کُدال ۔۔۔ مطربہ شیخ

کُدال

مطربہ شیخ

ساجد اپنی ایک کمرے پر مشتمل چھوٹی سی رہائش گاہ سے باہر نکلا اور ارد گرد کا جائزہ لینے لگا۔ شہر خموشاں کی وحشت ناک خاموشی صبح کے وقت بھی محسوس ہوتی تھی۔ ساجد نے تھوڑی دیر رک کر اپنے مدد گار لڑکوں کا انتظار کیا لیکن وہ کسی بھی کونے سے آتے نظر نہ آئے تو خود ہی ایک طرف چل پڑا۔ کل کی ادھوری کھودی گئی قبروں کو آج مکمل کرنا تھا، مزید قبروں کے لیے جگہ بنانی تھی۔

بہت بڑے شہر میں چند ہی قبرستان تھے۔ پرانی قبروں کو برابر کر کے نئی قبریں بنائی جاتیں۔ ساجد اور اس کے ساتھی گور کن ایسی قبریں نظر میں رکھتے جن پر سال بھر کوئی فاتحہ پڑھنے نہ آتا اور پھر وہ قبر نئے مردے کے لیے چن لی جاتی۔ وہ نشانیاں لگاتے جاتے۔ ساجد جدی پشتی گور کن تھا۔

70 سالہ ساجد شہر کے قبرستانوں کے رازوں کا امین تھا۔ اس نے قبرستانوں میں پیشہ ور بھکاریوں، جسم فروش مرد و عورت، ضواجہ سراوں، منشیات فروشوں ، چوروں، ڈاکووں اور قانون کے رکھوالوں کے کرتوتوں کو دیکھا تھا۔ شہر میں وہ بھیڑئے بھی گھومتے تھے جنہوں نے قبرستانوں کی زمینوں پر قبضے کر کے پلازے بنا لئے تھے۔ لیکن کوئی ان سے پوشھتا تک نہیں تھا کہ ایسا کیوں کیا۔ شاید وہ بھول چکے تھے کہ مرنے کے بعد قبرستان ہی واحد ٹھکانا ہے جہاں آرام سے سونے کی جگہ ملے گی کیونکہ ان کے ملک کے رکھوالے کہتے تھے کہ سکون تو صرف قبر میں ہے۔ لیکن انسان دوسرے انسان کی بات کہاں سمجھتا ہے۔ وہ تو زندگی بھر دوسرے انسان کے مد مقابل رہتا ہے اور لڑتا جھگڑتا ہے۔

ساجد نے قبرستان کے حصے بنا رکھے تھے۔ عام شہری، سیاسی کارکن، لاوارث افراد، شہر میں ہونے والی ہنگامہ آرایئوں اور حادثات میں مرنے والے افراد، جعلی پولیس مقابلے میں مارے جانے والے افراد جن کے اکثر لواحقین تدفین کے بعد آتے تھے۔ شہر وسیع و عریض تھا اور پھیلتا ہی  چلا جا رہا تھا۔ انسانوں کے سیلاب کا سیل رواں تھا۔ ملک بھر سے آنے والے افراد اس شہر میں روزگار کے لیے آتے اور پھر اپنے آبائی شہر کو صرف یاد کرنے جوگے رہ جاتے۔ واپسی کا راستہ بھول جاتے کہ بڑے شہر میں حاصل سکون کی کھنک اور نوٹوں کی سرسراہٹ ان کو کہیں اور جانے سے باز رکھتی۔

مذہبی، سیاسی و سماجی چپلقلش کے باوجود شہر میں لا تعداد فلاحی و رفاعی تنظیمیں تھیں جو خدمت خلق انجام دیتی تھیں۔ شہر میں ہر دوسرے چوک پر لنگر کا انتظام ہوتا، بھوکوں کو کھانا کھلایا جاتا۔ ملک کے بڑے بزنس مین ریاست کو ٹیکس دینے کی بجائے فلاحی تنظیمیں بنا کر بھوکوں کو کھانا کھلانا شروع کر دیتے، اس طرح ان کا مال پاک ہو جاتا، بھوکوں کا پیٹ بھر جاتا۔ وہ کوئی کام کرنے کی بجائے لنگر کے کھانے کو ترجیح دیتے۔

آج کل بھی خدمت خلق کا جذبہ عروج پر تھا کیونکہ دنیا میں پھیلی ہوئی وبا نے اس غریب پرور شہر میں بھی اپنے زہریلے پنجے گاڑ دئے تھے۔ روز ہی اموات ہو رہی تھیں، شہر میں حفاظتی تالا بندی تھی جس کی وجہ سے دیہاڑی دار طبقہ بے روزگار تھا۔ چھوٹے دکاندار پریشان تھے۔ چھابڑی بردار اور ٹھیلے بردار چوکوں پر موجود دسترخوانوں سے استفادہ کرتے۔ لیکن کب تک ؟ شہر میں تالا بندی کے باوجود بھکاریوں اور مزدوروں کی بڑی تعداد دکھائی دینے لگی۔ دسترخوانوں پر بے انتہا مجمع لگ جاتا لیکن ساجد کو کوئی فرق نہیں پڑا۔ وہ قبر کی کھدائی کی مزدوری لیتا اور شکر بجا لاتا۔

اس نے دو بیکار لڑکوں کو قبر کھودنے کی تربیت دے دی تھی جو اس کے مدد گار رہتے۔ جب ساجد اس مقام پر پہنچا جہاں انہوں نے کل ادھورا کام چھوڑا تھا تو اس کو مددگار لڑکے وہاں دکھائی نہ دیے۔ وہ بڑ بڑاتے ہوئے اپنی کدال ، بیلچہ اور پھاوڑا اٹھانے کے لیے آدھی بنائی گئی قبر میں جھکا لیکن وہاں کوئی اوزار نہ تھا۔ خالی گڑھا اس کو جیسے دیکھ رہا تھا۔ ساجد نے سامان کی تلاش میں ادھر ادھر نظر دوڑائی لیکن سامان گائب تھا۔ وہ بُھنا گیا اور غصے سے بولا۔

” ابے کون لے گیا یہ سامان، کیا کسی نے اپنی قبر کھودنی ہے۔ ” وہ دھپ سے ایک پتھر پر بیٹھ گیا اور تلملانے لگا۔

” اب دکانیں بند ہیں، سامان کہاں سے لاوں۔ اس عمر میں یہ خواری اوپر سے دھوپ اتنی تیز۔” وہ بڑبڑائے جاتا۔

” یہ دونوں ہڈ حرام بھی نہ جانے کہاں رہ گئے۔” اسے دونوں مددگاروں پر شدید غصہ آئے جا رہا تھا۔ وہ بے بسی میں بیٹھا گالیاں بکتا اور اپنا خون جلاتا رہا۔

آدھا دن گزرنے کے بعد اسے دونوں لڑکے قبرستان میں داخل ہوتے دکھائی دیے۔ ایک کے کندھوں پر بوریاں تھیں اور دوسرے کے ہاتھ میں کدال پھاوڑا۔ ساجد غصے سے کھڑا ہو کر ان کو گالیاں بکنے لگا۔ جب وہ نزدیک آئے تو ساجد کی گالیوں کی پرواہ کیے بغیر اس سے سلام دعا کرنے لگے۔ ساجد نے چیخ کر پوچھا

” کہاں دفعان ہو گئے تھے ؟ “

” ذرا صبر کر ناں چا چا۔ “

بوریوں کو زمین پر رکھ کر دونوں ایک تھیلی سے منرل واٹر کی بوتلیں نکال کر پانی پینے لگے۔

” مردودو۔ یہ کھدائی کا سامان کہاں لے گئے تھے۔ “

” ٹھنڈا ہو جا چا چا، یہ سامان دکھا کر میں خیرات لینے گیا تھا۔ ” ایک لڑکا بولا

ساجد حیرت سے گنگ ہو گیا۔ ” کیا مطلب ؟ “

دوسرے لڑکے نے ایک تھیلی کھول کر بریانی نکالی اور ہاتھوں سے تھیلی میں ہی کھانا شروع ہو گیا۔

” لے چا چا تو بھی کھا۔ ” اس نے دوسری تھیلی ساجد کی طرف بڑھائی۔ بریانی کھاتے لڑکے نے ساجد کو بتانا شروع کیا

” قبرستان کی پچھلی والی سڑک پر روز دو ٹرک آتے ہیں۔ ایک پکا ہوا کھانا بانٹتا ہے اور دوسرا راشن۔ آج ہم دونوں بھی قطار میں لگ کر یہ لے آئے، کھدائی کا سامان اس لئے ساتھ لے گئے کہ بتا سکیں کہ ہم مزدور ہیں اور اس تالا بندی کی وجہ سے بیکار اور بھوکے ہیں۔ “

اس نے بریانی ختم کی اور جوس کا پیکٹ کھولنے لگا۔

” آج تو قسمت اچھی تھی، یہ دیکھ جوس بھی ملا ہے۔ کسی کمپنی کی چھوٹی سی گاڑی یہ بھی بانٹ رہی تھی میں نے چار ڈبے جھپٹ لئے۔ ” وہ اپنے کارنامے پر فاتحانہ مسکرایا۔

ساجد حقارت سے بولا۔ ” میں نے کبھی خیرات نہیں کھائی۔ تم ہی کھاو یہ جھوٹی خیرات۔ “

دوسرا لڑکا بریانی کھاتے بولا، ” چا چا زبان سنبھال کر بات کر، یہ خیرات کیسے ہو گئی ؟ یہ تو مدد ہے، اتنا پیسہ ہے لوگوں کے پاس، دیکھتا نہیں ہے تو کتنی بڑی شیشے والی دکانیں ہیں شہر میں، کتنی بڑی گاڑیوں میں لوگ گھومتے ہیں۔ ان کا فرض ہے کہ وہ دو وقت کا کھانا ہم کو بھی کھلا دیں، مذہب بھی تو یہی کہتا ہے۔ “

ساجد غرایا، ” مذہب محنت کر کے رزق حلال کمانے کو کہتا ہے، خیرات مانگنے اور چھین جھپٹ کر کھانے کو نہیں  اور تم کون سا بیکار بیٹھے ہو، تم نے کل قبروں کی کھدائی کی مزدوری تو وصول کی تھی، جھوٹ بولتے شرم نہیں آتی۔ “

دوسرا لڑکا جو کچھ پڑھ لکھ سکتا تھا چمک کر بولا

” او چا چا ہم نے مزدوری کا سامان دکھا کر خیرات مانگ لی تو تجھے برا لگ رہا ہے،بڑے لوگوں کو دیکھ بازار سے دوایئں اور ماسک چھپا لیے اور اب مہنگے بیچ رہے ہیں۔ جراثیم مارنے والا ، ہاتھ دھونے کا محلول مارکیٹ سے غائب ہے۔ چینی، چائے کی پتی اور دالیں منگی کر دی گئی ہیں۔ سگریٹ اور بیڑی تک کے بھاو بڑھا دئے ہیں۔ تُو ہمیں کوسنے کھڑا ہو گیا ہے۔ نہیں کھانا تو نہ کھا لیکن ہم کو سبق نہ پڑھا۔ “

ساجد نے چپ چاپ کدال اٹھائی اور ادھوری قبر مکمل کرنا شروع کر دی۔ شہر خموشاں کی خاموشی دوپہر کی تیز دھوپ میں مزید گہری ہو گئی۔ تپتی زمین سے لگ کر گرم ہو کر اٹھتی ہوا نے ساجد کی کدال کی ضرب سنی اور رواں دواں رہی۔ مکمل و نا مکمل اپنے باسیوں کی آمد کا انتظار کرنے لگیں۔

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

January 2023
M T W T F S S
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031