دیوار ۔۔۔ ثمین بلوچ
دیوار
ثمین بلوچ
میں ایک گھر کی دیوار ہوں
جو میرا نہیں۔
بچے
مجھ پر ادھورے خوابوں کی ٹیڑھی لکیریں
اور کل کے نقشے بناتے ہیں
اور “وہ”
مجھ میں پیوست کھونٹی پر
اپنی تھکن، بوسیدہ لباس
اور بدن کی وحشت ٹانگ دیتا ہے۔
میں سہاروں کی لغت میں رقم وہ نام ہوں
جس پر سب نے اپنے بوجھ کی مشق کی
اور رفتہ رفتہ وزن سے زیادہ
معنی کی گراں باری
میرے وجود کا حصہ بن گئی۔
میں وہ ٹیکن ہوں
جس کی بنیادوں کا پلستر جھڑ چکا ہے،
سیلن نے میرے چہرے پر
وقت کی جھریاں کھود دی ہیں۔
دھول میں اٹی رنگتوں کو
قوسِ قزح نہیں کہا جا سکتا۔
بھُرتی ہوئی اینٹ اور اکھڑتا ہوا یقین
میری کہانی کا سرنامہ ہیں
ذرا سوچو
گرتی ہوئی دیواروں کو
کون گلے لگاتا ہے؟
Facebook Comments Box