نظم ۔۔۔ سرمد صہبائی

نظم

(سرمد صبائی)

ایک وہ پل جو شہر کی خفیہ مٹھی میں

جگنو بن کر

دھڑک رہا ہے

اس کی خاطر

ہم عمروں کی نیندیں کاٹتے رہتے ہیں

یہ وہ پل ہے

جس کو چھو کر

تم دنیا کی سب سے دل کش

لذت سے لبریز اک عورت بن جاتی ہو

اور میں ایک بہادر مرد

ہم دونوں آدم اور حوا

پل کے بہشت میں رہتے ہیں

اور پھر تم وہی ڈری ڈری سی

بسوں پہ چڑھنے والی، عام سی عورت

اور میں دھکے کھاتا بوجھ اٹھاتا

عام سا مرد

دونوں شہر کے

چیختے دہاڑتے رستوں پر

پل بھر رک کر

پھر اس پل کا خواب بناتے رہتے ہیں

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

April 2025
M T W T F S S
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
282930