نئے سلیقے کا جشن غم ہے ۔۔۔ نسیم سید

نئے سلیقے کا جشن غم ہے

 ( نسیم سیـد)

تمہارے جملوں میں

چھوٹی چھوٹی یہ سلوٹیں سی

تمہاری باتوں میں

لمبے وقفوں کی

کچھ گرہیں سی

تمہارے آداب دنیاداری کے

پرتکلف، گھنیرے موسم

تمہارے وعدوں کے

الجھے الجھے یہ کچے ریشم

نہ جانے کیا کچھ

جتارہے ہیں۔۔۔بتارہے ہیں

مگر ہم اپنی

پرانی باتیں

گلاب کے کنج کو

ابھی تک سنارہے ہیں

بدلتے موسم کی

زرد چادر پہ دھانی سوچیں

بچھارہے ہیں

نئے سلیقے کا

جشن غم ہے

نئے طریقے سے

چشم پر نم سجارہے ہیں

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: