داستان ( چہارم) ۔۔۔ ڈاکٹر صابرہ شاہین

داستان ( قسط چہارم )

ڈاکٹر صابرہ شاہین

  • بابا گھوڑے پالنے کے شوقین تھے ہمیشہ ایک آدھ خوبصورت گھوڑا حویلی میں موجود رہتا۔ ہم بچوں کو صرف اسے ہاتھ لگانے پیار کرنے کی اجازت ہوتی تھی۔ بابا کے گھوڑے کے مقابلے میں میرا لمبا چوڑا سفید بکرا تھا جس کی پیٹھ پر بیٹھ کر کندھے سے چھوٹی سی کمان لٹکائے کمر سے تیر باندھے میں اس کے لمبے کانوں کو باگوں کی طرح پکڑ کر ایڑ لگاتی تو وہ ہوا ہو جاتا یوں میں زنانخوانے کی حدوں سے دور قبرستان کی اور جانے والی پگڈنڈی پر لہلہاتے درختوں کے جھنڈ میں چھپے کووں ‘ چڑیوں اور گلہریوں کا شکار کرتی۔ ایک دفعہ تین چار مردہ چڑیاں لا کر اپنی دوست آمنہ رمضو چاچا (موچی) کی بیٹی کو دے دیں اس نے ان کے گوشت کی صحبت بنائی اور مزے سے کھائی ۔ دعوت تو مجھے بھی تھی مگر میں نے کھانے سے انکار کر دیا۔بابا کہتے تھے  چھوٹے بچے اگر نماز پڑھیں تو اللہ میاں ان سے بہت پیار کرتے ہیں ۔ اوران بچوں کو انعام میں ہر روز نئی نئی چیزیاں کھانے کو دیتے ہیں ۔ کہاں پر بیٹھ کے دیتے ہیں؟ ہم سب چھوٹے بہن بھائیوں نے سوال کیا۔ وہیں جائے نماز پر بیٹھے ہوئے ۔جب بچہ نماز پوری کر لیتا ہے اور جانماز کا سجدہ گاہ والا حصہ بسم اللہ پڑھ کر آوپر آٹھاتا ہے تو نیچے چیزی رکھی ہوتی ہے۔ اچھا۔۔۔۔بابا ۔۔۔۔ہم حیرت کے سمندر میں ہچکولے لینے لگے  ۔ بالکل بابا  ہماری حیرتوں سے محظوظ ہوتے ہوئے گویا ہوئے ۔ اگر ہم نماز پڑھیں تو چیزی ملے گی؟ ہاں مگر ہمیں تو نماز ہی نہیں آتی  ہم سب بسورے ۔ میں سکھاوں گا نا۔ٹھیک ہے  ہم خوشی سے چلا آٹھے۔ابھی تم سب کلمہ پڑھتے ہوئے رکوع و سجود کرنا شروع کرو میں ہر رات تمھیں نماز کی سورتیں یاد کراوں گا ۔ پھر معمول ہو گیا ہم بہن بھائی باقائدگی سے نماز پڑھتے جاہ نماز کا کونا آٹھاتے اور چیزی پاتے۔ ایک دن میں اپنے دروازے سے باہر کھڑی تھی کہ میری دوست رانی آئی میرے ہاتھ میں ٹافیاں دیکھ کر بولی دوکان تو بند ہے تم یہ کہاں سے لائی ہو؟ میں دوکان سے نہیں لائی میرے اللہ میاں نے دی ہیں ۔ کیا۔۔۔۔اس کی سمجھ میں بات نہ آئی پھر میں نے اسے  اللہ میاں سے ٹافیاں لینے کاطریقہ بتا کر کہا کل مجھے بتانا کہ تمھیں کیا ملا۔ صبح رانی کا منہ لٹکا ہوا تھا ۔ کیا ہوا رانی؟ وہ روتے ہوئے بولی میرے اللہ میاں نے چیزی نہیں دی۔ مجھے یقین نہ آیا۔ تم نے ٹھیک سے دیکھا تھا؟ ہاں پوری جائے نماز آٹھا لی تھی پھر بھی کچھ نہیں ملا ۔ میرے والے اللہ میاں گندے ہیں ۔  ہاں۔۔۔۔ مگر تھوڑے سے گندے تو میرے والے اللہ میاں بھی ہیں ۔وہ کیسے۔۔۔؟ اس نے روتی انکھوں سے مجھے دیکھا۔ دیکھو تمھارے والے اللہ میاں صرف تمھیں چیزی نہیں دیتے نا  مگر تم سے تمھاری اماں تو نہیں چھینتےہے ناں ؟ ۔اور میرے اللہ میاں جو ہیں وہ بیشک مجھے چیزی تو دے دیتے ہیں ۔مگر انھوں نے میری اماں مجھ سے چھین لی ہے۔ہم دونوں کے اللہ میاں آدھے اچھے والے ہیں اور آدھے گندے والے۔  اب دیکھو ناں تم سب کو تمہاری امیاں گودی میں لے کر پیار کرتی ہیں۔ مجھے تو کوئی پیار بھی نہیں کرتا۔ تم اپنے بابا سے کہو وہ تمھیں پیار کیا کریں۔ اس نے میرے گال کو اپنے ننھے ہاتھ سے چھو لیا۔ کہا تھا ۔۔۔بابا سے ۔۔مگر بابا کہتےہیں  اللہ کا فرمان ہے کہ بابا  اور بھائی لوگ سب   بیٹیوں کے صرف ماتھے پر  پپی کر سکتے ہیں اور بالوں پر ہاتھ ہی  پھیر سکتے ہیں ۔ اب دیکھو نا بابا کے ہاتھ کا پیار تو بالوں میں  پھنس جاتا ہے نیچے دل تک  تو نہیں جاتا نا۔ آنسووں کے تار ہم دونوں کی گردن تلک ڈھلکتے جاتے تھے۔ پھر وہ ایک دم آگے کو سرکی اور اپنے دونوں چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے میرے آنسو پونچھنے لگی جوابآ میں نے بھی اپنی لانبی لانبی انگلیوں سے اس کے سارے آنسو صاف کر دئیے۔ چند ثانیوں بعد میں اس کے ہاتھوں کو ہاتھ میں لیے راز داری سے بولی ویسے میں نے اک پلان سوچا ہے۔ کیا وہ ہنسنے لگی۔ ابھی ہم بہت چھوٹے ہیں نا ؟  ہوں وہ مسکراتے ہوئے بولی ۔ اور نانو کہتی ہیں میرے اللہ میاں دور آسمانوں میں کہیں  رہتے ہیں ابھی میرے پاس جہاز تو ہے نہیں کہ میں اس کے پاس جاوں ۔ اس لیے ابھی میں خوب محنت کروں گی بہت سارا پڑھوں گی افیسر بنوں گی اور جو میری بہت ساری  تنخواہ ہو گی نا وہ جمع کرتی جاوں گی کرتی جاوں گی پھر بڑا سارا جہاز خرید کر اڑانا سیکھوں گی جب سیکھ لوں گی تو آسمانوں میں بیٹھے اللہ   میاں کے پاس جا کر اس کی اماں کو چوری کر کے نیچے لے آوں گی پھر اسے اپنی اماں کی طرح قبر میں سلا دوں گی اور اللہ میاں کو بلا کر کہوں گی آ اور میری طرح اپنی اماں کو ہاتھ والے پنکھے سے ہوا دے یہاں بہت گرمی ہے۔دادا سائیں (ملک گل محمد) کی تین شادیاں تھیں۔ پہلی بیوی حسب_روایت خاندان سے تھیں ۔مگر ان سے کوئی اولاد نہ تھی دوسری شادی کو چند ماہ ہی گزرے تھے کہ دلہن اللہ کو پیاری ہو گئی۔ ان دو شادیوں کے دوران جن میں دادا سائیں کی اولاد نہ تھی ان کے چچا زاد بھائیوں نے نجانے کیسے اثر و رسوخ استعمال کر کے ڈیرہ غازی خان شہر کی تمام اراضی دادا سایئں  کو لا ولد ثابت کر کے بیچ دی۔ چوالیس بلاک ڈیرہ غازی خان کی بغل میں کنگن سڑک کے کنارے کی یہ وسیع اراضی شہر کی قیمتی ترین جائیداد میں شمار ہوتی ہے۔آج اس کے ایک مرلے کی قیمت لاکھوں میں ہے جس کو  اونے پونے بییچ کر انھوں نے سندھ کنارے  زمینیں خرید لیں اور دادا جوعلاقے کے خدا ترس نمبر دار تھے انھیں ان کی فقیری اور لوبھ لالچ سے دوری نے  خبر تک نہ ہو نے دی کہ جن  چچا زادوں کو وہ اپنا بازو اور وقار کا رکھوالا سمجھتے ہوئے ان پر اندھا اعتماد کرتے ہیں وہ ان کی ناک کے نیچے کیسا خوفناک  کھیل کھیل رہے ہیں۔۔ بڑی دادی کے اصرار پر دادا سائیں  نے تیسری شادی اپنی پسند سے کی ۔ اس بیوی سے انھیں اللہ تعالی نے جب  چار بیٹے اور ایک بیٹی سے نوازہ تو انھیں اپنی بکھری ہوئی جائیداد اور زمینوں کا خیال آیا مگر اب عمر پیالہ بھر چکا تھا اس سے پہلے کہ وہ اپنوں کی دھوکہ دہی سے آگاہ ہوتے دنیا سے چل دیئے۔ دادا سائیں کا نام  گل محمد اور  پردادا کا نام ملک فضل تھا۔ملک فضل جب پیر عادل کو خیر باد کہنے لگے  اور اراضی بیچنے کا آغاز کر دیا  تو زرعی زمینوں کا اک بڑا حصہ عادل پیر سے عقیدت کی بنا پر ان  کی اولاد اور دربار کو   تحفتآ دان کر آئے پھر سرور والی کے ارد گرد کا وسیع گاوں جو اس زمانے میں  کھوتے والا کہلاتا تھا نا صرف اسے بلکہ تین گاوں اور بھی خرید لیے ۔پھر اس گاوں کا  مضحکہ خیز نام بدل کر  بستی کھوہاوڑ  رکھ دیا۔ بستی کھوہاوڑ چونکہ سندھ دریا کے کنارے اباد تھی اس لیے دریا پار یعنی بیٹ کی زمینیں بھی انھیں منافع بخش لگیں اس لیے وہاں بھی  انھوں نے کچھ مربعے زمین خرید کر پٹے پر دے دی آج بھی ہماری ملکیت  کچھ بیگھے زمین  بیٹ میں بطور یاد گار  باقی مگر دریا برد پڑی ہے۔ میرے بابا بہن بھائیوں  میں سب سے بڑے تھے ابھی چھٹی جمات میں پروموٹ ہی ہوئے تھے کہ  باپ کے سائے سے محروم ہو گئے۔ اور یوں دادا کے چچا زادوں کو سنہری موقع ہاتھ لگ گیا جائیداد ہتھیانے کا ۔انھوں نے ہماری نوجوان دادی کے ان پڑھ ہونے سے خوب فائدہ آٹھایا ۔مکر و فریب کے ذریعے ان سے  پاور آف اٹارنی حاصل کی اور  زمینیں  بیچنا شروع کیں۔ مستزاد یہ کہ  دادی کو بلیک میل کر کے دوسری شادی پر مجبور کر دیا اور یوں دادی سے ایک سوتیلا  چچااور ایک  پھوھو پیدا ہوئے ۔ نجانے کیسے علاقے کے ایک پٹواری کو آخرت کا خوف سوجھا اور اس نے ہماری بقایا زمینوں کی سوداگری کے رستے میں رکاوٹ کھڑی کرنے کے ساتھ ساتھ میرے بابا کا بھر پور ساتھ دیااور یتیموں کے مال کی حفاظت کی۔  بڑے ہو کر بآبا نے نجانے کیوں  زمینوں پر توجہ دینے کی بجائے بلوچ لیوی میں معمولی سی ملازمت کر لی لیکن جب اماں چند برس کی رفاقت کے بعد صرف انتیس سال کی عمر میں اک کار حادثے میں دنیا کو خیر باد کہہ گئیں تو بابا نے نوکری چھوڑ دی اور اپنی ابائی زمینوں پر محنت کرنے کی بجائے ہر ماہ” ہک ٹوٹا” زمین کا پیچ کر اپنے بچوں کو پورے پیار سے پالنے لگے۔ صرف بابا ہی کیا میرے سارے چچا آرام پرست اور نکمے نکلے۔ کسی نے زمینوں پر محنت کرنا پسند نہ کیا  نتیجتآ جو کامے تھے وہ دبئی اور سعودیہ کی کمائی سے زمیدار بنتے چلے گئے اور نمبر دار کی اولاد کی زمینیں اب حویلی کی طرف سکڑتی چلی آتی ہیں ۔ وہ تو بھلا ہو کمی کمینوں کےظرف کا کہ آج بھی” بابا اینڈ کو” سب کو ملک صاحب کہہ کر ان کے اچے شملے کی لاج رکھتے ہیں ورنہ اب ان کی زمینیں ہماری ملکیت سے زیادہ ہیں۔شاید وہ گرمیوں کی شام تھی  اب یاد نہیں کس سواری پر ہم اس علاقے میں پہنچے تھے بس اتنا یاد ہے کہ پکی سڑک سے جونہی ہم نیچے اترے تو اک وسیع میدان تھا. اکا دکا درخت بھی تھے مگر دور دور .ہوا سنسناتی تھی خوف اور تجسس کو بڑھاتی یہ پراسرار  ہوا زیادہ گرم نہ تھی. تا حد_نگاہ پھیلے ہو ئے اس میدان میں کوئی ذی روح تک نہ تھا بس ہمارے سانسوں آواز اور خامشی اپس میں دست و گریباں تھے۔ بابا کی انگلی پکڑے میرے علاوہ دوسرا کونسا بھائی یا بہن ساتھ تھا یہ بھی یاد نہیں رہا  مگر اتنا یاد ہے کہ اس وسیع ویرانے میں ہم تین نفوس تھے جو سنسناتی ہوا کے زیرو بم کو محسوس کرتے  گہرے اجاڑ پن کی وحشت سے دم بخود اک سمت  بس چپ اوڑھے چلے جاتے تھے ۔ خاصی لمبی مسافت طے کرنے کے بعد اک گھنیرا پیلوں کا پیڑ نظر پڑا جس کی شاخوں سے پیلے سبز کپڑوں میں ملبوس میلی کچیلی بچیاں  بندریوں کی طرح لٹکی ہوئی تھیں بابا نے اس درخت کے نیچے چند لمحوں کے لیے سفر موقوف کیا کچھ دیر ٹہنیوں کو دیکھا کئے پھر چند نیچے کو جھکی ہوئ ٹہنیوں کو پکڑا اور رنگ برنگے پیلوں کے ننھے منے موتی ہماری ہتھیلوں پر رکھ دئیے۔ مسکراتے ہوئے بولے کھا کر دیکھو ۔ہم جو  ان موتیوں کے رنگوں کو دیکھ کر حیران تھے ان سندر موتیوں کو منہ میں رکھتے ہوئےجھجکتے تھے ۔ ڈرتے ڈرتے موتیوں کو منہ میں ڈالا پھر  ان کے ذائقے اور مٹھاس سے اشنا ہوئے تو  خوشی سے چہکنے لگے ۔ سفر پھر شروع ہو گیا تھا تھکن ہمارے چہروں سے عیاں ہونے لگی تو بابا تسلی دیتے ہوئے بولے وہ سامنے اک بڑی سی عمارت نظر آرہی ہے نا ؟بس وہاں جانا ہے ہمیں ۔گھبراو نہیں بس تھوڑا سا فاصلہ رہ گیا ہے۔ اور پھر واقعی کچھ دیر بعد ہی ہم لوگ اس وسیع و عریض ہویلی کے مردان خانے میں تھے۔ اک کمرے میں بہت خوبصورت قالین نما چٹائی پر چاروں دیواروں کے ساتھ گاو تکئیے لگے تھے۔ اور بہت سے مرد وہاں تکیوں سے ٹیک لگائے خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔بابا گھر کے مالک سے بغل گیر ہوئے ۔ میزبان نے ہم بچوں  کے گال تھپتھپا کر پیار کیا اور اپنی ملازمہ کو بلا کر بولے انھیں اندر لے جاو۔ عجب بغداد کی بھول بھلیوں جیسی حویلی تھی نجانے کب اور کیسے ہم اک سجے سجائے کمرے میں پہنچا دئے گئے ۔ بھاری بھاری کولہوں والی بے ڈھنگی سرخ و سفید عورت کے چہرے پر رعونت تھی جانے اس نے ہم سے کیا کیا پوچھا پھر باہر کھیلنے کو کہہ دیا۔ میں اور میری بہن یا بھائی پکڑن پکڑائی کھیلتے ہوئے کہیں نیچے اس حویلی کے تہ خانے کی عمارت میں جا گھسے تھے ۔ نیچے پہنچ کر ہم  سیڑھیوں کی دائیں جانب جو مڑے تو اک بہت بڑے تالاب کے کنارے جا کھڑے ہوئے ۔ اور اس وقت ہماری خوف سے گھگھی بندھ گئی۔ جب ہم نے  اس تالاب کے گرد قریبآ بیس بائیس مادر زاد ننگی عورتوں کو تالاب میں چھلانگیں لگاتے اور کچھ کو کنارے پر بیٹھے ہنسی مذاق میں مشغول دیکھا۔ ساری عورتیں کمزور اور ہر طرح کے حسن سے عاری تھیں ۔ جیسے زرد رو لونڈیاں ہوں سب کی چھاتیاں سوکھی چھوٹی چھوٹی نیچے کو لٹکتی تھیں  اور منحنی پنڈلیوں پر پاوں سے اوپر نوکیلے ٹخنے چونچ نکالے کھڑے تھے۔ ہمیں دیکھ کر وہ سب چیختی ہوئی نجانے کس طرف کو بھاگ گئیں اور ہم بری طرح با آواز بلند چیخنے اور رونے لگے تھے ۔کہ وہی ملازمہ ہمیں ہاتھوں سے پکڑ کر  بابا کےپاس چھوڑ گئی

ہماری اردو کو پختہ کرنے کے لیے بابا کہتے تھے تم سب بچے مجھے خط لکھا کرو ۔ سو ہم سب اپنی اپنی فرمائشیں ضرورتیں اور ناراضگیاں خط میں لکھ کر بابا کی جیب میں رکھ آتے ۔صبح اس کا جواب انعام کی صورت ملا کرتا بابا اور چاچو کے پاس کچھ بہت پرانیں داستانوں کے نسخے بھی تھے۔رانی کیتکی ۔ ہزار داستان ۔ باغ و بہار ۔پنجابی کی سیف الملوک ۔ اور چند ایک اور داستانیں جن کا نام اس وقت میرے ذہن میں نہیں آرہا افسوس   ۔یہ قیمتی اثاثہ ایک سے دوسرے ٹھکانے میں ہجرت کے دوران کہیں کھو گیا ۔ہو سکتا ہے پڑھنے والوں کو اس بات پر یقین نہ آئے مگر یہ سچ ہے کہ یہ سب کتابیں میں نے   تیسری جماعت میں پڑھ لی تھیں مطالب تو سمجھ میں نہ آتے تھے مگر بہترین قرات’ درست تلفظ اور لفظوں کا درست استعمال اسی مطالعے کا احسان ہے ۔ جن لفظوں کو پڑھنے میں مشکل محسوس ہوتی انھیں  نشان زد کر کے بابا سے پوچھ لیا کرتے۔ میرے بابا صرف  میٹرک پاس تھے مگر تاریخ_ادب (مشرقی ادب) سے کاملآ واقف تھے۔ بہت سے مخطوطے اور تاریخ کی کتابوں کا اک ذخیرہ تھا ان کے پاس ۔اس کے علاوہ بستی کے مردان خانےمیں برپا رہنے والی شام کی محافل میں موسیقی’ داستان گوئی ‘ ادبی و علمی مباحث کے علاوہ تاریخی واقعات تک سنائے جاتے ۔ میں یہ سب قصے’ مباحثے داستانیں بہت غور سے سنتی ۔ میرے اندر مہم جوئی’ بے خوفی اور حالات سے لڑ جانے کی خصوصیات انھیں داستانوں کی دین ہے ۔ داستانوں کے ہیروز کی طرح اپنی بہنوں اور کزنز کو لیڈ کرتی ہوئی سب انوکھی مہم جویانہ حرکات کرنا میری فطرت_ثانہ بن چکی تھی۔ اداکاری گائیکی اور پڑھائی میں یکساں طور پر نمایاں طالب علم تو میں تھی ہی ۔ شکل و صورت کے حوالے سے بھی اک خاص قسم کی دلکشی اور حسن قدرت کی طرف سے وافر ودیعت ہوا تھا جس کی وجہ سے ہمیشہ خاص توجہ اور محبت بن مانگے ملی ۔ میری ماموں زاد جو اج کل اک کامیاب وکیل ہے بہت شو باز تھی اور اکثر اپنے باپ کے ساتھ مختلف جہگوں کی یاترا کے سچے جھوٹے قصے سناتی رہتی۔ ہمارے بابا ہمیں کہیں لے کر نہ جاتے تھے۔ ایک دفعہ اس نے ریلوے سٹیشن جا کر چھک چھک کرتی ریل کے حسن کے قصے کچھ اس طرح سنائے کہ ہمارے (میری بہن شاہدہ’ میری خالہ زاد ساجدہ سلطانہ جو بڑی ہو کر میرے بہت پیارے بھائی کی دلہن بنی اور میں ) للچا کر رہ گئے۔ میں نے اپنی ماموں زاد سے ریلوے اسٹیشن کا مکمل پتہ ‘راستہ اور ریل کی شکل کے بارے میں تمام اہم معلومات لیں اور شاہدہ و ساجدہ دونوں کو تسلی دی کہ کل ہم بھی ریل دیکھنے چلیں گے۔ مگر کیسے؟ ان دونوں کی انکھوں میں پشیمانی تھی ۔یہ سب مجھ پر چھوڑ دو ۔ہم تینوں ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے  لہذا ہم نے طے کیا کہ کل سکول سے باجماعت چھٹی کریں گے۔مگر صبح ہم دونوں بہنوں کے علاوہ ساجدہ کو بھی سکول سے چھٹی کی  اجازت نہ ملی ۔صبح وہ بستہ لیے بسورتی ہمارے گھر آگئی تاکہ سکول جا سکیں ۔گھر سے باہر نکلتے ہی ہم  گلی کی نکڑ پر کھڑے ہو گئے اور اپنے خاص پروگرام پر زور دار بحث کرنے لگے اور اس نتیجے پر پہنچے  کہ ہم کیونکہ لائق بچے ہیں اور چھٹیاں بھی نہیں کرتے ۔ اس لیےاگر ایک دن کی چھٹی کر بھی لیں گے تو ٹیچرز ہرگز ناراض نہیں ہوں گی ۔اس لیے ہم سکول کی بجائے سیدھے ریلوے اسٹیشن چلتے ہیں ۔سفر کا طریقہ_کار یوں طے ہوا کہ ہم جہاں سے بھی گزریں گے کویلے سے کراس کا نشان دیواروں پر لگاتے جائیں گے تاکہ واپس آتے ہوئے راستہ بھٹکنے امکانات کم رہیں ۔ ریلوے اسٹیشن ہمارے گھر سے کوئی ڈیڑھ کلومیٹر دور تھا ۔مگر یہ فاصلہ عمر کے اس حصے میں کوسوں کاسفر تھا ۔جس میں ہزاروں خوف کی منزلیں تھیں ۔ مگر شوق تو شوق تھا اس لیے اللہ کانام لیا اور کزن کے بتلائے ہوئے راستے اور طے شدہ سمت میں مہم جوئی کے دیوانوں کی یہ البیلی تکون   سفر پرچل پڑی ۔ نجانے کیسے کسی موڑ پر ہم غلط  سمت کی طرف مڑ گئے  اور  اسٹیشن کی بجائے “بڑی نہر” (یہی نام ہے آج بھی اس نہر کا ۔۔۔شاید۔) کے کنارے پہنچ گئے جان لیوا گرم دوپہر سروں پر کڑک رہی تھی پیاس سے لب خشک ہو کر اک دوسرے سے چپک گئے تھے۔ میرے دونوں ساتھیوں نے نم آنکھوں سے میری طرف دیکھا ۔نہر کا کنارہ بہت اونچا تھا اور  پانی کہیں بہت  نیچے گہرائی میں بہہ رہا تھا۔ بیٹھ کر ہمارے ننھے منے ہاتھ سطح_آب کو چھو بھی نہ سکتے تھے۔ اب کیا ہو ۔ فورآ میری کھوپڑی میں اک ریڈی میڈ حل بجلی کی لہر کی مانند کوندا۔ دیکھو ہم میں سے ایک کنارے سے نیچے  لٹک کر ہاتھ لمبے کر کے نہر کی سطح سے پانی پینے کی کوشش کرے  گی اور باقی دو اس کی سیدھی ہوئی ٹانگوں پر عین پاوں کے اوپر بیٹھ جائیں گی تاکہ  وزن کی وجہ سے  نیچے کو لٹکی ہوئی ساتھی نہر میں نہ گر سکے۔  ہرا۔۔۔۔ڈن ۔۔۔اور پھر اس تجویز پر عمل کرنے کے لیے سب سے پہلے میں نے خود کو پیش کیا ۔کہ مہم جوئی کا پہلا اصول ہی یہ تھا( میرے خیال کے مطابق) لیڈر پہلے خود کو جوکھم میں ڈالے گا  پھر باقی ساتھی میدان میں اتریں گے سو میں جتنا  بھی کنارے سے نیچے لٹک سکتی تھی لٹک گٹی اور شاہدہ و ساجدہ میرے پیروں پر بیٹھ گئیں۔ بہت ہاتھ چلائے مگر سطح آب کو چھو سکنا ممکن نہ تھا سو ساتھیوں سے کہا مجھے واپس کھینچیں کہ اب میرا خود اوپر کو آٹھنا ممکن ہی نہ تھا کیوں کہ میں بہت نیچے تک لٹک چکی تھی ۔ دونوں بہنوں نے نجانے کتنی طاقت لگا کر مجھے اوپر اپنی طرف گھسیٹا یوں ہم سب کی پیاس اور بھی بڑھ گئی۔  بستوں کا بوجھ اس پر مستزاد تھا۔ابھی ہم بیٹھے ہانپ ہی رہے تھے کہ اک چرواہا اپنے ریوڑ سمیت کہیں سے نمودار ہوا اور کرخت آواز میں بولا اوے تم سب یہاں ۔۔۔۔مگر کیسے ؟ میں نے بتایا ہم ریل دیکھنے آئے ہیں مگر وہ ملتی ہی نہیں ۔اس نے انکھیں نکال کر  کہا جاو اپنے گھروں کو۔۔ نہیں ہم ریل دیکھے بغیر نہیں جائیں گے۔ شاید اسے ہم پر ترس آگیا وہ ہمیں انتہائی مختصر راستے سے اسٹیشن لے گیا وہاں سرخ رنگ کی مال گاڑی کی دو بوگیاں موجود تھیں ریل نہیں تھی وہ شخص بولا ریل رات کو آئے گی اب گھر جاو ورنہ نہر میں ڈبو دوں گا۔ ہم راستہ بھٹک. چکے تھے اب کس سمت جانا ہےسمجھ نہیں آتی تھی اس نے ہم سے بلاک نمبر پوچھا جو ہمیں معلوم نہ تھا. ٠٠٠

Similar Posts:

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

October 2021
M T W T F S S
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
Show Buttons
Hide Buttons