سلطنت ( بازی گر ) ۔۔۔ محمود احمد قاضی

سلطنت 

محمود احمد قاضی

محمود احمد قاضی ایک کہنہ مشق اور منجھے ہوئے لکھاری ہیں۔ کہانی ان کے خون میں رچی ہو ئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’کہانی جبر کو نہیں ،صبر کو مانتی ہے۔ میں جیسی بھی کہانی لکھ رہا ہوں، اسے میں ہی لکھتا ہوں۔ کہانی مجھے ہرگز نہیں لکھتی۔‘‘ ’’سلطنت‘‘ محمود احمد قاضی کے افسانوں کامجموعہ ہے، جس میں اُن کی 18 کہانیاں شامل کی گئی ہیں۔دلچسپ طور پر ہر کہانی ایک کردار کے احوال پر مشتمل ہے جیسا کہ بادشاہ، دربان، غلام، مسخرہ، ایلچی، مؤرخ، بہروپیا، مکینک، بازی گر وغیرہ۔

 

بازی گر
ایک اخباری خبر
“کلاسیکل بازیگر کا ایک باب ختم ہوگیا۔”
 ” یہ خبر نہایت افسوس کے ساتھ سنی جائے گی کہ ملک کا مایہ ناز بازیگر گزشتہ روز انتقال کر گیا. جب اس کے کمرے کا دروازہ توڑ توڑا گیاتو اسکی لاش  سے تعفن اٹھ رہا تھا کیونکہ اسے وفات پائے تین دن ہو گئے تھے. اس عظیم بازی کر کے قریبی حلقے اس کی افسوسناک اور ناگہانی موت کو ان کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دے رہے ہیں۔”

( 2)

بازیگر کی زندگی کا خاکہ
گلیوں کی خاک پھانک پھانک کر جب اسے شدید کھانسی   ہونے لگی تو اس وقت تک اس کے ماں باپ اپنی غربت اور ذلت سمیت منوں مٹی کے نیچے دفن ہو چکے تھے. پانی پینے کے لیے اسے کمیٹی کا نلکا میسر تھا اور کھانے کے لیے کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں پر پڑا امراء کا زائد از ضرورت بچا کچھا جھوٹھا کھانا شاپربیگوں میں اس کے لیے موجود رہتا تھااس کھانے کا باسی پن، اسکی گندگی اور سڑاند کا احساس اسکے پیٹ میں اتر کر اسکے اندر کلبلاتا رہتا اور اسے ہر وقت بے چین رکھتا۔

سونے کے لئے ریلوے اسٹیشن کا مسافر خانہ, کوئی فٹ پاتھ, دوکان کا کوئی تھڑا یا کوئی اندھیرا کونا کھدرا اس کا ٹھکانہ ہوتا تھا اور یہ ٹھکانہ اکثر رات کو گشت پر نکلنے والے پُلسیوں کی ٹک ٹک کے خوف سے بدلتا رہتا تھا. بھورے رنگ کی داڑھی مونچھوں اور بلوغت کی پھوار میں بھیگا اسکا جسم  ہر قسم کی کڑی دھوپ گرمی سردی اور بارش میں لتھڑنے کے لیے تیار ہوا تو بھی ایک عظیم آوارہ گردی کا چکر اس کے پاوں سے بندھا تھا اور وہ اس بھری دنیا میں بالکل اکیلا تھا. اس کے چاروں طرف دنیا کے شور شرابے پرحاوی ہوتی اسکی اپنی ایک ازلی خاموشی تھی. وہ اس مکار خاموشی کے اتھاہ سمندر میں غوطے پر غوطے کھائےجارہا تھا اور ہانپ رہا تھا۔.
اس خاموشی کے اندر بھی اس باسی کھانے جیسی سڑانڈ اور کلبلاہٹ تھی جو اسے ہر ہر لمحے بے چین رکھتی تھی. وہ ادھر ادھر لڑھکتا دنیا کے تھپیڑوں سے بچتا بچاتا اپنی زندگی کا مفہوم سمجھنے سے عاری ہوتا جا رہا تھا کہ اس شام بڑےچوک میں لوگوں کے ہجوم کے اوپر تنے اس رسے کو دیکھ کر اسکے بندھے پاؤں کا چکر آپ ہی آپ ٹوٹ گیا. وہ لوگوں کی بغلوں کی بساند, پسینے کی بدبو, گاڑیوں کے ہارن, گھوڑوں کی لید, کتوں کے پیشاب, عورتوں کی سرخی پاوڈر کی غیرملکی مصنوعی خوشبو, قہقہوں اور, ہائے ہائے اور ہونٹون کو سکوڑ کر  بجائی جانے والی تیز سیٹیوں کے شور کو پھلانگتا, ٹوٹتا پھوٹتا کسی نہ کسی طرح آگے, بہت آگے, وہاں چلا آیا جہاں بازی گر  تنے ہوئے رسے کے ایک سرے پر اپنا پاؤں دھرنے کو تیار تھا. اس نے چست پاجامہ اور قمیض پہن رکھی تھی. لباس اسکے جسم کے ساتھ منڈھا ہوا دکھائی دیتا تھا. وہ نیچے کھڑا انہماک سے اسے دیکھے جا رہا تھا اور اس کے منہ سے” اوف. اوف “جیسی سانس بھری آواز نکل رہی تھی. بازی گر اب رستے پر چل رہا تھا. اس نے اپنا توازن قائم کرنے کےلئے اپنے دونوں ہاتھوں میں ایک چھڑی تھام رکھی تھی. جب وہ ذرا ڈگمگانے لگتا یا ایک پاؤں دوسرے پاؤں کے ساتھ تعاون نہ کرتا تو اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چھڑی کوحرکت دیتا اور پاؤں کے حکم کی تعمیل میںرسے پر ویسے ہی حرکت کرنے لگتے کہ جو وہ چاہتا تھا. وہ آدھا سفر طے کر چکا تھا کہ ہوا کے ایک تھپیڑے نے اس کا توازن بگاڑ دیا. اس نے بڑی مشکل سے اپنے اکھڑتے پاؤں کی پکڑ رسے پرقائم کی اور ایک لمبا سانس لیا۔۔۔.
“ہوا… بدترین دشمن ہے۔ یہ حرافہ۔۔۔ خدا اسے غارت کرے۔۔” کوئی ہجوم میں سے چیخا اور اسی دم نیچے کھڑے کھڑے اس کے منہ سے بھی پھر وہی ” اوف ” کی آواز برآمد ہوئی.اس لمحے  پتہ نہیں کیسے بازیگر کی نظریں اس سے جا ٹکرائیں.. وہ اوپر… یہ نیچے… دونوں برابر ایک دوسرے کی آنکھوں میں کئی لمحوں تک دیکھتے رہے. لوگ ہا ہا ہا ہو ہو ہو کا شور مچا رہے تھے.. کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی کہ بازی گر ایک دم گرنے لگا مگر فورا سمبھل گیا. ہجوم اچانک چپ ہوگیا. مگر جب بازیگر نے مطلوبہ توازن حاصل کرلیا تو وہ مسکرایا. اسے ایسا لگا جیسے بالکل اسی کی طرح اوپر بازیگر اور نیچے وہ اس سارے ہجوم  کے ہوتے ہوئے بھی بالکل تنہا تھے اکیلے تھے, پھر بازیگر نے اچانک چھڑی کو ایک ہاتھ میں تھام کر دوسرے ہاتھ کو اپنے لبوں پر رکھ کر اس کی طرف ‏ بوسہ اچھال دیا اور اسی لئے وہ نیچے گر گیا۔.
خاموش ہجوم اچانک کرلانے لگا اور پھر بازیگر آہوں کے سمندر میں ڈوب کر رہ گیا. بازیگر مرگیا. اس کی لاش ٹھکانے لگ گئی. ایک پولیس وین آئی جسم کو اس میں لادا گیا اور رات کی تاریکی میں دو سرکاری کارندوں کی موجودگی میں لاوارث قرار دے کر مٹی میں مٹی کر دیا گیا. اس کے آگے پیچھے کوئی تھا ہی نہیں اور اس کے آگے پیچھے بھی کوئی نہیں تھا لیے اس دن سے اس نے بازی گر بننے  کی ٹھان لی۔
اس نے دن رات ایک کر دیے. مختلف شہروں کی اور بہت سی سرکسوں, تھیٹروں, سنگیوں, نٹوں اور کرتب بازوں کی خوشامدوں کی بدولت جب بہت عرصے بعد وہ اسی چوک میںایک تنے رسے پر ایک ماہر بازیگر کی طرح نمودار ہوا تو ویسا ہی ہجوم اس کا بھی منتظر تھا….. ہاہو…. ہائے وے…. قہہ۔قہہ۔قہہ !
لوگ اپنی تھوتھنیاں  اٹھائے اسے تک رہے تھے اور وہ تنے رستے پر چل رہا تھا توازن برقرار رکھے ہوئے وہ اپنی دشمن ہوا کے جلو میں رسا پار کر گیا۔
دوسرے دن کے قومی اخبارات کی شہہ سرخیوں میں وہ اپنے کرتب سمیت موجود تھا. وہ کرتب دکھاتا رہا.تنے رسے پر چلتا رہا. مخالف ہوا کے خلاف جنگ کرتا رہا۔.
وہ جو ایک عرصے سے چپ تھا… بولنے لگا.. پرنٹ میڈیاالیکڑانک میڈیا پر اب اس کے فن کا طوطی بولتا تھا مشہور سے مشہور تر ہوتا چلا گیا. اور پھر ایک حسین ترین عورت سے  جو اسکی فین تھی اس نے شادی کرلی. وہ ایک خاندان والا امیرکبیر بازی گر بن گیا. اس کے بیٹے بیٹیاں ، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں، اسکے گرد ڈیرہ ڈالے رہتے. اس کا بینک اکاونٹ بڑھتا گیا. چیک بکوں کا وزن بھی بڑھتا گیا. اس کے گرد مینیجروں ، پروموٹروں اور نوکروں چاکروں کی ایک فوج تھی. وہ ایک وی آئی پی فن کار تھا اور اس لئے خوشامدیوں کا ایک ٹولہ اسے ہر وقت گھیرے رکھتا تھا. اس کے بچوں نے اپنے اپنے کاروبار سجا لیے. وہ دن رات اس کی حفاظت کرتے. وہ ان کی سونے کی مرغی تھی جسے وہ فورا حلال نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ آہستہ آہستہ اس کے فن کو نچوڑ رہے تھے اور اپنی تجوریاں بھر رہے تھے۔ وہ ان کی معاشی بقاء کا ضامن تھا. اس نے اپنے بچوں میں سے کسی ایک کو یہ فن منتقل کرنا چاہا تو وہ صاف انکاری ہوگئے کیونکہ ان کی دلچسپی تو ٹیکسٹائل ملوں،  سیمنٹ کے کارخانوں اور چینی بنانے والے پراجیکٹوں میں تھی وہ اس کے فن کے عیوض لگائے جارہے تھے.
یہ باتیں تو اپنی جگہ پر ٹھیک تھیں، لیکن وہ اب بھی اکیلا تھا. رسی پر چلنا اور اپنے کمرے میں بند ہوکر پڑے رہنا اس کا مقدر تھا. اب وہ غیر معمولی ہو چکا تھا اور یہ غیر معمولی پن بھی اس کا دشمن تھا. اس ہوا سے بھی زیادہ بڑا اور قوی دشمن جو ہر ہر لمحے اس کے پاؤں اکھڑنے کی کوشش میں لگی رہتی تھی اور جس کے خلاف وہ طور پرلڑتا چلا آ رہا تھا.
لیکن اب وہ کبھی کبھی مینیجروں مداحوں لوگوں کی چیوں اور قہقہوں  سے بچ بچا کر اسی پرانی آوارہ گردی پر نکل جاتا تھا۔ بدبو دار چیتھڑوں میں ملبوس ویسے بدحال حلیے میںکہ اسے کوئی پہچان نہ پاتا اور وہ زندگی کے سمندر میں محض ایک قطرے کی طرح اپنا وجود گنوا کرسمندر میں سمندر ہو جاتا تو اسے بہت لظف اتا۔. وہ مسکرا دیتا کہ ایک بار پھر گلیاں ، بازار، پارک،ملنگوں کے ڈیرے بھنگ کے نشے میں مست فقیروں کے تکیے عظیم آوارہ گردی کے اہم مرکز تھے۔. 
( 3)
وہ تنے ہوئے رسے پر اپنی ازلی دشمن ہوا کے سنگ ڈولتا ہوا ان عظیم بازیگروں کی طرح گر کر مرنا چاہتا تھا مگر وہ گھر کے ایک کونے میں لگے بستر پر مرا.
( 4)
کتبہ
جائیداد کے بٹوارے کے وقت سب کچھ تقسیم ہوا، مگراپنے وقت کے  اس عظیم بازیگر کے لباس، رسے  اور چھڑی کو کسی نے ہاتھ تک لگانا گوارا نہ کیا۔

 

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: