بیڑیاں ۔۔۔ عصمت چغتائی


2

بیڑیاں

( عصمت چغتائی )

’’تو یہ ہیں تمہاری قبر آپا۔۔۔ لا حول و لا قوۃ وحید نے اچھا بھلا لمبا سگریٹ پھینک کر دوسرا سلگا لیا۔ کوئی اور وقت ہوتا تو جمیلہ اس سے بری طرح لڑتی اسے یہی برا لگتا تھا کہ سگریٹ سلگالی جائے اور پی نہ جائے بلکہ باتیں کی جائیں۔ جب سلگائی ہے تو پیو۔ دھواں بناکر اڑا دینے سےفائدہ۔ مفت کی تو آتی نہیں۔ مگر اس وقت وہ ہنسی کو دبانے میں ایسی مشغول تھیں کہ گھریلو اقتصادیات کا بالکل دھیان نہ رہا۔

’’اوئی اللہ۔۔۔ کبریٰ آپا سن لیں تو۔۔۔‘‘

’’ہماری بلا سے، سن لیں۔۔۔ چہ چہ۔۔۔ سراسر دھوکا۔۔۔ جعل یعنی ہم یہاں پیاری سی چٹاخ چٹاخ سالی کے تخیل میں گھل رہے ہیں۔ یار دوستوں کو ادھ مرا کردیا ہے۔۔۔ رشک کے مارے، ہٹاؤ بھی نری وہ ہو تم۔‘‘

’’تو۔۔۔ کیا آپ سمجھتے تھے، میں سچ مچ انہیں حسین کہتی تھی۔ یونہی ذرا آپ کو چھیڑنے کو کہہ دیا تھا۔ ہونھ، بڑے آئے وہاں سے جیسے میری بہنیں ٹکیہائیاں ہیں جو تم سے ٹھٹول کرنے آہی تو جائیں گی یہاں۔‘‘

’’ارے تو کیا حرج ہے ٹھٹول میں۔۔۔ کھا تو نہیں جاؤں گا بابا۔۔۔ ایسا تم نے کیا نگل لیا جو۔۔۔ تمہاری ان قبر۔۔۔‘‘

’’ہوش میں ذرا۔۔۔ اترائے ہی چلے جارہے ہیں۔‘‘

’’تو پھر کیوں دیا دھوکا۔‘‘

’’کس کمبخت نے دھوکا دیا آپ کو،‘‘ جمیلہ بنی۔ حالانکہ خوب جانتی تھی۔

’’ارے ہم سمجھتے تھے چلی آرہی ہوگی رس گلے جیسی میٹھی کوئی منی سی سالی۔۔۔‘‘

’’چپ رہو جی۔۔۔ ہونھ۔۔۔ تو کیا برائی ہےان میں۔۔۔‘‘

’’کس میں! قبر آپا ہیں؟ کوئی نہیں بہترین، جتنی قبر ہیں۔۔۔ ایسی کہ بس دیکھتے ہی مرجانے کو جی چاہے۔ قبر کی آغوش میں۔۔۔ واہ۔‘‘

’’میں کہتی ہوں کیا عیب ہے۔ ایسی کتارہ جیسی ناک۔۔۔ اتنا سبک دہانہ۔۔۔ ہاں آنکھیں نہ بہت اچھی ہیں اور نہ بہت بری۔ مگر ناک نقشہ تو۔۔۔‘‘

’’یہاں ناک نقشہ کون کمبخت ناپ رہا ہے۔۔۔ اور کس کمبخت نے تم سے کہا کہ ہمیں کتارہ جیسی ناک چاہیے۔ ہم کہتے ہیں عورت کے چہرے پر ناک کی ضرورت ہی نہیں۔ بیکار میں حارج ہوتی ہے۔‘‘

’’توبہ! کیسے برے ہیں آپ؟‘‘

’’اور کیا؟ یہی تو تم میں خوبی ہے کہ ناک۔۔۔‘‘

’’اوئی یہ چیاں جیسی ناک کمبخت۔۔۔ میری ناک بھی کوئی ناک ہے۔‘‘

’’بس ٹھیک ہے، اور نہیں تو کیا پھاوڑے برابر ہوتی۔ مگر بابا یہ تمہاری بیچاری بہن۔۔۔ ہمیں تو۔۔۔ صفا بات ہے کچھ۔۔۔‘‘

’’ہٹیے بڑے آئے بیچا کہنےوالے۔۔۔‘‘

’’سوکھی ہڑ! چہ توبہ۔۔۔ ہمیں تو۔۔۔‘‘

’’کیا؟‘‘ جمیلہ شوق سے آگے جھک گئی۔

’’یہی۔۔۔ کہ کیا ہوگیا ان بچاری کو؟ معلوم ہوتا ہے پڑے پڑے دیمک لگ گئی۔‘‘

’’چہ۔۔۔ کوئی نہیں۔ صحت اچھی نہیں رہتی۔ رنگت جل گئی۔ رنگ ایسا انار کا دانہ تھا کہ کیا بتاؤں۔‘‘

’’اجی کبھی ہوگا اگلے وقتوں میں۔۔۔ اب تو بس نری قبر رہ گئی ہیں اور وہ بھی گھنی گھنائی۔۔۔‘‘

’’تو کوئی ایسی زیادے عمر تھوڑی ہے۔۔۔‘‘

’’نہ ہوگی مگر معلوم ہوتا ہے ڈال میں لٹکے لٹکے نچڑ گئیں۔ کوئل نے ٹھونگ ماردی شاید۔‘‘

’’ہائے اللہ۔۔۔ چپ رہیے۔۔۔ کیا گندی زبان ہے کمبخت!‘‘

’’میں کہتا ہوں ایک سرے سے عورت ہی نہیں۔۔۔‘‘

’’ایں؟۔۔۔ واہ۔۔۔ آ۔۔۔‘‘

’’ہاں۔۔۔ شرط بدلو، آؤ۔۔۔ ہیجڑہ ہیں۔۔۔ تمہارا کبریٰ آپا۔۔۔‘‘

’’ہائے توبہ۔۔۔ آپ نہیں مانگیں گے۔‘‘

’’خدا قسم۔۔۔ سچ کہتاہوں سونگھ کے بتاسکتا ہوں کہ۔۔۔‘‘

’’میں نہیں سنتی۔۔۔ میں نہیں۔۔۔‘‘ جمیلہ کانوں میں انگلیاں ڈال کر چلانے لگی۔

’’سچ۔۔۔ قبر ہیں پوری۔۔۔ اور ہمیں قبر سےڈر لگتا ہے۔۔۔‘‘

’’میں رو دوں گی،‘‘ کہنے سے پہلے ہی جمیلہ نے موٹے موٹے آنسو بہانا شروع کیے۔

’’ارے رے رے ۔۔۔رو دیں۔۔۔ اچھانہیں نہیں۔۔۔ ہماری جمو۔۔۔ پچ۔۔۔ ہماری جمو بیٹا۔۔۔‘‘

’’پھر۔۔۔ پھر آپ نے مجھے بیٹی کہا۔ پتہ ہے یہ گالی ہے،‘‘ جمیلہ آنسوؤں کی لڑیاں بکھیرتی ہوئی دہشت زدہ ہوکر چلائی۔

’’ایں؟ گالی۔۔۔ کیسی گالی۔۔۔ بیٹا نہیں بٹیا سہی۔۔۔ کیوں بٹیاتو پسند ہے۔۔۔ بٹیا چاہیے؟‘‘

’’ہائے اللہ میں۔۔۔‘‘

’’رو دوں گی،‘‘ وحید نے نقل کی۔

’’مذاق کی حد ہوتی ہے ایک، کتنی دفعہ کہہ چکی ہوں کہ نکاح ٹوٹ جاتاہے بیٹی،ماں یا بہن کہہ دینے سے۔‘‘

’’ارے؟۔۔۔ یہ بات ہے اور تم نے ہمیں پہلے سے بتایا بھی نہیں۔‘‘ وحید فکر مند ہوگیا۔ ’’اب پھر سے نکاح کرنا ہوگا۔۔۔ چلو۔۔۔ چلو اٹھو۔‘‘

’’میں۔۔۔ میں تو مرجاؤں اللہ کرے۔۔۔ نہیں جاتی۔۔۔ ہٹیے۔‘‘

’’اچھا تو پھر یہیں سہی۔۔۔‘‘

’’ہائے!‘‘ اچک کر جمیلہ بھاگی۔ اس سے قبل کہ وحید اٹھے وہ چبوترے پر سے دھم سے کود باورچی خانہ میں جاچوکی پر پھسکڑا مار کر گئی۔

’’ہے ہے نہیں سنتی نیک بخت۔۔۔ کدھر سرپیٹ کے نکل جاؤں میرے اللہ؟‘‘ ملانی بی نے سروتہ چھوڑ کر پوری طاقت سے ماتھے پر ہتھیلی ماری۔ پریشان بال، کاندھوں پر دوپٹہ پھیلا، جیسے الگنی پر سکھانے کے لیے ڈال دیا ہو۔ گال دہکتے، آنکھیں آنسوؤں میں نہاتی مگر ہونٹ مسکراہٹ میں مچلتے ہوئے۔۔۔ جمیلہ نے لاپروائی سے چمٹا اٹھاکر چولہے کی راکھ بکھیردی۔ جلن تھی اسے ملانی بی کی لکچر بازی سے۔ جدھر جاؤ نصیحتوں کی پوٹلیاں ساتھ، سارے گھر کی زنانی پود کی خدائے مجازی سمجھو۔ جب تک زچہ کی پٹی پر پیٹ پکڑ کر نہ بیٹھیں تو نئی روح کا مجال نہیں جو دنیا میں پر بھی مار سکے۔ کنواری بیاہی سب ہی کے مرحلے چٹکیوں میں طے کرادیتیں۔ ممکن نہیں جو کوئی کیس بگڑجائے۔۔۔ لڑکی بالیوں کو اشارے کنایہ سے بہوؤں کے گھونگھٹ میں منہ ڈال کر اپنا سبق پڑھاہی دیتیں۔ جونہی کوئی امید سے ہوتی۔ ملانی بی اس کے گرد گھیرا ڈال پنجے گاڑ کر بیٹھ جاتیں۔

’’ہے ہے بنو۔۔۔ اے دلہن۔۔۔ اللہ کا واسطہ یہ جہاز کا جہاز پلنگ گھسیٹ رہی ہو اور جو کچھ دشمنوں کو ہو گیا تو۔۔۔ سہج سہج میری لاڈلی، کتنی دفعہ کہا کنواری بیاہی ایک سماں نہیں۔ بنو وہ دولتیاں اچھالنےکے دن گئے۔۔۔ بیٹی جان پنڈا سنبھال کے چٹخا گھڑا سمجھو، ٹھیس لگی اور لینے کے دینے پڑجائیں گے۔‘‘

مگر جتنے جتنے پھیرے لگائے جاتے، اتنے ہی چٹخے گھڑوں کی دراڑیں چوڑی ہوتی جاتیں۔ آج اس کے پیچ ڈھیلے تو کل اس کی کلیں خراب۔ آج ایک کے نلے اینٹھے تو کل دوسری کی ناف غائب! توبہ! کیا گھناؤنی چپچپاتی زندگی ہے کہ آئے دن کوٹھڑیوں میں تیل کڑکڑائے جارہے ہیں۔ بساندی چھچاندی چیزیں جل رہی ہیں۔ مالشوں کے گھسے چل رہے ہیں، لیپ بندھ رہے ہیں۔ کیا کمبخت عورتوں کے مرض بھی۔۔۔ مگر مردوں کو کون سے کم روگ لگے ہیں؟ نہ بچے جنیں، نہ خون چسائیں، پھر اللہ مارے کیوں رنجھے جاتے ہیں۔ ایک سےایک لاجواب بیماری! پٹے پڑے ہیں۔ دوا خانے۔۔۔ دواؤں سے کیسا جی کڑھتا ہے مگر جمیلہ کو بیر تھا ملانی بی سے کنوارپنے میں تو خیر اس نے سنا ہی نہیں اس کا کہنا مگر یہاں بھی اماں جان نے لاڈلی کی جان کو روگ کی طرح لگادیا تھا، کمبخت اٹھتے بیٹھتے کچوے کے ہی دیتیں مگر وہ انہیں جلانے کو دھمادھم کودتی۔ ایک سپاٹے میں زینے سے اتر آتی، خوب احاطے میں سائیکل چلاتی۔ رسی پھلانگتی اور ملانی بی سینہ کوب لیتیں۔ وحید سے شکایت کرتیں۔۔۔۔ وہ اور شہہ دیتا ہے اور جب ایک محاذ پر انہیں شکست ہو جاتی تو دوسری طرف رخ کر کے حملہ کرتیں۔ یہ ان کی عادت تھی۔

’’ارے بنو یہی تو دن ہیں اوڑھنے پہننے کے۔۔۔ کب سنو ہو تم۔۔۔‘‘ وہ سمجھاتیں۔

’’بھئی ہمارا جی بولاتا ہے۔۔۔‘‘ کس قدر جاہل تھیں ملانی بی۔۔۔ بھلا جب تک گال چکنے ہوں اور باہیں گدگدی ہوں تو حماقت ہے زیور لادنا۔ یہ لیپاپوتی تو جب ضروری ہوتی ہے جب عمارت ذرا دوچار برساتیں جھیل کر کچھ ادھر سے ٹپکنے لگے کچھ ادھر سے جھک جائے مگر ملانی بی کب مانتی تھیں۔ ان کا فلسفہ ہی دوسرا تھا۔ چونے سےپہلے ہی کیوں نہ چھال لگادو برتن میں! عقل مندی۔

’’اے بیگم دم بولاتا ہے! کوئی تم ہی نرالی تو ہو نہیں۔۔۔ خیر ہمارا کیا آپ ہی ترسوگی۔‘‘

’’کیوں ترسوں گی۔ جب جی چاہے گا پہن لوں گی۔‘‘

’’ارے چاند میرے جب بیڑیا پڑجائیں گی تو پھر جی بھی نہ چاہے گا۔‘‘

’’بیڑیاں؟‘‘

’’ہاں اور کیا۔ بیڑیاں ہی ہوویں ہیں۔۔۔ اب اللہ رکھے، گو موت کروگی کہ گہنا پاتا کروں گی۔‘‘

توبہ! کیا زبان ہے ملانی بی کی جیسے کیچڑ بھری نالی۔ اور ساتھ ساتھ کیا لفنگوں جیسی آنکھیں بتاتی تھیں کہ اچھا بھلا انسان جھینپ کر رہ جائے۔ اٹھتے بیٹھتے بس یہی ایک دعا تھی۔ اللہ گود ہری بھری رکھے! بیٹا ہو۔ گود بھرتے وقت جو سمدھنوں نے اسے دودھوں نہاتے او رپوتوں پھلنے کی دعا دینا شروع کی تو یہ دن ہوگیا۔۔۔ کسی سلام کا جواب ڈھنگ کا نہیں ملتا۔ وہی مرغے کی ایک ٹانگ۔ جھٹ پٹ بچہ دو۔

سانس لینا شوار ہے۔ ادھر سہرے کے پھول کھلے اور ادھر کھٹاک سے پھل لگااور پھر جو لگی آم کے پیڑ جیسی پھلوار، کبھی بور، کبھی آمیاں اور کبھی پت جھڑ۔

وہ ایک جھپاکے سے وہاں سے بھاگی۔۔۔ اور سہم کر وحید کی آغوش میں چھپ گئی۔ وہ اس کا طرف دار تھا۔ شادی کرتا ہے انسان شوہر کے لیے، ورنہ بچے تو ویسے بھی مل سکتے ہیں اور پھر یوں بھی جب چاہو، جب انسان ہی کیا کتے، بلی، بندر جس کے کے بچے کو چاہو دم کے ساتھ لگالو۔ دمہ بن جائے گا اور پھر یہی چند مہینوں کی بات ہوتی تو اور بات تھی۔ وہاں تو ساری عمر کے رٹے گھسے اور دھونیاں لو، اور اوپر سے پلے کی پیاؤں پیاؤں۔

اندھیرے میں اس نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر راستہ ڈھونڈنا چاہا مگر چکرا کر گرپڑی۔ وہ کانوں تک دھنکی ہوئی روئی کے ریشوں برابر انسانی کیڑوں کی دلدل میں دھنس گئی۔ دیکھتے دیکھتے اس کے جسم کی جاگیر پر لٹیرے ٹوٹ پڑے اور اس کے وجود کو دیمک کی طرح چاٹ لیا۔ دوچار جوؤں کی طرح بالوں میں قلابازیاں لگانے لگے۔ چند ایڑیاں دھمکاتے اس کی موتی جیسی آنکھوں کی جلد کو کھرچنےلگے۔ دوچار نے ہتھوڑیاں لے کر دانتوں کا کھلیان کردیا اور دم بھر میں بھرا ہوا منہ کھنڈر بن گیا۔ بڑے بڑے آہنی اوزار چلا کر انہوں نے اس کی ریڑھ کی ہڈی کی ایک ایک گرہ جھنجھوڑ ڈالی اور وہ پچکی ہوئی مشک کی طرح نیچے بیٹھ گئی۔

اس کے ہاتھ بے ست ہوگئے جیسے بجھی ہوئی لکڑیاں۔ وہ لمبی ناگن جیسی چوٹی کوڑھ ماری چھپکلی بن گئی۔ وہ گداز بازو جن پر وحید شرارت سے نیل ڈال کر انہیں سنگ مرمر سے تشبیہ دیا کرتا تھا۔ وہ گدگدی کے خوف سے بے چین پاؤں جنہیں وہ ڈرکر شلوار کے پانچوں میں چھپالیا کرتی تھی۔ اس کی دولت جس کے دبدبہ سے وہ وحید کے دل و دماغ پر راج کرتی تھی۔ نیچے ڈھے گئی جیسے طوفان اور آندھی کے زور کے آگے کچا مکان۔

وحید! اس کا وحید توتا۔ چلا چلا کر وہ اسے پکارنے لگی۔ جونکوں کا چوسا ہوا پھوگ، رنگہیائی ہوئی ہڈیاں اور سکڑی ہوئی کھال کی پوری طاقتیں لگا کر اس نے وحید کو پکارا۔ اس کا حلق پھٹا ہوا تھا مگر آواز نہ تھی۔ اس جم ِغفیر کے غل میں اس کی ہر چیخ فنا ہوگئی۔ وہ ابھی موجود تھے۔۔۔ اس کاجسم اور روح چچوڑ لینے کے بعد وہ ہاتھوں میں لمبی لمبی جھاڑویں اور ہونٹوں پر مسرت بھری کلکاریاں لیے صفایا کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ چشمِ ززن میں اس کے جہیز کے جھلملاتے جوڑے جو اس نے دم بولانے کے ڈر سے نہیں پہنے تھے۔ آنکھوں کو خیرہ کرنے والے زیور لمبے جھمکے اور بالے انگوٹھیاں اور چندن ہار، اس کے چینی کے سیٹ اور چاندی کے ظروف ان لمبی جھاڑوؤں کے لمبے سپاٹوں میں لپٹے دور بہتے چلے جارہے تھے۔۔۔ وحید۔۔۔ اس نے پھر پکارا اور پھر اپنے سے دور اس نے اسے باد ِمخالف سے لڑتا ہواپایا۔۔۔ لنڈ منڈ تنہا درخت کی طرح وہ اداس اور جھکا ہوا تھا، اس کا چوڑے سینے والا جوان شوہر۔۔۔ وہ چیخ مار کر لپٹ گئی۔

’’وحید۔۔۔ وحید۔‘‘

’’کیا ہے جمیلہ۔۔۔‘‘ وحید نے جواب دیا۔ مگر وہ اس کے سینے سے لگی چیختی رہی۔

’’کیا خواب میں ڈر گئیں جمو؟‘‘ وحید نے اسے سمیٹ کر قریب کر لیا۔

اور صبح سے اسے کسی نے ہنستے نہ دیکھا۔ وہ خاموش اور ڈری ہوئی کسی نامعلوم حادثے کے انتظار میں لرزاں تھی۔ اس کارنگ مٹیلا ہوگیا تھا۔۔۔ جیسے پڑے پڑے دیمک چاٹ رہی ہو۔ اس نے اپنا چالے کا بھاری پوتھ کا پاجامہ پہن ڈالا۔ جیسے وہ اسے چور اچکوں سے بچاڈالنا چاہتی ہو۔ مگر اس کی نگاہوں کی تھکی ہوئی اداسی اور مردنی نہ گئی۔ چلتے چلتے ایک دم زور زور سے پیر پٹخنے لگتی۔ گویا کوئی بھاری سی لوہے کی رکاوٹ جھاڑ پھینکنا چاہتی ہو۔

اسے وحید کے مذاق پر رونا آنےلگا۔۔۔ اور جب اس نے صرف اسے ہنسانے کے لیے قبر کی آغوش میں سوجانے کی دھمکی دی تو وہ بدمزاج چڑیلوں کی طرح اس کی جان کو آگئی۔ اس نے صاف صاف گالیاں اور ذلیل کوسنے دینا شروع کیا کہ واقعی کبریٰ آپا پر عاشق ہے اور اسے کبریٰ آپا سے ایسی نفرت ہوگئی کہ حد نہیں۔ وہ مشتبہ نظروں سے ہر وقت انہیں ا یک مختصر گھیرے میں لیٹے تاکا کرتی۔ ان کے ہر فعل پر دل دھڑکاتی۔ وحید بھونچکا اسے دیکھا کرتا اور وہ ڈائنوں جیسے خوفناک جملے بکا کرتی۔ اس کا مزاج اور بگڑا، یہاں تک کہ رات کی نیند اور دن کا چین غائب ہوگیا۔ گھنٹوں کسی غیر انسانی طاقت سے سہمی ہوئی وہ خاموش آنسو بہایا کرتی۔

ایک بار اس نے اپنے سب جوڑے باری باری نکالے۔ وہ چست پھنسی ہوئی صدریاں، تنگ کمر کے کرتے، فیشن ایبل چمپر سب دیکھے اورٹھنڈی سانسیں بھر کر رکھ دیے۔ کپڑوں کے صندوق کو قبر کے پٹ کی طرح بھیڑ کر وہ خاموش رویا کی۔ اسے اور بھی چپ لگ گئی۔

مگر پھر اس نے ایک جھٹکا مارا اور چھناچھن کرتی آہنی زنجیریں دور بکھر گئیں۔۔۔ قہقہہ مارتی، کھلکھلاتی ہوئی جمیلہ موت سے کشتیاں لڑنےلگی۔ ملانی بی نے سر کوٹ لیا۔ بیگم صاحب چونڈا نہ مونڈ دیں۔۔۔ ہا! بچاری کے صدیوں کے تجربے پرپانی پھر گیا۔۔۔ اور جمیلہ؟

دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہلکی پھلکی تیتری کی طرح ہوا میں تحلیل ہوگئی۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: