نرماہٹ کا راز ۔۔ فطرت سوہان

نرماہٹ کا رار

( فطرت سوہان )

جب تمھارے محبت بھرے ہاتھ
میرے ہاتھوں کی طرف بڑھتے ہیں تو
وہ میرے لیے کیا لاتے ہیں
وہ تویکایک میرے ہونٹوں تک آ کر رک جاتے ہیں
آخر
مجھے کیوں لگتا ہے
میں نے انھیں پہلے بھی چھوا ہے
مجھے کیوں لگتا ہے
کہ یہ پہلے بھی موجود تھے
میرے ماتھے ٫ میرے ہونٹوں، میرے سینے
اور میری کمر کے آس پاس
ان کی نرماہٹ وقت سے ماوراء ہو کر امڈتی رہی ہے
کبھی سمندروں کے تموج سے بڑھ کر
کبھی دھندلے موسموں کی صورت
اور کبھی بہارِ حاں فزا کا لمس بن کر
میں خوب پہچانتا ہوں
فاختہ کے ان سنہری پروں کو
میں گندمی اور مٹیالے رنگوں کو خوب پہچانتا ہوں
میں برسوں سرگرداں رہا انھی کی تلاش میں
کبھی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے
کبھی سڑکیں عبور کرتے ہوئے
کبھی پانیوں نے ان کی خبر دی
تو کبھی انگور کے خوشوں نے
میں خوب جانتا ہوں کہ تمھارا لمس کیا ہے
چوب ِ آب دار چھونے کا احساس
رگ و پے میں اتر کر باداموں کا ذائقہ بنتا ہے
لیکن
تمھاری نرماہٹ کا راز اس وقت تک نہیں کھلا
جب تک فاختہ کے دونوں پر
سینے پر بند ہوکر اڑان بھرنا نہیں بھولے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: