ڈولی ۔۔۔ مریم عرفان

ڈولی

ڈاکٹر مریم عرفان

وہ اس کی بغل میں نکلنے والی پھنسی کی طرح تھا جو ذرا سا منہ نکال کر باہر دیکھ رہی تھی۔ اس کا بازو اس اینٹھن کے باعث بھاری رہنے لگا تھا۔ بغل میں بڑھتے ہوئے بالوں میں چھپی ہوئی پھنسی پھیل رہی تھی۔ وہ اس اینٹھن کو کم کرنے کے لیے بالوں کی گپھا میں انگلیاں پھیرتی اس پھوڑے کو مسلنے لگی۔ پھنسی کا پیٹ غبارے کی طرح پھیلنے لگاتھا۔ اکثر رات کے آخری پہر اسے محسوس ہوتا کہ کوئی بنا آہٹ کیے اس کے سرہانے کھڑا ہے۔ جس کے ہاتھ میں دبی ہوئی سوئی پھنسی کے پیٹ کو پھاڑنے کے لیے بے چین ہے۔
٭٭٭٭٭٭

چونڈہ کے کھیتوں میں نکلنے والی دھوپ میں اس وقت بھی بارود کی بو سونگھی جا سکتی تھی جب اس نے جوانی کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا۔ وہ بڑے انہماک کے ساتھ اپنے باپ سے پینسٹھ کی جنگ کے کارنامے سنتی توخود کو چونڈہ کے کسی کھیت میں پاتی۔ گولہ باری کی مہیب آوازیں آہستہ آہستہ تیز ہوتی جاتیں اور وہ بالوں کی لٹ اپنے دانتوں میں داب کرچوسنے لگتی۔ دس بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہونے کے باعث وہ گھر بھر کی لاڈلی تھی۔ بڑے سے صحن میں اس کی ماں اور بڑے بہن بھائیوں کی اولادیں ایک ساتھ پل رہی تھیں۔ کیاریاں پھولوں سے لدنے کے لیے تیار تھیں، نسیم بھی زمین سے سر اٹھا چکی تھی۔ ایک تو وہ خاندان کی لاڈلی تھی دوسرا سرکاری سکول کی استانی بنتے ہی اس کی چال بھی بدل گئی۔ وہ عموماً سادہ رنگوں کے کپڑے پہنتی تھی، اکثر تو وِسکوس کی شلوار قمیض میں ملبوس، گلے میں دوپٹہ اور سر پر چادرلیے وہ سکول کے رستے پر چلتی سب سے الگ لگتی تھی۔ چھوٹا سا پرس اس کی بغل کے ساتھ چمٹا ہوتا جسے وہ چادر کے اندر سے ٹھیک کرتی رہتی۔ سکول کے بچے دور سے ہی اسے آتا دیکھ کر چلا اٹھتے: ’’استانی جی! آگئی۔۔۔ آگئی۔۔ آگئی۔‘‘

ڈسپلن اور حد سے زیادہ صفائی کی عادت نے اس کے اندر سرکاری دفتر قائم کر دیا تھاجسے ہر وقت ٹاکی پونچے کی ضرورت رہتی تھی۔ کوئی فرش پر گیلے پاؤں نہ لے کر آئے، اگر گیلے پاؤں نظر آجاتے تو پونچا مار مار کر ہلکان ہوئی جاتی۔ ماتھے سے سر کے بالوں کو پیچھے کرنے کے لیے دوپٹہ باندھے وہ چیختی پھرتی: ’’پنکھا چلا دو، فرش سوکھنے دو۔‘‘ نسیم کے جسم میں قائم اس دفتر کے کھلنے اور بند ہونے کا کوئی وقت مقرر نہیں تھا۔ پھر اس کی زندگی میں حمیدآ گیا، شادی کے بعد جگہ بدلی، شہر کے پختہ مکان نے چونڈہ کے میدان کی سختی کو اپنی گرفت میں لے لیالیکن اس کے اندر سے بارود کی بوختم نہ ہوسکی۔ وہ اس کی زندگی کا نہایت سخت دور تھا کیونکہ حمیدکے پاس کوئی ڈھنگ کا کام نہیں تھا اورنسیم کی نوکری سے گھر چلانا مشکل ہو گیاتھا۔ میکے میں وہ جو تعیش پسند زندگی بسر کر رہی تھی وہ یہاں نہیں تھی۔ اوپر سے حمیدکی شخصیت اور ہر وقت ہنسنے کی عادت نے اسے جلد ہی زچ کر دیا۔ وہ اسے خاموش دیکھنا چاہتی تھی، ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح، بوند بوند گرتے ہوئے اور وہ بپھری ندی بن کراس پر اپنا آپ انڈیلنے کے لیے تیار رہتا تھا۔ ’’ استانی جی ! آج تو پیار سے دیکھ لو۔‘‘
’’میں تو اپنے ہاتھ سے جلیبی کھلاؤں گا، اپنی جلیبن کو۔ ‘‘
’’گجرے پہنا کرو، بالوں میں کلیاں سجایا کرو۔ ‘‘

حمیدکے یہ وارفتہ جملے اس کے کانوں میں گولے بن کر گرتے تھے اور اسے لگتاکہ عقب میں پینسٹھ کی جنگ چھڑگئی ہو۔ وہ آنکھیں بند کیے خود کو چونڈہ کے میدان میں پاتی اور مد مقابل حمید ہاتھ باندھے کھڑا ملتا۔ ’’میرا ماہی چھیل چھبیلا نی۔۔۔ کرنیل نی جرنیل نی۔‘‘ جنگی نغمے کی گونج سے وہ ہڑبڑا کراٹھتی اور اکتاہٹ سے حمید کے ہنستے چہرے کی طرف دیکھ کر منہ پھیر لیتی۔ بالوں میںکلیاں سجانے کے خوف سے اس نے کندھوں تک بال کٹوا لیے تھے۔ لمبی آستینوں والی قمیضیںبھی اس کے ہاتھ سے گجرے نہ پہننے کا سبب تھیں۔ ’’یہ اپنی بتیسی بند رکھا کرو۔ الٹی آتی ہے۔‘‘
’’تو کر دو یہاں۔‘‘ حمید شوخی سے ہاتھوں کا پیالہ بنا کر کر آنکھ میچ لیتا۔

اس کی یہ شوخی نسیم کا جی الٹا دیتی اور وہ سارا دن ابکائیاں کرتی صحن میں بھاگتی پھرتی۔ حمید کے بساند مارتے بوٹ اور پسینے کی پیلاہٹ سے بھری قمیضوں کی بغلیں اس کی زندگی کا روگ بن گئی تھیں۔ رات کو پاؤں دھونے اور انگلیوں کو سرسوں کے تیل سے مالش کرنے کے باوجود نسیم کے نتھنے پراسرار سی ہمک سونگھتے رہتے۔ حمید اس کا ہر حکم بجا لانے کا شوقین تھا بس اسے اپنی مسکراہٹ پر قابو پانے میں مشکل درپیش تھی۔ وہ نسیم کی خشمگیں نظروں کی تپش محسوس کرتے ہوئے اسے سیلوٹ مارتا: ’’اچھا جی۔ جو استانی جی کا حکم۔‘‘ اور وہ نفرت سے منہ پھیر لیتی۔ زندگی کی تلخی نے اس کے حلق تک کڑواہٹ بھر دی تھی۔ ناہموار شادی کے باوجود اس نے دو بیٹے پیدا کیے اور انھیں اپنے جیسا بنانے پرجت گئی۔ حمیداب اس کی صفائی پسندی کی عادت اور سنجیدگی سے اکتانے لگا تھا، اس نے گھر کی بیٹھک کو دکان میں تبدیل کر کے اچھا خاصا روزگار بنا لیا۔ گاہک عورتیں رات نو بجے تک اس کی دکان کے کاؤنٹر پر کھڑی ہنسی مذاق کرتیں۔ وہ کسی کی کلائی مروڑتا تو کسی کی ہتھیلی پر لگی مہندی کی تعریف بھونڈے سے انداز میں کرتا چلا جاتا۔ نسیم دروازے سے لگی یہ سب کچھ بے تاثر ہو کر دیکھتی اور کام والیوں پر چلانے لگتی: ’’ٹاکی صحیح سے لگاؤ۔ گیلے پاؤں نہ آئیں کسی کے۔‘‘ اسے بچوں سے چڑ تھی، اسی لیے وہ شام کے وقت گھر سے باہرپانی کا پائپ لے کر خوب چھڑکاؤ کردیتی تاکہ گلی کے بچے وہاں شور نہ مچائیں۔ اگر کبھی کسی رشتے دار کا بچہ ساتھ آ جاتا تو نسیم کی جان پر بن جاتی۔ اس کی دونوں آنکھیں ان کے تعاقب میں رہتیں۔

حمید کے ساتھ اس کے دل سے ٹانکا کبھی لگا ہی نہیں تھا۔ وہ جب بھی اسے پیار سے نشو کہتا نسیم بڑے غرور سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے انھیں سیدھا کرنے لگتی۔ وہ اس کے ساتھ سینما جانا چاہتا تھا لیکن نسیم کی بے زاری سارا نشہ دھت کر دیتی تھی۔ شادی کے شروع دنوں میں وہ جب بھی سینما گئے، نسیم سیدھی سیٹ پر اکڑؤں بیٹھی رہتی۔ اسے دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا جیسے وہ فلم دیکھ رہی ہو، اسے آج تک کوئی جملہ ہنسا ہی نہیں سکا تھا۔ مزاحیہ اداکاروں کے کھلتے چہرے دیکھ کر اسے جماہیاں آنے لگتیں اور اس کی بغل میں بیٹھا حمیددیوانوں کی طرح ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنستا تو اس کے دانت گھر پہنچنے کے بعد بھی باہر ہی رہتے۔ نسیم کو ٹی۔ وی دیکھنے یا اخبار پڑھنے کا بھی شوق نہیں تھا۔ وہ اتوار کی ہر صبح گھر کو مانجھنے اور خود کو کوچنے میں صرف کر دیتی۔ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی کتنی دیر وہ بالوں میں کنگھی کیے چلی جاتی، پھر اپنے ہاتھوں پر کریم ملتے ملتے انھیں سونگھتے ہوئے بھی چونڈہ کا میدان نظروں کے سامنے آ جاتا۔ وقت صابن کی ٹکیہ کی طرح خرچ ہو رہا تھا، بیٹوں کی جوانی نے اس کے بالوں میں سفیدی ڈال دی تھی۔ وہ اسی طرح صاف ستھری اور سادہ رنگ کی شلوار قمیض پہنے کھڑکیوں کی جالیوں میں میل ڈھونڈتی رہتی۔ حمیدکی زندگی میں بھی اب بڑی دکان آچکی تھی جس کا کاؤنٹر اسی طرح گاہک عورتوں سے بھرا رہتا تھا۔

ایک صبح اس کا چھوٹا بیٹا اپنے کسی دوست سے جرمن شیفرڈ لیے گھر میں داخل ہوا تو نسیم نے روایتی غصے سے اس کا استقبال کیا۔ کتا اپنی مالکہ کے غصے کو پہچان کر اس پر بھونکتا رہتا اوروہ ناک پر کپڑا رکھے اسے ’’ہش ہش‘‘ کرتی رہتی۔ گھرمیں پانچویں فرد کا اضافہ ہو چکاتھا، حمید اس نئے مہمان کی آمد سے بہت خوش تھا۔ ’’او۔ آبھئی! کاکا۔۔۔ ٹھیک ایں۔‘‘ جرمن شیفرڈ کتیا کو اس کے ہاتھوں کے اشارے سمجھ آتے تھے اس لیے وہ چھپاک سے اس کی گود میں کود جاتی۔ ’’لے بھئی نشو! سنبھال اسے۔‘‘ حمیدنے شرارت سے اس کی رسی چھوڑی تو نسیم چلا اٹھی: ’’کھسماں نوں کھانیاں۔۔ کدوں سمجھیں گا۔‘‘ نسیم بس یہ جملہ بول کر اپنا غصہ نکالتی۔ ایک دن حمید نے چونڈہ کے میدان کو حقیقت میں جنگ کا اکھاڑہ بنا دیا جب رات کے کھانے کے بعدوہ کمرے داخل ہوا تو نسیم حسبِ معمول اپنے ہاتھوں پر کریم مل رہی تھی۔ دو بڑے بازوؤں نے اسے اپنے دائرے میں سمیٹا تو وہ اکتا کر پیچھے ہٹ گئی۔
’’ کیا استانی جی! اب بندہ اپنی بیوی کو ایسے بھی نہیں کر سکتا۔‘‘
’’ مسئلہ کیا ہے آپ کا۔‘‘
’’ مسئلہ یہ ہے کہ مجھے گھر میں بیوی چاہیے، استانی نہیں۔۔۔ کیا جی تم بھی جس سوٹی سے بچوں کو مارتی ہو مجھے بھی اسی سے مارے جاتی ہو۔‘‘

نسیم جواب دیے بنا بستر میں گھسنے لگی تو حمید نے اسے اپنی توہین خیال کرتے ہوئے اسے سناٹے میں لا کھڑا کیا۔ ’’میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ مجھے پتہ ہے تمہیں فرق نہیں پڑتا اور پڑنا بھی نہیں چاہیے۔‘‘ نسیم کے لیے گرم رضائی برف کی سل بن گئی۔ چونڈہ کا میدان گولہ بارود سے سنسنا گیا، گولیوں کی تڑ تڑ نے سینہ چھلنی کر دیا تھا۔ ’’توں شاہلا، مر جاویں۔۔۔ مرجاویں۔‘‘ نسیم نے اپنے سپاٹ چہرے پر آنسوؤں کی لکیر کا راستہ روکتے ہوئے دل میں دہائی دی۔ نسیم نے رو رو کر طوفان بپا کر دیا تھا، بیٹے ماں کے دکھ پر دکھی تھے اور غصے سے ان کی کنپٹیاں ابل رہی تھیں۔ حمید گھر کی پریشانی میں بھی دکان کے کاؤنٹر پر دونوں کہنیاں ٹکائے کسی خاتون گاہک سے محو گفتگو تھاجب اس کے بڑے بیٹے نے کن انکھیوں میں اسے وارننگ جاری کی۔ زندگی میں پہلی بار اس کی بتیسی منہ کے اندر تھی جس کا اندازہ خود اسے بھی ہو گیاتھا۔ نسیم کی جلتی بجھتی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر حمید کو اطمینان سا ہوا جیسے وہ یہی چاہتا ہو۔ پریشانی کے ان دنوں میں جرمن شیفرڈ نسیم کے قریب ہو گئی تھی، جس کا نام اس نے ڈولی رکھا تھا۔ اب وہ روز اس کی رسی تھامے چھت پر جاتی، اس کے آگے دلیہ پکا کر رکھتی۔ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہے چلے جاتی: ’’ڈولی! او ڈولی! ڈولیاں۔۔۔۔ او میری ڈولی، گوو می اے ہگ۔‘‘

ڈولی کی اس کے ساتھ انسیت بڑھ گئی تھی اب گھر کے تینوں مرد اس کی توجہ کے مرکز نہیں تھے۔ نسیم کی خاموشی کو ڈولی نے توڑ دیا۔ وہ گھنٹوں اس کے ساتھ باتیں کیے چلی جاتی، کبھی ہنستی اور کبھی اسے ہاتھوں سے اوپر کر کے کھیلنے لگتی۔ کئی دنوں سے ڈولی کی طبیعت ڈانواڈول تھی، نہ کچھ کھاتی تھی نہ پی رہی تھی، بس بھونکتی رہتی تھی۔ ڈاکٹر کو دکھایا تو پتہ چلا کہ جالی کا ٹکڑا نگلنے کے باعث اس کا پیٹ خراب ہے۔ نسیم اس کی حالت دیکھ کر تڑپ گئی، وہ اتوار بازار سے جا کر اس کے لیے ایک کرسی اور دو گدیاں لے آئی۔ ساتھ والوں کے بچوں سے اس نے گیند اور بلا بھی منگوا لیا تھا۔ آدھا دن وہ اس کے ساتھ کھیلتی اور باقی کا وقت اس کی صفائی ستھرائی پر مامور ہو جاتی۔ حمیدکے لیے نسیم کی طبیعت میں یہ بدلاؤ بہت اطمینان بخش تھا۔

بیٹوں نے نئی کوٹھی کیا بنائی نسیم کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ اب اسے کس گھر میں رہنا چاہیے۔ پرانے گھرمیں کھلنے والی دکان خوب چل رہی تھی اس لیے حمیدکے لیے کوٹھی میں شفٹ ہونا مشکل تھا۔ اسے اپنے آبائی مکان سے پیار تھا اور بیٹوں کو نئی نویلی کوٹھی سے۔ نسیم کا دل ڈولی سے لگ چکا تھا سو اسے بھی نئی کوٹھی میں بیٹوں اور بہو کے ساتھ شفٹ ہونا پڑا۔ حمید گھر کے سناٹے سے واقف ہونے لگا تھا، دکان کے سامنے والے مکان کی بیگم رانا اس کے لیے کھانا بھجوا دیتی تھیں کیونکہ نسیم کی تو ریٹائرمنٹ کے بعد ڈیوٹی بڑھ گئی تھی۔ دونوں گھروں کی صفائی اور کام والیوں پر نظر رکھنا اس کے لیے مشکل ہونے لگا تھا۔ وہ یہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ حمیدان کے ساتھ کوٹھی میں شفٹ ہو جائے۔ ’’ استانی جی! اب تو دل چاہتا ہے ایک ساتھ ایک ہی کمرے میں عمر گزر جائے۔‘‘

’’رہنے دو۔ ۔ ۔ عمر دیکھو اور یہ کھیکھن (چونچلے)۔ ‘‘ نسیم تلخی سے جواب دیتی تو حمیدکی بتیسی باہر کو ابل آتی اور وہ ہاتھ پر ہاتھ مار کر کہہ اٹھتا: ’’میری نشو! مر جاؤں گا تو کس کو ڈانٹو گی۔‘‘

’’شاہلا۔۔۔۔‘‘ نسیم کی خاموش نگاہیں آسمان کی جانب ہاتھ اٹھا لیتیں۔ کافی دنوں سے حمید کو ہلکا ہلکا بخاررہنے لگا تھا، شوگر بھی بڑھ گئی تھی لیکن نسیم کے لیے ڈولی کی طبیعت زیادہ اہم تھی سو کسی کو معلوم ہی نہ ہو سکا کہ حمید کے پھیپھڑوں میں پانی پڑ چکا ہے۔ ’’آج ادھر ہی رک جاؤ، نشو۔ صبح چھوڑ آؤں گا۔‘‘

’’آج کیا ہے ایسا کہ رک جاؤں۔ ۔ وہاں پتہ نہیں ڈولی کو کسی نے کچھ کھانے کو دیا بھی ہے یا نہیں۔ جب سے جیکی ہوا ہے ڈولی کو کوئی نہیں پوچھتا۔‘‘ نسیم جان چھڑوا لیتی لیکن اس رات حمیدکی آنکھیں خاموش تھیں اور بتیسی منہ کے اندر۔ وہ نا چاہتے ہوئے بھی اس کے پاس رک گئی۔ ’’نشو، چھت گر گئی، اٹھ جاؤ۔ ۔ بھاگ جاؤ میری جان بھاگ جاؤ۔‘‘ حمید نے اسے بازو سے دھکیلتے ہوئے گھر سے باہر کیا تو وہ ہربڑا کر اٹھ گئی۔ کمرے میں اندھیرے کے سوا حمیدکے چھوٹے چھوٹے خراٹے گونج رہے تھے۔ اسے کتنی دیر یہ سوچنے میں لگی کہ وہ خواب تھا حقیقت نہیں۔ اگلے دو دن بھی اسی خواب کی بے چینی میں گزر گئے اور ٹھیک تیسرے دن حمید کی حالت بگڑنے پر جب اسے ہسپتال لے جایا گیا تو خبر ہوئی کہ نسیم کی بغل میں نکلنے والی پھنسی پھٹنے والی تھی۔ وہ حمید کی اکھڑی اکھڑی سانسیں دیکھ کر سراسیمہ کھڑی تھی۔ ’’ابو! وہ دیکھو آپ کی ہیر آئی ہے۔‘‘ بڑے بیٹے نے کان میں سرگوشی کی۔ اس نے تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے اسے دیکھا اور آنکھیں بند کرلیں۔ بیٹوں نے دونوں کو وارڈ میں اکیلا چھوڑ دیا کہ شاید وہ آخری وقت میں کوئی بات کرلیں۔ حمیدکے منہ پر لگا آکسیجن ماسک اس کے بڑے بڑے سانس پی رہا تھا۔ نسیم نے حمیدکے یخ ٹھنڈے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا لیکن جیسے سامنے والے نے دیکھا ہی نہ ہو۔

’’ تمہارے باپ نے نہیں بچنا۔‘‘ اس نے ہسپتال کی راہداری میں کھڑے بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ بیٹا آنکھیں ملتا ہوا آگے بڑھ گیا اور وہ شام کے دھندلکے میں اس کی لاش لیے گھر آ گئی۔ نسیم نے پہلی بارزندگی کو قلابازی لگاتے دیکھا تھا اس لیے اس کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے تھے۔ اس نے ڈیوڑھی میں پڑی کرسیاں اٹھوا کر کام والی کو صفائی کو حکم دیا۔ کچن کی شیلفوں پر بکھرے برتن سمیٹتے ہوئے اس کے ناک سے پانی بہنے لگا تھا۔ بیٹے ماں کی ذہنی حالت سے واقف تھے اس لیے وہ باہر مردانے میں چلے گئے۔ برآمدے میں قالین بچھوا کر مرنے والے کی چارپائی وہاں رکھ دی گئی تھی۔ بیٹھنے والوں کے لیے لوہے کی چوکیاں بچھ گئیں اور سرہانے نسیم چونڈہ کے میدان میں مارے جانے والے سپاہی کی لاش کو غور سے دیکھنے لگی۔ وہ حمید کو خاموش دیکھنا چاہتی تھی اور آج ایک طویل سی چپ اس کے ہونٹوں سے چپکی پڑی تھی۔ ’’یہ کیا؟‘‘ نسیم نے غور سے اس کے لٹھے جیسے سفید چہرے کی طرف دیکھا، مرنے والے کے اوپر والے دانت ہلکے سے کھلے منہ کے اندرسے باہر جھانک رہے تھے۔

یکدم اسے خیال آیاکہ ڈولی تو بھوکی ہے۔ اس نے جلدی سے دلیہ چولہے پر رکھا اور اس کے کھانے کا انتظام کروانے لگی۔ کفن دفن تک اس کے ذہن کی سکرین پر ڈولی کا بھوکا پیٹ گھوم رہا تھا۔ اسے بیوگی کا سوگ منانا نہیں آرہا تھا جیسے دانت نکلوانے کے بعد کتنے ہی دن اسے کھانے کا ذائقہ پتہ نہیں چلا تھا بلکل ویسے ہی آج اس کی طبیعت مکدر تھی۔ اسے لگتا تھا کہ اگر حمید کے جنازے کے پاس بیٹھی رہی تو خود بھی اس کے ساتھ چلی جائے گی وہ اکیلا نہیں جائے گا۔ کتنی ہی دیر وہ اندر کمرے میں جا کر لیٹی رہی، باہر چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں لیکن مجمع اس کے دل میں مچے شور سے غافل تھا۔

پراناگھر خالی ہو چکا تھا، نئی کوٹھی آباد ہوگئی تھی۔ بیٹے اپنی زندگیوں میں مگن تھے، ان کے چہروں کی بشاشت بتاتی تھی کہ اس گھر کا تالہ ٹوٹا ہے دروازہ قائم ہے۔ نسیم روزانہ صبح جلدی اٹھتی، بیٹا اور بہو اپنے کمرے سے اس وقت باہر آتے جب سورج سوا نیزے پر ہوتا۔ کوٹھی کے در و دیوار روز مانجھے جاتے، جالیاں چمکائی جاتیں، فرش کی ٹائلوں پر صرف کی جھاگ اڑتی رہتی۔ جن پر کہیں بھی پاؤں کے چھوٹے چھوٹے نشان نہیں بنے لیکن پھر بھی پتہ نہیں اتنا سارا میل کہاں سے آ جاتا تھا۔ اگرچہ چونڈہ کے کھیت خالی تھے لیکن بارود کی بو فضا پر مستقل سوار ہو چکی تھی۔ نسیم کی بغل میں نکلنے والی پھنسی پھٹ گئی تھی لیکن کم بخت اینٹھن نہیں جارہی تھی۔ اسے اپنے بیٹے اور بہو کے معمولات سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی لیکن پھر بھی اس کی آنکھیں ان کا پیچھا کرتی رہتیں۔ سادہ سوٹ میں ملبوس اس کا سپاٹ چہرہ بھی چادر سے ڈھکا رہتا تھا۔ ’’اس گھر کو بچہ چاہیے۔‘‘ جب بھی کوئی ملنے والی اس کے کان میں سرگوشی کرتی اس کے ہاتھ میں پکڑی تسبیح کے دانے تیزی سے گرنے لگتے۔ کافی دنوں سے ڈولی کی طبیعت کچھ خراب سی تھی وہ بھی ڈھنگ سے کھانا کھانا بھولتی جارہی تھی۔ کھانے کے برتن واپس بھرے ہوئے آجاتے۔ وہ اکثر رات کو اُووووں کی لمبی آواز نکال کر چپ ہو جاتی۔

’’ آج وقت نکال کر ڈولی کو ڈاکٹر کے پاس لے ہی جاؤ۔‘‘ اس نے بڑے بیٹے سے التجا کی۔
’’ نہیں ماں، آج بہت مصروف ہوں۔ کل دکھا دوں گا۔ ویسے بھی ان کتوں کی کتنی زندگی ہوتی ہے۔ یہی کوئی دس یا بارہ سال۔‘‘ بیٹے نے پرفیوم کوٹ پر انڈیلتے ہوئے کہا۔

’’رب سوہنیا، ڈولی نوں زندگی دے، صحت دے۔ میرے مالکا۔‘‘ نسیم کی آنکھوں کے کونے بھیگ رہے تھے۔
مزید تین دن گزر گئے لیکن ڈولی کے لیے معالج نہ آسکا۔ نسیم کے لیے ایک ایک پل کاٹنا مشکل تھا۔ وہ ڈیوڑھی میں جاکر کبھی ڈولی کا سر اپنی ٹانگوں پر رکھے رونے لگتی اور کبھی اس کے بالوں سے بھرے جسم پر انگلیاں پھیرتی۔ اس رات بھی وہ بمشکل سو پائی تھی کہ صبح کام والی کی چیخ سن کر اس کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ ڈیوڑھی میں ڈولی کا یخ بستہ جسم پڑا تھا، اس کی بتیسی پوری طرح منہ سے باہر جھانک رہی تھی۔ جس پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں اور اس کا بچہ جیکی زبان سے اپنے پنجے چاٹ رہا تھا۔

’’ایک اور جنازہ۔‘‘ اس کی مری ہوئی آواز منہ سے نکلی۔
’’ باجی ! ہوش کرو۔ ایس دا جنازہ کتھوں۔‘‘ کام والی نے بمشکل ہنسی روکتے ہوئے کہا۔ اس کے بیٹوں نے کمیٹی والوں کو بلا کر ڈولی کی لاش کو گھر کی ڈیوڑھی سے اٹھوا دیاتھا۔’’ ڈولی۔۔۔ او ڈولی۔۔۔ ڈولیاں۔۔۔ او میری ڈولیاں۔۔۔ گُوگُوگُو گُوگُوگُو۔۔۔‘‘ راہ گیروں کا کہنا ہے کہ اکثر رات ڈھلے کوٹھی کے کونوں سے یہ آوازیں سنائی دیتی ہیں۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

January 2021
M T W T F S S
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: