غزل ۔۔۔ جاوید شاہین

غزل

( جاوید شاہین )

شروع جو بات بھی کرنا بس اپنی ذات سے کرنا

جہاں جانا جسے ملنا گلہ حالات کا کرنا

نہ رکھنا قرض پاوں پر اندھیرے کی مسافت کو

اگر آرام کرنا ہے نکل کر رات سے کرنا

بہت ہی در بدر پھرنا محبت مانگ کر لانا

اسے پھر خرچ بھی بڑھ کر کہیں اوقات سے کرنا

کبھی خود پر بگڑنا دیکھ کر پایابی دل کو

شکایت خشک سالی کی کبھی برسات سے کرنا

اسے خلق خدا جو کچھ بھی کہتی ہے بتا دینا

یہ کار نیک ہے شاہیں یہ اپنے ہات سے کرنا

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

April 2025
M T W T F S S
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
282930