —- پتھر میرے ہاتھوں میں تھا —- اور پھر میں نے محسوس کیا، پتھر کا سمبندھ  ہاتھ بھر لمبے ، آڑے ترچھے شیشے کے روشن ٹکڑے سے ہے۔ شیشے اور پتھر کا سمبندھ ؟

پتھر میں نے شیشے کے ٹکڑے پر پٹخ دیا۔ شیشہ کرچ کرچ ٹوٹ گیا اور پتھر ؟ اوپر اچھالی گئی چیز نیچے لوٹ آئی ہے، نیچے پھینکی گئی چیز اوپر لوٹ کر نہیں آئی —- جب میں نے پتھر زمین سے اوپر اچھال دیا تھا، چٹاخ کی آواز بلند ہوئی تھی کہ پتھر زمین کی جانب لوٹتے ہوئے چھت پر رک گیا تھا لیکن شیشہ کرچ کرچ ٹوٹ گیا اور پتھر نہ جانے کون سی پستی کی جانب روانہ ہوا کہ کوئی آواز بلند نہ ہوئی۔

پستی کی آخری حد زمین تھی جو چار آڑی ترچھی دیواروں میں قید تھی یا زمین کا قلب ، کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ آڑا ترچھا روشن شیشہ ٹوٹنے پر آڑے ترچھے سنگ مر مر کے ٹکڑوں کے درمیان جب چھت نے آسمان کی طرف منہ کھولا، منہ سے نہ جانے کب کی مقید روشنی لپکنے لگی۔ دیکھتے دیکھتے آسمان کا ایک وسیع آڑا ترچھا ٹکڑا روشن ہو گیا۔ لیکن کچھ پتہ نہ چلا کہ چھت کون سے آسمان پر ہے اور کون سا آسمان چھت پر جھکا ہوا ہے اور زمین چھت سے کتنے آسمان نیچے ہے کہ آسمانوں کے درمیان اور زمین کے درمیان سیاہی جوں کی توں تھی اور ہر طرف، دور بہت دور، نظروں کی سرحد پر، نیم روشن قمقموں کی لکیر دائرے کی صورت کھنچی ہوئی تھی اور چھت مرکزی نکتہ تھی اور مرکزی نکتہ مجھے سمیٹے ہوئے تھا اور مرکزی نکتے اور نیم روشن قمقموں کی لکیر کے درمیان ویرانی اور سیاہی کی کتنی تہیں اوپر تلے چڑھی تھیں۔ کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ بلندی اور قمقموں کی لکیر کی پستی کے بیچ آوازوں کا کوئی سلسلہ موجود نہ تھا۔ میں نے محسوس کیا مجھے پستی کی آخری حد پر پہنچنا ہے جہاں سے کوئی آواز نہیں آتی۔

میں نے ایک نظر آسمان کے وسیع آڑے ترچھے روشن ٹکڑے پر ڈالی، ایک نظر نیم روشن قمقموں کی لکیر کو دیکھا اور چھت کے آسمان کی طرف کھلے ہوئے منہ میں کود پڑا۔

میں پستی کی آخری حد کی جانب گر رہا تھا۔ — گر رہا تھا، مجھے کچھ پتہ نہ چلا، کتنا گر چکا ہوں اور ابھی کتنا گرنا ہے کہ زمین سے چھت کی بلندی کا تعین ہی نہ کر سکا تھا۔ چھت سے زمین کی پستی کا تعین کیسے کرتا اور یہ بھی تو پتہ نہیں تھا ، پستی کی آخری حد زمین ہے یا زمین کا قلب۔ زمین پر پاوں جما کر زمین کے قلب کی پستی جانی جا سکتی اوپر اٹھ کر، انجانی بلندیوں پر پاوں جما کر، زمین کے قلب کی پستی کیسے جانی جا سکتی ہے ؟

نیم روشن قمقموں کی لکیر، آسمان کا وسیع آڑا ترچھا روشن ٹکڑا، سنگ مر مر کے آڑے ترچھے ٹکڑوں سے جڑی ہوئی چکنی، یخ، آبدار چھت، بھوک پیاس، ویرانی، سیاہی، پسلیوں کا جال، آنکھوں کے گہرےگڈھے اور وقت — ان کا وجود رہا نہ احساس۔ احساس تھا ایک نا قابل بیان لذت کا کہ جس کی طلب بیٹھے بیٹھے ہنسادے، بیٹھے بیٹھے رلا دے—- اور پھر نہ جانے میں کب تک پستی کی آخری حد پر آلتی پالتی مارے بیٹھا رہا، ہنستا رہا، روتا رہا۔

چار آڑی ترچھی دیواریں تھیں، چار مختلف زاویوں کے کونے تھے۔ دیواریں اتنی بلند تھیں کہ ختم ہوتی دکھائی نہ دیتی تھیں اور چھت ؟ کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ چھت ہے یا آسمان ہے اور چھت کا منہ ؟ کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ ہے بھی یا نہیں اور پستی کی آخری حد  ؟ چکنی مٹی سے لپا تپا کچا فرش — وہ کمرہ ؟ نا قابل بیان ہے کہ نہ تو وہ مربع تھا، نہ مستعطیل اور نہ اسکی دیواریں متوازی تھیں۔

چاروں دیواریں بدی کی روشنی سے چمک رہی تھیں کہ ایک طرف پڑے ہوئے قدیم میز کی چھاتی میں ہاتھ بھر لمبے پھل والا چاقو پیوست تھا اور میز کی چھاتی سے باہر چاقو کے پھل کا جو حصہ رہ گیا تھا، اس سے بدی کی تیز روشنی پھوٹ رہی تھی اور میز کے قریب ہی چکنی مٹی سے لِپے تُپے کچے فرش پر وہ پتھر پڑا ہوا تھا، جو میں نے ہاتھ بھر لمبے شیشے کے آڑے ترچھے روشن ٹکڑے پر پٹخ دیا تھا اور شیشہ کرچ کرچ ٹوٹ گیا تھا اور پتھر نہ جانے کونسی پستی کی جانب روانہ ہوا تھا کہ کوئی آواز بلند نہ ہوئی تھی۔ —- پستی کی آخری حد پر پتھر بھی پڑا ہوا تھا اور میں بھی۔

میز کی چھاتی پر بوسیدہ جلد والی ایک فائل بھی پڑی ہوئی تھی۔

دیواروں پر ایک ایک کینوس بھی آویزاں تھا۔ ایک دیوار پر آویزاں کینوس ، چاندی کے بالوں والے ایک جھریاں بھرے چہرے کے آدمی کو قید کئے ہوئے تھا۔ دوسری دیوار پر کے کینوس میں چاندی کے بالوں والی ایک جھریاں بھرے چہرے کی عورت کو قید کیا ہوا تھا۔ تیسری دیوار پر آویزاں کینوس میں سیاہ بالوں والی ایک بھرے بھرے چہرے کی عورت قید تھی۔ چوتھی دیوار سُونی تھی۔ میں نے محسوس کیا ، اس دیوار کا سُونا پن میری سمجھ سے بالا تر ہے۔

میں نے بوسیدہ جلد والی فائل کھولی۔ ایک خستہ کاغذ بندھا پڑا تھا جس پر تین کالم کھنچے تھے اور کالموں میں نام، جرم اور سزایئں لکھی ہوئی تھیں۔

بوڑھا مرد : لا علمی : گلے میں پھندا ڈال کر موت

بوڑھی عورت : معصومیت : دودھ میں زہر ملا کر موت

جوان عورت : فریب :  سینے میں گولی مار کر موت

فائل میں ایک اور کاغذ بھی پڑا ہوا تھا جو بندھا ہوا نہیں تھا اور اس پر لکھا تھا

” اے کہ تو نے مجرموں سے سمبندھ رکھا، تیری سزا عمر بھر کی قید تنہائی ہے”

اور پھر میری پسلیوں کے جال میں اور آنکھوں کے دو گہرے گڈھوں میں ایک نا آشنا کہرام برپا ہوا اور پھر کچھ محسوس نہ ہوا اور پھر میں نے وہ پتھر اٹھایا جو میں نے اوپر اچھال دیا تھا اور پھر نیچے پٹخ دیا تھا اور پیشانی پر بھرپور ضرب لگائی۔

وہ پتھر اب بھی میرے پاس ہے۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: