لکڑی کے آدمی کا دوسرا جنم ۔۔۔ مسعود قمر

لکڑی کے آدمی کا دوسرا جنم

 
( مسعود قمر )

اگر
لکڑی کے آدمی نے
زندگی میں
کرم کمائے ہوں
تو وہ
دروازہ بن سکتا ہے!
روشندان بن سکتا ہے!
کھڑکِی بن سکتا ہے!
اگر اس کے پاوُں نے
زندگی میں
زمین کے دل کو
مسلا نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو
وہ سب سے اعلیٰ مقام
یعنی
لکھنے والی میز بن سکتا ہے!
لِیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر
لکڑی کا آدمی
زندگی میں
محنت کش شراب بنانے
والے کی شراب چوری
کرکے پیتا رہا 
تو
اس کے مقدر میں
کھانے کی میز
اور
تختہِ مرگ ہی بننا
لکھا رہ جاتا ہے
وہ
سکول ماسٹر کے پکڑنے
کے لیے ڈنڈا بن جاتا ہے
جس سے
ماسٹر 
بچوں کے ہاتھوں کی
لکیریں ناپتا رہتا ہے
اس میں
لکڑی کے آدمی کا قصور نہیں ہوتا
قصور
اس درخت کا ہوتا ہے
جس پہ
سوُر پیشاب کرتے رہے ہیں
قُصور
اس درخت کا بھی نہیں ہوتا
اصل میں
حکومت نے سوُروں کے لیے
کوئی سرکاری
بیت الخلاء نہیں بنائے

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

April 2025
M T W T F S S
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
282930